حدیث نمبر: 2297
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَنَا فَرَطُكُمْ عَلَى الْحَوْضِ ، وَلَأُنَازِعَنَّ أَقْوَامًا ، ثُمَّ لَأُغْلَبَنَّ عَلَيْهِمْ ، فَأَقُولُ : يَا رَبِّ أَصْحَابِي ، أَصْحَابِي ، فَيُقَالُ : إِنَّكَ لَا تَدْرِي مَا أَحْدَثُوا بَعْدَكَ " .

ہمیں ابومعاویہ نے اعمش سے حدیث سنائی، انہوں نے شقیق بن سلمہ اسدی سے، انہوں نے حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت بیان کی۔ کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”میں حوض پر تمہارا پیش رو ہوں گا۔ میں کچھ اقوام (لوگوں) کے بارے میں (فرشتوں سے) جھگڑوں گا، پھر ان کے حوالے سے (فرشتوں کو) مجھ پر غلبہ عطا کر دیا جائے گا، میں کہوں گا: اے میرے رب! (یہ) میرے ساتھی ہیں۔ میرے ساتھی ہیں، تو مجھ سے کہا جائے گا: بلاشبہ آپ نہیں جانتے کہ انہوں نے آپ کے بعد (دین میں) کیا نئی باتیں (بدعات) نکالی تھیں۔“

وحَدَّثَنَاه عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ جَرِيرٍ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، وَلَمْ يَذْكُرْ : أَصْحَابِي ، أَصْحَابِي .

یہی روایت امام صاحب کو دو اور اساتذہ نے سنائی اور اس میں ”میرے ساتھ ہیں،میرے ساتھی ہیں۔‘‘ بیان نہیں کیا۔

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، كِلَاهُمَا ، عَنْ جَرِيرٍ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ جَمِيعًا ، عَنْ مُغِيرَةَ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِنَحْوِ حَدِيثِ الْأَعْمَشِ ، وَفِي حَدِيثِ شُعْبَةَ ، عَنْ مُغِيرَةَ : سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ .

جریر اور شعبہ نے مغیرہ سے، انہوں نے ابووائل سے، انہوں نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اعمش کی حدیث کے مانند روایت کی۔ شعبہ کی مغیرہ سے روایت (کی سند) میں یہ الفاظ ہیں: میں نے ابووائل سے سنا۔“

وحَدَّثَنَاه سَعِيدُ بْنُ عَمْرٍو الْأَشْعَثِيُّ ، أَخْبَرَنَا عَبْثَرٌ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ كِلَاهُمَا ، عَنْ حُصَيْنٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، نَحْوَ حَدِيثِ الْأَعْمَشِ ، وَمُغِيرَةَ .

عبثر اور ابن فضیل دونوں نے حصین سے انہوں نے ابووائل سے، انہوں نے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی، جس طرح اعمش اور مغیرہ کی روایت ہے۔“

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الفضائل / حدیث: 2297
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح البخاري: 6576

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 6576 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
6576. حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے وہ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں آپ نے فرمایا: میں حوض پر تمہارا پیش رو ہوں گا اور تم میں سے کچھ لوگ میرے سامنے لائے جائیں گے، پھر انہیں میرے سامنے سے ہٹا دیا جائے گا۔ میں عرض کروں گا: اے میرے رب! یہ میرے ساتھی ہیں مجھ سے کہا جائے گا: آپ نہیں جانتے کہ انہوں نے آپ کے بعد دین میں کیا کیا نئی چیزیں ایجاد کرلی تھیں۔ اس روایت کی متابعت عاصم نے ابو وائل سے کی ہے ان سے حضرت حذیفہ نے اور ان سے نبی ﷺ نے بیان فرمایا۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:6576]
حدیث حاشیہ:
(1)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حوض کوثر اور اس کے پانی کا تعارف ان الفاظ میں بیان فرمایا ہے: ’’اس کا پانی برف سے زیادہ سفید اور شہد ملے دودھ سے زیادہ میٹھا اور لذیذ ہو گا، اس کے آبخورے ستاروں کی تعداد سے زیادہ ہیں اور میں دوسرے لوگوں کو اس طرح دور ہٹاؤں گا جس طرح آدمی دوسرے لوگوں کے اونٹوں کو اپنے حوض سے دور کرتا ہے۔
‘‘ صحابہ نے عرض کی: اللہ کے رسول! کیا آپ اس روز ہمیں پہچان لیں گے؟ آپ نے فرمایا: ’’ہاں، تمہارے لیے ایک خاص نشان ہو گا جو کسی اور امت کے لیے نہیں ہو گا۔
تم میرے پاس اس حالت میں آؤ گے کہ وضو کے نشانات کی وجہ سے پیشانی اور ہاتھ پاؤں چمکتے ہوں گے۔
‘‘ (صحیح مسلم، الطھارة، حدیث: 581 (247)
پھر نماز پڑھنے والوں ميں سے کچھ لوگ سنگین قسم کی بدعات کے مرتکب ہوں گے جن کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے: ’’کچھ لوگ میرے پاس آئیں گے، میں انہیں پہچانتا ہوں گا اور وہ مجھے پہچانتے ہوں گے، پھر میرے اور ان کے درمیان رکاوٹ کھڑی کر دی جائے گی۔
میں کہوں گا: ’’یہ تو مجھ سے ہیں۔
‘‘ مجھے کہا جائے گا آپ نہیں جانتے کہ انہوں نے آپ کے بعد دین میں کیا کیا نئے کام ایجاد کر لیے تھے؟ میں کہوں گا: اس شخص کے لیے دوری ہو، اس کے لیے دوری ہو جس نے میرے بعد دین کو بدل کر رکھ دیا۔
‘‘ (صحیح مسلم، الفضائل، حدیث: 5968، 5969 (2290، 2291)
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6576 سے ماخوذ ہے۔