حدیث نمبر: 2290
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَارِيَّ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ سَهْلًا ، يَقُولُ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " أَنَا فَرَطُكُمْ عَلَى الْحَوْضِ ، مَنْ وَرَدَ شَرِبَ ، وَمَنْ شَرِبَ لَمْ يَظْمَأْ أَبَدًا ، وَلَيَرِدَنَّ عَلَيَّ أَقْوَامٌ أَعْرِفُهُمْ وَيَعْرِفُونِي ، ثُمَّ يُحَالُ بَيْنِي وَبَيْنَهُمْ " ، قَالَ أَبُو حَازِمٍ : فَسَمِعَ النُّعْمَانُ بْنُ أَبِي عَيَّاشٍ ، وَأَنَا أُحَدِّثُهُمْ هَذَا الْحَدِيثَ ، فَقَالَ : هَكَذَا سَمِعْتَ سَهْلًا يَقُولُ ؟ قَالَ : فَقُلْتُ : نَعَمْ ،

یعقوب بن عبدالرحمان القاری نے ابوحازم سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے سنا، کہہ رہے تھے: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے:”میں تم سے پہلے اپنے حوض پر پہنچنے والا ہوں، جو اس حوض پر پینے کے لیے آجائے گا، پی لے گا اور جو پی لے گا وہ کبھی پیاسا نہیں ہوگا۔ میرے پاس بہت سے لوگ آئیں گے میں انہیں جانتا ہوں گا، وہ مجھے جانتے ہوں گے، پھر میرے اور ان کے درمیان رکاوٹ حائل کردی جائے گی۔“ابوحازم نے کہا: میں یہ حدیث (سننے والوں کو) سنا رہا تھا کہ نعمان بن ابی عیاش نے بھی یہ حدیث سنی تو کہنے لگے: آپ نے سہل رضی اللہ عنہ کو اسی طرح کہتے ہوئے سنا ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں۔“

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الفضائل / حدیث: 2290
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح البخاري: 7051

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 7051 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
7051. ابو حازم نے کہا کہ نعمان بن ابو عیاش نے مجھے بیان کرتے ہوئے سنا تو کہا: تم نے حضرت سہل ؓ سے اسی طرح سنا ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں: انہوں نے کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے بھی ابو سعید خدری ؓ سے روایت اسی طرح سنی ہے البتہ وہ اس میں اضافہ بیان کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: یہ لوگ مجھ سے ہیں۔ آپ کو کہا جائے گا: تم نہیں جانتے کہ انہوں نے تمہارے بعد کیا تبدیلیاں کر دی تھیں۔ اس وقت میں کہوں گا: دوری ہو، دوری ہو ان کے لیے جنہوں نے میرے بعد (دین میں) تبدیلیاں کر دیں۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:7051]
حدیث حاشیہ: یعنی اسلام سے مرتد ہوگئے۔
حافظ نے کہا اس صورت میں تو کوئی اشکال نہ ہوگا اگر بدعتی یا دوسرے گنہگار مراد ہوں تو بھی ممکن ہے کہ اس وقت حوض پر آنے سے روک دیے جائیں۔
معاذ اللہ دین میں نئی بات۔
یعنی بدعت نکالنا کتنا بڑا گناہ ہے۔
ان بدعتیوں کو پہلے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لاکر پھر جو ہٹالے جائیں گے، اس سے یہ مقصود ہوگا کہ ان کو اور زیادہ رنج ہو جیسے کہتے ہیں: قسمت کی بدنصیبی ٹوٹی کہاں کمند دو چار ہاتھ جبکہ لب بام رہ گیا یا اس لیے کہ دوسرے مسلمان ان کے حال پر اختلال اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں۔
مسلمانو! ہوشیار ہو جاؤ بدعت سے۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 7051 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 7051 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
7051. ابو حازم نے کہا کہ نعمان بن ابو عیاش نے مجھے بیان کرتے ہوئے سنا تو کہا: تم نے حضرت سہل ؓ سے اسی طرح سنا ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں: انہوں نے کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے بھی ابو سعید خدری ؓ سے روایت اسی طرح سنی ہے البتہ وہ اس میں اضافہ بیان کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: یہ لوگ مجھ سے ہیں۔ آپ کو کہا جائے گا: تم نہیں جانتے کہ انہوں نے تمہارے بعد کیا تبدیلیاں کر دی تھیں۔ اس وقت میں کہوں گا: دوری ہو، دوری ہو ان کے لیے جنہوں نے میرے بعد (دین میں) تبدیلیاں کر دیں۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:7051]
حدیث حاشیہ:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد دین میں تبدیلی دو طرح سے ممکن ہے۔
ایک یہ کہ مرتد ہو کر اس سے پھر جائیں جیسا کہ کچھ لوگ مسیلمہ کذاب سے مل گئے اس قسم کے ملعون تو جنت سے بالکل محروم ہوں گے کیونکہ انھوں نے تو دین کی بنیاد ہی ختم کر ڈالی اور دوسری تبدیلی اس طرح کی ہو گی کہ آپس میں ظلم و ستم کیا ہو گا۔
اس طرح کے لوگ وقتی طور پر حوض کوثر سے دور کر دیے جائیں گے۔
پھر سزا بھگت کر یا سفارش کی وجہ سے جنت میں داخل ہوں گے کیونکہ ایسے لوگ مشرک نہیں جنھیں بالکل جنت سے محروم کردیا جائے۔
یہ لوگ کبیرہ گناہ والوں کی طرح ہوں گے جنھیں بالآخر جہنم سے نکال لیا جائے گا۔
(فتح الباري: 13/7)

بہر حال بدعت کا ارتکاب بہت سنگین جرم اور عظیم فتنہ ہے۔
انھیں پہلےرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا جائے گا۔
پھر انھیں وہاں سے ہٹایا جائے گا۔
اس سے مقصود یہ ہے کہ انھیں اور زیادہ تکلیف ہو جیسا کہ کہا جاتا ہے۔
۔
۔
قسمت کی بد نصیبی ٹوٹی کہاں کمند۔
۔
۔
۔
دوچار ہاتھ جبکہ لب بام رہ گیا
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 7051 سے ماخوذ ہے۔