صحيح مسلم
كتاب النكاح— نکاح کے احکام و مسائل
باب فَضِيلَةِ إِعْتَاقِهِ أَمَتَهُ ثُمَّ يَتَزَوَّجُهَا: باب: اپنی لونڈی کو آزاد کر کے نکاح کرنے کی فضیلت۔
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حدثنا إِسْمَاعِيل يَعْنِي ابْنَ عُلَيَّةَ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنْ أَنَسٍ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزَا خَيْبَرَ ، قَالَ : فَصَلَّيْنَا عَنْدَهَا صَلَاةَ الْغَدَاةِ بِغَلَسٍ ، فَرَكِبَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَرَكِبَ أَبُو طَلْحَةَ ، وَأَنَا رَدِيفُ أَبِي طَلْحَةَ ، فَأَجْرَى نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي زُقَاقِ خَيْبَرَ وَإِنَّ رُكْبَتِي لَتَمَسُّ فَخِذَ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَانْحَسَرَ الْإِزَارُ عَنْ فَخِذِ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَإِنِّي لَأَرَى بَيَاضَ فَخِذِ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمَّا دَخَلَ الْقَرْيَةَ ، قَالَ : " اللَّهُ أَكْبَرُ خَرِبَتْ خَيْبَرُ ، إِنَّا إِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَةِ قَوْمٍ فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِينَ " ، قَالَهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، قَالَ : وَقَدْ خَرَجَ الْقَوْمُ إِلَى أَعْمَالِهِمْ ، فقَالُوا : مُحَمَّدٌ وَاللَّهِ ، قَالَ عَبْدُ الْعَزِيزِ : وَقَالَ بَعْضُ أَصْحَابِنَا : مُحَمَّدٌ وَالْخَمِيسُ ، قَالَ : وَأَصَبْنَاهَا عَنْوَةً وَجُمِعَ السَّبْيُ فَجَاءَهُ دِحْيَةُ ، فقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَعْطِنِي جَارِيَةً مِنَ السَّبْيِ ، فقَالَ : " اذْهَبْ فَخُذْ جَارِيَةً " ، فَأَخَذَ صَفِيَّةَ بِنْتَ حُيَيٍّ ، فَجَاءَ رَجُلٌ إِلَى نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فقَالَ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، أَعْطَيْتَ دِحْيَةَ صَفِيَّةَ بِنْتَ حُيَيٍّ سَيِّدِ قُرَيْظَةَ ، وَالنَّضِيرِ ، مَا تَصْلُحُ إِلَّا لَكَ ، قَالَ : " ادْعُوهُ بِهَا " ، قَالَ : فَجَاءَ بِهَا ، فَلَمَّا نَظَرَ إِلَيْهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم ، قَالَ : " خُذْ جَارِيَةً مِنَ السَّبْيِ غَيْرَهَا " ، قَالَ : وَأَعْتَقَهَا وَتَزَوَّجَهَا ، فقَالَ لَهُ ثَابِتٌ : يَا أَبَا حَمْزَةَ مَا أَصْدَقَهَا ؟ قَالَ : " نَفْسَهَا ، أَعْتَقَهَا وَتَزَوَّجَهَا " ، حَتَّى إِذَا كَانَ بِالطَّرِيقِ جَهَّزَتْهَا لَهُ أُمُّ سُلَيْمٍ ، فَأَهْدَتْهَا لَهُ مِنَ اللَّيْلِ ، فَأَصْبَحَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَرُوسًا ، فقَالَ : " مَنْ كَانَ عَنْدَهُ شَيْءٌ ، فَلْيَجِئْ بِهِ " ، قَالَ : وَبَسَطَ نِطَعًا ، قَالَ : فَجَعَلَ الرَّجُلُ يَجِيءُ بِالْأَقِطِ ، وَجَعَلَ الرَّجُلُ يَجِيءُ بِالتَّمْرِ ، وَجَعَلَ الرَّجُلُ يَجِيءُ بِالسَّمْنِ ، فَحَاسُوا حَيْسًا ، فَكَانَتْ وَلِيمَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کا قصد کیا اور ہم نے اس کے قریب صبح کی نماز اندھیرے میں پڑھی، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہوئے اور ابو طلحہ بھی سوار ہوئے اور میں ابو طلحہ کے پیچھے سوار تھا۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے (اپنی سواری) خیبر کی گلیوں میں دوڑا دی (اور ہم نے بھی اپنی سواریاں دوڑائیں) اور میرا گھٹنا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ران سے چھو رہا تھا، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ران سے تہبند کھسک گئی یا سرک گئی تو مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ران کی سفیدی نظر آنے لگی، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم بستی میں داخل ہو گئے تو آپ نے فرمایا: "اللہ اکبر! خیبر تباہ و برباد ہو یا خیبر ویران ہو گیا ہم جب کسی قوم کے آنگن یا چوک میں اترتے ہیں تو ڈرائے گئے لوگوں کی صبح بری ہوتی ہے۔”آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کلمات تین دفعہ فرمائے، اور لوگ اپنے کام کاج کے لیے نکل چکے تھے۔ اس لیے انہوں نے کہا: محمد، اللہ کی قسم! عبدالعزیز کی روایت میں ہے، ہمارے بعض ساتھیوں نے یہ الفاظ بیان کیے۔ محمد لشکر کے ساتھ آ گیا، اور ہم نے خیبر کو طاقت اور زورِ بازو سے فتح کیا، اور قیدیوں کو یکجا اکٹھا کیا گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حضرت دحیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ آئے اور عرض کیا، اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! مجھے قیدیوں میں سے ایک لونڈی عنایت فرمائیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جاؤ اور ایک باندی لے لو۔‘‘ تو انہوں نے صفیہ بنت حیی رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو لے لیا۔ اس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک آدمی آ کر کہنے لگا: اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دحیہ کو قریظہ اور بنو نضیر کی آقا صفیہ بنت حیی عنایت کر دی ہے؟ وہ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے شایان شان تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے اس سمیت بلاؤ۔‘‘ تو وہ اس کو لے کر حاضر ہوا تو جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر نظر ڈالی فرمایا: ”قیدیوں میں سے اس کے سوا کوئی اور لونڈی لے لو۔‘‘ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے آزاد کر کے اس سے شادی کر لی، حضرت ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے دریافت کیا، اے ابو حمزہ! (حضرت انس کی کنیت ہے) اس کو مہر کیا دیا تھا؟ انہوں نے جواب دیا، اس کا نفس، اس کو آزاد کیا اور اس سے شادی کر لی، حتی کہ جب (واپسی پر) راستہ میں ہی تھے، تو حضرت ام سلیم رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے انہیں تیار کر کے رات کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پیش کر دیا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم صبح کو نوشہ (دولہا) بن چکے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کے پاس کچھ ہو وہ لے آئے۔‘‘ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چمڑے کا دسترخوان بچھا دیا، تو کوئی آدمی پنیر لا رہا ہے اور کوئی آدمی کھجور لا رہا ہے اور کوئی گھی لا رہا ہے۔ ان سے صحابہ کرام نے مالیدہ تیار کیا، اور یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ولیمہ تھا۔
تشریح، فوائد و مسائل
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری دوڑا رہے تھے، اور دوسرے صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اپنی سواریاں دوڑارہے تھے، تیز رفتاری کی بنا پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ران کھل گئی اور بھیڑکی بنا پر حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا گھٹنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ران سے مل گیا اور ان کی نظرآپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ننگی ران پر پڑ گئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمداً اپنی ران ننگی نہیں کی تھی۔
2۔
چونکہ لشکر کے پانچ حصے ہوتے ہیں سب سے اگلا حصہ مقدمہ سب سے پچھلا حصہ ساقہ درمیان والا حصہ قلب جس پر اصل انحصار ہوتا ہے، دایاں حصہ میمنہ اور بایاں حصہ میسرہ اس لیے لشکر کو خمیس کہہ دیتے ہیں۔
3۔
بقول بعض حضرت صفیہ کا نام زینب تھا۔
آپ کے اپنے لیے انتخاب کرنے پر صفیہ کا نام دیا گیا، چونکہ وہ حسین و جمال اور خاندانی طور پر حسب و نسب والی شریف اور بنو قریظہ اور بنو نضیر کی آقا تھیں، اس لیے جب حضرت دحیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی درخواست پر انہیں بطور فضل وانعام ایک لونڈی لینے کا حق دیا گیا اور انھوں نے حضرت صفیہ کو پسند کر لیا اس پر ایک آدمی نے اعتراض کیا اور عرض کیا، وہ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کے لائق اور مناسب ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت دحیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اس کے عوض سات لونڈیاں دے کرانہیں واپس لے لیا تاکہ دوسروں کے دلوں میں ان کے بارے میں حسدوکینہ پیدا نہ ہو، جو کسی خرابی یا فساد کا باعث بنے۔
اس لیے اس سے ہبہ کی واپسی کا جواز نہیں نکلتا۔
4۔
اس حدیث سے (حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے جواب سے)
ثابت ہوتا ہے کہ اگر کوئی انسان اپنی لونڈی کو اس شرط پر آزاد کرتا ہے کہ وہ اس سے اس کی آزادی کے عوض میں شادی کرے گا تو یہ جائز ہے، اور اس لونڈی کو اپنے آقا سے بلا مہر نکاح کرنا ہو گا۔
امام احمد رحمۃ اللہ علیہ، امام ابو یوسف رحمۃ اللہ علیہ، امام اسحاق رحمۃ اللہ علیہ، اور امام اوزاعی رحمۃ اللہ علیہ، وغیرہم کا یہی موقف ہے، لیکن امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ امام مالک رحمۃ اللہ علیہ، اور امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ، کے نزدیک یہ شرط صحیح نہیں ہے۔
اس کو الگ مہر دینا ہو گا یا لونڈی کی قیمت مقرر کر کے، اس قیمت کو مہر قراردینا ہو گا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت صفیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو تبرعاً (اللہ کی رضا کے لیے)
آزادی دی تھی پھر اس کی رضا مندی سے بلا مہر شادی کرلی تھی، اور یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصیت ہے عورت بلا مہر اپنے آپ کو پیش کر سکتی ہے، لیکن ظاہر حدیث کا تقاضا یہی ہے کہ جب آقا لونڈی سے بلا نکاح اور بلا مہر فائدہ اٹھا سکتا ہے تو اگر وہ اس پر احسان کرتے ہوئے اس کو آزاد کر کے بلند مقام دے کر اس سے شادی کر لے تو اس کے لیے مہر کو کیوں لازم ٹھہرایاجائے۔
ہاں اگر وہ اپنی خوشی سے مہر دے دے تو اچھی بات ہے۔
5۔
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے سفر میں شادی اور رخصتی عمل میں لائی جا سکتی ہے اور ولیمہ میں رفقاء حصہ ڈال سکتے ہیں۔
ولیمہ کی دعوت کے لیے گوشت کا اہتمام کرنا ضروری نہیں ہے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو آزاد فرما کر اپنے ازواج میں داخل فرمالیا تھا۔
حضرت امام ابو یوسف ومحمد اور حنابلہ اور ثوری اور اہلحدیث کا یہی قول ہے کہ لونڈی کی آزادی یہی اس کا مہر ہو سکتی ہے اور حنفیہ و شافعیہ کہتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خاصہ تھا اور کسی کو ایسا کرنا درست نہیں۔
اہلحدیث کی دلیل حضرت انس رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے۔
اس میں صاف یہ ہے کہ آزادی ہی مہر قرار پائی۔
شافعیہ اور حنفیہ کہتے ہیں کہ حضرت انس کو دوسرے مہر کا علم نہیں ہوا تو انہوں نے اپنے علم کی نفی کی نہ اصل مہر کی۔
اہلحدیث کہتے ہیں کہ طبرانی اور ابوالشیخ نے خود حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے کہا میری آزادی ہی میرا مہر قرار پائی۔
دلائل کے لحاظ سے یہی مسلک راجح ہے۔
اس لئے اہلحدیث کا مسلک ہی صحیح ہے۔
فتح الباری میں ہے۔
أخذ بظاھرہ من القدماء سعید ابن المسیب و إبراھیم النخعي وطاؤس و الزھري ومن فقھاء الأمصار الثوري و أبو یوسف و احمد و إسحاق قالوا إذا أعتق أمته علی أن یجعل عتقھا صداقھا صح العقد والعتق والمھر علی ظاھر الحدیث۔
(1)
حضرت صفیہ رضی اللہ عنہما جنگ خیبر میں گرفتار ہوئی تھیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں آزاد کر کے ان سے نکاح کرلیا اور ان کی آزادی کو ان کا حق مہرقرار دیا۔
اکثر اہل علم کا موقف ہے کہ ظاہر حدیث کے پیش نظر لونڈی کی آزادی اس کا حق مہر ہو سکتی ہے جیسا کہ مذکورہ حدیث میں وضاحت ہے۔
اس کے علاوہ طبرانی کی روایت میں حضرت صفیہ رضی اللہ عنہم کا بیان ہے کہ میری آزادی ہی میرا مہر قرار پائی۔
(المعجم الأوسط للطبراني: 236، رقم: 8502) (2)
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ اس حدیث کے ظاہر کے پیش نظر متقدمین میں سے سعید بن مسیّب، ابراہیم نخعی، طاؤس، زہری، ثوری، ابو یوسف، امام احمد اور اسحاق رحمہم اللہ کا موقف ہے کہ جب کوئی شخص اپنی لونڈی کو اس شرط پر آزاد کرتا ہے کہ اس کی آزادی ہی اس کا حق مہر قرار پائے گا تو عقد نکاح، آزادی اور حق مہر صحیح ہے اور ایسا کرنا جائز ہے، جبکہ کچھ اہل علم کہتے ہیں کہ ایسا کرنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خاصہ تھا، کسی دوسرے کے لیے ایسا کرنا جائز نہیں۔
دلائل کے اعتبار سے پہلا موقف زیادہ مضبوط ہے۔
والله اعلم (فتح الباري: 161/9)
آپ تین دن برابر حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کے پاس رہے کیونکہ وہ ثیبہ تھیں۔
باکرہ کے پاس دولہا سات دن تک رہ سکتا ہے۔
یہ اس صورت میں ہے کہ اس کے نکاح میں دوسری عورتیں بھی ہوں اس کے بعد وہ باری مقرر کرے گا تنہا ایک ہی عورت ہے تو اس کے لئے کوئی قید نہیں ہے۔
(1)
عرب میں یہ رسم تھی کہ وہ شب زفاف کے وقت دلہا اور دلہن کے لیے ایک الگ خیمہ لگانے کا اہتمام کرتے تاکہ وہ اس میں خلوت کریں، اسے بنا سے تعبیر کیا جاتا۔
ویسے اس سے مراد جماع کرنا اور خلوت اختیار کرنا ہے۔
(2)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت صفیہ رضی اللہ عنہما کو آزاد کر کے اپنے حرم میں داخل فرمایا: دوران سفر میں آپ برابر تین دن تک ان کے پاس رہے کیونکہ وہ شوہر دیدہ تھیں۔
کنواری کے ساتھ ابتدا میں سات دن رہنے کی اجازت ہے، اس کے بعد باری کا اہتمام کیا جائے۔
یہ اس صورت میں ہے کہ خاوند کے نکاح میں دوسری عورتیں بھی ہوں۔
اگر تنہا ایک ہی بیوی ہے تو پھر باری وغیرہ کے تکلف کی ضرورت نہیں ہے۔
(3)
اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ شادی کے موقع پر ولیمہ ہونا چاہیے تاکہ لوگوں میں نکاح کی شہرت ہو جائے۔
والله اعلم
1۔
حضرت صفیہ ؓ کا نام زینب تھا۔
جب رسول اللہ ﷺ نے اسے اپنے لیے منتخب فرمایا تو اس کا نام صفیہ پڑگیا اور یہی اصل نام پر غالب آگیا۔
انھیں استبرائے رحم تک حضرت ام سلیم ؓ کے پاس ٹھہرایا گیا، جب حیض سے پاک ہوگئیں تو انھیں سنوار کررسول اللہ ﷺ کے حضور پیش کیا گیا۔
2۔
ان کا شوہر اس جنگ میں قتل کردیا گیاتھا۔
اس کا سبب یہ تھا کہ رسول اللہ ﷺ نے خیبر کے یہودیوں سے اس شرط پر صلح کی تھی کہ اپنے اموال میں سے کچھ نہیں چھپائیں گے بصورت دیگران کی ذمہ داری اور عہد ختم ہوجائے گا، لیکن حضرت صفیہ ؓ کے شوہرکنانہ بن ربیع بن ابوالحقیق نے وہ گائے کا چمڑا غائب کردیا جس میں حی بن اخطب کے زیورات اور اموال تھے، اسے وہ اٹھا کر اپنے ساتھ خیبر میں لے آیا تھا۔
جب آپ ﷺ نے ان اموال اور زیورات کے متعلق پوچھا تو اس نے کہا: وہ جنگوں میں ختم ہوگئے ہیں۔
اس کے بعد ایک یہودی نے رسول اللہ ﷺ کو بتایا کہ میں کنانہ کو روزانہ ایک ویرانے میں چکر لگاتے دیکھتا تھا، اس ویرانے میں وہ خود خزانہ پا گیا تو اسےبدعہدی کی وجہ سےقتل کردیا گیا۔
3۔
حضرت صفیہ ؓ کی حال ہی میں رخصتی ہوئی تھی اور وہ ابھی دلھن ہی تھیں جب انھیں قیدی بنا لیا گیا۔
(فتح الباري: 599/7)
(1)
"حيس" ایک قسم کا حلوہ ہے جو کھجور اور پنیر میں گھی ملا کر تیار کیا جاتا ہے۔
حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا سے شادی کے بعد یہی آپ کا ولیمہ تھا۔
(2)
امام بخاری رحمہ اللہ نے اس حدیث سے ثابت کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چمڑے کا دسترخوان استعمال کیا۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نمود و نمائش سے کوسوں دور تھے۔
ملیدہ کھلا کر بھی ولیمہ کیا جا سکتا ہے آپ نے گھی پنیر اور ستو ملا کر یہ ملیدہ تیار کرایا تھا۔
سبحان اللہ کتنا مزید ار وہ ملیدہ ہوگا جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تیار کرائیں۔
(1)
اس حدیث سے بھی معلوم ہوا کہ ولیمے میں گوشت کا ہونا ضروری نہیں بلکہ حالات و ظروف کے مطابق کسی بھی چیز سے ولیمہ کیا جا سکتا ہے۔
(2)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چونکہ سفر میں تھے، اس لیے آپ نے حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کے ولیمے میں کھجور، گھی، اور پنیر سے ملیدہ تیار کرایا اور مدعوین کی خاطر تواضع کی۔
وہ ملیدہ کس قدر مزے دار ہوگا جسے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیار کرایا۔
باب اور حدیث میں مطابقت ظاہر ہے کہ آپ نے صفیہ رضی اللہ عنہا کو آزاد کر کے اپنے حرم میں داخل فرما لیا۔
(1)
اس حدیث سے امام بخاری رحمہ اللہ نے عنوان اس طرح ثابت کیا ہے کہ حضرت صفیہ رضی اللہ عنہما کے متعلق ابتدائی طور پر صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی اور لونڈی ہونے میں تردد تھا، اسی تردد سے لونڈی رکھنے کا جواز ثابت کیا ہے، لیکن بعد میں انھیں یقین ہوگیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو اپنے حرم میں داخل فرمالیا ہے اور وہ امہات المومنین میں شامل ہوچکی ہیں۔
(2)
اس کی عنوان سے مطابقت اس طرح بھی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت صفیہ رضی اللہ عنہما کو آزاد کر کے ان سے نکاح کرلیا تھا۔
یہ کنانہ رئیس خیبر کی بیوی تھیں اور یہ کنانہ وہی یہودی ہے جس نے بہت سے خزانے زیر زمین دفن کر رکھے تھے۔
اور فتح خیبر کے موقعہ پر ان سب کو پوشیدہ رکھنا چاہا تھا۔
مگر آنحضرت ﷺ کو وحی الٰہی سے اطلاع مل گئی۔
اور کنانہ کو خود اسی کے قوم کے اصرار پر قتل کر دیا گیا۔
کیوں کہ اکثر غربائے یہود اس سرمایہ دار کی حرکتوں سے نالاں تھے۔
اور آج بمشکل ان کو یہ مو قع ملا تھا۔
صفیہ ؓ نے پہلے ایک خواب دیکھا تھا کہ چاند میری گود میں ہے۔
جب انہوں نے یہ خواب اپنے شوہر کنانہ سے بیان کیا تو اس کی تعبیر کنانہ نے یہ سمجھ کر یہ نبی موعود ؑ کی بیوی بنے گی ان کے منہ پر ایک زور کا طمانچہ مارا تھا۔
خیبر فتح ہوا تو یہ بھی قیدیوں میں تھی اور حضرت دحیہ بن خلیفہ کلبی کے حصہ غنیمت میں لگا دی گئی تھی۔
بعد میں آنحضرت ﷺ کو ان کی شرافت نسبی معلوم ہوئی کہ یہ حضرت ہارون ؑ کے خاندان سے ہیں تو آپ نے حضرت دحیہ کلبی ؓ کو ان کے عوض سات غلام دے کر ان سے واپس لے کر آزاد فرما دیا۔
اور خود انہوں نے اپنے پرانے خواب کی بناء پر آپ سے شرف زوجیت کا سوال کیا، تو آنحضرت ﷺ نے اپنے حرم محترم میں ان کو داخل فرما لیا۔
اور ان کا مہر ان کی آزادی کوقرار دے دیا۔
حضرت صفیہ ؓ بہت ہی وفادار اور علم دوست ثابت ہوئیں۔
آنحضرت ﷺ نے بھی ان کی شرافت کے پیش نظر ان کو عزت خاص عطا فرمائی۔
اس سفر ہی میں آپ ﷺ نے اپنی عباءمبارک سے ان کا پردہ کرایا اور اپنے اونٹ کے پاس بیٹھ کر اپنا ٹخنہ بچھا دیا۔
جس پر حضرت صفیہ ؓ نے اپنا پاؤں رکھا اور اونٹ پر سوار ہو گئیں۔
50ھ میں انہوں نے وفات پائی اور جنت البقیع میں سپرد خاک کی گئیں۔
حضرت امام بخاری ؒ نے اس حدیث سے بہت سے مسائل کا استخراج فرماتے ہوئے کئی جگہ اسے مختصر اور مطول نقل فرمایا ہے۔
یہاں آپ کے پیش نظر وہ جملہ مسائل ہیں جن کا ذکر آپ نے ترجمۃ الباب میں فرمایا ہے اور وہ سب اس حدیث سے بخوبی ثابت ہوتے ہیں کہ حضرت صفیہ ؓ لونڈی کی حیثیت میں آئی تھیں۔
آپ نے ان کو آزاد فرمایا اور سفر میں اپنے ہمراہ رکھا۔
اسی سے باب کا مقصد ثابت ہوا۔
(1)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ آقا اپنی لونڈی کو سفر میں اپنے ہمراہ لے جاسکتا ہے لیکن استبرائے رحم سے قبل اس سے مجامعت کی اجازت نہیں۔
(2)
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت صفیہ ؓ کو اپنے لیے منتخب فرمالیا تھا جبکہ حدیث انس سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت صفیہ ؓ حضرت دحیہ کلبی ؓ کو دی تھیں؟ اس تعارض کو اس طرح ختم کیا گیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے پہلے تو حضرت دحیہ کو دی تھیں، پھر جب پتہ چلا کہ وہ تو سردار کی بیٹی ہیں تو اس وقت کے قانون کے مطابق سردار کی بیٹی اگر گرفتار ہو کر آتی تو سردار ہی کے حصے میں آتی، اس بنا پر آپ نے انھیں حضرت دحیہ ؓ سے سات غلاموں کے عوض واپس لے لیا۔
والله أعلم.
انہوں نے نے جنگ سے پہلے ہی خواب دیکھا تھا کہ ایک چاند ان کی گود میں آگیا ہے۔
جنگ میں صلح کے بعد ان کے خاندانی وقار اور بہت سے خاندانی مصالح کے پیش نظر آنحضرت ﷺ نے ان کو آزاد کرکے خود اپنے حرم میں لے لیا۔
اس طرح ان کا خواب پورا ہوا اور ان کا احترام بھی باقی رہا۔
تفصیلی حالات پیچھے بیان ہوچکے ہیں۔
1۔
یہ غزوہ خیبر کا واقعہ ہے کیونکہ اسی جنگ میں حضرت صفیہ ؓ کا شوہر کنانہ بن ابوالحقیق ایک بدعہدی کی بنا پرقتل کردیا گیا تھا۔
اس کے قتل کے بعد حضرت صفیہ ؓ کوقیدی عورتوں میں شامل کرلیا گیا۔
پہلے وہ وحیہ کلبی ؓ کے حصے میں آئیں، پھررسول اللہ ﷺ نے اسے اپنے لیے منتخب فرمایا کیونکہ یہ شہزادی تھیں اور عام آدمی سے ان کی ہم آہنگی مشکل تھی۔
رسول اللہ ﷺ نے انھیں آزاد کرکے ان سے شادی کرلی اور ان کی آزادی کو ہی حق مہر قراردیا۔
خیبر سے واپسی پر صبہاء پہنچ کر حیض سے پاک ہوئیں تو حضرت اُم سلیم ؓ نے انھیں رسول اللہ ﷺ کے لیے تیار کیا۔
اگلے دن آپ نے کھجور، گھی اور ستو ملا کر صحابہ کرام ؓ کو ولیمہ کھلایا۔
(صحیح البخاري، حدیث: 371،5425)
2۔
رسول اللہ ﷺ نے ان کے چہرے پر سبزنشان دیکھا تو فرمایا: ’’یہ کیا ہے؟‘‘ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! آپ کے خیبر آنے سے پہلے میں نے ایک خواب میں دیکھا تھا کہ چاند اپنی جگہ سے ٹوٹ کر میری آگوش میں آگرا ہے۔
اللہ کی قسم! مجھے اس وقت آپ کے متعلق کچھ بھی معلوم نہیں تھا، لیکن جب میں نے یہ خواب اپنے شوہر سے بیان کیا اس نے میرے چہرے پرزوردار تھپڑ مارتے ہوئے کہا: تم شاہ حجاز کے ہاں جانا چاہتی ہو جو مدینہ طیبہ میں ہے۔
(زاد المعاد: 327/3)
1۔
اس روایت میں اس مقام کی تعین نہیں جہاں آپ نے تین دن قیام فرمایا جبکہ ایک حدیث میں صبہاء (حدیث: 4211)
اور دوسری میں سدروحاء(حدیث: 2235)
کا ذکر ہے۔
اس مقام کے دو نام تھے یا دونوں مختلف مقام ہیں اور ایک دوسرے کے قریب ہیں، اس لیے ایک پردوسرے کا نام بولاجاتا ہے۔
یہ مقام خیبر سے مدینہ آتے ہوئے چھٹے میل پر واقع ہے۔
ہمارے رجحان کے مطابق سدروحاء 2۔
اس حدیث میں ایک اشکال ہے کہ جب صحابہ کرام ؓ نے دعوت ولیمہ کھائی تو انھیں حضرت صفیہ ؓ کے متعلق تردد کیوں ہوا کہ وہ ام المومنین ہیں یا آپ کی کنیز ہیں؟ اس کی توجیہ اس طرح کی گئی ہے کہ مذکورہ تردد نکاح اور ولیمے سے پہلے تھا یا جنھیں تردد ہوا وہ ولیمے اور نکاح میں حاضر نہیں تھے، اگرولیمے میں حاضر تھے تو انھوں نے اسے عام دعوت خیال کیا، البتہ پردے کے بعد واضح ہوگیا کہ حضرت صفیہ ؓ رسول اللہ ﷺ کی زوجہ محترمہ ہیں۔
مدینے سے مکے کی جانب تیس میل سے کچھ زیادہ دور واقع ہے۔
واللہ اعلم۔
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ہم خیبر آئے (یعنی غزوہ کے موقع پر) تو جب اللہ تعالیٰ نے قلعہ فتح کرا دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ام المؤمنین صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا کے حسن و جمال کا ذکر کیا گیا، ان کا شوہر مارا گیا تھا، وہ دلہن تھیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنے لیے منتخب فرما لیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں ساتھ لے کر روانہ ہوئے یہاں تک کہ ہم سد صہباء ۱؎ پہنچے، وہاں وہ حلال ہوئیں (یعنی حیض سے فارغ ہوئیں اور ان کی عدت پوری ہو گئی) تو اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 2995]
جنگ میں ہاتھ میں آنے والی لونڈیوں کے متعلق حکم یہ ہے کہ جب تک حمل نہ ہونے کا یقین نہ ہو جائے ان سے صحبت جائز نہیں۔
اور یہی ان کی عدت ہے۔
اسے استبراء رحم (رحم کے صاف ہونے کا پتہ چل جانا) کہتے ہیں۔
2۔
سدا الصھباء خیبر سے باہر ایک جگہ کا نام ہے۔
سد کی سین پرپیش اور زبر دونوں منقول ہیں۔
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں خیبر میں سب قیدی جمع کئے گئے تو دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ آئے اور انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ان قیدیوں میں سے مجھے ایک لونڈی عنایت فرما دیجئیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جاؤ ایک لونڈی لے لو “، دحیہ نے صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا کو لے لیا، تو ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور بولا: اللہ کے رسول! آپ نے (صفیہ بنت حیی کو) دحیہ کو دے دیا، صفیہ بنت حیی قریظہ اور نضیر (کے یہودیوں) کی سیدہ (شہزادی) ہے، وہ تو صرف آپ کے لیے موزوں و مناسب ہ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 2998]
اہل خیبر کو جنگ میں شکست سے دو چار ہونا پڑا۔
ان کے مال پر قبضہ کر لیا گیا۔
اور قیدیوں کو غلام اور لونڈیاں بنالیا گیا۔
اور یہ اس وقت جنگ کا معروف طریقہ تھا۔
مگر رسول اللہ ﷺ نے اس کے باوجود ایک سردار زادی کو اس کا مقام منصب دیا۔
وہ ایک صحابی کے حصے میں آچکی تھیں۔
آپ نے اسے واپس لے کر آزاد کر دیا۔
اور پھر ان کی مرضی سے انھیں اپنے حرم میں داخل کرکے انہیں مسلمان سوسائٹی میں اعلیٰ ترین مقام عطا کیا۔
2۔
اسلام جہاں حق کی ترویج اور دفاع کے لئے طاقت کا مظاہرہ کرتا ہے۔
وہاںا نسانوں کوعزت بھی دیتا ہے۔
اس اقدام سے ایک مقصد یہ بھی تھا۔
کہ ان قبائل کی نفرت وعداوت کو الفت وقربت میں بدل کر انہیں اسلام کے قریب لایا جائے۔
اور یہی رسول اللہ ﷺ کے کثرت ازواج کی ایک اہم حکمت تھی۔
مستشرقین نے تعصب برتتے ہوئے جو الزام تراشی کی وہ ثابت شدہ حقائق کے خلاف ہے۔
3۔
حضرت دحیہ رضی اللہ عنہا سے حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کو زبردستی نہیں لیا گیا تھا۔
بلکہ انہیں رسول اللہ ﷺ ان کے بدلے سات لونڈی غلام عنایت فرما کر اچھی طرح راضی کیا۔
بلکہ یہ بدلہ اتنا زیادہ تھا کہ تھوڑی دیرکےلئے حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا جو ان کے حصے میں رہیں اس کی برکت سے ان کو اپنے وہم وگمان سے زیادہ مل گیا۔
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ام المؤمنین صفیہ رضی اللہ عنہا کو آزاد کیا اور ان کی آزادی ہی کو ان کا مہر قرار دیا۔ [سنن ابي داود/كتاب النكاح /حدیث: 2054]
حضرت صفیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا خیبر کے یہودی سردار حی بن اخطب کی صاحبزادی تھیں۔
اورفتح خیبر کے موقع پر مسلمانوں کے ہاتھ قید ہوگئی تھی۔
جب قیدی عورتیں جمع کی گیئں۔
تو حضرت دحیہ بن خلیفہ کلبی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نبی کریمﷺکی خدمت میں آکر عرض کیا۔
اے اللہ کے نبی ﷺمجھے قیدی عورتوں میں سے ایک لونڈی دے دیجئے۔
آپﷺ نےفرمایا جائو ایک لونڈی لے لو۔
انہوں نے جا کر حضرت صفیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو منتخب کرلیا۔
اس پر ایک آدمی نے آپﷺ کے پا س آکر عرض کیا۔
اے اللہ کے نبیﷺ آپ نے بنی قریظہ اور بنی نضیر کی سیدہ صفیہ کو دحیہ کے حوالے کردیا۔
حالانکہ صرف وہ آپ ﷺکے شایان شان ہے۔
آپ ﷺنے فرمایا دحیہ کو صفیہ سمیت بلائو۔
حضرت وحیہ ان کو ساتھ لئے ہوئے حاضر ہوئے۔
آپ ﷺنے انھیں دیکھ کر حضرت وحیہ سے فرمایا قیدیوں میں سے کوئی دوسری لونڈی لےلو۔
پھر آپ ﷺنے حضرت صفیہ پرالسلام پیش کیا۔
انہوں نے اسلام قبول کرلیا اس کے بعد آپ نے انہیں آزاد کرکے آپﷺنے ان سے شادی کرلی۔
اور ان کی آذادی ہی کو ان کا مہر قرار دیا۔
مدینہ واپسی میں صد صہبا پہنچ کر وہ حیض سے پاک ہوگئیں۔
اس کے بعد ام سلیم رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے انہیں آپﷺکےلئے آراستہ کیا۔
اور رات کو آپﷺکے پاس بھیج دیا۔
آپ ﷺنے دولہے کی حیثیت سے ان کے ہمراہ صُبح کی۔
اور کھجور اور گھی اور ستو ملا کر ولیمہ کھلایا۔
اور راستے میں تین روز شبہائے عروسی کے طور پر ان کے پاس قیام فرمایا۔
اس موقع پر آپﷺنے ان کے چہرے پر ہرا نشان دیکھا دریافت فرمایا یہ کیا ہے۔
کہنے لگیں۔
یا رسول اللہ ﷺ آپ کے خیبر آنے سے پہلے میں نے ایک خواب دیکھا تھا کہ چاند اپنی جگہ سے ٹوٹ کر میری آغوش میں آکر گرا ہے۔
بخدا مجھے آپ ﷺکے معاملے کا کوئی تصور بھی نہ تھا۔
لیکن میں نے یہ خواب اپنے شوہر سے بیان کیا۔
تو اس نے میرے چہرے پر تھپڑ رسید کرتے ہوئے کہا یہ بادشاہ جو مدینہ میں ہے تم اس کی آرزو کررہی ہو (الرحیق المختوم)
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ام المؤمنین صفیہ رضی اللہ عنہا کے نکاح میں ستو اور کھجور کا ولیمہ کیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الأطعمة /حدیث: 3744]
فائدہ: ولیمہ کرنا مستحب ہے۔
اور جو میسرہوپیش کردینا چاہیے۔
ضرروی نہیں کہ گوشت ہی ہو۔
آج کل ولیمے کی سنت پر عمل کیا جاتا ہے۔
لیکن اصحاب حیثیت اس میں اتنا تکلف کرتے ہیں کہ اللہ کی پناہ اور اسراف وتبذیر کا یہ مظاہرہ اس کو شیطانی عمل میں تبدیل کردیتا ہے۔
(إِنَّ الْمُبَذِّرِينَ كَانُوا إِخْوَانَ الشَّيَاطِينِ) (بني إسرائیل۔
27) فضول خرچی کرنے والے شیطانوں کے بھائی ہیں۔
أعاذنا اللہ منه۔
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صفیہ بنت حیی بن اخطب رضی اللہ عنہا کے ساتھ خیبر کے راستے میں تین دن گزارے، پھر ان کا شمار ان عورتوں میں ہو گیا جن پر پردہ فرض ہو گیا یعنی صفیہ آپ کی ازواج مطہرات میں ہو گئیں۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3383]
(2) ”ان عورتوں میں بھی شامل تھیں“ یعنی وہ آپ کی لونڈی نہیں تھیں بلکہ آپ کی ازواج مطہرات میں شامل ہوئیں کیونکہ آپ نے انہیں آزاد فرما کر ان سے نکاح کیا تھا۔ پردہ آزاد عورت کے ساتھ خاص تھا‘ اس لیے یہ الفاظ استعمال کیے گئے۔
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صفیہ رضی اللہ عنہا کو آزاد کیا اور ان کی آزادی کو ان کا مہر قرار دیا۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3344]
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (غزوہ خیبر کے موقع پر قید ہو کر آنے والی یہودی سردار حي بن اخطب کی بیٹی) صفیہ رضی اللہ عنہا کو آزاد کیا، اور ان کی آزادی کو ان کا مہر قرار دیا، حدیث کے الفاظ راوی حدیث محمد کے ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3345]
(2) ام المومنین حضرت صفیہؓ غزوۂ خیبر میں یہودیوں کی شکست فاش کے بعد قید ہوگئی تھیں۔ ان کا نکاح تھوڑا عرصہ پہلے ہوا تھا۔ خاوند اسی جنگ میں مارا گیا۔ چونکہ وہ ایک عظیم سردار کی بیٹی اور ایک دوسرے سردار کی بیوی تھیں‘ لہٰذا لوگوں کے مطالبے پر نبیﷺ نے انہیں اپنے لیے منتخب فرمایا۔ چونکہ قیدی غلام بن جاتے ہیں۔ وہ بھی غلام ہی تھیں۔ آپ نے انہیں آزاد فرما کر ان سے نکاح فرما لیا۔ اس طرح یہودیوں کی مخالفت میں زور نہ رہا۔ رَضِيَ اللّٰہُ عَنْهُ وَأَرْضَاہُ۔ حضرت صفیہؓ حضرت ہارون علیہ السلام کی نسل مبارکہ سے تھیں۔
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ام المؤمنین صفیہ رضی اللہ عنہا کو سات غلام کے بدلے خریدا ۱؎۔ عبدالرحمٰن بن مہدی نے کہا: دحیہ کلبی سے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2272]
فوائد و مسائل:
(1)
حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا اپنے قبیلے کے سردار کی بیٹی تھیں۔
جنگی قیدی بن کر مسلمانوں کے قبضے میں آئیں۔
غنیمت کی تقسیم کے موقع پر حضرت دحیہ کلبی ؓ کے حصے میں آئیں۔
رسول اللہ ﷺ کو مشورہ دیا گیا کہ وہ سردار کی بیٹی ہے، اس لیے ان کا آپ کے پاس ہونا زیادہ مناسب ہے، چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے انہیں حضرت دحیہ ؓ سے خرید لیا۔
(2)
غلاموں اور لونڈیوں کی خرید و فروخت جائز ہے۔
(3)
غلاموں اور لونڈیوں کی خریدوفروخت کے بنیادی احکام ومسائل وہی ہیں جو جانوروں کی خرید وفروخت کے لیے ہیں لیکن غلام چونکہ انسان ہوتے ہیں، اس لیے ان کے بعض مسائل الگ ہیں جن کی تفصیل اپنے مقام پر آئے گی۔
(4)
غلام اور لونڈی کو آزاد کرنا ثواب ہے بالخصوص جبکہ وہ مسلمان ہوں اور نیک ہوں۔
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ام المؤمنین صفیہ رضی اللہ عنہا کا ولیمہ ستو اور کھجور سے کیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1909]
فوائد و مسائل:
(1)
ام المومنین حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا یہود کے قبیلہ بنو نضیر کے سردار حیی بن اخطب کی بیٹی تھیں۔
اس شخص نے غزوہ خندق کے موقع پر مسلمانوں سے کیے ہوئے معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مشرکین کی مدد کی تھی اور یہودیوں کے دوسرے قبیلے بنو قریظہ کے سردار کعب بن اسعد کو بھی عہد شکنی پر آمادہ کیا تھا۔
جنگ خندق کے بعد رسول اللہ ﷺ نے بنو قریظہ کو ان کی عہد شکنی کی سزا دینے کے لیے ان کے قلعوں پر فوج کشی کی تو حیی بن اخطب بھی ان کی حمایت میں قلعہ بند ہو گیا، جب بنو قریظہ کے قلعے فتح ہوئے تو ان کے بالغ مردوں کو قتل کر دیا گیا اور حیی بن اخطب بھی ان کے ساتھ قتل ہوا۔
حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کا خاوند کنانہ بن ابو الحقیق بھی جنگ خیبر میں اپنی بد عہدی کی وجہ سے قتل کر دیا گیا تو حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا بھی قیدی عورتوں میں شامل کر لی گئیں۔
رسول اللہ ﷺ نے بعض صحابہ کے مشورے سے حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کو اپنے لیے منتخب فرما لیا۔
آپ نے ان پر اسلام پیش کیا تو انہوں نے اسلام قبول کرلیا۔
بعد میں نبی ﷺ نے انہیں آزاد کر کے ان سے نکاح کر لیا اور ان کی آزادی کو ان کا حق مہر قرار دیا۔ (تفصیل کے لیے دیکھیئے: الرحیق المختوم از مولانا صفی الرحمن مبارکپوری، ص: 511)
(2)
ولیمے میں پکا ہوا کھانا ہونا ضروری نہیں۔
کوئی بھی چیز جو کسی معاشرے میں کھانے کے طور پر استعمال ہوتی ہو ولیمے کی مہمانی میں پیش کی جاسکتی ہے۔
(3)
لونڈی کو آزاد کر کے اس سے نکاح کر لیا جائے تو اسے آزاد بیوی والے تمام حقوق حاصل ہو جاتے ہیں۔
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صفیہ رضی اللہ عنہا کو آزاد کیا اور ان کی آزادی کو ان کا مہر قرار دیا۔ (بخاری و مسلم) «بلوغ المرام/حدیث: 881»
«أخرجه البخاري، النكاح، باب من جعل عتق الأمة صداقها، حديث:5086، ومسلم، النكاح، باب فضيلة إعتاقه أمته ثم يتزوجها، حديث:(84)-1365 بعد الحديث:1427.»
تشریح: 1. یہ حدیث‘ غلامی سے آزادی کو مہر مقرر کرنے کی صحت کے بارے میں بالکل واضح ہے۔
جمہور نے اس کی مخالفت کی ہے مگر انھوں نے اپنے موقف پر کوئی قابل اطمینان دلیل پیش نہیں کی۔
2. اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ کسی بھی منفعت کو مہر مقرر کرنا درست ہے کیونکہ آزادی بھی منفعت ہے، اور اس کی تائید میں وہ واقعہ بھی ہے جو پہلے گزر چکا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تعلیم قرآن کو مہر مقرر کیا تھا۔
گویا مالیت کے علاوہ دوسری چیزیں بھی حق مہر مقرر کی جا سکتی ہیں۔
امام احمد اور امام اسحٰق رحمہما اللہ وغیرہما کا یہی موقف ہے۔
وضاحت: «حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا» ام المومنین حضرت صفیہ‘ حُیَــي بـن أخـطب کی بیٹی تھیں۔
ان کا سلسلۂ نسب حضرت ہارون علیہ السلام برادر موسیٰ علیہ السلام سے جا ملتا ہے۔
آپ اسی خانوادۂ رسالت سے تھیں۔
کنانہ بن ابی الحقیق کی زوجیت میں تھیں جو غزوۂ خیبر میں قتل ہوگیا تھا اور حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا قیدی بن گئیں۔
رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں اپنے حرم کے لیے پسند فرمایا‘ پھر مسلمان ہو گئیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں آزاد کر کے ان سے نکاح کر لیا اور اسی آزادی کو مہر مقرر کیا۔
انھوں نے ۵۰ ہجری میں وفات پائی اور انھیں بقیع میں دفن کیا گیا۔
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر اور مدینہ کے درمیان تین روز تک قیام کیا۔ صفیہ رضی اللہ عنہا سے اسی مقام پر شب باشی کی تو میں نے مسلمانوں کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ولیمہ کی دعوت دی۔ بس اس دعوت میں نہ روٹی تھی اور نہ گوشت اس تقریب میں بس یہی تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد گرامی کے مطابق چٹائیاں بچھائی گئیں اور ان پر کھجوریں، پنیر اور مکھن چن دیا گیا۔ (بخاری و مسلم) اور یہ الفاظ بخاری کے ہیں۔ «بلوغ المرام/حدیث: 898»
«أخرجه البخاري، النكاح، باب اتخاذ السراري......، حديث:5085، ومسلم، النكاح، باب فضيلة إعتاقه أمته ثم يتزوجها، حديث:1365 /3500.»
تشریح: 1. اس حدیث سے معلوم ہوا کہ دوران سفر میں شادی کرنا جائز ہے۔
2. اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ شادی بیاہ اور ولیمے وغیرہ کی تقریبات میں سب رشتہ داروں کا شامل کرنا بھی لازمی اور ضروری نہیں۔
3. یہ بھی ثابت ہوا کہ ولیمے میں ایک سے زائد کھانے بھی جائز ہیں‘ البتہ اس میں اسراف سے بہرنوع اجتناب ضروری ہے۔
دیگر احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ ولیمہ کر نا فرض ہے، اور ولیمہ رخصتی کے بعد ہوتا ہے، نہ کہ پہلے، بعض بے علم حضرات نے یہ شوشہ چھوڑا ہوا ہے کہ ولیمے کے لیے شرط ہے کہ بیوی سے صحبت کی جائے، اور پردہ بکارت پھٹے، یہ فضول بات ہے، اس کی قرآن و حدیث میں کوئی اصل نہیں ہے، کیونکہ رخصتی کے وقت عورت حیض کی حالت میں بھی ہوسکتی ہے، اور سب کو معلوم ہے کہ حالت حیض میں صحبت کرنا حرام ہے، اس سے یہ بھی ثابت ہوا کہ ولیمے میں سادہ سی چیز میں بھی پکانا درست ہیں مثلاً آلو روٹی، پالک کا سالن، اور روٹی وغیرہ۔ افسوس کہ لوگوں نے شادیوں کو مہنگا اور زنا کو سستا کر دیا ہے، ہمیں شادی کو سستا کر دینا چاہیے تا کہ زنا ختم ہو جائے۔
اس حدیث میں خیبر کی فتح کا ذکر ہے، اس حدیث سے یہ بھی ثابت ہوا کہ کفار بزدل ہوتے ہیں، مسلمانوں کے پاس سب سے قیمتی دولت ایمان ہوتی ہے، بزدلی ایمان کا مقابلہ کیسے کر سکتی ہے۔
اس حدیث میں گھریلو گدھے کی حرمت کا ذکر ہے، نیز صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کس قدر قرآن و حدیث کی اتباع کرنے میں حریص تھے، کاش امت مسلمہ بھی اپنے اوپر قرآن و حدیث کی اطاعت کو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی طرح واجب کر لے، اور اپنی زندگی کا اوڑھونا بچھونا قرآن و حدیث کی تعلیمات کو بنا لے، دونوں جہانوں کی کامیابی اسی میں ہے۔