حدیث نمبر: 2199
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : أَرْخَصَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رُقْيَةِ الْحَيَّةِ لِبَنِي عَمْرٍو ، قَالَ أَبُو الزُّبَيْر : وَسَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : لَدَغَتْ رَجُلًا مِنَّا عَقْرَبٌ وَنَحْنُ جُلُوسٌ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَرْقِي ، قَالَ : " مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ أَنْ يَنْفَعَ أَخَاهُ فَلْيَفْعَلْ " .

روح بن عبادہ نے کہا: ہمیں ابن جریج نے حدیث بیان کی، کہا: مجھے ابوزبیر نے بتایا کہ انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کو یہ کہتے ہوئے سنا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو عمرو (بن حزم) کو سانپ کے ڈسنے کی صورت میں دم کرنے کی اجازت دی۔ ابوزبیر نے کہا: میں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے (یہ بھی) سنا، وہ کہتے تھے: ہم میں سے ایک شخص کو بچھو نے ڈنک مار دیا، ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بیٹھے ہوئے تھے۔ کہ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں دم کر دوں؟ آپ نے فرمایا: ”تم میں سے جو شخص اپنے بھائی کو فائدہ پہنچا سکتا ہو تو اسے ایسا کرنا چاہیے۔“

وحدثني سَعِيدُ بْنُ يَحْيَي الْأُمَوِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ ، غَيْرَ أَنَّهُ ، قَالَ : فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ : أَرْقِيهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَلَمْ يَقُلْ أَرْقِي .

سعید بن یحییٰ اموی کے والد نے کہا: ہمیں ابن جریج نے اسی سند کے ساتھ اسی کی مثل روایت بیان کی مگر انہوں نے کہا: لوگوں میں سے ایک شخص نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا میں اس کو دم کر دوں؟ اور (صرف): ”دم کر دوں“ نہیں کہا۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ ، قَالَا : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قال : كَانَ لِي خَالٌ يَرْقِي مِنَ الْعَقْرَبِ ، فَنَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الرُّقَى ، قَالَ : فَأَتَاهُ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّكَ نَهَيْتَ عَنِ الرُّقَى ، وَأَنَا أَرْقِي مِنَ الْعَقْرَبِ ، فَقَالَ : " مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ أَنْ يَنْفَعَ أَخَاهُ فَلْيَفْعَلْ " .

وکیع نے اعمش سے، انہوں نے ابوسفیان سے، انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہما سے روایت کی، کہا: میرے ایک ماموں تھے وہ بچھو کے کاٹے پر دم کرتے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (عمومی طور پر ہر طرح کے) دم کرنے سے منع فرمایا۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے اور کہا: اے اللہ کے رسول! آپ نے دم کرنے سے منع فرما دیا ہے۔ میں بچھو کے کاٹے سے دم کرتا ہوں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے جو کوئی اپنے بھائی کو فائدہ پہنچا سکتا ہو تو وہ ایسا کرے۔“

وحدثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ .

جریر نے اعمش سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی۔

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الرُّقَى ، فَجَاءَ آلُ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّهُ كَانَتْ عِنْدَنَا رُقْيَةٌ نَرْقِي بِهَا مِنَ الْعَقْرَبِ ، وَإِنَّكَ نَهَيْتَ عَنِ الرُّقَى ، قَالَ : فَعَرَضُوهَا عَلَيْهِ ، فَقَالَ : " مَا أَرَى بَأْسًا مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ أَنْ يَنْفَعَ أَخَاهُ فَلْيَنْفَعْهُ " .

حضرت جابر رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دم کرنے سے منع کر دیا تو عمر ابن حزم کے خاندان کے لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے، اے اللہ کے رسول! واقعہ یہ ہے کہ ہمارے پاس ایک دم ہے، جو ہم بچھو کے ڈسنے پر کرتے ہیں، اور آپ نے دم کرنے سے منع کر دیا ہے اور انہوں نے وہ دم آپ پر پیش کیا تو آپ نے فرمایا: ”میں اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتا، تم میں سے جو اپنے بھائی کو نفع پہنچا سکتا ہو، نفع پہنچائے۔‘‘

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب السلام / حدیث: 2199
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»