مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
حدیث نمبر: 2142
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ . ح وحدثنا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، قالا : حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ كَثِيرٍ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ ، حَدَّثَتْنِي زَيْنَبُ بِنْتُ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ : كَانَ اسْمِي بَرَّةَ ، فَسَمَّانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَيْنَبَ ، قَالَتْ : " وَدَخَلَتْ عَلَيْهِ زَيْنَبُ بِنْتُ جَحْشٍ ، وَاسْمُهَا بَرَّةُ ، فَسَمَّاهَا زَيْنَبَ " .

ولید بن کثیر نے کہا: مجھے محمد بن عمرو بن عطاء نے حدیث بیان کی، کہا: مجھے حضرت زینب بنت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے بتایا، کہا: میرا نام برہ تھا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا نام زینب رکھ دیا۔ انہوں نے کہا: جب زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا آپ کے حبالہ عقد میں داخل ہوئیں تو ان کا نام بھی برہ تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا نام بھی زینب رکھا۔

حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ ، قال : سَمَّيْتُ ابْنَتِي بَرَّةَ ، فَقَالَتْ لِي زَيْنَبُ بِنْتُ أَبِي سَلَمَةَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ هَذَا الِاسْمِ وَسُمِّيتُ بَرَّةَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تُزَكُّوا أَنْفُسَكُمُ اللَّهُ أَعْلَمُ بِأَهْلِ الْبِرِّ مِنْكُمْ " ، فَقَالُوا : بِمَ نُسَمِّيهَا ، قَالَ : " سَمُّوهَا زَيْنَبَ " .

یزید بن ابی حبیب نے محمد بن عمرو بن عطاء سے روایت کی، کہا: میں نے اپنی بیٹی کا نام برہ رکھا تو حضرت زینب بنت ابی سلمہ رضی اللہ عنہا نے مجھ سے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نام رکھنے سے منع فرمایا ہے۔ اور (بتایا کہ) میرا نام بھی پہلے برہ رکھا گیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگ اپنی پارسائی بیان کرو اللہ تعالیٰ ہی خوب جانتا ہے کہ تم میں سے نیکو کار کون ہے۔“ (گھر کے) لوگوں نے کہا: پھر ہم اس کا کیا نام رکھیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کا نام زینب رکھ دو۔“

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الآداب / حدیث: 2142
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح مسلم: 2142 | سنن ابي داود: 4953

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 2142 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
محمد بن عمرو بن عطاء بیان کرتے ہیں، میں نے اپنی بیٹی کا نام بره رکھا تو مجھے حضرت زینب بنت ابی سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا نے کہا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس نام کے رکھنے سے روکا ہے، میرا نام بره رکھا گیا تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’خود اپنا تزکیہ نہ کرو، اللہ تعالیٰ تم میں سے وفاداروں اور نیکوکاروں کو خوب جانتا ہے‘‘ تو میرے ورثاء نے پوچھا، ہم اس کا کیا نام رکھیں؟ آپﷺ نے فرمایا: ’’اس کا نام زینب رکھو۔‘‘ [صحيح مسلم، حديث نمبر:5609]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: ان حدیثوں سے ثابت ہوتا ہے، ناپسندیدہ اور پارسائی پر دلالت کرنے والے ناموں کو بدل دینا چاہیے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2142 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 4953 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´برے نام کو بدل دینے کا بیان۔`
محمد بن عمرو بن عطا سے روایت ہے کہ زینب بنت ابوسلمہ نے ان سے پوچھا: تم نے اپنی بیٹی کا نام کیا رکھا ہے؟ کہا: میں نے اس کا نام برہ رکھا ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس نام سے منع کیا ہے، میرا نام پہلے برہ رکھا گیا تھا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خود سے پاکباز نہ بنو، اللہ خوب جانتا ہے، تم میں پاکباز کون ہے، پھر (میرے گھر والوں میں سے) کسی نے پوچھا: تو ہم اس کا کیا نام رکھیں؟ آپ نے فرمایا: زینب رکھ دو۔ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4953]
فوائد ومسائل:
1) اپنے منہ میاں مٹھو بننا یعنی خود ہی اپنی مدح سرائی کرنا بہت برا ہے۔
اور اس میں ایسے نام بھی شامل ہیں جن میں مبالغہ پایا جاتا ہے۔

2) زینب کے معانی کے معنی میں بیان کیا جاتا ہے کہ موٹے خرگوش یا حسین منظر یا اچھی خوشبو والے درخت کو زینب کہتے ہیں۔
یا بعض نے اے (زین اب) یعنی باپ کے لیے زینت مر کب بتایا ہے۔
(عون المعبود)
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4953 سے ماخوذ ہے۔

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔