صحيح مسلم
كتاب الحج— حج کے احکام و مسائل
باب فَضْلِ الْمَدِينَةِ وَدُعَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهَا بِالْبَرَكَةِ وَبَيَانِ تَحْرِيمِهَا وَتَحْرِيمِ صَيْدِهَا وَشَجَرِهَا وَبَيَانِ حُدُودِ حَرَمِهَا: باب: مدینہ منورہ کی فضیلت اور اس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی برکت کی دعا اور اس کی حرمت اور اس کے شکار، اور درخت کاٹنے کی حرمت، اور اس کے حدود حرم کا بیان۔
حدیث نمبر: 1364
وحدثنا إِسْحَاقَ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَعَبْدُ بْنُ حميد ، جميعا عَنِ الْعَقَدِيِّ ، قَالَ عبدَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، حدثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ : أَنَّ سَعْدًا رَكِبَ إِلَى قَصْرِهِ بِالْعَقِيقِ ، فَوَجَدَ عَبْدًا يَقْطَعُ شَجَرًا أَوْ يَخْبِطُهُ فَسَلَبَهُ ، فَلَمَّا رَجَعَ سَعْدٌ جَاءَهُ أَهْلُ الْعَبْدِ ، فَكَلَّمُوهُ أَنْ يَرُدَّ عَلَى غُلَامِهِمْ أَوْ عَلَيْهِمْ مَا أَخَذَ مِنْ غُلَامِهِمْ ، فقَالَ : مَعَاذَ اللَّهِ أَنْ أَرُدَّ شَيْئًا نَفَّلَنِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَبَى أَنْ يَرُدَّ عَلَيْهِمْ .عامر بن سعد بیان کرتے ہیں کہ حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ سوار ہو کر اپنے گھر جو عقیق میں واقع تھا کی طرف چلے تو راستہ میں ایک غلام کو درخت کاٹتے یا اس کے پتے جھاڑتے پایا، تو اس کا سامان چھین لیا، تو جب حضرت سعد واپس آئے، ان کے پاس غلام کے مالک آئے اور ان سے کہا، (گفتگو کی) کہ ان کے غلام کو یا ان کو وہ کچھ واپس کر دیں، جو ان کے غلام سے لیا ہے، تو انہوں نے کہا، اللہ کی پناہ کہ میں وہ چیز واپس کر دوں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بطور انعام عنایت فرمائی ہے، اور سامان واپس کرنے سے انکار کر دیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عبد العزیز علوی
عامر بن سعد بیان کرتے ہیں کہ حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ سوار ہو کر اپنے گھر جو عقیق میں واقع تھا کی طرف چلے تو راستہ میں ایک غلام کو درخت کاٹتے یا اس کے پتے جھاڑتے پایا، تو اس کا سامان چھین لیا، تو جب حضرت سعد واپس آئے، ان کے پاس غلام کے مالک آئے اور ان سے کہا، (گفتگو کی) کہ ان کے غلام کو یا ان کو وہ کچھ واپس کر دیں، جو ان کے غلام سے لیا ہے، تو انہوں نے کہا، اللہ کی پناہ کہ میں وہ چیز واپس کر دوں جو... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:3320]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ اگر کوئی انسان مدینہ کی حرمت وعظمت کو پامال کرتے ہوئے وہاں سے درخت کاٹے گا یا شکار کرے گا تو اس سے اس کا سازوسامان چھین لیا جائے گا لیکن جمہور ائمہ کے نزدیک اس نے ایک نا جائز کام کیا لیکن اس پر کسی قسم کا تاوان یا فدیہ نہیں ہے، لیکن صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین کا عمل تو اس حدیث کے مطابق رہا ہے۔
اگرچہ بعد والوں نے اس کو نظر انداز کر دیا ہے۔
اگرچہ بعد والوں نے اس کو نظر انداز کر دیا ہے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 3320 سے ماخوذ ہے۔