صحيح مسلم
كتاب الإيمان— ایمان کے احکام و مسائل
باب بَيَانِ تَحْرِيمِ إِيذَاءِ الْجَارِ: باب: پڑوسی کو تکلیف پہنچانا حرام ہے۔
حدیث نمبر: 46
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ جميعا ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ جَعْفَرٍ ، قَالَ ابْنُ أَيُّوبَ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل ، قَالَ : أَخْبَرَنِي الْعَلَاءُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ ، مَنْ لَا يَأْمَنُ جَارُهُ بَوَائِقَهُ " .حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کی ایذا رسانی سے اس کے پڑوسی محفوظ نہ ہوں، وہ جنت میں نہیں جائے گا۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عبد العزیز علوی
حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’جس کے پڑوسی اس کی ایذا رسانی سے محفوظ نہ ہوں وہ جنّت میں نہیں جائے گا۔‘‘ [صحيح مسلم، حديث نمبر:172]
حدیث حاشیہ: مفردات الحدیث:
: بَوَائِقَ: بَائِقَةٌ کی جمع ہے، شر، فساد و بگاڑ، تکلیف دہ اور ہلاکت وتباہی کا باعث چیز، آفت۔
فوائد ومسائل:
پڑوسیوں کے ساتھ حسن سلوک اور ایسا شریفانہ برتاؤ کہ ان کو ہماری طرف سے پورا اطمینان وتسکین رہے، اور ہماری جانب سے کسی ظلم وزیادتی اورشرارت وبدسلوکی کا اندیشہ نہ رہے، یہ ایمان کے ان شرائط اور لوازم میں سے ہے، جن کے بغیر ایمان، گویا کالعدم ہے، اصل مقصد شریفانہ برتاؤ پر آمادہ کرناہے۔
: بَوَائِقَ: بَائِقَةٌ کی جمع ہے، شر، فساد و بگاڑ، تکلیف دہ اور ہلاکت وتباہی کا باعث چیز، آفت۔
فوائد ومسائل:
پڑوسیوں کے ساتھ حسن سلوک اور ایسا شریفانہ برتاؤ کہ ان کو ہماری طرف سے پورا اطمینان وتسکین رہے، اور ہماری جانب سے کسی ظلم وزیادتی اورشرارت وبدسلوکی کا اندیشہ نہ رہے، یہ ایمان کے ان شرائط اور لوازم میں سے ہے، جن کے بغیر ایمان، گویا کالعدم ہے، اصل مقصد شریفانہ برتاؤ پر آمادہ کرناہے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 172 سے ماخوذ ہے۔