حدیث نمبر: 2595
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ جَمِيعًا ، عَنْ ابْنِ عُلَيَّةَ ، قَالَ زُهَيْرٌ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، قَالَ : " بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ ، وَامْرَأَةٌ مِنْ الْأَنْصَارِ عَلَى نَاقَةٍ ، فَضَجِرَتْ ، فَلَعَنَتْهَا ، فَسَمِعَ ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : خُذُوا مَا عَلَيْهَا وَدَعُوهَا فَإِنَّهَا مَلْعُونَةٌ " ، قَالَ عِمْرَانُ : فَكَأَنِّي أَرَاهَا الْآنَ تَمْشِي فِي النَّاسِ مَا يَعْرِضُ لَهَا أَحَدٌ .

حضرت عمران بن حصین رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے کسی سفر پر جارہے تھے اور ایک انصاری عورت ایک اونٹنی پر سوار تھی، اس سے اکتا گئی اور اس عورت نے اس پر لعنت بھیجی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس کو سن لیا، چنانچہ فرمایا:"اس پر جو سازو سامان ہے وہ لے لو اور اس کو چھوڑدو۔ کیونکہ اس پر لعنت کی گئی ہے۔"حضرت عمران رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں، گویا کہ میں اسے بھی لوگوں میں چلتی پھرتی دیکھ رہا ہوں، کوئی شخص اس سے تعرض نہیں کر رہا۔"

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَأَبُو الرَّبِيعِ ، قَالَا : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ وَهُوَ ابْنُ زَيْدٍ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا الثَّقَفِيُّ كِلَاهُمَا ، عَنْ أَيُّوبَ ، بِإِسْنَادِ إِسْمَاعِيلَ نَحْوَ حَدِيثِهِ ، إِلَّا أَنَّ فِي حَدِيثِ حَمَّادٍ ، قَالَ عِمْرَانُ : فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهَا نَاقَةً وَرْقَاءَ ، وَفِي حَدِيثِ الثَّقَفِيِّ ، فَقَالَ : خُذُوا مَا عَلَيْهَا وَأَعْرُوهَا فَإِنَّهَا مَلْعُونَةٌ .

حماد بن زید اور (عبدالوہاب) ثقفی نے ایوب سے اسماعیل کی سند کے ساتھ اسی کی حدیث کے مانند حدیث بیان کی، مگر حماد کی حدیث میں ہے: حضرت عمران رضی اللہ عنہ نے کہا: جیسے اب بھی میں اس کو دیکھ رہا ہوں، وہ خاکستری رنگ کی ایک اونٹنی ہے۔ اور ثقفی کی حدیث میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس پر جو کچھ ہے اتار لو، اس کی پیٹھ ننگی کر دو کیونکہ وہ ایک ملعون اونٹنی ہے۔“

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب البر والصلة والآداب / حدیث: 2595
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابي داود: 2561

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عبد العزیز علوی
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے کسی سفر پر جارہے تھے اور ایک انصاری عورت ایک اونٹنی پر سوار تھی، اس سے اکتا گئی اور اس عورت نے اس پر لعنت بھیجی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس کو سن لیا، چنانچہ فرمایا:"اس پر جو سازو سامان ہے وہ لے لو اور اس کو چھوڑدو۔ کیونکہ اس پر لعنت کی گئی ہے۔"حضرت عمران رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں، گویا کہ میں اسے بھی لوگوں میں چلتی پھرتی دیکھ رہا ہوں،... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:6604]
حدیث حاشیہ: مفردات الحدیث:
ضجرت: عورت اس کی سست رفتاری سے اکتا گئی۔
فوائد ومسائل: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چوپاؤں پر لعنت بھیجنے سے منع فرمایا تھا، لیکن اس کے باوجود، اس عورت نے اپنی اونٹنی پر لعنت بھیجی تو آپ نے بطور سزا اس عورت کو حکم دیا کہ جب یہ اونٹنی ملعونہ ہے تو پھر اس کو ہمارے ساتھ کیوں لا رہی ہو، اس کو چھوڑ دو، " کیونکہ جو چیز اللہ کی رحمت سے محروم ہو، وہ خیر کا باعث نہیں بن سکتی۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2595 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 2561 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´جانوروں پر لعنت بھیجنے کی ممانعت کا بیان۔`
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک سفر میں تھے، آپ نے لعنت کی آواز سنی تو پوچھا: یہ کیا ہے؟ لوگوں نے کہا: فلاں عورت ہے جو اپنی سواری پر لعنت کر رہی ہے، اس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس اونٹنی سے کجاوہ اتار لو کیونکہ وہ ملعون ہے ۱؎ ، لوگوں نے اس پر سے (کجاوہ) اتار لیا۔ عمران رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: گویا میں اسے دیکھ رہا ہوں، وہ ایک سیاہی مائل اونٹنی تھی۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2561]
فوائد ومسائل:
لعنت کے لغوی معنی ہیں۔
اللہ کی پھٹکار اور اس کی رحمت سے دوری اور انتہائی یہ بری خصلت ہے کہ انسان ایک چیز سے فائدہ بھی اٹھائے۔
اور پھر اس کے متعلق لعنت کا لفظ بھی استعمال کرے۔
نبی کریم ﷺنے غالبا بطور زجر وتوبیخ کے اس جانور کو اس کے سوار سے آذاد کروادیا تھا۔
تاکہ آئندہ کے لئے کوئی اس طرح سے نہ بولے لوگوں کا آپس میں یہ لفظ استعمال کرنا اور بھی قبیح ہے۔

درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2561 سے ماخوذ ہے۔