صحيح مسلم
كتاب الذكر والدعاء والتوبة والاستغفار— ذکر الہی، دعا، توبہ، اور استغفار
باب فِي الْأٓدْعِيَةِ باب: دعاؤں کا بیان۔
حدیث نمبر: 2718
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا كَانَ فِي سَفَرٍ وَأَسْحَرَ ، يَقُولُ : " سَمِعَ سَامِعٌ بِحَمْدِ اللَّهِ ، وَحُسْنِ بَلَائِهِ عَلَيْنَا رَبَّنَا صَاحِبْنَا ، وَأَفْضِلْ عَلَيْنَا عَائِذًا بِاللَّهِ مِنَ النَّارِ " .حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی سفر میں ہوتے اور سحر کے وقت اٹھتے تو فرماتے: «سمع سامع بحمد اللہ وحسن بلائہ علینا، ربنا صاحبنا وافعل علینا بالاحسان، اعوذ باللہ من النار» ”(ہماری طرف سے) اللہ کی حمد اور اس کے انعام کی خوبصورتی (کے اعتراف) کا سننے والا یہ بات دوسروں کو بھی سنا دے۔ اے ہمارے رب! ہمارے ساتھ رہ، ہم پر احسان کر، میں آگ سے اللہ کی پناہ مانگتے ہوئے یہ دعا کر رہا ہوں۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عبد العزیز علوی
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت مبارکہ تھی، جب آپ سفر میں ہوتے اور سحری کا وقت ہو جاتا تو فرماتے۔" سننے والے نے سن لیا، اللہ کی حمد وثنا کو اور اس کی ہم پر بہترین عنایت و انعام کو، اے ہمارے رب! ہمارا ساتھی اور محافظ بن اور ہم پر زیادہ انعام فر اور ہم اللہ سے آگ سے پناہ چاہتے ہیں۔" [صحيح مسلم، حديث نمبر:6900]
حدیث حاشیہ: مفردات الحدیث:
(1)
اسحر: سحری کے وقت بیدار ہوئے، یا سحری کا وقت ہوگیا۔
(2)
سمع سامع: سننے والے یہ کلمات دوسروں کو سنائے، سمع سامع: سننے والا سن لے، ہمارے ان کلمات کا گواہ بن جائے، بلاء: عطیہ واحسان، آزمائش وامتحان، افضل علينا، فضل وکرم سے ہمیں نواز۔
(1)
اسحر: سحری کے وقت بیدار ہوئے، یا سحری کا وقت ہوگیا۔
(2)
سمع سامع: سننے والے یہ کلمات دوسروں کو سنائے، سمع سامع: سننے والا سن لے، ہمارے ان کلمات کا گواہ بن جائے، بلاء: عطیہ واحسان، آزمائش وامتحان، افضل علينا، فضل وکرم سے ہمیں نواز۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2718 سے ماخوذ ہے۔