حدیث نمبر: 203
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ رَجُلًا ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَيْنَ أَبِي ؟ قَالَ : فِي النَّارِ ، فَلَمَّا قَفَّى ، دَعَاهُ ، فَقَالَ : " إِنَّ أَبِي وَأَبَاكَ فِي النَّارِ " .

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے پوچھا: ”اے اللہ کے رسول! میرا باپ کہاں ہے؟“ آپ نے فرمایا: ”آگ میں۔“ پھر جب وہ پلٹ گیا تو آپ نے اسے بلا کر فرمایا: ”بلاشبہ میرا باپ اور تمہارا باپ آگ میں ہیں۔“

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الإيمان / حدیث: 203
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة ، أخرجه ابوداؤد في ((سننه)) باب: في ذراري المشركين برقم (4718) انظر ((التحفة)) برقم (327)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابي داود: 4718

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عبد العزیز علوی
حضرت انسؓ بیان کرتے ہیں، کہ ایک آدمی نے پوچھا: اے اللہ کے رسولؐ! میرا باپ کہاں ہے؟ آپ نے فرمایا: ’’ آگ میں‘‘ جب وہ پشت پھیر کر چلا، تو آپﷺ نے اسے بلا کر فرمایا: ’’میرا باپ اور تیرا باپ دونوں آگ میں ہیں۔‘‘ [صحيح مسلم، حديث نمبر:500]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل:
یہ حدیث اس مسئلہ میں بالکل صریح ہے، کہ آپ ﷺ کے والد کفر کی حالت پرفوت ہوئے۔
اس کی موجودگی میں ایسی آیات اور احادیث سے استدلال کرنا جن کے معنی وتفسیرکے بارےمیں مختلف اقوال ہیں، اور سب کا احتمال موجود ہے، درست نہیں ہے، کیونکہ مسلم ضابطہ ہے "إِذَا جَاءَ الْاِحْتمَالُ بَطَلَ الْاسْتَدْلَالُ" کئی معانی کے احتمال کی صورت میں استدلال کرنا (ایک مسئلہ کےبارےمیں)
درست نہیں ہے۔
اور "أبٌ" کامعنی ’’چچا‘‘ کرنامجازی معنی ہے، اورمجازی معنی کے لیے قرینہ اوردلیل کی ضرورت ہے، جویہاں موجودنہیں ہے۔
لیکن اس مسئلہ میں زیادہ بحث وکریدمیں پڑنے کی ضرورت نہیں ہے، اس لیے اس کوخواہ مخواہ موضوع بحث نہیں بناناچاہیے۔
اس حدیث کا اصل مقصد یہ ہے، کہ کفر اتنا گھناؤنا جرم ہے کہ کسی عظیم سےعظیم ہستی کی سفارش سےبھی کافر دوزخ سےنہیں نکل سکتا۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 203 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 4718 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´کفار اور مشرکین کی اولاد کے انجام کا بیان۔`
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے والد کہاں ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے والد جہنم میں ہیں جب وہ پیٹھ پھیر کر چلا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے والد اور تیرے والد دونوں جہنم میں ہیں ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب السنة /حدیث: 4718]
فوائد ومسائل:

ایمان وعمل کے بغیر محض نسب اور قرابت داری کسی کے باعث نجات نہیں۔

2: ایسی تمام روایات جن میں رسول ؐ کے والدین کو دوبارہ زندہ کیے جانے اور ان کے اسلام کرنے کا ذکر ہے، ضعیف اور ناقاقبل حجت ہیں۔

3:اس بارے میں بحث وگفتگو کی بجائے سکوت (خاموشی) بہتر ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4718 سے ماخوذ ہے۔