صحيح مسلم
كتاب السلام— سلامتی اور صحت کا بیان
باب اسْتِحْبَابِ الرُّقْيَةِ مِنَ الْعَيْنِ وَالنَّمْلَةِ وَالْحُمَةِ وَالنَّظْرَةِ: باب: نظر لگنے، پھوڑے پھنسی، زہریلے ڈنگ وغیرہ کی تکلیف میں دم کرانے کا استحباب۔
حدیث نمبر: 2197
حَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ الزُّبَيْدِيُّ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِجَارِيَةٍ فِي بَيْتِ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى بِوَجْهِهَا سَفْعَةً ، فَقَالَ : " بِهَا نَظْرَةٌ فَاسْتَرْقُوا لَهَا " ، يَعْنِي بِوَجْهِهَا صُفْرَةً .نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا کے گھر میں ایک بچی کے چہرے پر سیاہی یا زردی دیکھ کر فرمایا: ”اسے نظر لگی ہے، اس کو دم کرواؤ‘‘ یعنی اس کا چہرہ زرد تھا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عبد العزیز علوی
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا کے گھر میں ایک بچی کے چہرے پر سیاہی یا زردی دیکھ کر فرمایا: ’’اسے نظر لگی ہے، اس کو دم کرواؤ‘‘ یعنی اس کا چہرہ زرد تھا۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:5725]
حدیث حاشیہ: مفردات الحدیث:
سفع: بقول بعض زردی، بقول ابراہیم حربی، سیاہی اور بقول اصمعی سرخی جس پر سیاہی غالب تھی اور بقول ابن قتیبہ، چہرے کے رنگ سے الگ رنگ یعنی پرچھائی۔
سفع: بقول بعض زردی، بقول ابراہیم حربی، سیاہی اور بقول اصمعی سرخی جس پر سیاہی غالب تھی اور بقول ابن قتیبہ، چہرے کے رنگ سے الگ رنگ یعنی پرچھائی۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2197 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 5739 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
5739. سیدہ ام سلمہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے ان کے گھر میں ایک لڑکی دیکھی جس کی چہرے پر سیاہ دھبے تھے تو آپ نے فرمایا: ”اسے دم کراؤ کیونکہ اسے نظر بد لگ گئی ہے“ عقیل نے کہا کہ ان سے زہری نے بیان کیا۔ انہیں عروہ نے خبر دی انہوں نے اسے نبی ﷺ سے (مرسل طور پر) بیان کیا عبداللہ بن سالم نے زبیدی سے روایت کرنے میں محمد بن حرب کی متابعت کی ہے[صحيح بخاري، حديث نمبر:5739]
حدیث حاشیہ: اسے ذہلی نے زہریات میں وصل کیا ہے۔
معلوم ہوا کہ نظر بد کا لگ جانا حق ہے جیسے کہ دوسری حدیث میں وارد ہے۔
مولانا وحیدا لزماں لکھتے ہیں کہ نظر بد والے پر آیت ﴿وان یکاد الذین کفروا لیزلقونک بابصارھم لما سمعوا الذکر ویقولون انہ لمجنون﴾ (القلم: 51)
پڑھ کر پھونکے یہ عمل مجرب ہے۔
شرکیہ دم جھاڑ کرنا قطعاً حرام بلکہ شرک ہے، اعوذنا اللہ عنھم آمین۔
معلوم ہوا کہ نظر بد کا لگ جانا حق ہے جیسے کہ دوسری حدیث میں وارد ہے۔
مولانا وحیدا لزماں لکھتے ہیں کہ نظر بد والے پر آیت ﴿وان یکاد الذین کفروا لیزلقونک بابصارھم لما سمعوا الذکر ویقولون انہ لمجنون﴾ (القلم: 51)
پڑھ کر پھونکے یہ عمل مجرب ہے۔
شرکیہ دم جھاڑ کرنا قطعاً حرام بلکہ شرک ہے، اعوذنا اللہ عنھم آمین۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 5739 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 5739 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
5739. سیدہ ام سلمہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے ان کے گھر میں ایک لڑکی دیکھی جس کی چہرے پر سیاہ دھبے تھے تو آپ نے فرمایا: ”اسے دم کراؤ کیونکہ اسے نظر بد لگ گئی ہے“ عقیل نے کہا کہ ان سے زہری نے بیان کیا۔ انہیں عروہ نے خبر دی انہوں نے اسے نبی ﷺ سے (مرسل طور پر) بیان کیا عبداللہ بن سالم نے زبیدی سے روایت کرنے میں محمد بن حرب کی متابعت کی ہے[صحيح بخاري، حديث نمبر:5739]
حدیث حاشیہ:
(1)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نظربد سے دم کرنا مشروع ہے جیسا کہ حضرت اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا نے عرض کی: اللہ کے رسول! حضرت جعفر رضی اللہ عنہ کے بچوں کو نظربد بہت جلد لگ جاتی ہے، کیا ہمیں اس کے لیے دم کرانے کی اجازت ہے؟ آپ نے فرمایا: "ہاں" تم دم کرا سکتے ہوں۔
(جامع الترمذی، الطب، حدیث: 2059)
ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود فرمایا: "جعفر کے بچے کمزور کیوں ہیں۔
’’ انہوں نے کہا: انہیں نظربد لگ جاتی ہے۔
آپ نے فرمایا: ’’انہیں دم کر دیا کرو۔
‘‘ میں نے ایک دم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پیش کیا تو آپ نے فرمایا: ’’ہاں! اس سے دم کر لیا کرو۔
‘‘ (صحیح مسلم، السلام، حدیث: 5726 (2198)
(1)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نظربد سے دم کرنا مشروع ہے جیسا کہ حضرت اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا نے عرض کی: اللہ کے رسول! حضرت جعفر رضی اللہ عنہ کے بچوں کو نظربد بہت جلد لگ جاتی ہے، کیا ہمیں اس کے لیے دم کرانے کی اجازت ہے؟ آپ نے فرمایا: "ہاں" تم دم کرا سکتے ہوں۔
(جامع الترمذی، الطب، حدیث: 2059)
ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود فرمایا: "جعفر کے بچے کمزور کیوں ہیں۔
’’ انہوں نے کہا: انہیں نظربد لگ جاتی ہے۔
آپ نے فرمایا: ’’انہیں دم کر دیا کرو۔
‘‘ میں نے ایک دم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پیش کیا تو آپ نے فرمایا: ’’ہاں! اس سے دم کر لیا کرو۔
‘‘ (صحیح مسلم، السلام، حدیث: 5726 (2198)
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 5739 سے ماخوذ ہے۔