حدیث نمبر: 2953
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَتَى تَقُومُ السَّاعَةُ ؟ وَعِنْدَهُ غُلَامٌ مِنْ الْأَنْصَارِ يُقَالُ لَهُ مُحَمَّدٌ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنْ يَعِشْ هَذَا الْغُلَامُ فَعَسَى أَنْ لَا يُدْرِكَهُ الْهَرَمُ حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ " .

حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا،قیامت کب قائم ہوگی؟آپ کے پاس محمد نامی ایک انصاری لڑکاتھا،چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"اگر یہ نوعمر زندہ رہا،تو ممکن ہے،یا بوڑھا نہ ہوسکے،حتی کہ(اس نسل کی) قیامت قائم ہوجائے گی۔

وحَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا مَعْبَدُ بْنُ هِلَالٍ الْعَنَزِيُّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ رَجُلًا سَأَل النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : مَتَى تَقُومُ السَّاعَةُ ؟ ، قَالَ : فَسَكَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هُنَيْهَةً ثُمَّ نَظَرَ إِلَى غُلَامٍ بَيْنَ يَدَيْهِ مِنْ أَزْدِ شَنُوءَةَ ، فَقَالَ : " إِنْ عُمِّرَ هَذَا لَمْ يُدْرِكْهُ الْهَرَمُ حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ " ، قَالَ : قَالَ أَنَسٌ : ذَاكَ الْغُلَامُ مِنْ أَتْرَابِي يَوْمَئِذٍ .

معبدبن ہلال عنزی نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا: قیامت کب قائم ہو گی؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھوڑی دیر خاموش رہے، پھر آپ نے اپنے سامنے بیٹھے اذد شنو کے ایک لڑکے کی طرف نظر کی، پھر فرمایا: ”اگر یہ لڑکا لمبی عمر پا گیا تو اسے بڑھاپا نہیں آیا ہو گا کہ (تمہاری) قیامت قائم ہو جائے گی۔“ (معبدنے) کہا: حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہا: وہ لڑکا اس دن میرا ہم عمر تھا۔

حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : مَرَّ غُلَامٌ لِلْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، وَكَانَ مِنْ أَقْرَانِي ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنْ يُؤَخَّرْ هَذَا ، فَلَنْ يُدْرِكَهُ الْهَرَمُ حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ " .

قتادہ نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: (اس وقت) حضرت مغیرہ بن شعبہ کا ایک لڑکا گزرا جو میرے ہم عمروں میں سے تھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر اس کو مہلت ملی تو اسے بڑھاپا نہیں آیا ہو گا کہ (تم پر) قیامت آ جائے گی۔“

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الفتن وأشراط الساعة / حدیث: 2953
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح البخاري: 6511

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ صحیح مسلم شرح نووی
´قیامت کا قریب ہونا`
«. . . أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَتَى تَقُومُ السَّاعَةُ؟ وَعِنْدَهُ غُلَامٌ مِنْ الْأَنْصَارِ يُقَالُ لَهُ مُحَمَّدٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنْ يَعِشْ هَذَا الْغُلَامُ فَعَسَى أَنْ لَا يُدْرِكَهُ الْهَرَمُ حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ . . .»
". . . ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: قیامت کب آئے گی؟ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک انصاری لڑکا موجود تھا جس کو محمد کہتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "اگر یہ جئیے گا تو شاید بوڑھا نہ ہونے پائے کہ قیامت آ جائے . . ." [صحيح مسلم/كِتَاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ: 7410]
تشریح:
مراد اس قیامت سے وہی قیامت صغریٰ ہے یعنی موت، کیونکہ قیامت کبریٰ کا وقت سوا اللہ کے کسی کو معلوم نہیں۔
درج بالا اقتباس مختصر شرح نووی، حدیث/صفحہ نمبر: 7410 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 6511 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
6511. سیدہ عائشہ‬ ؓ س‬ے روایت ہے انہوں نے کہا کہ عرب کے بادیہ نشین سادہ منش لوگ نبی ﷺ کے پاس آتے اور آپ سے دریافت کرتے: قیامت آئے گی؟ آپ ان میں سے کمسن شخص کو دیکھتے اور فرماتے: "اگر یہ زندہ رہا تو اسے بڑھاپا نہیں آئے گا حتیٰ کہ تم پر تمہاری قیامت قائم ہو جائے گی۔" (راوی حدیث) ہشام نے کہا: قیامت سے مراد ان کی موت تھی۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:6511]
حدیث حاشیہ: آپ کا مطلب یہ تھا کہ قیامت کبریٰ کا وقت تواللہ کے سوا کسی کو معلوم نہیں ہر آدمی کی موت اس کی قیامت صغریٰ ہے۔
باب سے حدیث کی مناسبت اس طرح ہے کہ آپ نے موت کو قیامت قرار دیا اورقیامت میں سب لوگ بے ہوش ہو جائیں گے ﴿فَصَعِقَ مَنْ فِي السَّمَاوَاتِ وَمَنْ فِي الْأَرْضِ﴾ میں بھی بے ہوشی ہوتی ہے یہی ترجمہ باب ہے۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 6511 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 6511 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
6511. سیدہ عائشہ‬ ؓ س‬ے روایت ہے انہوں نے کہا کہ عرب کے بادیہ نشین سادہ منش لوگ نبی ﷺ کے پاس آتے اور آپ سے دریافت کرتے: قیامت آئے گی؟ آپ ان میں سے کمسن شخص کو دیکھتے اور فرماتے: "اگر یہ زندہ رہا تو اسے بڑھاپا نہیں آئے گا حتیٰ کہ تم پر تمہاری قیامت قائم ہو جائے گی۔" (راوی حدیث) ہشام نے کہا: قیامت سے مراد ان کی موت تھی۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:6511]
حدیث حاشیہ:
(1)
ہر انسان کی موت اس کے لیے قیامت ہے، یعنی یہ اس کے لیے قیامت صغریٰ ہے اور قیامت کبریٰ وہ ہے جو مرنے کے بعد حساب کتاب کے لیے قائم ہو گی۔
مقصد یہ تھا کہ قیامت کبریٰ کے متعلق سوال کرنے کو چھوڑو وہ تو اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے۔
تمہیں اس وقت کے متعلق سوال کرنا چاہیے جس میں تمہارا وقت ختم ہو جائے گا۔
یہ تمہارے لیے بہتر ہے تاکہ مرنے سے پہلے تم ایسے نیک اعمال کرو جو مرنے کے بعد تمہارے کام آ جائیں۔
(2)
اس حدیث کی عنوان سے مطابقت اس طور پر ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے موت کو قیامت قرار دیا ہے اور قیامت کے دن سختی کی وجہ سے لوگ بے ہوش ہو رہے ہوں گے جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’تم قیامت کے دن دیکھو گے کہ ہر دودھ پلانے والی اپنے دودھ پیتے بچے کو بھول جائے گی اور ہر حاملہ اپنا حمل گرا دے گی اور تو لوگوں کو مدہوش دیکھے گا، حالانکہ وہ مدہوش نہیں ہوں گے بلکہ اللہ کا عذاب بہت شدید ہو گا۔
‘‘ (الحج: 2)
یعنی قیامت کے دن لوگ بدحواس ہو کر ایک دوسرے پر گریں گے جیسے روشنی پر پتنگے گرتے ہیں۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6511 سے ماخوذ ہے۔