حدیث نمبر: 218
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ خَلَفٍ الْبَاهِلِيُّ ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ ، عَنْ مُحَمَّدٍ يَعْنِي ابْنَ سِيرِينَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عِمْرَانُ ، قَالَ : قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِي سَبْعُونَ أَلْفًا بِغَيْرِ حِسَابٍ ، قَالُوا : وَمَنْ هُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : هُمُ الَّذِينَ لَا يَكْتَوُونَ ، وَلَا يَسْتَرْقُونَ ، وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ ، فَقَامَ عُكَّاشَةُ ، فَقَالَ : ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ ، قَالَ : أَنْتَ مِنْهُمْ ، قَالَ : فَقَامَ رَجُلٌ ، فَقَالَ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ ، قَالَ : سَبَقَكَ بِهَا عُكَّاشَةُ .

محمد بن سیرین نے کہا کہ حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے مجھے یہ حدیث سنائی، انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت کے ستر ہزار اشخاص حساب کے بغیر جنت میں داخل ہوں گے۔“ صحابہ کرام نے پوچھا: ’اے اللہ کے رسول! وہ کون لوگ ہیں؟‘ آپ نے فرمایا: ”وہ ایسے لوگ ہیں جو داغنے کے عمل سے علاج نہیں کراتے، نہ دم کراتے ہیں اور اپنے رب پر کامل بھروسہ کرتے ہیں۔“ حضرت عکاشہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور کہا: ’اللہ سے دعا فرمائیے کہ وہ مجھے بھی ان میں (شامل) کر دے۔‘ آپ نے فرمایا: ”تم ان میں سے ہو۔“ (حضرت عمران رضی اللہ عنہ نے) کہا: پھر ایک اور آدمی کھڑا ہوا اور کہنے لگا: ’اے اللہ کے نبی! اللہ سے دعا کیجیے کہ وہ مجھے (بھی) ان میں (شامل) کر دے۔‘ آپ نے فرمایا: ”اس میں عکاشہ تم سے سبقت لے گئے۔“

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنَا حَاجِبُ بْنُ عُمَرَ أَبُو خُشَيْنَةَ الثَّقَفِيُّ ، حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ الأَعْرَجِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِي سَبْعُونَ أَلْفًا بِغَيْرِ حِسَابٍ ، قَالُوا : مَنْ هُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : هُمُ الَّذِينَ ، لَا يَسْتَرْقُونَ ، وَلَا يَتَطَيَّرُونَ ، وَلَا يَكْتَوُونَ ، وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ " .

عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت کے ستر ہزار افراد بلا حساب کتاب جنت میں داخل ہوں گے۔“ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پوچھا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! وہ کون لوگ ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ لوگ جو دم نہیں کرواتے، نہ بدشگونی پکڑتے ہیں اور نہ داغ لگواتے ہیں اور اپنے رب پر بھروسا کرتے ہیں۔“

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الإيمان / حدیث: 218
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة ، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (10841)»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عبد العزیز علوی
حضرت عمران ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ’’میری امت کے ستر ہزار (70000) اشخاص بلا حساب جنت میں داخل ہوں گے۔‘‘ صحابہ کرام ؓ نے پوچھا: اے اللہ کے رسولؐ! وہ کون لوگ ہیں؟ آپ نے فرمایا: ’’یہ وہ لوگ ہوں گے جو داغ نہیں لگاتے، نہ دم کرواتے ہیں اور اپنے رب پر اعتماد کرتے ہیں۔‘‘ تو عکاشہؓ کھڑے ہو کر کہنے لگے: اللہ سے دعا فرمائیے! کہ مجھے بھی ان میں سے کر دے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’تو ان میں سے ہے۔‘‘ تو ایک اور آدمی کھڑا ہوا... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:524]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل:
اس حدیث سے ظاہری طور پر یہ ثابت ہوتا ہے کہ جنت میں بلا حساب داخل ہونے والے لوگ بیماری کی صورت میں دم جھاڑ نہیں کرواتے، کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ صحت وعافیت اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے، اور اللہ تعالیٰ کی مرضی کے بغیر فائدہ نہیں پہنچاتے، اس لیے ہم اس پر بھروسہ کرتے ہیں اور ان ظاہری اسباب کو نہیں اپناتے۔
لیکن یہ مفہوم حدیث کے اس ٹکڑے کے منافی ہے کہ ’’وہ ہر کام میں اللہ تعالیٰ پر اعتماد وبھروسہ کرتے ہیں۔
‘‘ تو اگر ظاہری اسباب کے ترک کا نام ہی توکل ہے، تو پھر کھانے پینے اور کمانے کی کیا ضرورت ہے؟ سیر اور سیراب تو اللہ ہی کرتا ہے، دشمن کے مقابلہ میں مسلح ہو کر نکلنے کی کیا ضرورت ہے، دشمن پر فتح تو اللہ ہی دیتا ہے۔
دین کی نشر واشاعت اور تبلیغ ودعوت کی کیا ضرورت ہے، دین کو تو اللہ ہی پھیلاتا اور غالب فرماتا ہے، اسی طرح دعا کرانے کی کیا ضرورت ہے؟ درجہ تو اللہ ہی نے دینا ہے۔
اس لیے حدیث کا صحیح مفہوم یہ ہے، کہ وہ غیر شرعی اسباب ووسائل اختیار نہیں کرتے، جیسا کہ جاہلیت کے دور میں لوگ ہر قسم کا دم جھاڑ کرتے تھے، یا بدشگونی پکڑتے تھے، بلکہ وہ انہی اسباب ووسائل کو اختیار کرتے ہیں، جن کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے یا اجازت دی ہے، اور ان جائز اسباب کے اختیار کرنے کے باوجود ان کا اعتماد اور سہارا اللہ تعالیٰ پر ہوتا ہے کہ یہ ظاہری اسباب تبھی کارگر ہوں گے، جب اللہ تعالیٰ کو منظور ہوگا۔
اسباب میں اثر وتاثیر اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے، چاہے تو ان میں تاثیر پیدا کر دے اور ان سے نتیجہ برآمد ہوجائے، چاہے تو ان سے تاثیر سلب کرلے اور یہ ناکام ہوجائیں۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 218 سے ماخوذ ہے۔