صحيح مسلم
كتاب الفضائل— انبیائے کرام علیہم السلام کے فضائل
باب إِثْبَاتِ حَوْضِ نَبِيِّنَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصِفَاتِهِ: باب: حوض کوثر کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، وَأَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ ، قَالَا : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ وَهُوَ ابْنُ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ أَمَامَكُمْ حَوْضًا مَا بَيْنَ نَاحِيَتَيْهِ كَمَا بَيْنَ جَرْبَاءَ ، وَأَذْرُحَ " .حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارےآگے حوض ہے، اس کے دونوں کناروں کا فاصلہ، اتنا ہے، جتنا جرباء اور اذرح کا فاصلہ۔‘‘
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا يَحْيَي وَهُوَ الْقَطَّانُ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّ أَمَامَكُمْ حَوْضًا كَمَا بَيْنَ جَرْبَاءَ ، وَأَذْرُحَ " ، وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ الْمُثَنَّى : حَوْضِي .زہیر بن حرب، محمد بن مثنیٰ اور عبیداللہ بن سعید نے کہا: ہمیں یحییٰ قطان نے عبیداللہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: مجھے نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے خبر دی انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی، کہ آپ نے فرمایا:”تمہارے آگے حوض ہے (اس کی وسعت اتنی ہے جتنا) جرباء اور اذرح کے درمیان کا فاصلہ ہے۔“اور ابن مثنیٰ کی روایت میں ”میرا حوض“ کے الفاظ ہیں۔“
وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ ، وَزَادَ ، قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ : فَسَأَلْتُهُ ، فَقَالَ : قَرْيَتَيْنِ بِالشَّأْمِ بَيْنَهُمَا مَسِيرَةُ ثَلَاثِ لَيَالٍ ، وَفِي حَدِيثِ ابْنِ بِشْرٍ : ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ .عبیداللہ نے کہا میں نے استاد سے پوچھا تو اس نے کہا، یہ شام کی دو بستیاں ہیں، جن کے درمیان فاصلہ تین رات کی مسافت کے بقدر ہے اور ابن بشر کی روایت میں ہے، تین دن کی مسافت کے بقدر۔
وحَدَّثَنِي سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ مَيْسَرَةَ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِمِثْلِ حَدِيثِ عُبَيْدِ اللَّهِ .موسیٰ بن عقبہ نے نافع سے، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عبیداللہ کی حدیث کے مانند روایت کی۔“
وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَي ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّ أَمَامَكُمْ حَوْضًا كَمَا بَيْنَ جَرْبَاءَ ، وَأَذْرُحَ ، فِيهِ أَبَارِيقُ كَنُجُومِ السَّمَاءِ ، مَنْ وَرَدَهُ فَشَرِبَ مِنْهُ لَمْ يَظْمَأْ بَعْدَهَا أَبَدًا " .عمر بن نافع سے، انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”تمہارے سامنے ایسا حوض ہے جتنا جرباء اور اذرح کے درمیان کی مسافت ہے اس میں آسمان کے ستاروں جتنے کوزے ہیں جو اس تک پہنچے گا اور اس میں سے پیے گا وہ اس کے بعد کبھی پیاسا نہیں ہو گا۔“
تشریح، فوائد و مسائل
ایک حدیث میں ہے کہ میرا حوض ایک مہینے کی راہ ہے۔
دوسری حدیث میں ہے کہ جتنا فاصلہ ایلہ اور صنعاء میں ہے۔
تیسری حدیث میں ہے کہ جتنا فاصلہ مدینہ اور صنعا میں ہے۔
چوتھی حدیث میں ہے کہ جتنا فاصلہ ایلہ سے عدن تک ہے۔
پانچویں حدیث میں ہے کہ جتنا فاصلہ ایلہ سے جحیفہ تک ہے۔
یہ سب آپ نے تقریباً لوگوں کو سمجھانے کے لیے فرمایا جو جو مقام وہ پہچانتے تھے وہ بیان فرمائے۔
ممکن ہے کسی روایت میں طول کا بیان ہو اور کسی میں عرض کا۔
قسطلانی نے کہا کہ یہ سب مقام قریب قریب ایک ہی فاصلہ رکھتے ہیں یعنی آدھے مہینے کی مسافت یا اس سے کچھ زائد۔
(1)
جرباء اور اذرح شام کے علاقے میں دو گاؤں ہیں جن کے درمیان تین دن کی مسافت ہے۔
ایک حدیث میں ہے کہ میرا حوض ایک ماہ کی مسافت ہے، دوسری حدیث میں ہے کہ جتنا فاصلہ ایلہ اور صنعاء میں ہے، تیسری حدیث میں ہے جتنا فاصلہ مدینہ اور صنعاء میں ہے، چوتھی حدیث میں ہے جتنا فاصلہ ایلہ سے عدن تک ہے، پانچویں حدیث میں ہے جتنا فاصلہ ایلہ سے جحفه تک ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو سمجھانے کے لیے ان مسافتوں کا ذکر فرمایا ہے۔
لوگ جو جو مقام جانتے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ بیان فرمائے۔
(2)
ممکن ہے کہ کسی حدیث میں حوض کے طول اور کسی میں اس کے عرض کا بیان ہو۔
یہ سب مقام قریب قریب ایک ہی فاصلہ رکھتے ہیں، یعنی آدھے ماہ کی مسافت یا اس سے کچھ کم و بیش، پھر تیز رفتار سواری اور سست رفتار سواری کے اعتبار سے بھی مسافت میں اختلاف ہو سکتا ہے۔
(فتح الباري: 574/11)
کچھ لوگوں نے اس اختلاف کے پیش نظر حوض کوثر ہی کا انکار کر دیا ہے، حالانکہ اس سلسلے میں اتنی تعداد میں صحیح حدیثیں ہیں جو حد تواتر کو پہنچتی ہیں۔
واللہ أعلم