صحيح مسلم
كتاب الإيمان— ایمان کے احکام و مسائل
باب الدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ مَنْ مَاتَ عَلَى التَّوْحِيدِ دَخَلَ الْجَنَّةَ قَطْعًا باب: موحد قطعی جنتی ہے۔
حَدَّثَنَا هَدَّابُ بْنُ خَالِدٍ الأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ، قَالَ : كُنْتُ رِدْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، لَيْسَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ إِلَّا مُؤْخِرَةُ الرَّحْلِ ، فَقَالَ : يَا مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ ، قُلْتُ : لَبَّيْكَ رَسُولَ اللَّهِ وَسَعْدَيْكَ ، ثُمَّ سَارَ سَاعَةً ، ثُمَّ قَالَ : يَا مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ ، قُلْتُ : لَبَّيْكَ رَسُولَ اللَّهِ وَسَعْدَيْكَ ، ثُمَّ سَارَ سَاعَةً ، ثُمَّ قَالَ : يَا مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ ، قُلْتُ : لَبَّيْكَ رَسُولَ اللَّهِ وَسَعْدَيْكَ ، قَالَ : " هَلْ تَدْرِي مَا حَقُّ اللَّهِ عَلَى الْعِبَادِ ؟ قَالَ : قُلْتُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ، قَالَ : فَإِنَّ حَقَّ اللَّهِ عَلَى الْعِبَادِ ، أَنْ يَعْبُدُوهُ وَلَا يُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا ، ثُمَّ سَارَ سَاعَةً ، قَالَ : يَا مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ ، قُلْتُ : لَبَّيْكَ رَسُولَ اللَّهِ وَسَعْدَيْكَ ، قَالَ : هَلْ تَدْرِي مَا حَقُّ الْعِبَادِ عَلَى اللَّهِ إِذَا فَعَلُوا ذَلِكَ ؟ قَالَ : قُلْتُ : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ، قَالَ : أَنْ لَا يُعَذِّبَهُمْ " .سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث روایت کی، کہا: میں (سواری کے ایک جانور پر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سوار تھا، میرے اور آپ کے درمیان کجاوے کے پچھلے حصے کی لکڑی (جتنی جگہ) کے سوا کچھ نہ تھا، چنانچہ (اس موقع پر) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے معاذ بن جبل!“ میں نے عرض کی: میں حاضر ہوں اللہ کے رسول! زہے نصیب۔ (اس کے بعد) آپ پھر گھڑی بھر چلتے رہے، اس کے بعد فرمایا: ”اے معاذ بن جبل!“ میں نے عرض کی: میں حاضر ہوں، اللہ کے رسول! زہے نصیب۔ آپ نے فرمایا: ”کیا جانتے ہو کہ بندوں پر اللہ عزوجل کا کیا حق ہے؟“ کہا: میں نے عرض کی: اللہ اور اس کا رسول زیادہ آگاہ ہیں۔ ارشاد فرمایا: ”بندوں پر اللہ عزوجل کا حق یہ ہے کہ اس کی بندگی کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں۔“ پھر کچھ دیر چلنے کے بعد فرمایا: ”اے معاذ بن جبل!“ میں عرض کی: میں حاضر ہوں اللہ کے رسول! زہے نصیب۔ آپ نے فرمایا: ”کیا آپ جانتے ہو کہ جب بندے اللہ کا حق ادا کریں تو پھر اللہ پر ان کا حق کیا ہے؟“ میں نے عرض کی، اللہ اور اس کا رسول ہی زیادہ جاننے والے ہیں۔ آپ نے فرمایا: ”یہ کہ وہ انہیں عذاب نہ دے۔“
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ سَلَّامُ بْنُ سُلَيْمٍ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ، قَالَ : كُنْتُ رِدْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى حِمَارٍ يُقَالُ لَهُ : عُفَيْرٌ ، قَالَ : فَقَالَ : يَا مُعَاذُ ، تَدْرِي مَا حَقُّ اللَّهِ عَلَى الْعِبَادِ ، وَمَا حَقُّ الْعِبَادِ عَلَى اللَّهِ ؟ قَالَ : قُلْتُ : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ، قَالَ : " فَإِنَّ حَقَّ اللَّهِ عَلَى الْعِبَادِ ، أَنْ يَعْبُدُوا اللَّهَ وَلَا يُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا ، وَحَقُّ الْعِبَادِ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ، أَنْ لَا يُعَذِّبَ مَنْ لَا يُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا " ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَفَلَا أُبَشِّرُ النَّاسَ ؟ قَالَ : لَا تُبَشِّرْهُمْ فَيَتَّكِلُوا .عمرو بن میمون نے حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک گدھے پر سوار تھا جسے عفیر کہا جاتا تھا۔ آپ نے فرمایا: ”اے معاذ! جانتے ہو، بندوں پر اللہ کا کیا حق ہے اور اللہ پر بندوں کا کیا حق ہے؟“ میں نے عرض کی: اللہ اور اس کے رسول زیادہ جاننے والے ہیں۔ آپ نے فرمایا: ”بندوں پر اللہ کا حق یہ ہے کہ وہ اس کی بندگی کریں، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں اور اللہ پر بندوں کا حق یہ ہے کہ جو بندہ اس کے ساتھ (کسی چیز کو) شریک نہ ٹھہرائے، اللہ اس کو عذاب نہ دے۔“ کہا: میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! کیا میں لوگوں کو خوش خبری نہ سناؤں؟ آپ نے فرمایا: ”ان کو خوش خبری نہ سناؤ ورنہ وہ اسی پر بھروسہ کر لیں گے۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ وَالأَشْعَثِ بْنِ سُلَيْمٍ ، أَنَّهُمَا سَمِعَا الأَسْوَدَ بْنَ هِلَالٍ يُحَدِّثُ ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : يَا مُعَاذُ ، " أَتَدْرِي مَا حَقُّ اللَّهِ عَلَى الْعِبَادِ ؟ قَالَ : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ، قَالَ : أَنْ يُعْبَدَ اللَّهُ وَلَا يُشْرَكَ بِهِ شَيْءٌ ، قَالَ : أَتَدْرِي مَا حَقُّهُمْ عَلَيْهِ إِذَا فَعَلُوا ذَلِكَ ؟ فَقَالَ : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ، قَالَ : أَنْ لَا يُعَذِّبَهُمْ " .شعبہ نے ابوحصین اور اشعث بن سلیم سے حدیث سنائی، ان دونوں نے اسود بن ہلال سے سنا، وہ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث بیان کرتے تھے کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے معاذ! کیا تم جانتے ہو بندوں پر اللہ کا کیا حق ہے؟“ معاذ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔ آپ نے فرمایا: ”یہ کہ اللہ کی بندگی کی جائے اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہرایا جائے۔“ آپ نے پوچھا: ”کیا جانتے ہو اگر وہ (بندے) ایسا کریں تو اللہ پر ان کا حق کیا ہے؟“ میں نے جواب دیا: اللہ اور اس کے رسول بہتر جانتے ہیں۔ آپ نے فرمایا: ”یہ کہ وہ انہیں عذاب نہ دے۔“
حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّاءَ ، حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، عَنْ زَائِدَةَ ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ ، عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ هِلَالٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ مُعَاذًا ، يَقُولُ : دَعَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَجَبْتُهُ ، فَقَالَ : هَلْ تَدْرِي مَا حَقُّ اللَّهِ عَلَى النَّاسِ ، نَحْوَ حَدِيثِهِمْ .زائدہ (بن قدامہ) نے ابوحصین سے، انہوں نے اسود بن ہلال سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلایا، میں نے آپ کو جواب دیا تو آپ نے پوچھا: ”کیا جانتے ہو لوگوں پر اللہ کا حق کیا ہے؟ ...“ پھر ان (سابقہ راویوں) کی حدیث کی طرح (حدیث سنائی۔ )
تشریح، فوائد و مسائل
(1)
لَبَّيْكَ: لب کا تثنیہ ہے اور (ک)
کی طرف مصاف ہے، تکرار اور تاکید و کثرت کے لیے ایسا کرتے ہیں، معنی ہے اجبت لك اجابة بعد اجابة، ’’آپ کے لیے بار بار حاضر ہوں‘‘ یا اقمت علي طاعتك اقامة بعد اقامة، ’’مسلسل آپ کی اطاعت پر قائم ہوں۔
‘‘ (2)
سَعْدَيْكَ: سعد کا تثنیہ ہے اور اس کا مقصد بھی تکرار و کثرت ہے معنی ہے: أنا مسعد طاعتك اسعاد بعد اسعاد، یا اسعدك اسعاد ابعد اسعاد، آپ کی خدمت و طاعت کی سعادت پر قائم ہوں۔
فوائد ومسائل:
حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے آپ (ﷺ) کے ساتھ بیٹھنے کی کیفیت کو تفصیل سے بیان کیا ہے تاکہ نبی اکرم ﷺ کی جو خاص شفقت اور عنایت حاصل تھی اور بارگاہ نبوی میں جو خاص مقام قرب حاصل تھا، وہ سامعین کے پیش نظر رہے، تاکہ وہ سمجھ سکیں کہ آپ نے حضرت معاذ کو ایسی بات کیوں فرمائی، جس کی عام اشاعت کی اجازت نہ تھی جیسا کہ آگے ان کی حدیث میں آرہا ہے، نیز لوگوں کے سامنے یہ بات واضح ہوجائے کہ مجھے یہ حدیث اچھی طرح یاد ہے حتی کہ اس کی جزئی باتیں بھی محفوظ ہیں۔
(2)
رسول اللہ ﷺ نے تھوڑے تھوڑے وقفہ کے ساتھ، حضرت معاذ کو تین دفعہ مخاطب کیا، اور پھر تیسری دفعہ بھی بات مکمل نہیں کی، مقصد یہ تھا کہ حضرت معاذ ؓ پوری طرح آپ کی طرف متوجہ ہوں اور ہمہ تن گوش ہو کر پوری رغبت وتوجہ اور غور وتا مل کے ساتھ آپ کی بات سنیں، کیونکہ جب انسان کسی چیز کا منتظر ہوتا ہے، تو اس کی طرف پوری توجہ کرتا ہے او ر کامل انہماک اورشوق سے سنتا ہے اور ا س کو ذہن نشین کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
اس لیے مشرکین پر جنت قطعاً حرام کر دی گئی ہے کتنے نام نہاد مسلمان بھی افعال شرکیہ میں گرفتار ہیں وہ بھی اسی قانون کے تحت ہوں گے۔
(1)
اللہ تعالیٰ کا قانون ہے کہ اہل توحید جنت کے حق دار ہیں جبکہ کفر و شرک میں مبتلا لوگ جہنم کا ایندھن ہوں گے۔
(2)
امام بخاری رحمہ اللہ نے اس حدیث سے یہ ثابت کیا ہے کہ آدمی اپنی سواری پر کسی دوسرے کو اپنے پیچھے بٹھا سکتا ہے جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو اپنے پیچھے بٹھایا تھا، اس میں شرعاً کوئی حرج نہیں بلکہ رواداری کا تقاضا ہے کہ اگر گنجائش ہو تو ضرور کسی مسافر کے ساتھ اس طرح کی ہمدردی کرے۔
(3)
واضح رہے کہ محدثین کرام نے نام بنام ایسے خوش قسمت حضرات کی نشاندہی کی ہے جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے بیٹھنے کی سعادت حاصل ہوئی اور وہ تیس کے قریب ہیں۔
واللہ أعلم (فتح الباري: 489/10)
(1)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو بار بار آواز دی تاکہ انہیں معلوم ہو جائے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کوئی اہم بات بیان کرنے والے ہیں اور اسے سننے کے لیے مکمل طور پر متوجہ ہو جائیں، غفلت نہ کریں۔
(2)
اللہ تعالیٰ کی عبادت کے علاوہ اپنے نفس کو ہر قسم کے شغل سے روکے رکھنا نفس کا مجاہدہ ہے۔
چونکہ حدیث میں عبادت کا استحقاق بیان ہوا ہے، اس بنا پر عنوان اور حدیث میں مطابقت واضح ہے۔
نفس کی عام طور پر دو حالتیں ہیں: ایک تو شہوات میں منہمک ہونا اور دوسری اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے گریز کرنا۔
نفس سے مجاہدہ ان دونوں حالات کے پیش نظر ہوتا ہے۔
(3)
نفس کے تین دشمن ہیں، ان کا سردار ابلیس لعین ہے، دوسرا انسان کا نفس اور تیسرا غلط قسم کے لوگ۔
نفس کا مددگار شیطان ہوتا ہے، اس لیے نفس سے جہاد بہت مشکل ہے۔
اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کا ثواب بھی بہت ہے۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’جو انسان اپنے رب کے حضور پیش ہونے سے ڈر گیا اور اپنے نفس کو خواہشات سے لگام دی تو اس کا ٹھکانا جنت ہے۔
‘‘ (النازعات: 40) (4)
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ نفس سے جہاد کے چار مراتب ہیں: ٭ اسے امور دین سیکھنے کے لیے آمادہ کرنا اور اس پر لگانا۔
٭ دینی معاملات کے مطابق عمل کرنے اور اس پر ہمیشگی کرنے پر آمادہ کرنا۔
٭ اسے اس بات پر آمادہ کرنا کہ جن لوگوں کو علم نہیں ہے انہیں تعلیم دے۔
٭ توحید کی طرف بلانے اور دین کی مخالفت کرنے والوں سے قتال کرنے پر آمادہ کرنا۔
(فتح الباري: 410/11)
واضح رہے کہ اللہ تعالیٰ کے ذمے کوئی چیز واجب نہیں۔
حدیث میں ’’بندوں کا اللہ پر حق‘‘ کے یہ معنی ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے لوگوں سے جزا و سزا کا جو وعدہ کیا ہے وہ اس کو پورا کرے گا۔
واللہ أعلم
(1)
اس حدیث میں توحید اختیار کرنے پر بہت بڑی بشارت دی گئی اور شرک کرنے کی مذمت کی گئی ہے۔
حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کے جواب سے امام بخاری رحمہ اللہ نے عنوان ثابت کیا ہے۔
(2)
اللہ تعالیٰ پر حق ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اس نے اپنے فضل وکرم سے اس بات اپنے ذمے لے لیا ہے بصورت دیگر اللہ تعالیٰ پر کوئی چیز واجب نہیں، وہ جو چاہے کر گزرتا ہے۔
اس کی مرضی کے خلاف کسی کو دم مارنے کی جرأت نہیں ہے۔
جو لوگ بحق فلاں بحق فلاں کہہ کر دعا کرتے ہیں، ان کا یہ طریقہ غلط ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ پر کسی کا کوئی حق واجب نہیں ہے۔