مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
حدیث نمبر: 5
وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، قَالَا : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ ، عن أبى هريرة ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : " كَفَى بِالْمَرْءِ كَذِبًا ، أَنْ يُحَدِّثَ بِكُلِّ مَا سَمِعَ " .

عبیداللہ بن معاذ بن عنبری اور عبدالرحمن بن مہدی دونوں نے کہا: ہم سے شعبہ نے بیان کیا، انہوں نے خبیب بن عبدالرحمن سے، انہوں نے حفص بن عاصم سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آدمی کے جھوٹا ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ ہر سنی ہوئی بات بیان کر دے۔“

وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَفْصٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِمِثْلِ ذَلِكَ .

امام صاحب رحمہ اللہ ایک اور استاد سے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی اس کے ہم معنی روایت بیان کرتے ہیں۔

وحَدَّثَنَا وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ ، قَال : قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : بِحَسْبِ الْمَرْءِ مِنَ الْكَذِبِ ، أَنْ يُحَدِّثَ بِكُلِّ مَا سَمِعَ .

یحییٰ بن یحییٰ، ہشیم، سلیمان تیمی، ابوعثمان نہدی سے روایت ہے، کہا: عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: آدمی کے لیے جھوٹ سے اتنا کافی ہے (جس کی بنا پر وہ جھوٹا قرار دیا جا سکتا ہے) کہ وہ ہر سنی ہوئی بات بیان کر دے۔

وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ سَرْحٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَال : قَالَ لِي مَالِكٌ : اعْلَمْ أَنَّهُ لَيْسَ يَسْلَمُ رَجُلٌ حَدَّثَ بِكُلِّ مَا سَمِعَ ، وَلَا يَكُونُ إِمَامًا أَبَدًا وَهُوَ يُحَدِّثُ بِكُلِّ مَا سَمِعَ

ابن وہب نے خبر دی کہا: مالک (بن انس) نے مجھ سے کہا: مجھے معلوم ہے کہ ایسا آدمی (صحیح) سالم نہیں ہوتا جو ہر سنی ہوئی بات (آگے) بیان کر دے، وہ کبھی امام نہیں بن سکتا (جبکہ) وہ ہر سنی ہوئی بات (آگے) بیان کر دیتا ہے۔

حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِى إِسْحَاق ، عَنْ أَبِى الأَحْوَصِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : بِحَسْبِ الْمَرْءِ مِنَ الْكَذِبِ ، أَنْ يُحَدِّثَ بِكُلِّ مَا سَمِعَ .

محمد بن مثنیٰ، عبدالرحمن، سفیان، ابواسحاق، ابوالاحوص نے عبداللہ (بن مسعود رضی اللہ عنہ) سے روایت کی، کہا: آدمی کے جھوٹ میں یہی کافی ہے کہ وہ ہر سنی ہوئی بات بیان کر دے۔

وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ مَهْدِيٍّ ، يَقُولُ : لَا يَكُونُ الرَّجُلُ إِمَامًا يُقْتَدَى بِهِ ، حَتَّى يُمْسِكَ عَنْ بَعْضِ مَا سَمِع

محمد بن مثنیٰ نے کہا: میں نے عبدالرحمن بن مہدی سے سنا، کہہ رہے تھے: آدمی اس وقت تک امام نہیں بن سکتا کہ لوگ اس کی اقتدا کریں یہاں تک کہ وہ سنی سائی بعض باتوں (کو بیان کرنے) سے باز آ جائے۔

وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ مُقَدَّمٍ ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ حُسَيْنٍ ، قَالَ : سَأَلَنِي إِيَاسُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، فَقَالَ : إِنِّي " أَرَاكَ قَدْ كَلِفْتَ بِعِلْمِ الْقُرْآنِ ، فَاقْرَأْ عَلَيَّ سُورَةً وَفَسِّرْ ، حَتَّى أَنْظُرَ فِيمَا عَلِمْتَ ، قَالَ : فَفَعَلْتُ ، فَقَالَ لِيَ : احْفَظْ عَلَيَّ مَا أَقُولُ لَكَ ، إِيَّاكَ وَالشَّنَاعَةَ فِي الْحَدِيثِ ، فَإِنَّهُ قَلَّمَا حَمَلَهَا أَحَدٌ ، إِلَّا ذَلَّ فِي نَفْسِهِ ، وَكُذِّبَ فِي حَدِيثِهِ

سفیان بن حسین رحمہ اللہ کہتے ہیں: مجھ سے ایاس بن معاویہ رحمہ اللہ نے کہا: ”میں دیکھتا ہوں تمھیں علم قرآن کا شوق ہے، اس کی تعمیل پر فریفتہ ہو۔ مجھے کوئی سورت سناؤ اور اس کی تفسیر کرو، تاکہ میں اندازہ لگاؤں کہ تم نے کیا سیکھا ہے۔ (تیرے علم کا جائزہ لوں)“ تو میں نے ایسا ہی کیا (حکم کی تعمیل کی) تو انہوں نے مجھے کہا: ”میں جو بات تمھیں کہنے لگا ہوں، میری طرف سے اس کو یاد رکھنا، حدیث میں اپنے آپ کو شناعت (قباحت) سے بچانا۔ (یعنی ایسی موضوع، من گھڑت اور منکر احادیث بیان نہ کرنا، جس سے لوگ تمھیں برا سمجھیں) کیونکہ ایسا کام کرنے والا اپنی نظروں میں بھی ذلیل ہوتا اور لوگ بھی اس کی حدیثوں کی تکذیب کرتے ہیں۔“

وحَدَّثَنِي أَبُو طَاهِرٍ ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَا : أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ ، قَالَ : مَا أَنْتَ بِمُحَدِّثٍ قَوْمًا حَدِيثًا ، لَا تَبْلُغُهُ عُقُولُهُمْ ، إِلَّا كَانَ لِبَعْضِهِمْ فِتْنَةً .

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اگر تم لوگوں کو ایسی احادیث سناؤ گے جو ان کی عقل کی دسترس سے باہر ہیں (وہ ان کو سمجھ نہیں سکتے) تو یہ چیز ان میں سے بعض کے لیے فتنہ (گمراہی) کا باعث ہو گی۔“

حوالہ حدیث صحيح مسلم / مقدمة / حدیث: 5
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابي داود: 4992 | مشكوة المصابيح: 156

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عبد العزیز علوی
حضرت ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’انسان کے جھوٹا ہونے کے لیے اتنی بات کافی ہے کہ وہ ہر سنی ہوئی بات (بلا تحقیق) بیان کر دے۔‘‘ [صحيح مسلم، حديث نمبر:7]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل:
عام طور پر لوگ ہر قسم کی جھوٹی اور سچی باتیں کرتے رہتے ہیں، اس لیے اگر انسان ہر سنی سنائی بات بلا تحقیق بیان کرے گا، تو وہ لازما جھوٹ بولے گا، اس لیے بلاسوچے سمجھے ہر کسی کی بات نقل کر دینا درست نہیں ہے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 5 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 4992 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´جھوٹ بولنے کی شناعت کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آدمی کے گنہگار ہونے کے لیے کافی ہے کہ وہ ہر سنی سنائی بات (بلا تحقیق) بیان کرے۔‏‏‏‏ ابوداؤد کہتے ہیں: حفص نے ابوہریرہ کا ذکر نہیں کیا، ابوداؤد کہتے ہیں: اسے صرف اسی شیخ یعنی علی بن حفص المدائنی نے ہی مسند کیا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4992]
فوائد ومسائل:
مقدمہ صحیح مسلم میں روایت ہے: (كفٰی بالمرءِ كذبًا أن يحدثِ بكل ماسمع) آدمی کے جھوٹا ہونا کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ ہرسنی سنائی بات بیان کرتاہے۔
(صحیح مسلم، المقدمة، حديث)
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4992 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: مشكوة المصابيح / حدیث: 156 کی شرح از حافظ زبیر علی زئی ✍️
´جھوٹے انسان کی علامت`
«. . . ‏‏‏‏وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كَفَى بِالْمَرْءِ كَذِبًا أَنْ يُحَدِّثَ بِكُلِّ مَا سمع» . رَوَاهُ مُسلم . . .»
. . . سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انسان کے جھوٹ بولنے کے لیے بس یہی کافی ہے کہ جس بات کو سنے (بغیر تحقیق کے) اسے بیان کر دے۔ اس حدیث کو مسلم نے روایت کیا ہے۔ . . . [مشكوة المصابيح/كِتَاب الْإِيمَانِ: 156]
تخریج الحدیث:
[صحيح مسلم 7]

فقہ الحدیث:
➊ صرف صحیح روایات بطور استدلال بیان کرنی چاہئیں۔
➋ ضعیف و مردود روایات بیان کرنا جائز نہیں ہے۔
➌ زندگی گزارنے کا یہ اصول ہونا چاہئیے کہ آدمی ہر وقت احتیاط اور تحقیق سے کام لے، ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ پنجابی زبان کے محاورے لائی لگ کی طرح ہر سنی سنائی بات کے پیچھے دوڑتا پھرے اور پھر ہلاکت کے گڑھے میں جا گرے۔
➍ حدیث حجت ہے۔
درج بالا اقتباس اضواء المصابیح فی تحقیق مشکاۃ المصابیح، حدیث/صفحہ نمبر: 156 سے ماخوذ ہے۔

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔