حدیث نمبر: 2428
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَاللَّفْظُ لِيَحْيَي ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا ، وقَالَ يَحْيَي : أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ ، عَنْ مُوَرِّقٍ الْعِجْلِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ ، قَالَ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَدِمَ مِنْ سَفَرٍ تُلُقِّيَ بِصِبْيَانِ أَهْلِ بَيْتِهِ ، قَالَ : وَإِنَّهُ قَدِمَ مِنْ سَفَرٍ ، فَسُبِقَ بِي إِلَيْهِ فَحَمَلَنِي بَيْنَ يَدَيْهِ ، ثُمَّ جِيءَ بِأَحَدِ ابْنَيْ فَاطِمَةَ ، فَأَرْدَفَهُ خَلْفَهُ ، قَالَ : فَأُدْخِلْنَا الْمَدِينَةَ ثَلَاثَةً عَلَى دَابَّةٍ " .

حضرت عبداللہ بن جعفر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی سفر سے آتے تو آپ کے گھر کے بچوں کو (باہر لے جاکر) آپ سے ملایا جاتا،ایک بار آپ سفر سے آئے،مجھے سب سے پہلے آپ کے پاس پہنچا دیاگیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنے سامنے بٹھا دیا،پھر حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے ایک صاحبزادے کو لایا گیا تو انھیں آ پ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیچھے بٹھا لیا۔کہا:تو ہم تینوں کو ایک سواری پر مدینہ کے اندر لایا گیا۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ عَاصِمٍ ، حَدَّثَنِي مُوَرِّقٌ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَدِمَ مِنْ سَفَرٍ تُلُقِّيَ بِنَا ، قَالَ : فَتُلُقِّيَ بِي وَبِالْحَسَنِ ، أَوْ بِالْحُسَيْنِ ، قَالَ : فَحَمَلَ أَحَدَنَا بَيْنَ يَدَيْه وَالْآخَرَ خَلْفَهُ ، حَتَّى دَخَلْنَا الْمَدِينَةَ " .

عبدالرحیم بن سلیمان نے عاصم سے روایت کی، کہا: مجھے مورق عجلی نے حدیث بیان کی، کہا: مجھے حضرت عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ نے حدیث سنائی، کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر سے آتے تو ہمیں (آپ کی محبت میں) آگے لے جا کر آپ سے ملایا جاتا، کہا: مجھے اور حسن یا حسین رضی اللہ عنہم کو آپ کے پاس آگے لے جایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم میں سے ایک کو اپنے آگے اور ایک کو اپنے پیچھے سوار کر لیا، یہاں تک کہ ہم (اسی طرح) مدینہ میں داخل ہوئے۔

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب فضائل الصحابة / حدیث: 2428
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح مسلم: 2428 | سنن ابي داود: 2566 | سنن ابن ماجه: 3773

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 2566 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´تین آدمیوں کا ایک ہی جانور پر سوار ہونے کا بیان۔`
عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر سے آتے تو ہم لوگ آپ کے استقبال کے لیے جاتے، جو ہم میں سے پہلے پہنچتا اس کو آپ آگے بٹھا لیتے، چنانچہ (ایک بار) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنے سامنے پایا تو مجھے اپنے آگے بٹھا لیا، پھر حسن یا حسین پہنچے تو انہیں اپنے پیچھے بٹھا لیا، پھر ہم مدینہ میں اسی طرح (سواری پر) بیٹھے ہوئے داخل ہوئے۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2566]
فوائد ومسائل:

اشراف اور معزز لوگوں کا شہر سے باہر نکل کر استقبال کرنا مباح ہے۔


رسول اللہ ﷺ بچوں سے محبت کرتے تھے۔
اور انھیں عزت بھی دیتے تھے۔


جانورکی صحت اور طاقت کے لہاظ سے اس پر دو یا تین افراد کا سوار ہو جانا ظلم نہیں مباح ہے۔

درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2566 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 3773 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´ایک سواری پر تین آدمیوں کے سوار ہونے کا بیان۔`
عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر سے تشریف لاتے تو ہم لوگ آپ کے استقبال کے لیے جاتے، ایک بار میں نے اور حسن یا حسین رضی اللہ عنہما نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا استقبال کیا، تو آپ نے ہم دونوں میں سے ایک کو اپنے آگے، اور دوسرے کو اپنے پیچھے سواری پر بٹھا لیا، یہاں تک کہ ہم مدینہ پہنچ گئے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3773]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
بزرگوں کو چاہیے کہ بچوں سے شفقت کا سلوک کریں۔

(2)
سفر سے واپس آنے والے کا استقبال کرنا درست ہے لیکن اس میں بے جا تکلفات کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہیے۔

(3)
جانور پر ایک سے زیادہ افراد سوار ہو سکتے ہیں بشرطیکہ جانور آسانی سے بوجھ برداشت کر سکے۔
لمبے سفر میں یا کمزور جانور پر دو افراد کا سوار ہونا مناسب نہیں۔

(4)
حضرت عبداللہ بن جعفر ؓ اور حسن یا حسین ؓ بچے تھے۔
ان دونوں کا بوجھ مل کر بھی ایک بڑے آدمی کے برابر نہیں تھا، اس لیے تین افراد کا سوار ہونا جانور کے لیے مشقت کا باعث نہیں تھا۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3773 سے ماخوذ ہے۔