حدیث نمبر: 2738
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ ، قَالَ : كَانَ لِمُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ امْرَأَتَانِ ، فَجَاءَ مِنْ عِنْدِ إِحْدَاهُمَا ، فَقَالَتِ الْأُخْرَى : جِئْتَ مِنْ عِنْدِ فُلَانَةَ ؟ ، فَقَالَ : جِئْتُ مِنْ عِنْدِ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ فَحَدَّثَنَا ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّ أَقَلَّ سَاكِنِي الْجَنَّةِ النِّسَاءُ " ،

معاذ نے کہا: ہمیں شعبہ نے ابوتیاح سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: مطرف بن عبداللہ کی دو بیویاں تھیں، وہ ایک بیوی کے پاس سے آئے تو دوسری نے کہا: تم فلاں عورت (دوسری بیوی کا نام لیا) کے پاس سے آئے ہو؟ انہوں نے کہا: میں حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کے پاس سے (بھی ہو کر) آیا ہوں اور انہوں نے ہمیں یہ حدیث بیان کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنت میں رہنے والوں میں سب سے کم تعداد عورتوں کی ہے۔“

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الرقاق / حدیث: 2738
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عبد العزیز علوی
ابو تیاح رحمۃ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں، مطرف بن عبد اللہ کی دو بیویاں تھیں،چنانچہ وہ ایک کے پاس سے آئے تو دوسری نے کہا، تم فلاں عورت کے پاس آئے ہو تو انھوں نے کہا، میں حضرت عمران بن حصین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس سے آرہا ہوں،انھوں نے ہمیں بتایا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جنت کے باشندوں میں عورتیں کم ہوں گی۔" [صحيح مسلم، حديث نمبر:6942]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: یعنی تم خواہ مخواہ بد گمانی اور بدظنی کا شکار ہوتی ہو، اس بنا پر تمہیں جنت میں داخلہ کم ملے گا۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2738 سے ماخوذ ہے۔