حدیث نمبر: 195
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَرِيفِ بْنِ خَلِيفَةَ الْبَجَلِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مَالِكٍ الأَشْجَعِيُّ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَأَبُو مَالِكٍ ، عَنْ رِبْعِيٍّ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَا : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَجْمَعُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى النَّاسَ ، فَيَقُومُ الْمُؤْمِنُونَ ، حَتَّى تُزْلَفَ لَهُمُ الْجَنَّةُ ، فَيَأْتُونَ آدَمَ ، فَيَقُولُونَ : يَا أَبَانَا ، اسْتَفْتِحْ لَنَا الْجَنَّةَ ، فَيَقُولُ : وَهَلْ أَخْرَجَكُمْ مِنَ الْجَنَّةِ ، إِلَّا خَطِيئَةُ أَبِيكُمْ آدَمَ ، لَسْتُ بِصَاحِبِ ذَلِكَ ، اذْهَبُوا إِلَى ابْنِي إِبْرَاهِيمَ خَلِيلِ اللَّهِ ، قَالَ : فَيَقُولُ إِبْرَاهِيمُ : لَسْتُ بِصَاحِبِ ذَلِكَ ، إِنَّمَا كُنْتُ خَلِيلًا مِنْ وَرَاءَ ، وَرَاءَ ، اعْمِدُوا إِلَى مُوسَى عَلَيْهِ السَّلامُ ، الَّذِي كَلَّمَهُ اللَّهُ تَكْلِيمًا ، فَيَأْتُونَ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلامُ ، فَيَقُولُ : لَسْتُ بِصَاحِبِ ذَلِكَ ، اذْهَبُوا إِلَى عِيسَى ، كَلِمَةِ اللَّهِ وَرُوحِهِ ، فَيَقُولُ عِيسَى عَلَيْهِ السَّلامُ : لَسْتُ بِصَاحِبِ ذَلِكَ ، فَيَأْتُونَ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَيَقُومُ فَيُؤْذَنُ لَهُ ، وَتُرْسَلُ الأَمَانَةُ وَالرَّحِمُ ، فَتَقُومَانِ جَنَبَتَيِ الصِّرَاطِ يَمِينًا وَشِمَالًا ، فَيَمُرُّ أَوَّلُكُمْ كَالْبَرْقِ ، قَالَ : قُلْتُ : بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي ، أَيُّ شَيْءٍ كَمَرِّ الْبَرْقِ ؟ قَالَ : أَلَمْ تَرَوْا إِلَى الْبَرْقِ كَيْفَ يَمُرُّ وَيَرْجِعُ فِي طَرْفَةِ عَيْنٍ ، ثُمَّ كَمَرِّ الرِّيحِ ، ثُمَّ كَمَرِّ الطَّيْرِ وَشَدِّ الرِّجَالِ تَجْرِي بِهِمْ أَعْمَالُهُمْ ، وَنَبِيُّكُمْ قَائِمٌ عَلَى الصِّرَاطِ ؟ يَقُولُ : رَبِّ سَلِّمْ ، سَلِّمْ ، حَتَّى تَعْجِزَ أَعْمَالُ الْعِبَادِ ، حَتَّى يَجِيءَ الرَّجُلُ ، فَلَا يَسْتَطِيعُ السَّيْرَ إِلَّا زَحْفًا ، قَالَ : وَفِي حَافَتَيِ الصِّرَاطِ كَلَالِيبُ مُعَلَّقَةٌ مَأْمُورَةٌ بِأَخْذِ مَنْ أُمِرَتْ بِهِ ، فَمَخْدُوشٌ نَاجٍ ، وَمَكْدُوسٌ فِي النَّارِ " ، وَالَّذِي نَفْسُ أَبِي هُرَيْرَةَ بِيَدِهِ ، إِنَّ قَعْرَ جَهَنَّمَ لَسَبْعُونَ خَرِيفًا .

محمد بن فضیل نے کہا: ہمیں ابومالک اشجعی نے حدیث سنائی، انہوں نے ابوحازم سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، نیز ابومالک نے ربعی بن حراش سے اور انہوں نے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، ان دونوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تبارک وتعالیٰ لوگوں کو جمع کرے گا تو مومن کھڑے ہو جائیں گے یہاں تک کہ جنت ان کے قریب کر دی جائے گی اور وہ آدم علیہ السلام کے پاس آکر عرض کریں گے: ’اے والد بزرگ! ہمارے لیے جنت کا دروازہ کھلوائیے۔‘ وہ جواب دیں گے: ’کیا جنت سے تمہیں نکالنے کا سبب تمہارے باپ آدم کی خطا کے علاوہ کوئی اور چیز بنی تھی؟ میں اس کام کا اہل نہیں ہوں۔ میرے بیٹے، اللہ کے خلیل ابراہیم علیہ السلام کے پاس جاؤ۔‘ آپ نے فرمایا: ”ابراہیم علیہ السلام کہیں گے: ’اس کام (کو کرنے) والا میں نہیں ہوں، میں خلیل تھا (مگر اولین شفاعت کے اس منصب سے) پیچھے پیچھے۔ تم موسیٰ علیہ السلام کا رخ کرو، جن سے اللہ تعالیٰ نے کلام کیا۔‘ لوگ موسیٰ علیہ السلام کے پاس آئیں گے۔ وہ جواب دیں گے: ’اس کام (کو کرنے) والا میں نہیں ہوں۔ عیسیٰ علیہ السلام کے پاس جاؤ جو اللہ کی روح اور اس کا کلمہ ہیں۔‘ عیسیٰ علیہ السلام فرمائیں گے: ’میں اس کام (کو کرنے) والا نہیں ہوں۔‘ تو لوگ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں گے۔ آپ اللہ کے سامنے قیام فرمائیں گے اور آپ کو (شفاعت کی) اجازت دی جائے گی۔ امانت اور قرابت داری کو بھیجا جائے گا، وہ پل صراط کی دونوں جانب دائیں اور بائیں کھڑی ہو جائیں گی۔ تم میں سے اولین شخص بجلی کی طرح گزر جائے گا۔“ میں نے پوچھا: ’میرے ماں باپ آپ پر قربان! بجلی کے گزرنے کی طرح کیا ہے؟‘ آپ نے فرمایا: ”تم نے کبھی بجلی کی طرف نہیں دیکھا، کس طرح پلک جھپکنے میں گزرتی اور لوٹتی ہے؟ پھر ہوا کے گزرنے کی طرح (تیزی سے)، پھر پرندہ گزرنے اور آدمی کے دوڑنے کی طرح، ان کے اعمال ان کو لے کر دوڑیں گے اور تمہارا نبی پل صراط پر کھڑا ہوا کہہ رہا ہو گا: ’اے میرے رب! بچا، بچا (میری امت کے ہر گزرنے والے کو سلامتی سے گزار دے۔)‘ حتیٰ کہ بندوں کے اعمال ان کو لے کر گزر نہ سکیں گے یہاں تک کہ ایسا آدمی آئے گا جس میں گھسٹ گھسٹ کر چلنے سے زیادہ کی استطاعت نہ ہو گی۔“ آپ نے فرمایا: ”(پل) صراط کے دونوں کناروں پر لوہے کے آنکڑے معلق ہوں گے، وہ اس بات پر مامور ہوں گے کہ جن لوگوں کے بارے میں حکم ہو ان کو پکڑ لیں، اس طرح بعض زخمی ہو کر نجات پا جائیں گے اور بعض آگ میں دھکیل دیے جائیں گے۔“ ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں ابوہریرہ کی جان ہے! جہنم کی گہرائی ستر سال (کی مسافت) کے برابر ہے۔“

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الإيمان / حدیث: 195
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة ، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (3311 و 13400)»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عبد العزیز علوی
حضرت ابو ہریرہؓ اور حضرت حذیفہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا: ’’اللہ تبارک و تعالیٰ لوگوں کو جمع کرے گا، تو مومن کھڑے ہوں گے حتیٰ کہ جنت ان کے قریب کردی جائے گی اور وہ آدمؑ کے پاس آکر عرض کریں گے: اے ہمارے ابا جان! ہمارے لیے جنت کا دروازہ کھلوائیے! تو وہ جواب دیں گے: جنت سے تمھارے نکالنے کا سبب تمھارے باپ آدم کی خطا ہی نہیں ہے، یہ کام کرنے والا میں نہیں ہوں۔ میرے بیٹے ابراہیم خلیل اللہ کے پاس جاؤ! آپ ﷺ نے فرمایا: ابراہیم ؑبھی فرمائیں گے:... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:482]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل:
(1)
جس طرح سفارش کبریٰ آپ ﷺ کا منصب ہے، اسی طرح جنت کا دروازہ بھی آپ کی سفارش سے کھلے گا۔
(2)
ہر کام کاج اور بات چیت میں امانت ودیانت، راست بازی اورصلہ رحمی، یعنی رشتہ داروں کا خیال ولحاظ رکھنا دو ایسے اہم کام ہیں جن کا ہرمسلمان کو ہمیشہ اہتمام کرناچاہیے۔
(3)
جہنم کی گہرائی اتنی زیادہ ہے کہ اگر آدمی اوپرسےچھوڑ دیا جائے، تو ستر برس گزرنے کے بعدنیچے پہنچے گا۔
(4)
آدمؑ نے جنت کا دروازہ کھلوانےسےمعذرت کےلیے ایک ایسی خطا کا تذکرہ کیا، جس کی معافی انہیں جنت میں ہی مل گئی تھی، اور جنت سے دنیا میں آدمؑ کی آمد خلافت ارضی کےلیے تھی، جس کی خاطر ان کی تخلیق ہوئی تھی، جیسا کہ قرآن مجیدمیں ارشاد ہے ﴿إِنِّي جَاعِلٌ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَةً﴾ (الْبَقَرَة: 30)
’’میں زمین میں ایک خلیفہ مقررکرنےوالاہوں۔
‘‘
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 482 سے ماخوذ ہے۔