صحيح مسلم
كتاب الفضائل— انبیائے کرام علیہم السلام کے فضائل
باب فِي صِفَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَّهُ كَانَ أَحْسَنَ النَّاسِ وَجْهًا: باب: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی صفت کا بیان، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ انور سب سے زیادہ حسین ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا إِسْحَاقَ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْبَرَاءَ ، يَقُولُ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا مَرْبُوعًا ، بَعِيدَ مَا بَيْنَ الْمَنْكِبَيْنِ ، عَظِيمَ الْجُمَّةِ إِلَى شَحْمَةِ أُذُنَيْهِ ، عَلَيْهِ حُلَّةٌ حَمْرَاءُ ، مَا رَأَيْتُ شَيْئًا قَطُّ أَحْسَنَ مِنْهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .شعبہ نے کہا: میں نے ابواسحاق سے سنا، انہوں نے کہا: میں نے حضرت براء رضی اللہ عنہ سے سنا، کہہ رہے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم درمیانہ قد کے آدمی تھے، دونوں شانوں کے درمیان بہت فاصلہ تھا، بال بڑے تھے جو کانوں کی لوتک آتے تھے، آپ پر سرخ جوڑا تھا، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر کبھی کوئی خوبصورت نہیں دیکھا۔“
حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ الْبَرَاءِ ، قَالَ : " مَا رَأَيْتُ مِنْ ذِي لِمَّةٍ أَحْسَنَ فِي حُلَّةٍ حَمْرَاءَ ، مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، شَعْرُهُ يَضْرِبُ مَنْكِبَيْهِ ، بَعِيدَ مَا بَيْنَ الْمَنْكِبَيْنِ ، لَيْسَ بِالطَّوِيلِ ، وَلَا بِالْقَصِيرِ " ، قَالَ أَبُو كُرَيْبٍ : لَهُ شَعَرٌ .عمرو ناقد اور ابوکریب نے کہا: ہمیں وکیع نے سفیان سے حدیث بیان کی، انہوں نے ابواسحاق سے، انہوں نے حضرت براء رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: میں نے کسی دراز گیسوؤں والے شخص کو سرخ جوڑے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر حسین نہیں دیکھا، آپ کے بال کندھوں کو چھوتے تھے، آپ کے دونوں کندھوں کے درمیان فاصلہ تھا، قد نہ بہت لمبا تھا نہ بہت چھوٹا تھا۔ ابوکریب نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بال ایسے تھے (جو کندھوں کو چھوتے تھے)۔“
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ يُوسُفَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْبَرَاءَ ، يَقُولُ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَحْسَنَ النَّاسِ وَجْهًا ، وَأَحْسَنَهُ خَلْقًا ، لَيْسَ بِالطَّوِيلِ الذَّاهِبِ ، وَلَا بِالْقَصِيرِ " .یوسف نے ابواسحاق سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے حضرت براء رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہتے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک سب لوگوں سے زیادہ حسین تھا اور (باقی تمام اعضاء کی) ساخت میں سب سے زیادہ حسین تھے، آپ کا قد نہ بہت زیادہ لمبا تھا نہ بہت چھوٹا۔“
تشریح، فوائد و مسائل
(1)
رَجل: مرد، آدمی۔
(2)
رَجِل: کنگھی کیے ہوئے بال۔
(3)
مربوع: متوسط و متعدل، درمیانہ قد۔
(4)
بعيد ما بين منكبين: چوڑے چکلے سینے والے۔
(5)
جمة: کانوں کی لو تک پہنچنے والے بال، جو کنگھی کرنے کی صورت میں کندھوں تک پہنچ جاتے ہیں اور بقول بعض وفرة: کانوں کی لو تک۔
(6)
جمة: کانوں کی لو سے نیچے کندھوں سے گرنے والے اور (7)
لمة: کندھوں پر پڑنے والے۔
اس میں بالوں کا ذکر نہیں ہے، بعض روایتوں میں آپ کے بال کانوں کی لوتک، بعض روایتوں میں مونڈھوں تک، بعض روایتوں میں ان کے بیچ تک مذکور ہیں۔
ان کا اختلاف یوں رفع ہوسکتا ہے کہ جس وقت آپ تیل ڈالتے، کنگھی کرتے تو بال مونڈھوں تک آجاتے۔
خالی وقتوں میں کانوں تک یا دونوں کے بیچ میں رہتے۔
1۔
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بال مباارک کان کی لو سے زیادہ اور کندھوں سے کم تھے،یعنی زیادہ لمبے اور نہ بالکل چھوٹے بلکہ متوسط درجے کے تھے۔
(مسند أحمد: 108/6)
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بال نصف کانوں تک تھے۔
(صحیح مسلم، الفضائل، حدیث: 6069(2338)
حضرت ام ہانی رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب فتح مکہ کے موقع پر مکہ تشریف لائے تو آپ کے چار گیسو تھے۔
(شمائل ترمذی ص: 44)
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ آپ کے بال کانوں کی لوتک ہوتے،بعض اوقات کندھوں تک پہنچ جاتے۔
کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا کہ آپ بالوں کی مینڈھیاں بنالیتے پھر دایاں کان دونوں گیسوؤں کے درمیان اور بایاں کان بھی دونوں گیسوؤں کے درمیان بڑا حسین اور خوشنما منظر پیش کرتا۔
ایسا معلوم ہوتا کہ گھنے سیال بالوں کے درمیان خوبصورت کان چمک دار ستاروں کی طرح جگمگارہے ہیں۔
(دلائل النبوة: 298/1)
2۔
ان روایات میں کوئی اختلاف نہیں ہے کیونکہ جب بالوں میں کنگھی کرتے تو کندھوں تک پہنچ جاتے،کچھ وقت گزرنے تک کانوں کی لوتک آجاتے کیونکہ آپ کے بال شکن دار تھے۔
اگردوران سفر میں کنگھی کرنے کا موقع نہ ملتا تو گیسوؤں کی شکل اختیار کرلیتے۔
ان بالوں کی مختلف اوقات میں مختلف کیفیات ہوتی تھیں۔
بعضوں نے ناجائز کہا ہے۔
بیہقی نے کہا کہ صحیح یہ ہے کہ کسم کا سرخ رنگ مردوں کے لیے ناجائز ہے۔
امام شوکانی نے اہلحدیث کا مذہب یہ قرار دیا ہے کہ کسم کے علاوہ دوسرا سرخ رنگ مردوں کے لیے درست ہے اور یہی صحیح ہے حدیث میں مذکورہ سرخ جوڑے سے یہ مراد ہے کہ اس میں سرخ دھاریاں تھیں۔
(1)
خالص سرخ رنگ سے رنگا ہوا لباس پہننا جائز نہیں کیونکہ عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ایک گھاٹی سے نیچے اترے تو آپ میری طرف متوجہ ہوئے۔
آپ نے دیکھا کہ میں نے ایک چادر اوڑھی ہوئی تھی جو ہلکے سرخ رنگ کی تھی۔
آپ نے پوچھا کہ تم نے یہ کیسی چادر لی ہوئی ہے؟ آپ کی ناپسندیدگی کو میں نے محسوس کیا، پھر میں اپنے اہل خانہ کے پاس آیا تو وہ تنور جلا رہے تھے۔
میں نے اس چادر کو اس میں پھینک دیا۔
اگلے دن جب میں حاضر خدمت ہوا تو آپ نے فرمایا: ’’اس چادر کا تم نے کیا کیا؟‘‘ میں نے آپ کو صورت حال سے آگاہ کیا تو آپ نے فرمایا: ’’اسے اپنے اہل خانہ میں سے کسی عورت کو دے دیتے۔
عورتوں کو اس کے استعمال میں کوئی حرج نہیں ہے۔
‘‘ (سنن أبي داود، اللباس، حدیث: 4066) (2)
مذکورہ بالا حدیث میں سرخ جوڑے کا ذکر ہے لیکن وہ جوڑا خالص سرخ رنگ کا نہیں تھا بلکہ اس میں سرخ رنگ کی دھاریاں تھیں جسے عربی میں "برد" کہا جاتا ہے، چنانچہ حضرت عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو منیٰ میں دیکھا جب کہ آپ اپنے خچر پر بیٹھے خطبہ دے رہے تھے اور آپ نے سرخ رنگ کی دھاری دار چادر زیب تن کر رکھی تھی۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے تھے جو آپ کی بات لوگوں تک پہنچا رہے تھے۔
(فتح الباري: 477/10)
(1)
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے موئے مبارک کا ذکر ہے۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بال مبارک کانوں کی لو سے زیادہ اور کندھوں سے کم تھے، یعنی نہ زیادہ لمبے تھے اور نہ بالکل چھوٹے بلکہ درمیانے درجے کے تھے۔
(مسند أحمد: 108/6)
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بال ہلکا سا خم لیے ہوتے تھے، نہ بالکل سیدھے تنے ہوئے تھے اور نہ انتہائی پیچ دار۔
(مسند أحمد: 135/3)
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بال کانوں کی لو تک ہوتے، بعض اوقات کندھوں تک پہنچ جاتے۔
بعض اوقات ایسا بھی ہوتا کہ بال بڑھ جاتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی مینڈھیاں بنا لیتے۔
(دلائل النبوة: 298/1) (2)
بہرحال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے موئے مبارک مختلف اوقات میں کم و بیش ہوتے رہتے تھے۔
جب زیادہ ہوتے تو کان کی لو سے بھی کچھ آگے چلے جاتے تھے۔
واللہ أعلم
(تکملہ ج 4 ص 554)
۔
جابر بن سمرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے ایک انتہائی روشن چاندنی رات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، پھر آپ کو دیکھنے لگا اور چاند کو بھی دیکھنے لگا (کہ ان دونوں میں کون زیادہ خوبصورت ہے) آپ اس وقت سرخ جوڑا پہنے ہوئے تھے ۱؎، اور آپ مجھے چاند سے بھی زیادہ حسین نظر آ رہے تھے۔ [سنن ترمذي/كتاب الأدب/حدیث: 2811]
وضاحت:
1؎:
بعض علماء کا کہنا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا یہ سرخ لباس خالص سرخ رنگ کا نہیں تھا بلکہ اس میں سرخ رنگ کی دھاریاں تھیں، ظاہر ہے ایسے سرخ لباس کے جواز میں کوئی شک نہیں ہے۔
نوٹ:
(سند میں اشعث بن سوار قاضی اہواز ضعیف راوی ہیں، انہوں نے اس حدیث کو براء بن عازب کی بجائے جابر بن سمرہ کی روایت بنا دی ہے، براء بن عازب کی روایت رقم: 1724 پر گزرچکی ہے)
براء رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے کسی شخص کو جس کے بال کان کی لو کے نیچے ہوں سرخ جوڑے ۱؎ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ خوبصورت نہیں دیکھا، آپ کے بال آپ کے دونوں کندھوں سے لگے ہوتے تھے ۲؎، اور آپ کے دونوں کندھوں میں کافی فاصلہ ہوتا تھا ۳؎، نہ آپ پستہ قد تھے نہ بہت لمبے ۴؎۔ [سنن ترمذي/كتاب المناقب/حدیث: 3635]
وضاحت:
1؎:
آپﷺ کے بالوں کی مختلف اوقات میں کئی حالت ہوا کرتی تھی، کبھی آدھے کانوں تک، کبھی کانوں کے لؤوں تک، کبھی آدھی گردن تک، اور کبھی کندھوں کو چھوتے ہوئے۔
2؎:
مردوں کے لال کپڑے پہننے کے سلسلے میں علماء درمیان مختلف روایات کی وجہ سے اختلاف ہے، زیادہ تر لوگ کہتے ہیں کہ آپﷺ کا یہ جوڑا ایسا تھا کہ اس کا تانہ لا ل رنگ تھا، یہ بالکل خالص لال نہیں تھا، کیونکہ آپﷺ نے خود خالص لال سے مردوں کے لیے منع کیا ہے، (دیکھئے کتاب اللباس میں مردوں کے لیے لا ل کپڑے پہننے کا باب)
3؎: یعنی آپﷺ کے کندھے کافی چوڑے تھے۔
4؎:
ناٹا اور لمبا ہونا دونوں معیوب صفتیں ہیں، آپﷺ درمیانے قد کے تھے، عیب سے مبرا، ماشاء اللہ۔
براء رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے سرخ جوڑے میں کسی لمبے بال والے کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خوبصورت نہیں دیکھا، آپ کے بال شانوں کو چھوتے تھے، آپ کے شانوں کے درمیان دوری تھی، آپ نہ کوتاہ قد تھے اور نہ لمبے ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب اللباس/حدیث: 1724]
وضاحت:
1؎:
سرخ لباس کی بابت حالات و ظروف کی رعایت ضروری ہے، اگر یہ عورتوں کا مخصوص زیب وزینت والا لباس ہے جیسا کہ آج کے اس دور میں شادی کے موقع پر سرخ جوڑا دلہن کو خاص طور سے دیا جاتا ہے تو مردوں کا اس سے بچنا بہتر ہے، خود نبی اکرم ﷺ کے اس سرخ جوڑے کے بارے میں اختلاف ہے کہ وہ کیسا تھا؟ خلاصہ اقوال یہ ہے کہ یہ سرخ جوڑا یا دیگر لال لباس جو آپ ﷺ پہنے تھے، ان میں تانا اور بانا میں رنگوں کا اختلاف تھا، بالکل خالص لال رنگ کے وہ جوڑے نہیں تھے۔
براء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بال آپ کے دونوں کانوں کی لو تک پہنچتے تھے، میں نے آپ کو ایک سرخ جوڑے میں دیکھا اس سے زیادہ خوبصورت میں نے کوئی چیز کبھی نہیں دیکھی۔ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4072]
نیچے آنے والی حدیث میں وضاحت ہے کہ آپ کا یہ سرخ جوڑا خالص سرخ رنگ کا تعلق نہیں تھا، بلکہ اس میں سرخ رنگ کی دھاریاں تھیں جسے برد کہا جاتا ہے۔
علامہ ابن القیم رحمتہ نے زادالمعاد میں اس کی یہی توجیہ پیش کی ہے۔
براء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے کسی بال والے کو لباس پہنے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ خوبصورت نہیں دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بال مونڈھوں کے قریب تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5235]
براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے لال جوڑے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ خوبصورت کسی آدمی کو نہیں دیکھا، اور میں نے دیکھا کہ آپ کے بال آپ کے مونڈھوں کے قریب تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5065]
براء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم درمیانے قد کے، چوڑے مونڈھوں اور گھنی داڑھی والے تھے، آپ کے بدن پر کچھ سرخی ظاہر تھی، سر کے بال کان کی لو تک تھے ۱؎، میں نے آپ کو لال جوڑا پہنے ہوئے دیکھا اور آپ سے زیادہ کسی کو خوبصورت نہیں دیکھا۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5234]
(2) پیارے رسول اکرم ﷺ کے مبارک بالوں کےبارے میں تفصیل حدیث:5056، 5065 میں ملاحظہ فرمائیے۔
(3) ”سرخ جوڑے میں“ عربی جوڑے کے لیے حلہ کا لفظ پولاجاتا ہے۔ یہ دو چادریں ہوتی تھیں۔ ایک تہبند کے طور پر باندھی جاتی تھی اور دوسری اوپر اوڑھ لی جاتی تھی۔ فداہ أبي ونفسي وروحي ﷺ.
براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے کسی کو لال جوڑے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ خوبصورت نہیں دیکھا، آپ کے بال آپ کے مونڈھوں تک تھے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5063]
براء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ لال جوڑا ۱؎ پہنے ہوئے اور کنگھی کیے ہوئے تھے، میں نے آپ سے زیادہ خوبصورت کسی کو نہیں دیکھا، نہ آپ سے پہلے، نہ آپ کے بعد۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5316]
براء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ خوبصورت بال جھاڑے اور سنوارے ہوئے سرخ جوڑے میں ملبوس کسی کو نہیں دیکھا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3599]
فوائد و مسائل:
(1)
امام ابن قیم رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: حلھ کا مطلب تہبند اور اوڑھنے والی چادر ہے اور حلھ کا لفظ ان دونوں کے مجموعے پر بولا جاتا ہے۔
یہ سمجھنا غلط فہمی ہے کہ یہ جوڑا خالص سرخ رنگ کا تھا اورا س میں دوسرا رنگ شامل نہیں تھا۔
سرخ حلے سے مراد یمن کی دو چادریں ہوتی ہیں جو سرخ اور سیاہ دھاریوں کی صورت میں بنی ہوتی ہیں جس طرح یمن کی دوسری چادریں (لکیر دار)
ہوتی ہیں۔
یہ لباس اس نام (سرخ حلہ)
سے ان سرخ دھاریوں کی وجہ سے مشہور ہے ورنہ خالص سرخ (لباس)
سے تو سختی سے منع کیا گیا ہے البتہ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے (صحیح البخاري، کتاب الصلاة، باب الصلاۃ فی الثوب الأحمر حدیث: 376)
میں ذکر کردہ حدیث کی شرح کرتے ہوئے لکھا ہے: امام بخاری رحمہ اللہ اس عنوان کے ذریعے سے (سرخ کپڑا پہننے کے)
جواز کی طرف اشارہ فرما رہے ہیں۔
گویا خالص سرخ رنگ کا جوڑا پہننا بھی مردوں کے لئے جائز ہے لیکن اگر کسی علاقے میں یہ رنگ عورتوں کے لئے مخصوص ہو چکا ہو تو پھر اس علاقے میں مردوں کے لئے اس سے اجتناب بہتر ہوگا کیونکہ عورتوں کی مشابہت اختیار کرنا بھی ممنوع ہے۔