صحيح مسلم
كتاب الفضائل— انبیائے کرام علیہم السلام کے فضائل
باب عِلْمِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِاللَّهِ تَعَالَى وَشِدَّةِ خَشْيَتِهِ: باب: اللہ تعالیٰ کا سب سے زیادہ علم اور سب سے زیادہ خوف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہے۔
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي الضُّحَى ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " صَنَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمْرًا فَتَرَخَّصَ فِيهِ ، فَبَلَغَ ذَلِكَ نَاسًا مِنْ أَصْحَابِهِ ، فَكَأَنَّهُمْ كَرِهُوهُ وَتَنَزَّهُوا عَنْهُ ، فَبَلَغَهُ ذَلِكَ ، فَقَامَ خَطِيبًا ، فَقَالَ : مَا بَالُ رِجَالٍ بَلَغَهُمْ عَنِّي أَمْرٌ تَرَخَّصْتُ فِيهِ ، فَكَرِهُوهُ وَتَنَزَّهُوا عَنْهُ ، فَوَاللَّهِ لَأَنَا أَعْلَمُهُمْ بِاللَّهِ ، وَأَشَدُّهُمْ لَهُ خَشْيَةً " .حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہیں، رسول اللہ ﷺ نے کوئی کام کیا اور اس کے کرنے کی اجازت دی۔ آپﷺ کے کچھ ساتھیوں تک یہ بات پہنچی تو گویا کہ انہوں ہے اس کام کو ناپسند کیا اور اس سے احتراز (پرہیز) کیا، سو آپﷺ تک یہ معاملہ پہنچا، آپﷺ خطبہ کے لیے کھڑے ہوئے او رفرمایا: ”ان لوگوں کو کیا ہو گیا ہے، انہیں میری طرف سے ایک کام کی خبر پہنچی، میں نے ا س کی رخصت دی، انہوں نے اس کو ناپسند کیا اور اس سے پر ہیز کیا، سو اللہ کی قسم! میں سب سے اللہ کے بارے میں زیادہ علم رکھتا ہوں اور اس سے سب سے زیادہ خوف کھاتا ہوں۔‘‘
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ ، حَدَّثَنَا حَفْصٌ يَعْنِي ابْنَ غِيَاثٍ . ح وحَدَّثَنَاه إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَعَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، وقَالَا : أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَكِلَاهُمَا ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، بِإِسْنَادِ جَرِيرٍ نَحْوَ حَدِيثِهِ .حفص بن غیاث اور عیسیٰ بن یونس دونوں نے اعمش سے جریر کی سند کے ساتھ انہی کی حدیث کے مانند ہمیں حدیث بیان کی۔
وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ مُسْلِمٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " رَخَّصَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَمْرٍ ، فَتَنَزَّهَ عَنْهُ نَاسٌ مِنَ النَّاسِ ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَغَضِبَ حَتَّى بَانَ الْغَضَبُ فِي وَجْهِهِ ، ثُمَّ قَالَ : مَا بَالُ أَقْوَامٍ يَرْغَبُونَ عَمَّا رُخِّصَ لِي فِيهِ ، فَوَاللَّهِ لَأَنَا أَعْلَمُهُمْ بِاللَّهِ ، وَأَشَدُّهُمْ لَهُ خَشْيَةً " .حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہیں، رسول اللہ نے ایک کام کی رخصت دی تو کچھ لوگوں نے اس سے پر ہیز کیا، نبی اکرم ﷺ تک یہ بات پہنچی تو آپﷺ ناراض ہوئے، حتی کہ ناراضی کا چہرے سے اظہار ہوا، پھر آپﷺ نے فرمایا: ”ان لوگوں کا کیا حال ہے، اس کام سے بے رغبتی برتتے ہیں، جس کی مجھے رخصت دی گئی ہے، سو اللہ کی قسم! میں ان سے اللہ کے بارے میں زیادہ علم رکھتا ہوں او ران سے اس سے زیادہ ڈرتا ہوں۔‘‘
تشریح، فوائد و مسائل
اس حدیث میں آپ نے یہ بھی فرمایا کہ میں اللہ کوان سے زیادہ پہنچانتا ہوں تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جو صفات الٰہی بیان کی ہیں مثلاً اترنا چڑھنا ہنسنا تعجب کرنا آنا جانا آواز سے بات کرنا یہ سب صفات برحق ہیں اور تاویل کرنے والے غلطی پر ہیں کیونکہ ان کا علم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے علم کے مقابلہ پر صفر کے قریب ہے اور ارشاد نبوی برحق ہے۔
(1)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جاہلوں کی جہالت پر صبر کرتے، بدویوں کی سختی برداشت کرتے اور ان سے درگزر فرماتے تھے۔
اگر کسی سے کوئی قصور سرزد ہوتا تو اس کا نام لیے بغیر اصلاح کی کوشش فرماتے۔
آپ کی نرمی کا مطلب یہ نہیں ہے کہ سرے سے باز پرس نہ کرتے بلکہ برسرعام ان لوگوں کی تشہیر نہ کرتے تھے۔
(2)
کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو مباح چیزوں سے پرہیز کو تقویٰ کی بلندی خیال کرتے تھے، حدیث میں اس قسم کے لوگوں کا ذکر ہے جیسا کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی کہ میں صبح جنابت کی حالت میں ہوتا ہوں، میں نے روزہ بھی رکھنا ہوتا ہے، کیا میں پہلے غسل کروں پھر روزہ رکھوں؟ آپ نے فرمایا: ''بعض اوقات میں خود بھی ایسی حالت سے دوچار ہوتا ہوں تو روزہ رکھنے کے بعد غسل کر کے نماز پڑھتا ہوں۔
'' اس نے کہا: اللہ کے رسول! آپ ہماری طرح نہیں ہیں۔
آپ کے اللہ تعالیٰ نے اگلے پچھلے سب گناہ معاف کر دیے ہیں۔
اس پر آپ ناراض ہوئے اور فرمایا: ''میں تمہاری نسبت اللہ تعالیٰ سے زیادہ ڈرنے والا ہوں۔
'' (صحیح مسلم، الصیام، حدیث: 2593(1110) (3)
رخصت پر عمل کرنا تقویٰ کے خلاف نہیں بلکہ عین تقویٰ ہے۔
بہرحال علماء اور واعظین کو چاہیے کہ وہ وعظ و نصیحت کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوۂ مبارکہ کو ضرور پیش نظر رکھا کریں۔
میں کہتا ہوں جو کوئی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے افعال کو تقویٰ یا اولیٰ کے خلاف یا آپ کی عبادت کو بے حقیقت سمجھے اس سے کہنا چاہیے تجھ کوتقویٰ کہاں سے معلوم ہوا اور تو نے عبادت کیا سمجھی نہ تو نے خدا کو دیکھا نہ تو خدا سے ملا جو کچھ تو نے حاصل کیا وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ سے۔
پھر خدا کی مرضی تو کیا جانے، جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا بتلایا اسی میں خدا کی مرضی ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو کام کیا اس سے پرہیز کرنا یا اسے خلاف تقوی خیال کرنا بہت بڑا گناہ بلکہ بے دینی اور الحاد ہے کیونکہ ایسے لوگوں کو تقوی کہاں سے معلوم ہوا؟ امت کو جو کچھ ملا ہے وہ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے ہی سے ملا ہے، پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رضا کو اپنی رضا قرار دیا۔
مثلاً: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شادیاں کی ہیں۔
اب اگر کوئی شخص شادی کو تقوی کے منافی سمجھتا ہے تو اس کا یہ خیال اور اس کی سوچ شریعت کے خلاف ہے۔
اس کا یہ اقدام کسی صورت میں مستحسن نہیں کسی نے خوب کہا ہے۔
خلاف پیغمبرکسے راہ گزید۔
۔
۔
۔
کہ ہر گز بمنزل نخواہد رسید
«. . . وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: صَنَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا فَرَخَّصَ فِيهِ فَتَنَزَّهَ عَنْهُ قَوْمٌ فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَطَبَ فَحَمِدَ اللَّهَ ثُمَّ قَالَ: «مَا بَالُ أَقْوَامٍ يَتَنَزَّهُونَ عَنِ الشَّيْءِ أَصْنَعُهُ فَوَاللَّهِ إِنِّي لأعلمهم بِاللَّه وأشدهم لَهُ خشيَة» . . .»
”. . . سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کام کیا اور اس کے کرنے کی اجازت اور رخصت بھی دے دی لیکن بعض لوگوں نے اس سے پرہیز کیا۔ اور اس رخصت کو منظور نہیں کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب یہ خبر پہنچی اور آپ کو یہ معلوم ہوا کہ ان لوگوں نے شرعی رخصت کو نہیں قبول کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیا، اللہ کی تعریف و شان بیان کرنے کے بعد فرمایا: ”ان لوگوں کو کیا ہو گیا کہ جس کو میں کرتا ہوں اس سے یہ لوگ کنارہ کشی اختیار کر کے پرہیز کرتے اور اس کو پسند کرتے ہیں۔ اللہ کی قسم! میں اللہ کی خوشنودی اور اس کی مرضی کو سب سے زیادہ جانتا ہوں اور سب سے زیادہ اللہ سے ڈرتا ہوں“، اس حدیث کو بخاری و مسلم نے روایت کیا ہے۔ . . .“ [مشكوة المصابيح/كِتَاب الْإِيمَانِ: 146]
[صحيح بخاري 6101]، [صحيح مسلم 6109]
فقہ الحدیث:
➊ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی سنت بہترین نمونہ زندگی ہے جسے ہر وقت خوشی اور محبت سے اپنانے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کرنا چاہئیے۔
➋ قرآن و حدیث کی مخالفت اور بدعات کی پیروی سے ہر وقت بچنا ضروری ہے۔
➌ دربار الٰہی میں صرف وہی عمل معتبر و مقبول ہے جس پر قرآن و حدیث کی مہر ثبت ہو۔
➍ آپ نے کون سا کام کیا تھا؟ اس کے بارے میں مولانا عبیداللہ مبارکپوری رحمة اللہ علیہ لکھتے ہیں: ”ظاہر ہے اس سے مراد رات کے بعض حصے میں نیند کرنا اور بعض دنوں میں نفلی روزے نہ رکھنا ہے، آپ نے شادیاں بھی کیں۔“ ديكهئے: [مرعاة المفاتيح 1ص 242] «والله اعلم»
↰ کتاب و سنت کے خلاف امور کا خطبہ میں اعلانیہ رد کرنا مسنون ہے , لیکن خاص آدمی کا نام لینے سے اجتناب کرنا چاہئیے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے امت سے محبت اور رحمت للعالمین ہونے کی وجہ سے ناپسندیدہ بات کا رد تو فرما دیا، لیکن خطبے میں اپنے ان صحابہ کا نام نہیں لیا جنہوں نے اجتہادی لغزش کی وجہ سے مسنون کام سے اجتناب کرنے کا اظہار کیا تھا۔ داعی کو یہ طرز عمل ہمیشہ مدنظر رکھنا چاہئیے۔
➏ بعض اوقات موقع کی مناسبت سے صراحت کی بجاے اشارے کنایہ میں سمجھایا جا سکتا ہے , جیسا کہ امیر المؤمنین فی الحدیث امام بخاری رحمہ اللہ نے اس حدیث میں استدلال کیا ہے۔ ديكهيے: [صحيح بخاري مع فتح الباري 513/10 باب من لم يواجه الناس بالعتاب]
➐ دنیا کا کوئی آدمی بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے برابر نہیں ہو سکتا چاہے کتنے ہی نیک اعمال کرے اور علم کا کتنا ہی بڑا پہاڑ بن جائے، کجا یہ کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم سے بڑھ جائے؟ ایسا تصور سرے سے باطل اور محال ہے۔ ↰ یہاں پر بطور رد عرض ہے کہ ایک شخص نے لکھا ہے: انبیاء اپنی امت سے اگر ممتاز ہوتے ہیں تو علوم ہی میں ممتاز ہوتے ہیں۔ باقی رہا عمل، اس میں بسا اوقات بظاہر امتی مساوی ہو جاتے ہیں بلکہ بڑھ جاتے ہیں اور۔۔۔۔ ◄ عرض ہے کہ اس شخص کا عقیدہ باطل اور مردود ہے، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ امتیوں کے مساوی (برابر) ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، کجا یہ کہ بڑھ جانے کا دعویٰ کر دیا جائے۔!
◄ اہل ایمان کا یہ عقیدہ ہے کہ ساری امت بلکہ ساری کائنات کے علوم و اعمال مل کر بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے علوم و اعمال تک نہیں پہنچ سکتے۔ اسی طرح اگر کسی شخص کو بہت لمبی عمر مل جائے اور وہ نیکیوں کے انبار لگا دے تو وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی عام صحابی کے درجے تک بھی نہیں پہنچ سکتا۔ سیدنا عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: «لو وزن ايمان ابي بكر بايمان اهل الارض لرجح به .»
”اگر ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ایمان کا ساری زمین والوں کے ایمان سے وزن کیا جائے تو ان (سیدنا ابوبکر الصدیق رضی اللہ عنہ) کا ایمان بھاری ہو گا۔“ [السنة لعبدالله بن أحمد بن حنبل قلمي ص49 ب ح 821، مطبوع 378/1 و سند حسن]
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں اپنی زبان کو کنٹرول میں رکھنا چاہئیے کیوں کہ بندہ ذرہ سی گستاخی سے بھی ایمان سے ہاتھ دھو بیٹھنے کے ساتھ رب العالمین کے غضب اور ابدی عذاب کا حقدار ہو سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں بچائے۔ «آمين»
➑ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت مطہرہ پر عمل پیرا ہونے سے کبھی شرمانا نہیں چاہئیے، جو کہ احادیث کی صورت میں مسلمانوں کے پاس موجود ہے۔ بعض ملحدین اور بے دین لوگ داڑھی اور ٹخنوں سے اوپر ازار پر اعتراضات اور طعن و تشنیع کرتے ہیں، ایسے اعتراضات اور طعن و تشنیع سے قطعًا گھبرانا نہیں چاہئیے بلکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے پر عمل کرنے میں دونوں جہانوں کی کامیابی کا یقین ہونا چاہئیے۔
➒ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم رحمت للعالمین ہیں۔
➓ اگر سنت میں کسی بات کی رخصت موجود ہے تو خواہ مخواہ تشدد نہیں کرنا چاہئیے۔ بعض لوگ تصوف کے جال میں پھنس کر مصنوی پرہیزگاری پیدا کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں، یہ لوگ سخت گرمیوں کی دھوپ میں اور سخت سردیوں میں ٹھنڈے پانی میں بیٹھے رہتے ہیں۔ اس طرح کے سارے اعمال خلاف سنت ہونے کی وجہ سے مردود ہیں۔