صحيح مسلم
كتاب الأشربة— مشروبات کا بیان
باب فَضْلِ تَمْرِ الْمَدِينَةِ: باب: مدینہ میں کھجور کی فضیلت۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ بِلَالٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ أَكَلَ سَبْعَ تَمَرَاتٍ مِمَّا بَيْنَ لَابَتَيْهَا حِينَ يُصْبِحُ لَمْ يَضُرَّهُ سُمٌّ حَتَّى يُمْسِيَ " .عبداللہ بن عبدالرحمٰن نے عامر بن سعد بن ابی وقاص سے، انہوں نے اپنے والد سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص نے صبح کے وقت مدینہ کے دو پتھریلے میدانوں کے درمیان کی سات کھجوریں کھا لیں، اس کو شام تک کوئی زہر نقصان نہیں پہنچائے گا۔“
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ هَاشِمِ بْنِ هَاشِمٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَامِرَ بْنَ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ سَعْدًا ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مَنْ تَصَبَّحَ بِسَبْعِ تَمَرَاتٍ عَجْوَةً لَمْ يَضُرَّهُ ذَلِكَ الْيَوْمَ سُمٌّ وَلَا سِحْرٌ " .حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”جو شخص صبح کے وقت سات عجوہ کھجوریں کھا لے گا، اس کو اس دن زہر اور جادو نقصان نہیں پہنچائے گا۔‘‘
وحَدَّثَنَاه ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْفَزَارِيُّ . ح وحَدَّثَنَاه إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا أَبُو بَدْرٍ شُجَاعُ بْنُ الْوَلِيدِ كِلَاهُمَا ، عَنْ هَاشِمِ بْنِ هَاشِمٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ ، وَلَا يَقُولَانِ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .مروان بن معاویہ فرازی اور ابوبدر شجاع بن ولید دونوں نے ہاشم بن ہاشم سے، اسی سند کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند روایت کی۔ وہ دونوں یہ نہیں کہتے: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔
تشریح، فوائد و مسائل
ابو خاقان بھی ان کی کنیت ہے۔
ان سے ایک یہی حدیث اس کتاب میں مروی ہے اور باقی کتب ستہ کی کتابوں میں ان سے کوئی روایت نہیں ہے۔
عجوہ مدینہ میں ایک عمدہ قسم کی کھجور کا نام ہے۔
(1)
عجوہ کھجور سیاہی مائل ہوتی ہے۔
یہ تمام کھجوروں میں عمدہ قسم ہے اور مدینہ طیبہ میں پائی جاتی ہے۔
اسے نہار منہ کھانے سے مذکورہ فائدہ حاصل ہوتا ہے۔
اس کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی تھی، اس لیے دعا کی برکت سے یہ تاثیر پائی جاتی ہے۔
اس کی کوئی ذاتی خصوصیت نہیں۔
(عمدةالقاري: 446/14) (2)
اس حدیث کے دیگر فوائد کتاب الطب میں بیان ہوں گے۔
بإذن اللہ تعالیٰ
(1)
ان احادیث میں صبح کے وقت نہار منہ کھانے کا ذکر ہے لیکن کسی روایت میں رات کے وقت کھانے کا ذکر نہیں ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر شام کے وقت کھائے گا تو اسے مذکورہ فائدہ حاصل نہیں ہو گا، نیز ایک روایت میں ہے کہ یہ فائدہ عالیہ علاقے کی عجوہ کھجوریں کھانے سے ہو گا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے: ’’عالیہ کی کھجوریں نہار منہ کھانا باعث شفا ہے۔
‘‘ (صحیح مسلم، الأشربة، حدیث: 5341 (2048)
حضرت ابو سعید خدری اور حضرت جابر رضی اللہ عنہما سے مروی ایک حدیث میں ہے: ’’عجوہ کھجور جنت سے ہے اور یہ جن کے اثر سے شفا دیتی ہے۔
‘‘ (سنن ابن ماجة، الطب، حدیث: 3453) (2)
جنت سے ہونے کا مطلب یہ ہے کہ عجوہ کھجور بابرکت یا کھجور کی یہ قسم جنت سے زمین پر آئی ہے جس طرح حجر اسود جنت سے زمین پر بھیجا گیا ہے۔
علامہ خطابی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عجوہ کھجور کا یہ فائدہ اس کا ذاتی نہیں بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کی برکت کی وجہ سے ہے۔
(فتح الباري: 295/10) (3)
حدیث میں سات کھجوریں کھانے کا ذکر ہے، اس مقدار کو خصوصیت کے ساتھ متعدد مقامات پر ذکر کیا گیا ہے، مرض وفات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: ’’مجھ پر سات مشکیزے پانی ڈالو۔
‘‘ (فتح الباري: 296/10)
بطور علاج اس تعداد کی خصوصیت اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے کہ اس میں کیا حکمت ہے۔
(صحیح البخاري، الوضوء، حدیث: 198)
اللہ پاک ہر مسلمان مرد وعورت کو ان بیماریوں سے اپنی پناہ میں رکھے۔
آمین۔
(1)
اس حدیث کی عنوان کے ساتھ کیا مناسبت ہے؟ شارحین اس سلسلے میں خاموش ہیں۔
علامہ عینی نے صرف اسی قدر لکھا ہے کہ عنوان میں مطلق طور پر زہر کے استعمال کو ممنوع قرار دیا گیا ہے اور حدیث میں بھی بنیادی طور پر اس کا ممنوع ہونا بیان کیا گیا ہے، اس لیے جادو اور زہر کو اکٹھا بیان کیا گیا ہے۔
(عمدة القاري: 755/14) (2)
درحقیقت امام بخاری رحمہ اللہ نے زہر اور جادو کی حقیقت کی طرف اشارہ فرمایا ہے کیونکہ زہر ایک ظاہر چیز ہے اور جادو باطنی چیز ہے۔
زہر سے انسان کا جسم متاثر ہوتا ہے اور جادو سے اس کی سوچ مجروح ہوتی ہے۔
تاثیر کے لحاظ سے دونوں کو ایک ہی خانے میں بیان کیا گیا ہے۔
چونکہ جادو حرام ہے، اس لیے زہر بھی حرام ہے، لہذا اسے بطور علاج استعمال کرنا بھی درست نہیں جیسا کہ حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حرام چیزوں میں شفا نہیں رکھی اللہ تعالیٰ ہر مسلمان کو ظاہری اور باطنی بیماریوں سے محفوظ رکھے۔
آمین
سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " جو سات عجوہ کھجوریں نہار منہ کھائے گا تو اس دن اسے نہ کوئی زہر نقصان پہنچائے گا، نہ جادو۔" [سنن ابي داود/كتاب الطب /حدیث: 3876]
علامہ خطابی ؒ لکھتے ہیں کہ عجوہ کھجور کا یہ فائدہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دُعا کی برکت کی وجہ سے ہے۔
عجوہ کھجور کی اہمیت و فضیات ثابت ہوتی ہے، سبحان اللہ! زہر اور جادو کس قدر خطرناک چیزیں ہیں لیکن اللہ رب العزت نے ہر ہر بیماری کا علاج بھی نازل کیا ہے۔ اسی طرح حفظ ماتقدم کے تحت بعض چیزوں کو بعض بیماریوں کے لیے آڑ بنایا ہے، جس طرح عجوہ کھجور میں زہر اور جادو کے لیے آڑ ہیں۔ صحیح مسلم (2048) میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مدینہ منورہ کی عجوہ کھجور میں شفاء ہے، اور بے شک اس کو صبح کھانا تریاق ہے۔ مسند أحمد (5/31) سنن ابن ماجہ (3456) میں صحیح ثابت ہے کہ عجوہ کھجور جنت سے ہے لیکن ایک روایت بیان کی گئی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے کہا: تم دل کے مریض ہو تم بنو ثقیف کے حارث بن کلدہ کے پاس جاؤ، وہ طبابت کرتا ہے، اسے چاہیے کہ مدینہ کی عجوہ کھجوروں میں سے سات کھجور میں لے کر انھیں گٹھلیوں سمیت کوٹ لے اور پھر تمھیں کھلا دے۔ (سنن أبی داود: 3875) اس کی سند میں ابن ابی نجیح مدلس راوی ہے، اور وہ عن سے بیان کر رہا ہے، لہٰذا یہ روایت ضعیف ہے۔ نیز اس حدیث اور دیگر احادیث سے صبح کے وقت کا خیر و برکت والا ہونا بھی ثابت ہے۔