حدیث نمبر: 2326
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ : أَنَّ امْرَأَةً كَانَ فِي عَقْلِهَا شَيْءٌ ، فَقَالَتْ : " يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ لِي إِلَيْكَ حَاجَةً ، فَقَالَ : يَا أُمَّ فُلَانٍ ، انْظُرِي أَيَّ السِّكَكِ شِئْتِ ، حَتَّى أَقْضِيَ لَكِ حَاجَتَكِ ، فَخَلَا مَعَهَا فِي بَعْضِ الطُّرُقِ ، حَتَّى فَرَغَتْ مِنْ حَاجَتِهَا " .

حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، ایک عورت کی عقل میں کچھ فتورتھا، وہ کہنے لگی، اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم)! مجھے آپ سے کام ہے تو آپﷺ نے فرمایا: ”اے ام فلاں، دیکھ تو کس گلی میں کھڑی ہو کر بات کرنا چاہتی ہے، تاکہ میں تیری ضرورت پوری کر دوں۔‘‘ پھر آپ نے اس کے ساتھ کسی راستہ میں کھڑے ہو کر علیحدگی میں گفتگو کی، حتیٰ کہ اس نے اپنی ضرورت پوری کر لی۔

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الفضائل / حدیث: 2326
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابي داود: 4818

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عبد العزیز علوی
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، ایک عورت کی عقل میں کچھ فتورتھا، وہ کہنے لگی، اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم)! مجھے آپ سے کام ہے تو آپﷺ نے فرمایا: ’’اے ام فلاں، دیکھ تو کس گلی میں کھڑی ہو کر بات کرنا چاہتی ہے، تاکہ میں تیری ضرورت پوری کر دوں۔‘‘ پھر آپ نے اس کے ساتھ کسی راستہ میں کھڑے ہو کر علیحدگی میں گفتگو کی، حتیٰ کہ اس نے اپنی ضرورت پوری کر لی۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:6044]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: لوگ کم عقل کی بات سننے کے لیے تیار نہیں ہوتے، لیکن آپ نے راستہ میں الگ تھلگ ہو کر، ایک کم عقل عورت کی خواہش کے مطابق اس کی بات سنی اور اس کی بات پوری ہونے تک اس کے پاس کھڑے رہے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2326 سے ماخوذ ہے۔