حدیث نمبر: 2109
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ الْأَعْمَشِ . ح وحَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي الضُّحَى ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قال : قال رسول اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ أَشَدَّ النَّاسِ عَذَابًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ الْمُصَوِّرُونَ " ، وَلَمْ يَذْكُرْ الْأَشَجُّ إِنَّ .

عثمان بن ابی شیبہ نے کہا: ہمیں جریر نے اعمش سے حدیث بیان کی، ابوسعید اشج نے کہا: ہمیں وکیع نے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں اعمش نے ابوضحیٰ سے حدیث بیان کی، انہوں نے مسروق سے انہوں نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یقیناً قیامت کے دن سب سے زیادہ عذاب میں (گرفتار تصویر بنانے والے ہوں گے۔)“ اشج نے (یقیناً) (کا لفظ) بیان نہیں کیا۔

وحدثنا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ كُلُّهُمْ ، عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ . ح وحدثنا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ كِلَاهُمَا ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَفِي رِوَايَةِ يَحْيَي ، وَأَبِي كُرَيْبٍ ، عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ ، إِنَّ مِنْ أَشَدِّ أَهْلِ النَّارِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَذَابًا الْمُصَوِّرُونَ ، وَحَدِيثُ سُفْيَانَ كَحَدِيثِ وَكِيعٍ .

یہی روایت امام صاحب اپنے تین اساتذہ سے بیان کرتے ہیں، ان میں سے دو کی روایت میں یہ الفاظ ہیں ”اہل نار میں سے سخت ترین عذاب، قیامت کے دن تصویر سازوں کو ہو گا۔‘‘ یا ”مصور قیامت کے دن سخت ترین عذاب والے لوگوں میں سے ہوں گے‘‘ اور چوتھے استاد کی روایت وکیع کی مذکورہ بالا روایت کی طرح ہے۔

وحَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ صُبَيْحٍ ، قال : كُنْتُ مَعَ مَسْرُوقٍ فِي بَيْتٍ فِيهِ تَمَاثِيلُ مَرْيَمَ ، فَقَالَ مَسْرُوقٌ : هَذَا تَمَاثِيلُ كِسْرَى ، فَقُلْتُ : لَا هَذَا تَمَاثِيلُ مَرْيَمَ ، فَقَالَ مَسْرُوقٌ : أَمَا إِنِّي سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ ، يقول : قال رسول اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَشَدُّ النَّاسِ عَذَابًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ الْمُصَوِّرُونَ " .

منصور نے مسلم بن صبیح (ابوضحیٰ) سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں مسروق کے ساتھ ایک مکان میں تھا جس میں حضرت مریم علیہا السلام کی تصاویر تھیں (یا مجسمے تھے) مسروق نے کہا: یہ کسریٰ کی تصاویر ہیں؟ میں نے کہا: نہیں یہ مریم علیہا السلام کی تصاویر ہیں۔ مسروق نے کہا: میں نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سنا وہ کہہ رہے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت کے دن سب سے زیادہ عذاب تصویریں (یا مجسمے) بنانے والوں کو ہو گا۔“

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب اللباس والزينة / حدیث: 2109
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح البخاري: 5950 | صحيح مسلم: 2109 | سنن نسائي: 5366

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 2109 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
مسلم بن صبیح  بیان کرتے ہیں کہ میں مسروق  کے ساتھ ایک ایسے گھر میں تھا، جس میں مریم کی تصویریں یا مورتیاں تھیں تو مسروق نے کہا، یہ کسریٰ کی تصاویر ہیں تو میں نے کہا، نہیں، یہ مریم کی تصاویر ہیں تو مسروق  نے کہا، ہاں، میں نے عبداللہ بن مسعود ؓ کو یہ کہتے سنا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "قیامت کے دن شدید ترین عذاب والے لوگ مصور ہوں گے۔" [صحيح مسلم، حديث نمبر:5539]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: مسلم بن صبیح، ابو الضحیٰ کا نام ہے، جو حضرت مسروق رحمہ اللہ کے شاگرد ہیں اور یہ گھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام یسار بھی نمیر کا تھا، جو انہوں نے کسی عیسائی سے خریدا ہو گا اور یہ نقش و نگار کی صورت میں کسی بچھونے پر ہوں گی، جو چھپر یا چبوترہ میں پڑا تھا، جس طرح آج کپڑے اور کاغذ پر کسی کا تصویری خاکہ بنایا جاتا ہے اور وہ تصویری خاکہ کو درست سمجھتے ہوں گے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 5539 سے ماخوذ ہے۔