صحيح مسلم
كتاب الصلاة— نماز کے احکام و مسائل
باب فَضْلِ الأَذَانِ وَهَرَبِ الشَّيْطَانِ عِنْدَ سَمَاعِهِ: باب: اذان کی فضیلت اور اذان سن کر شیطان کے بھاگنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 388
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وإسحاق بن إبراهيم ، قَالَ إِسْحَاق : أَخْبَرَنَا ، وَقَالَ الآخَرَانِ : حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِنَّ الشَّيْطَانَ إِذَا سَمِعَ النِّدَاءَ بِالصَّلَاةِ ، ذَهَبَ حَتَّى يَكُونَ مَكَانَ الرَّوْحَاءِ " ، قَالَ سُلَيْمَانُ : فَسَأَلْتُهُ عَنِ الرَّوْحَاءِ ؟ فَقَالَ : هِيَ مِنَ الْمَدِينَةِ ، سِتَّةٌ وَثَلَاثُونَ مِيلًا ،حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”شیطان جب نماز کے لیے اذان سنتا ہے تو مقام روحاء تک بھاگ جاتا ہے۔“ سلیمان (اعمش) رحمہ اللہ کہتے ہیں میں نے اپنے استاد سے روحاء کے بارے میں پوچھا؟ تو انہوں نے بتایا یہ مدینہ سے تقریباً چھتیس میل کے فاصلے پر ہے۔
وحَدَّثَنَاه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ .ہمیں یہی روایت ابو بکر بن ابی شیبہ رحمہ اللہ اور ابو کریب رحمہ اللہ دونوں نے ابو معاویہ رحمہ اللہ کے واسطہ سے اعمش رحمہ اللہ کی مذکورہ بالا سند سے سنائی۔