حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى ، عَنْ عَمِّهِ ، قَالَ : كُنْتُ عِنْدَ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ ، فَجَاءَهُ الْمُؤَذِّنُ يَدْعُوهُ إِلَى الصَّلَاةِ ، فَقَالَ مُعَاوِيَةُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " الْمُؤَذِّنُونَ أَطْوَلُ النَّاسِ أَعْنَاقًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ " ،
عبدہ نے طلحہ بن یحییٰ (بن طلحہ بن عبید اللہ) سے اور انہوں نے اپنے چچا (عیسیٰ بن طلحہ بن عبید اللہ) سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کے پاس تھا، ان کے پاس مؤذن انہیں نماز کے لیے بلانے آیا۔ تو معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ فرماتے تھے: ”قیامت کے دن مؤذن، لوگوں میں سب سے زیادہ لمبی گردنوں والے ہوں گے۔“
وحَدَّثَنِيهِ إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى ، عَنْ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِمِثْلِهِ .
سفیان نے طلحہ بن یحییٰ سے اور انہوں نے (اپنے چچا) عیسیٰ بن طلحہ سے روایت کی، کہا: میں نے معاویہ رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہہ رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (آگے سابقہ روایت کی مانند ہے)۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وإسحاق بن إبراهيم ، قَالَ إِسْحَاق : أَخْبَرَنَا ، وَقَالَ الآخَرَانِ : حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِنَّ الشَّيْطَانَ إِذَا سَمِعَ النِّدَاءَ بِالصَّلَاةِ ، ذَهَبَ حَتَّى يَكُونَ مَكَانَ الرَّوْحَاءِ " ، قَالَ سُلَيْمَانُ : فَسَأَلْتُهُ عَنِ الرَّوْحَاءِ ؟ فَقَالَ : هِيَ مِنَ الْمَدِينَةِ ، سِتَّةٌ وَثَلَاثُونَ مِيلًا ،
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”شیطان جب نماز کے لیے اذان سنتا ہے تو مقام روحاء تک بھاگ جاتا ہے۔“ سلیمان (اعمش) رحمہ اللہ کہتے ہیں میں نے اپنے استاد سے روحاء کے بارے میں پوچھا؟ تو انہوں نے بتایا یہ مدینہ سے تقریباً چھتیس میل کے فاصلے پر ہے۔
وحَدَّثَنَاه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ .
ہمیں یہی روایت ابو بکر بن ابی شیبہ رحمہ اللہ اور ابو کریب رحمہ اللہ دونوں نے ابو معاویہ رحمہ اللہ کے واسطہ سے اعمش رحمہ اللہ کی مذکورہ بالا سند سے سنائی۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَإِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَاللَّفْظُ لِقُتَيْبَةَ ، قَالَ إِسْحَاق : أَخْبَرَنَا ، وَقَالَ الآخَرَانِ : حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّ الشَّيْطَانَ ، إِذَا سَمِعَ النِّدَاءَ بِالصَّلَاةِ ، أَحَالَ لَهُ ضُرَاطٌ ، حَتَّى لَا يَسْمَعَ صَوْتَهُ ، فَإِذَا سَكَتَ ، رَجَعَ فَوَسْوَسَ ، فَإِذَا سَمِعَ الإِقَامَةَ ، ذَهَبَ حَتَّى لَا يَسْمَعَ صَوْتَهُ ، فَإِذَا سَكَتَ رَجَعَ فَوَسْوَسَ " .
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”شیطان جب نماز کے لیے پکار سنتا ہے تو زور سے ہوا خارج کرتا ہوا بھاگتا ہے، تاکہ مؤذن کی آواز نہ سنائی دے، جب مؤذن چپ ہو جاتا ہے تو واپس آ جاتا ہے اور (نمازیوں کے دلوں میں) وسوسہ پیدا کرتا ہے۔ تو جب تکبیر سنتا ہے تو پھر بھاگتا ہے تاکہ اس کی آواز سنائی نہ دے، جب وہ خاموش ہو جاتا ہے واپس آ جاتا ہے، اور لوگوں کے دلوں میں وسوسہ پیدا کرتا ہے۔“
حَدَّثَنِي عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ بَيَانٍ الْوَاسِطِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا أَذَّنَ الْمُؤَذِّنُ ، أَدْبَرَ الشَّيْطَانُ وَلَهُ حُصَاصٌ " .
خالد بن عبداللہ نے سہیل سے، انہوں نے اپنے والد (ابوصالح السمان) سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب مؤذن اذان کہتا ہے تو شیطان پیٹھ پھیر کر گوز مارتا ہوا جاتا ہے۔“
حَدَّثَنِي أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، قَالَ : أَرْسَلَنِي أَبِي إِلَى بَنِي حَارِثَةَ ، قَالَ : وَمَعِي غُلَامٌ لَنَا ، أَوْ صَاحِبٌ لَنَا ، فَنَادَاهُ مُنَادٍ مِنْ حَائِطٍ بِاسْمِهِ ، قَالَ : وَأَشْرَفَ الَّذِي مَعِي عَلَى الْحَائِطِ ، فَلَمْ يَرَ شَيْئًا ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِأَبِي ، فَقَالَ : لَوْ شَعَرْتُ أَنَّكَ تَلْقَ هَذَا ، لَمْ أُرْسِلْكَ ، وَلَكِنْ إِذَا سَمِعْتَ صَوْتًا ، فَنَادِ بِالصَّلَاةِ ، فَإِنِّي سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يُحَدِّثُ ، عَنِ رَسُولِ اللَّهِ ، أَنَّهُ قَالَ : " إِنَّ الشَّيْطَانَ ، إِذَا نُودِيَ بِالصَّلَاةِ ، وَلَّى وَلَهُ حُصَاصٌ " .
سہیل رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ مجھے میرے ماں باپ نے بنو حارثہ کی طرف بھیجا اور میرے ساتھ ہمارا ایک لڑکا بھی تھا یا ہمارا دوست تھا، اس کو کسی نے آواز دینے والے نے باغ کے احاطہ سے اس کا نام لے کر آواز دی، اور میرے ساتھی نے احاطہ کے اندر جھانکا تو اسے کچھ نظر نہ آیا، میں نے یہ واقعہ اپنے والد کو بتایا تو اس نے کہا، اگر مجھے معلوم ہوتا تم اس واقعہ سے دوچار ہو گے تو میں تمہیں نہ بھیجتا، لیکن آئندہ تم اگر ایسی آواز سنو تو نماز والی اذان دینا کیونکہ میں نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث سنی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب نماز کے لیے پکارا جاتا ہے تو شیطان گوز مارتا ہوا، پیٹھ پھیر کر بھاگ کھڑا ہوتا ہے۔“
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ يَعْنِي الْحِزَامِيَّ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : " أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : إِذَا نُودِيَ لِلصَّلَاةِ ، أَدْبَرَ الشَّيْطَانُ لَهُ ضُرَاطٌ ، حَتَّى لَا يَسْمَعَ التَّأْذِينَ ، فَإِذَا قُضِيَ التَّأْذِينُ أَقْبَلَ ، حَتَّى إِذَا ثُوِّبَ بِالصَّلَاةِ أَدْبَرَ ، حَتَّى إِذَا قُضِيَ التَّثْوِيبُ أَقْبَلَ ، حَتَّى يَخْطِرَ بَيْنَ الْمَرْءِ وَنَفْسِهِ ، يَقُولُ لَهُ : اذْكُرْ كَذَا ، وَاذْكُرْ كَذَا ، لِمَا لَمْ يَكُنْ يَذْكُرُ مِنْ قَبْلُ ، حَتَّى يَظَلَّ الرَّجُلُ مَا يَدْرِي كَمْ صَلَّى " ،
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب نماز کے لیے اذان دی جاتی ہے، شیطان گوز مارتا ہوا، پیٹھ پھیر کر بھاگ کھڑا ہوتا ہے، تاکہ اذان سنائی نہ دے تو جب اذان پوری ہو جاتی ہے، آ جاتا ہے، حتیٰ کہ جب نماز کے لیے تکبیر کہی جاتی ہے بھاگ جاتا ہے، پھر جب تکبیر ختم ہو جاتی ہے، پھر آ جاتا ہے، حتیٰ کہ انسان اور اس کے دل کے درمیان گزرتا ہے اور اسے کہتا ہے فلاں چیز یاد کر، فلاں چیز یاد کر، حالانکہ وہ چیزیں اسے پہلے یاد نہیں ہوتیں، حتیٰ کہ آدمی کی یہ حالت ہو جاتی ہے کہ اس کو پتہ نہیں چلتا اس نے کتنی رکعتیں پڑھیں؟“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِمِثْلِهِ ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ : " حَتَّى يَظَلَّ الرَّجُلُ إِنْ يَدْرِي كَيْفَ صَلَّى " .
ہمام بن منبہ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مذکورہ بالا روایت کے مانند بیان کیا، مگر انہوں نے («ما يدري كم صلي» کے بجائے) «إن يدري كيف صلى» ”وہ نہیں جانتا کیسے نماز پڑھی۔“ کہا۔