حدیث نمبر: 510
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل ابْنُ عُلَيَّةَ ، قَالَ : ح وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا قَامَ أَحَدُكُمْ يُصَلِّي ، فَإِنَّهُ يَسْتُرُهُ ، إِذَا كَانَ بَيْنَ يَدَيْهِ مِثْلُ آخِرَةِ الرَّحْلِ ، فَإِذَا لَمْ يَكُنْ بَيْنَ يَدَيْهِ مِثْلُ آخِرَةِ الرَّحْلِ ، فَإِنَّهُ يَقْطَعُ صَلَاتَهُ ، الْحِمَارُ ، وَالْمَرْأَةُ ، وَالْكَلْبُ الأَسْوَدُ " ، قُلْتُ : يَا أَبَا ذَرٍّ ، مَا بَالُ الْكَلْبِ الأَسْوَدِ ، مِنَ الْكَلْبِ الأَحْمَرِ ، مِنَ الْكَلْبِ الأَصْفَرِ ؟ قَالَ : يَا ابْنَ أَخِي ، سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، كَمَا سَأَلْتَنِي ، فَقَالَ : " الْكَلْبُ الأَسْوَدُ شَيْطَانٌ " ،

یونس نے حمید بن ہلال سے، انہوں نے عبداللہ بن صامت سے اور انہوں نے حضرت ابوذر (غفاری) رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی نماز کے لیے کھڑا ہو جب اس کے سامنے پالان کی پچھلی لکڑی کے برابر کوئی چیز ہو گی تو وہ اسے سترہ مہیا کرے گی، اور جب اس کے سامنے پالان کی پچھلی لکڑی کے برابر کوئی چیز نہ ہو گی تو گدھا، عورت اور سیاہ کتا اس کی نماز کو قطع کریں گے۔“ میں نے کہا: اے ابوذر! سیاہ کتے کی لال کتے یا زرد کتے سے تخصیص کیوں ہے؟ انہوں نے کہا: بھتیجے! میں نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی سوال کیا تھا جو تم نے مجھ سے کیا ہے تو آپ نے فرمایا: ”سیاہ کتا شیطان ہوتا ہے۔“

حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، قَالَ : ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ : ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاق أَيْضًا ، أَخْبَرَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ سَلْمَ بْنَ أَبِي الذَّيَّالِ ، قَالَ : ح وحَدَّثَنِي يُوسُفُ بْنُ حَمَّادٍ الْمَعْنِيُّ ، حَدَّثَنَا زِيَادٌ الْبَكَّائِيُّ ، عَنْ عَاصِمٍ الأَحْوَلِ ، كُلُّ هَؤُلَاءِ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ ، بِإِسْنَادِ يُونُسَ كَنَحْوِ حَدِيثِهِ .

سلیمان بن مغیرہ، شعبہ، جریر، سلم بن ابوذیال اور عاصم احول سب نے حمید بن ہلال سے یونس کی سند کے ساتھ اس کی حدیث کی مانند حدیث بیان کی ہے۔

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الصلاة / حدیث: 510
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابن ماجه: 952 | معجم صغير للطبراني: 202 | معجم صغير للطبراني: 248 | معجم صغير للطبراني: 331

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 952 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´کس چیز کے نمازی کے سامنے گزرنے سے نماز ٹوٹ جاتی ہے؟`
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب نمازی کے آگے کجاوہ کی لکڑی کے مثل کوئی چیز نہ ہو تو اس کی نماز عورت، گدھے اور کتے کے گزرنے سے ٹوٹ جاتی ہے ۱؎۔ عبداللہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے ابوذر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کالے کتے کی تخصیص کی کیا وجہ ہے؟ اگر لال کتا ہو تو؟ انہوں نے کہا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی سوال کیا تھا جو تم نے مجھ سے کیا ہے تو آپ نے فرمایا: کالا کتا شیطان ہے ۲؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 952]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
حدیث کا مطلب یہ ہے کہ شیطان کالے کتے کو نمازی کے سامنے لاتا ہے۔
یا خود شیطان کتے کی صورت بن کر آ جاتا ہے۔
تاکہ نمازی کی توجہ اس کی طرف ہوجائے۔
ویسے بھی بعض جانوروں میں شیطان سے مناسبت پائی جاتی ہے۔
اور ان میں شرارت کا مادہ زیادہ ہوتا ہے۔

(2)
ان کے گزرنے سے واقعی نماز ٹوٹ جاتی ہے۔
اس کی بابت اختلاف ہے۔
علماء کا ایک گروہ نماز ٹوٹ جانے کا قائل ہے جیسا کہ حدیث کے ظاہری الفاظ سے معلوم ہوتا ہے دوسرے علماء کہتے ہیں کہ نماز ٹوٹنے سے مراد خشوع خضوع میں کمی ہے۔
ایک تیسری رائے یہ ہے کہ یہ حدیث منسوخ ہے اور اس کی ناسخ یہ حدیث ہے۔ (لَايَقْطَعُ الصَّلاَةَ شَيْئٌُ)
 (سنن ابی داؤد، الصلاۃ، باب من قال لا یقطع...، حدیث: 719)
 ’’نماز کو کوئی چیز  نہیں توڑتی‘‘ لیکن پہلا موقف راجح ہے کیونکہ اس کی تائید ایک اور صحیح حدیث سے ہوتی ہے جس میں ہے: (تعاد الصلاة من ممر الحمار والمرأة والكلب الأسود)
 (الصحيحة: 959/7، حديث: 3323)
’’گدھے، عورت اور سیاہ کتے کے گزرنے پر نماز لوٹائی جائے‘‘ اور جنھوں نے (لَايَقْطَعُ الصَّلاَةَ شَيْئٌُ)
 سے استدلال کیا ہے۔
ان کے نزدیک تو اس عموم سے وہ تین چیزیں خارج ہوں گی۔
جن کے گزرنے سے نماز ٹوٹ جاتی ہے۔
اور وہ ہیں۔
عورت گدھا اور کالا کتا۔
اس حدیث کے عموم سے مذکورہ تینوں چیزیں مستثنیٰ ہوں گی۔
یعنی ان کے گزرنے سے نماز ٹوٹ جائے گی۔
اوراس کا اعادہ ضروری ہوگا البتہ ان کےعلاوہ کسی چیز کے گزرنے سے نماز نہیں ٹوٹے گی۔
 واللہ أعلم۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 952 سے ماخوذ ہے۔