حدیث نمبر: 205
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، وَيُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " لَمَّا نَزَلَتْ وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الأَقْرَبِينَ سورة الشعراء آية 214 ، قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الصَّفَا ، فَقَالَ : يَا فَاطِمَةُ بِنْتَ مُحَمَّدٍ ، يَا صَفِيَّةُ بِنْتَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ، يَا بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ، لَا أَمْلِكُ لَكُمْ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا ، سَلُونِي مِنْ مَالِي مَا شِئْتُمْ " .

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ جب آیت نازل ہوئی: ﴿وَأَنْذِرْ عَشِیرَتَكَ الْأَقْرَبِینَ﴾ ”اور اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرائیے،“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صفا پہاڑ پر کھڑے ہو کر فرمایا: ”اے فاطمہ بنت محمد! اے صفیہ بنت عبدالمطلب! اے عبدالمطلب کی اولاد! میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے تمہارے لیے کسی چیز کا اختیار نہیں رکھتا۔ (ہاں!) میرے مال میں سے جو چاہو مجھ سے مانگ لو۔“

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الإيمان / حدیث: 205
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة ، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (17338)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ترمذي: 2310 | سنن ترمذي: 3184 | سنن نسائي: 3678

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 2310 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کا اپنی قوم کو ڈرانا۔`
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ جب یہ آیت کریمہ: «وأنذر عشيرتك الأقربين» نازل ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے عبدالمطلب کی بیٹی صفیہ!، اے محمد کی بیٹی فاطمہ! اے عبدالمطلب کی اولاد! اللہ کی طرف سے تم لوگوں کے نفع و نقصان کا مجھے کچھ بھی اختیار نہیں ہے، تم میرے مال میں سے تم سب کو جو کچھ مانگنا ہو وہ مجھ سے مانگ لو ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الزهد/حدیث: 2310]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ اگراللہ تمہیں عذاب دیناچاہے تو میں تمہیں اس کے عذاب سے نہیں بچا سکتا، کیونکہ میں کسی کے نفع ونقصان کا مالک نہیں ہوں، البتہ دنیاوی وسائل جو مجھے اللہ کی جانب سے حاصل ہیں، ان میں سے جوچاہوتم لوگ مانگ سکتے ہو، میں دینے کے لیے تیارہوں۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2310 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 3184 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´سورۃ الشعراء سے بعض آیات کی تفسیر۔`
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ جب یہ آیت «وأنذر عشيرتك الأقربين» اے نبی! اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈراؤ (الشعراء: ۲۱۴)، نازل ہوئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے صفیہ بنت عبدالمطلب، اے فاطمہ بنت محمد، اے بنی عبدالمطلب: سن لو میں اللہ سے متعلق معاملات میں تمہاری کچھ بھی حمایت، مدد و سفارش نہیں کر سکتا، ہاں (اس دنیا میں) میرے مال میں سے جو چاہو مانگ سکتے ہو۔‏‏‏‏ [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 3184]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
اے نبی! اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈراؤ (الشعراء: 214)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3184 سے ماخوذ ہے۔