صحيح مسلم
كتاب الإيمان— ایمان کے احکام و مسائل
باب فِي قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَنَا أَوَّلُ النَّاسِ يَشْفَعُ فِي الْجَنَّةِ وَأَنَا أَكْثَرُ الأَنْبِيَاءِ تَبَعًا»: باب: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں پہلا شخص ہوں گا جنت کے متعلق سفارش کرنے والا اور باقی نبیوں سے میرے تابع دار زیادہ ہوں گے“۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وإِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الْمُخْتَارِ بْنِ فُلْفُلٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَنَا أَوَّلُ النَّاسِ يَشْفَعُ فِي الْجَنَّةِ ، وَأَنَا أَكْثَرُ الأَنْبِيَاءِ تَبَعًا " .حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں لوگوں میں سے سب سے پہلا شخص ہوں، جو جنت کی (داخلہ کے بارے میں) سفارش کروں گا، اور تمام انبیاء علیہم السلام سے میرے پیروکار زیادہ ہوں گے۔“
وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ مُخْتَارِ بْنِ فُلْفُلٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَنَا أَكْثَرُ الأَنْبِيَاءِ تَبَعًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، وَأَنَا أَوَّلُ مَنْ يَقْرَعُ بَابَ الْجَنَّةِ " .سفیان نے مختار بن فلفل سے، انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت کے دن تمام انبیاء علیہم السلام کی نسبت میرے پیروکار زیادہ ہوں گے، اور میں پہلا شخص ہوں گا جو جنت کا دروازہ کھٹکھٹائے گا۔“
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ زَائِدَةَ ، عَنِ الْمُخْتَارِ بْنِ فُلْفُلٍ ، قَالَ : قَالَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَنَا أَوَّلُ شَفِيعٍ فِي الْجَنَّةِ ، لَمْ يُصَدَّقْ نَبِيٌّ مِنَ الأَنْبِيَاءِ مَا صُدِّقْتُ ، وَإِنَّ مِنَ الأَنْبِيَاءِ نَبِيًّا ، مَا يُصَدِّقُهُ مِنْ أُمَّتِهِ ، إِلَّا رَجُلٌ وَاحِدٌ " .زائدہ نے مختار بن فلفل سے روایت کی، انہوں نے کہا: حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنت کے بارے میں سب سے پہلا سفارش کرنے والا میں ہوں گا، انبیاء میں سے کسی نبی کی اتنی تصدیق نہیں کی گئی جتنی میری کی گئی۔ اور بلاشبہ انبیاء میں سے کچھ ایسے نبی ہوں گے جن کی امت (دعوت) میں سے صرف ایک شخص ہی ان کی تصدیق کرتا ہو گاا۔“