صحيح مسلم
كتاب الفضائل— انبیائے کرام علیہم السلام کے فضائل
باب فِي رَحْمَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلنِّسَاءِ وَأَمْرِ السُّوَّاقِ مَطَايَاهُنَّ بِالرِّفْقِ بِهِنَّ: باب: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا عورتوں پر رحم کرنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الْعَتَكِيُّ ، وَحَامِدُ بْنُ عُمَرَ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَأَبُو كَامِلٍ جَمِيعًا ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ ، قَالَ أَبُو الرَّبِيعِ : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ ، وَغُلَامٌ أَسْوَدُ يُقَالُ لَهُ : أَنْجَشَةُ ، يَحْدُو ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا أَنْجَشَةُ ، رُوَيْدَكَ سَوْقًا بِالْقَوَارِيرِ " .حماد نے ہمیں ثابت سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے اسی کے مانند روایت کی۔“
وحَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الْعَتَكِيُّ ، وَحَامِدُ بْنُ عُمَرَ ، وَأَبُو كَامِلٍ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، بِنَحْوِهِ .امام صاحب اپنے تین اساتذہ سے اس کے ہم معنی روایت بیان کرتے ہیں۔
وحَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، كِلَاهُمَا عَنْ ابْنِ عُلَيَّةَ ، قَالَ زُهَيْرٌ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، " أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَتَى عَلَى أَزْوَاجِهِ وَسَوَّاقٌ يَسُوقُ بِهِنَّ ، يُقَالُ لَهُ : أَنْجَشَةُ ، فَقَالَ : وَيْحَكَ يَا أَنْجَشَةُ ، رُوَيْدًا سَوْقَكَ بِالْقَوَارِيرِ " ، قَالَ : قَالَ أَبُو قِلَابَةَ : تَكَلَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِكَلِمَةٍ ، لَوْ تَكَلَّمَ بِهَا بَعْضُكُمْ ، لَعِبْتُمُوهَا عَلَيْهِ .حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، اپنی ازواج کے پاس پہنچے، انجشہ نامی اونٹ ہانکنے والا، ان کی سواریاں ہانک رہا تھا تو آپ نے فرمایا، ”افسوس، اے انجشہ شیشوں کی سواریوں کو نرمی سے ہانکو۔‘‘ ابوقلابہ کہتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا بول بولا اگر تم میں سے کوئی بولتا تو تم اس پر اعتراض اور نکتہ چینی کرتے۔
وحَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، حَدَّثَنَا التَّيْمِيُّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : " كَانَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ مَعَ نِسَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَهُنَّ يَسُوقُ بِهِنَّ سَوَّاقٌ ، فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَيْ أَنْجَشَةُ ، رُوَيْدًا سَوْقَكَ بِالْقَوَارِيرِ " .سلیمان تیمی نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت بیان کی، کہا: حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہ بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج کے ساتھ تھیں اور ایک اونٹ ہانکنے والا ان کے اونٹ ہانک رہا تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”انجشہ! شیشہ آلات (خواتین) کو آہستگی اور آرام سے چلاؤ۔“
وحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنِي هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : " كَانَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، حَادٍ حَسَنُ الصَّوْتِ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : رُوَيْدًا يَا أَنْجَشَةُ ، لَا تَكْسِرِ الْقَوَارِيرَ يَعْنِي ضَعَفَةَ النِّسَاءِ " .ہمام نے کہا: ہمیں قتادہ نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت بیان کی، کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک خوش آواز حدی خواں تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا:”انجشہ! آرام سے (ہانکو) شیشہ آلات کو مت توڑو،“ یعنی کمزور عورتوں کو۔“
وحَدَّثَنَاه ابْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَلَمْ يَذْكُرْ : حَادٍ حَسَنُ الصَّوْتِ .ہشام نے قتادہ سے، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی اور اس میں خوش الحان حدی خواں کا ذکر نہیں کیا۔“
تشریح، فوائد و مسائل
(1)
يحدو: اونٹوں کو تیز چلانے کے لیے گا رہا تھا۔
(2)
رويد: آہستہ آہستہ، نرمی کے ساتھ قواریر، قارورہ کی جمع ہے، آبگینہ، شیشہ، عورتوں کو صنف نازک ہونے کی بنا پر ان کے ضعف اور کمزوری کے سبب شیشہ سے تشبیہ دی ہے، کیونکہ وہ شیشہ کی طرح جلد ٹوٹ پھوٹ جاتی ہے، زیادہ مشقت طلب کام کرنا، ان کے لیے مشکل ہے یا وہ جلد متاثر ہو جاتی ہیں، اس لیے تیز رفتاری سے، ان کے گرنے یا رنج و الم محسوس کرنے ڈرنے کا خطرہ تھا۔
(1)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظاہری طور پر شیشے کے الفاظ استعمال کیے لیکن اس سے مراد یہ تھی کہ عورتیں کمزور ہیں۔
اور شیشوں کو توڑنے سے مراد ان کا نیچے گر کر چوٹ کھانا ہے، لیکن درحقیقت آپ کی مراد یہ تھی کہ جس طرح چوٹ لگنے سے شیشہ ٹوٹ جاتا ہے اور پھر اس کی اصلاح نہیں ہوتی، اسی طرح حُدِی کی آواز سے عورتوں کے دل میں گانے کی محبت پیدا ہو گی اور اس سے ان کے اخلاق بگڑنے کا اندیشہ ہے پھر ان کی اصلاح بہت مشکل ہو گی۔
(2)
بہرحال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے الفاظ بول کر ظاہری معنی کے بجائے باطنی معنی مراد لیے، اور ایسا کرنے میں کوئی حرج نہیں۔
واللہ أعلم
گانے میں آواز بہت غضب کی حسین تھی جسے سن کر اونٹ بھی مست ہوجاتے تھے۔
آپ نے مستورات کو شیشے سے تشبیہ دی۔
نزاکت کی بنا پر اورانجشہ کو سواری تیز چلانے سے روکا کہ کہیں تیزی میں کوئی عورت سواری سے گر نہ جائے۔
انجشہ کو صرف انجش سے آپ نے ذکر فرمایا باب سے یہی وجہ مطابقت ہے۔
پہلی حدیث میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا نام تخفیف کے ساتھ عائش اور دوسری حدیث میں انجشہ کا نام صرف انجش لیا گیا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے محبت اور پیار سے ان ناموں سے آخری حرف حذف کر کے انہیں بلایا ہے اور ایسا کرنا جائز ہے۔
ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو ''یا عثم'' کہہ کر پکارا تھا۔
(الأدب المفرد، حدیث: 828)
اس کے گانے سے اونٹ مست ہو کر خوب بھاگ رہے تھے۔
آپ کو ڈر ہوا کہ کہیں عورتیں گر نہ جائیں، اس لئے فرمایا آہستہ لے چل۔
نکتہ چینی اس طور پر کہ عورتوں کو شیشے سے تشبیہ دی اور ان کو شیشے کی طرح نازک قرار دیا مگر یہ تشبیہ بہت عمدہ تھی۔
فی الحقیقت عورتیں ایسی ہی نازک ہوتی ہیں۔
صنف نازک پر یہ رحمۃ للعالمین کا احسان عظیم ہے کہ آپ نے ان کی کمزوری و نزاکت کا مردوں کو قدم قدم پر احساس کرایا۔
(1)
انجشہ سیاہ فام حبشی نژاد ایک غلام تھا جو بڑی خوشی آوازی کے ساتھ حُدی پڑھتا اور اونٹوں کو چلاتا تھا۔
اس کی خوش الحانی سے متاثر ہو کر اونٹ مستی کے ساتھ دوڑ رہے تھے۔
ان اونٹوں پر خواتین تھیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خطرہ محسوس ہوا کہیں ایسا نہ ہو کہ عورتیں گر جائیں، اس لیے آپ نے فرمایا: ’’انہیں آہستہ لے کر چل۔
‘‘ (2)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کی نازک مزاجی کی وجہ سے انہیں آبگینوں سے تشبیہ دی کیونکہ عورتیں اگر شکستہ دل ہو جائیں تو ان کا پھر طبعی حالت پر آنا بہت مشکل ہوتا ہے، جیسے شیشہ جلدی ٹوٹ جاتا ہے پھر درست نہیں ہوتا۔
چونکہ عورتوں کے دل کمزور ہوتے ہیں اور خوش الحانی سے جلدی متاثر ہو جاتے ہیں، گانا سننے کی طرف ان کا میلان بڑھ جاتا ہے اور گانا، ذہنی آوارگی کا پیش خیمہ ہوتا ہے، اس لیے آپ نے انجشہ کو تنبیہ فرمائی۔
(3)
بہرحال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اس صنف نازک پر بڑا احسان ہے کہ آپ نے ان کی کمزوری اور نزاکت کا مردوں کو قدم قدم پر احساس دلایا۔
حدیث کے آخر میں ابو قلابہ کی بات کا مقصد یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چونکہ فصاحت و بلاغت کے اعلیٰ مراتب پر فائز تھے، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس طرح کا کلام زیب دیتا تھا۔
اگر عام شخص اس قسم کا استعارہ استعمال کرے تو تم اس پر عیب لگانا شروع کر دو گے۔
(فتح الباري: 669/10)
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ عورتوں کے ساتھ نرمی سے پیش آنا چاہیے، اس کے متعلق شرح تفصیل سے گزر چکی ہے۔