صحيح مسلم
كتاب الإيمان— ایمان کے احکام و مسائل
باب أَدْنَى أَهْلِ الْجَنَّةِ مَنْزِلَةً فِيهَا: باب: جنتوں میں سب سے کم تر درجہ والے کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، ومُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ وَاتَّفَقَا فِي سِيَاقِ الْحَدِيثِ ، إِلَّا مَا يَزِيدُ أَحَدُهُمَا مِنَ الْحَرْفِ بَعْدَ الْحَرْفِ ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو حَيَّانَ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : " أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا بِلَحْمٍ ، فَرُفِعَ إِلَيْهِ الذِّرَاعُ ، وَكَانَتْ تُعْجِبُهُ ، فَنَهَسَ مِنْهَا نَهْسَةً ، فَقَالَ : أَنَا سَيِّدُ النَّاسِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، وَهَلْ تَدْرُونَ بِمَ ذَاكَ يَجْمَعُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ الأَوَّلِينَ وَالآخِرِينَ فِي صَعِيدٍ وَاحِدٍ ؟ فَيُسْمِعُهُمُ الدَّاعِي ، وَيَنْفُذُهُمُ الْبَصَرُ ، وَتَدْنُو الشَّمْسُ ، فَيَبْلُغُ النَّاسَ مِنَ الْغَمِّ وَالْكَرْبِ مَا لَا يُطِيقُونَ ، وَمَا لَا يَحْتَمِلُونَ ، فَيَقُولُ بَعْضُ النَّاسِ لِبَعْضٍ : أَلَا تَرَوْنَ مَا أَنْتُمْ فِيهِ ، أَلَا تَرَوْنَ مَا قَدْ بَلَغَكُمْ ، أَلَا تَنْظُرُونَ مَنْ يَشْفَعُ لَكُمْ إِلَى رَبِّكُمْ ؟ ، فَيَقُولُ بَعْضُ النَّاسِ لِبَعْضٍ : ائْتُوا آدَمَ ، فَيَأْتُونَ آدَمَ ، فَيَقُولُونَ : يَا آدَمُ ، أَنْتَ أَبُو الْبَشَرِ ، خَلَقَكَ اللَّهُ بِيَدِهِ وَنَفَخَ فِيكَ مِنْ رُوحِهِ ، وَأَمَرَ الْمَلَائِكَةَ فَسَجَدُوا لَكَ ، اشْفَعْ لَنَا إِلَى رَبِّكَ ، أَلَا تَرَى إِلَى مَا نَحْنُ فِيهِ ، أَلَا تَرَى إِلَى مَا قَدْ بَلَغَنَا ، فَيَقُولُ آدَمُ : إِنَّ رَبِّي غَضِبَ الْيَوْمَ غَضَبًا ، لَمْ يَغْضَبْ قَبْلَهُ مِثْلَهُ ، وَلَنْ يَغْضَبَ بَعْدَهُ مِثْلَهُ ، وَإِنَّهُ نَهَانِي عَنِ الشَّجَرَةِ فَعَصَيْتُهُ ، نَفْسِي ، نَفْسِي ، اذْهَبُوا إِلَى غَيْرِي ، اذْهَبُوا إِلَى نُوحٍ ، فَيَأْتُونَ نُوحًا ، فَيَقُولُونَ : يَا نُوحُ ، أَنْتَ أَوَّلُ الرُّسُلِ إِلَى الأَرْضِ ، وَسَمَّاكَ اللَّهُ عَبْدًا شَكُورًا ، اشْفَعْ لَنَا إِلَى رَبِّكَ ، أَلَا تَرَى مَا نَحْنُ فِيهِ ، أَلَا تَرَى مَا قَدْ بَلَغَنَا ، فَيَقُولُ لَهُمْ : إِنَّ رَبِّي قَدْ غَضِبَ الْيَوْمَ غَضَبًا ، لَمْ يَغْضَبْ قَبْلَهُ مِثْلَهُ ، وَلَنْ يَغْضَبَ بَعْدَهُ مِثْلَهُ ، وَإِنَّهُ قَدْ كَانَتْ لِي دَعْوَةٌ ، دَعَوْتُ بِهَا عَلَى قَوْمِي ، نَفْسِي ، نَفْسِي ، اذْهَبُوا إِلَى إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلامُ ، فَيَأْتُونَ إِبْرَاهِيمَ ، فَيَقُولُونَ : أَنْتَ نَبِيُّ اللَّهِ وَخَلِيلُهُ مِنْ أَهْلِ الأَرْضِ ، اشْفَعْ لَنَا إِلَى رَبِّكَ ، أَلَا تَرَى إِلَى مَا نَحْنُ فِيهِ ، أَلَا تَرَى إِلَى مَا قَدْ بَلَغَنَا ، فَيَقُولُ لَهُمْ إِبْرَاهِيمُ : إِنَّ رَبِّي قَدْ غَضِبَ الْيَوْمَ غَضَبًا ، لَمْ يَغْضَبْ قَبْلَهُ مِثْلَهُ ، وَلَا يَغْضَبُ بَعْدَهُ مِثْلَهُ ، وَذَكَرَ كَذَبَاتِهِ ، نَفْسِي ، نَفْسِي ، اذْهَبُوا إِلَى غَيْرِي ، اذْهَبُوا إِلَى مُوسَى ، فَيَأْتُونَ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلامُ ، فَيَقُولُونَ : يَا مُوسَى ، أَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ ، فَضَّلَكَ اللَّهُ بِرِسَالَاتِهِ وَبِتَكْلِيمِهِ عَلَى النَّاسِ ، اشْفَعْ لَنَا إِلَى رَبِّكَ ، أَلَا تَرَى إِلَى مَا نَحْنُ فِيهِ ، أَلَا تَرَى مَا قَدْ بَلَغَنَا ، فَيَقُولُ لَهُمْ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلامُ : إِنَّ رَبِّي قَدْ غَضِبَ الْيَوْمَ غَضَبًا ، لَمْ يَغْضَبْ قَبْلَهُ مِثْلَهُ ، وَلَنْ يَغْضَبَ بَعْدَهُ مِثْلَهُ ، وَإِنِّي قَتَلْتُ : نَفْسًا لَمْ أُومَرْ بِقَتْلِهَا ، نَفْسِي ، نَفْسِي ، اذْهَبُوا إِلَى عِيسَى عَلَيْهِ السَّلامُ ، فَيَأْتُونَ عِيسَى ، فَيَقُولُونَ : يَا عِيسَى ، أَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ وَكَلَّمْتَ النَّاسَ فِي الْمَهْدِ ، وَكَلِمَةٌ مِنْهُ أَلْقَاهَا إِلَى مَرْيَمَ وَرُوحٌ مِنْهُ ، فَاشْفَعْ لَنَا إِلَى رَبِّكَ ، أَلَا تَرَى مَا نَحْنُ فِيهِ ، أَلَا تَرَى مَا قَدْ بَلَغَنَا ، فَيَقُولُ لَهُمْ عِيسَى عَلَيْهِ السَّلامُ : إِنَّ رَبِّي قَدْ غَضِبَ الْيَوْمَ غَضَبًا ، لَمْ يَغْضَبْ قَبْلَهُ مِثْلَهُ ، وَلَنْ يَغْضَبَ بَعْدَهُ مِثْلَهُ ، وَلَمْ يَذْكُرْ لَهُ ذَنْبًا ، نَفْسِي ، نَفْسِي ، اذْهَبُوا إِلَى غَيْرِي ، اذْهَبُوا إِلَى مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَيَأْتُونِّي ، فَيَقُولُونَ : يَا مُحَمَّدُ ، أَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ ، وَخَاتَمُ الأَنْبِيَاءِ ، وَغَفَرَ اللَّهُ لَكَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ ، اشْفَعْ لَنَا إِلَى رَبِّكَ ، أَلَا تَرَى مَا نَحْنُ فِيهِ ، أَلَا تَرَى مَا قَدْ بَلَغَنَا ، فَأَنْطَلِقُ ، فَآتِي تَحْتَ الْعَرْشِ فَأَقَعُ سَاجِدًا لِرَبِّي ، ثُمَّ يَفْتَحُ اللَّهُ عَلَيَّ وَيُلْهِمُنِي مِنْ مَحَامِدِهِ وَحُسْنِ الثَّنَاءِ عَلَيْهِ شَيْئًا ، لَمْ يَفْتَحْهُ لِأَحَدٍ قَبْلِي ، ثُمَّ يُقَالُ : يَا مُحَمَّدُ ، ارْفَعْ رَأْسَكَ ، سَلْ تُعْطَهْ ، اشْفَعْ تُشَفَّعْ ، فَأَرْفَعُ رَأْسِي ، فَأَقُولُ : يَا رَبِّ ، أُمَّتِي ، أُمَّتِي ، فَيُقَالُ : يَا مُحَمَّدُ ، أَدْخِلِ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِكَ مَنْ لَا حِسَابَ عَلَيْهِ مِنَ البَابِ الأَيْمَنِ مِنَ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ ، وَهُمْ شُرَكَاءُ النَّاسِ فِيمَا سِوَى ذَلِكَ مِنَ الأَبْوَابِ ، وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ ، إِنَّ مَا بَيْنَ الْمِصْرَاعَيْنِ مِنْ مَصَارِيعِ الْجَنَّةِ لَكَمَا بَيْنَ مَكَّةَ وَهَجَرٍ ، أَوْ كَمَا بَيْنَ مَكَّةَ وَبُصْرَى " ،
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گوشت لایا گیا اور آپ کو دستی کا گوشت پیش کیا گیا، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دستی مرغوب تھی۔ آپ نے اس سے دانتوں سے ایک دفعہ گوشت کاٹا اور فرمایا: ”قیامت کے دن میں تمام انسانوں کا سردار ہوں گا، اور کیا تم جانتے ہو یہ کیسے ہوگا؟ اللہ عز و جل قیامت کے دن تمام پہلوں اور پچھلوں کو ایک کھلے ہموار میدان میں جمع کرے گا۔ منادی کی آواز سب کو سنائی دے گی اور دیکھنے والے کی نظر سب پر پڑے گی۔ آفتاب قریب ہو جائے گا اور لوگوں کو اس قدر غم اور مصیبت پہنچے گی جو ان کے لیے ناقابل برداشت ہو گی۔ جس کو وہ برداشت نہیں کر سکیں گے، تو لوگ ایک دوسرے کو کہیں گے: کیا تم دیکھ نہیں رہے ہو، تم کس حالت میں ہو؟ تمہیں کس قدر پریشانی اٹھانی پڑ رہی ہے؟ کیا تم کسی کو تلاش نہیں کرو گے؟ جو تمہارے رب کے حضور تمہاری سفارش کرے؟ تو لوگ ایک دوسرے کو کہیں گے آدم علیہ السلام کے پاس چلو۔ پھر وہ آدم علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوں گے اور عرض کریں گے اے آدم! آپ تمام انسانوں کے باپ ہیں، اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنے دست مبارک سے بنایا ہے، اور آپ میں اپنی خصوصی روح پھونکی، فرشتوں کو حکم دیا، تو وہ آپ کے حضور جھک گئے۔ آپ اپنے رب کے حضور ہماری سفارش فرمائیں! کیا آپ دیکھ نہیں رہے ہیں، ہم کس قدر پریشان ہیں؟ آپ دیکھ نہیں رہے ہمیں کس قدر مصیبت پہنچ چکی ہے؟ تو آدم علیہ السلام جواب دیں گے: یقیناً میرا رب آج اس قدر ناراض ہے، کہ اس سے پہلے کبھی اس قدر ناراض نہیں ہوا اور نہ ہی اس کے بعد اس قدر ناراض ہوگا۔ واقعہ یہ ہے کہ اس نے مجھے درخت سے روکا تھا، لیکن میں نے اس کی نافرمانی کی۔ آج مجھے تو اپنی ہی فکر ہے، تم میرے سوا کسی اور کے پاس جاؤ، نوح علیہ السلام کے پاس جاؤ! تو لوگ نوح علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوں گے اور عرض کریں گے: اے نوح! آپ اہل زمین کی طرف سب سے پہلے رسول ہیں، اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو شکر گزار بندہ کا نام دیا ہے۔ آپ اپنے رب کے حضور ہماری سفارش فرمائیں کیا! آپ دیکھ نہیں رہے ہیں ہم کس قدر پریشانی میں ہیں؟ کیا آپ دیکھ نہیں رہے ہیں ہمیں کس قدر مصیبت پہنچ چکی ہے؟ تو وہ انہیں جواب دیں گے: آج میرا رب اس قدر غصے میں ہے کہ اتنا کبھی اس سے پہلے غصہ میں نہیں آیا، نہ ہی اس کے بعد کبھی اس قدر غصے میں آئے گا۔ صورت حال یہ ہے، کہ مجھے ایک دعا کرنے کا حق حاصل تھا وہ میں نے اپنی قوم کے خلاف کر لی، آج تو مجھے اپنی فکر دامن گیر ہے۔ ابراہیم علیہ السلام کے پاس جاؤ! تو لوگ ابراہیم علیہ السلام کے پاس آئیں گے اور عرض گزار ہوں گے: آپ اللہ کے نبی اور اہل زمین میں سے اس کے خلیل ہیں، ہمارے لیے اپنے رب کے حضور سفارش فرمائیں! کیا آپ ہماری حالت دیکھ نہیں رہے ہیں؟ کیا ہم جس قدر تکلیف میں مبتلا ہیں وہ آپ کو نظر نہیں آ رہی؟ تو ابراہیم علیہ السلام انہیں کہیں گے: میرا رب آج اس قدر غضب ناک ہے کہ اس قدر اس سے پہلے غضبناک نہیں ہوا اور نہ آئندہ ہوگا، اور اپنے توریوں کا تذکرہ کریں گے، مجھے تو اپنی ہی فکر دامن گیر ہے، میرے سوا کسی اور کے پاس جاؤ، موسیٰ علیہ السلام کے پاس جاؤ! تو لوگ موسیٰ علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کریں گے: اے موسیٰ! آپ اللہ کے رسول ہیں، اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنے پیغامات اور ہم کلامی کی لوگوں پر فضیلت بخشی ہے۔ ہماری خاطر اللہ کے حضور سفارش کیجیے۔ کیا آپ ہماری بے بسی کو نہیں دیکھ رہے؟ کیا ہم جس قدر تکلیف میں مبتلا ہیں، آپ اس کا ملاحظہ نہیں کر رہے؟ تو موسیٰ علیہ السلام ان کو کہیں گے: میرا رب آج اس قدر غصہ میں ہے کہ اس سے پہلے اس قدر غضبناک نہیں ہوا، اور نہ ہی اس کے بعد اس قدر ناراض ہوگا، اور میں ایک جان کو قتل کر چکا ہوں، جس کے قتل کی مجھے اجازت نہ تھی۔ مجھے تو اپنی ہی فکر لاحق ہے، عیسیٰ علیہ السلام کے پاس چلے جاؤ! لوگ عیسیٰ علیہ السلام کے پاس آ کر عرض کریں گے: اے عیسیٰ! آپ اللہ کے رسول ہیں، اور آپ نے لوگوں سے پنگھوڑے میں گفتگو کی، آپ اللہ کا کلمہ ہیں، جس کا اس نے مریم علیہ السلام کی طرف القاء کیا، اور اس کی روح ہیں، اس لیے اپنے رب کے حضور ہماری سفارش فرمائیں! کیا آپ ہماری حالت کو نہیں دیکھ رہے؟ کیا آپ نہیں دیکھ رہے، ہم کس قدر مصائب میں مبتلا ہیں؟ تو عیسیٰ علیہ السلام انہیں جواب دیں گے: میرا رب آج اس قدر غصہ میں ہے کہ اس سے پہلے کبھی اس قدر غصے میں نہیں ہوا، نہ اس کے بعد اس قدر غصے میں ہوگا۔ (وہ) اپنی کسی خطا کا ذکر نہیں کریں گے، مجھے اپنی ہی فکر ہے، میرے سوا کسی کے پاس جاؤ! محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤ! تو لوگ میرے پاس آکر کہیں گے: اے محمد! آپ اللہ کے رسول اور آخری نبی ہیں اور اللہ تعالیٰ نے آپ کے اگلے پچھلے تمام گناہ معاف کر دیے ہیں، اپنے رب کے حضور ہماری سفارش فرمائیں۔ کیا آپ ہماری حالت نہیں دیکھ رہے؟ کیا آپ دیکھ نہیں رہے ہم کس قدر تکلیف میں مبتلا ہیں؟ تو میں چلوں گا اور عرش کے نیچے آ کر اپنے رب کے حضور سجدہ میں گر جاؤں گا۔ پھر اللہ تعالیٰ مجھ پر اپنے محامد اور بہترین ثناء کا اظہار فرمائے گا، اور میرے دل میں ڈالے گا، مجھ سے پہلے کسی کو ان سے آگاہ نہیں کیا، پھر کہا جائے گا: اے محمد! اپنا سر اٹھا! مانگ! تمہیں ملے گا، سفارش کیجیے! تیری سفارش قبول ہوگی۔ تو میں سر اٹھا کر عرض کروں گا: اے میرے رب! میری امت! میری امت! (یعنی میری امت کو بخش دے) تو کہا جائے گا: اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم! اپنی امت کے ان لوگوں کو جن کا حساب و کتاب نہیں، جنت کے دروازوں میں سے دائیں دروازے سے داخل کیجیے اور وہ جنت کے باقی دروازوں میں لوگوں کے ساتھ شریک ہیں۔ اس ذات کی قسم! جس کے قبضہ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے، جنت کے دروازوں کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا فاصلہ مکہ اور ہجر یا مکہ اور بصریٰ کے درمیان ہے۔“
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : وُضِعَتْ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَصْعَةٌ مِنْ ثَرِيدٍ وَلَحْمٍ ، فَتَنَاوَلَ الذِّرَاعَ ، وَكَانَتْ أَحَبَّ الشَّاةِ إِلَيْهِ ، فَنَهَسَ نَهْسَةً ، فَقَالَ : " أَنَا سَيِّدُ النَّاسِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، ثُمَّ نَهَسَ أُخْرَى ، فَقَالَ : أَنَا سَيِّدُ النَّاسِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، فَلَمَّا رَأَى أَصْحَابَهُ لَا يَسْأَلُونَهُ ، قَالَ : أَلَا تَقُولُونَ كَيْفَهْ ؟ قَالُوا : كَيْفَهْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : يَقُومُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعَالَمِينَ " ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمَعْنَى حَدِيثِ أَبِي حَيَّانَ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ وَزَادَ فِي قِصَّةِ إِبْرَاهِيمَ ، فَقَالَ : وَذَكَرَ قَوْلَهُ : فِي الْكَوْكَبِ هَذَا رَبِّي سورة الأنعام آية 76 ، وقَوْله لِآلِهَتِهِمْ : بَلْ فَعَلَهُ كَبِيرُهُمْ هَذَا سورة الأنبياء آية 63 ، وقَوْله : إِنِّي سَقِيمٌ سورة الصافات آية 89 ، قَالَ : وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ ، إِنَّ مَا بَيْنَ الْمِصْرَاعَيْنِ مِنْ مَصَارِيعِ الْجَنَّةِ إِلَى عِضَادَتَيِ الْبَابِ لَكَمَا بَيْنَ مَكَّةَ وَهَجَرٍ ، أَوْ هَجَرٍ وَمَكَّةَ ، قَالَ : لَا أَدْرِي أَيَّ ذَلِكَ ، قَالَ .حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے ثرید اور گوشت کا پیالہ رکھا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دستی کو اٹھا لیا اور آپ کو بکری کے گوشت سے سب سے زیادہ یہی حصہ پسند تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے ایک دفعہ دانتوں سے نوچا اور فرمایا: ”میں قیامت کے دن تمام لوگوں کا سردار ہوں گا۔“ پھر دوبارہ گوشت نوچا اور فرمایا: ”میں قیامت کے روز تمام انسانوں کا سردار ہوں گا۔“ جب آپ نے دیکھا، آپ کے ساتھی اس کا سبب نہیں پوچھ رہے تو آپ نے فرمایا: ”تم کیوں نہیں پوچھتے یہ کیوں ہوگا؟“ انہوں نے پوچھا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! اس کا سبب کیا ہوگا؟ آپ نے فرمایا: ”لوگ اللہ تعالیٰ کے سامنے کھڑے ہوں گے۔“ عمارہ رحمہ اللہ نے بھی حدیث مذکورہ بالا سند سے ابو حیان رحمہ اللہ نے ابو زرعہ رحمہ اللہ کی حدیث کی طرح بیان کی اور ابراہیم علیہ السلام کے واقعہ میں یہ اضافہ کیا: ”کہ ابراہیم علیہ السلام نے کہا: میں نے کواکب (ستاروں) کے بارے میں کہا: «هَٰذَا رَبِّي» (الأنعام: 76) ”یہ میرا رب ہے“ اور ان کے معبودوں کے بارے میں کہا: ”بلکہ یہ کام ان کے بڑے نے کیا ہے“ اور کہا: ”میں بیمار ہوں۔“ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے اس کی قسم! جنت کے دروازوں کے دونوں پٹوں کا فاصلہ چوکھٹ تک اتنا ہے جتنا مکہ اور ہجر کے درمیان، یا ہجر اور مکہ کے درمیان کا فاصلہ۔“ مجھے یاد نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے کس شہر کا نام لیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
: (1)
فَنَهَسَ: دانت سے کاٹنا۔
(2)
صَعِيد: کھلی اور ہموار زمین۔
(3)
يَنْفُذُهُمُ الْبَصَرُ: نظر تمام انسانوں کا احاطہ کرے گی، دیکھنے والے سے کوئی اوجھل نہیں ہو گا۔
(4)
مَصَارِيعٌ: مِصْراعٌ کی جمع ہے، دروازے کے پٹ۔
ہجر اور بصری: دو قدیمی معروف شہر ہیں، جن کے درمیان کافی مسافت ہے۔
فوائد ومسائل:
(1)
سید اس شخصیت کوکہتےہیں، جو سب سے برتر اورفائق ہو، اورگھبراہٹ وپریشانی میں لوگ اس کی پناہ میں آئیں۔
قیامت کوتمام انسان، آدمؑ سےلےکر آخری فرد تک آپ کی جھنڈےتلےہوں گے، اورآپ سےسفارش کےطالب ہوں گے، اس لیے آپ ﷺ نےتحدیث نعمت کے طور پر فرمایا: ’’کہ میں قیامت کوتمام انسانوں کاسردارہوں گا۔
‘‘ (2)
آپ ﷺنے دنیا میں اس بات کا اظہار فرمایاہے، کہ شفاعت کبریٰ کا اہل میں ہوں اورکوئی رسول اس کام کےلیے آمادہ نہ ہوگا۔
قیامت کے روز آپ ﷺ کی پیشین گوئی کے مطابق لوگ تدریجاً آپ کےپاس پہنچیں گے، آپ کی امت کاکوئی فردبھی یہ مشورہ نہ دے سکے گا، کہ سفارش تو آخری رسول کی قبول ہونی ہے، چلو اس کےپاس چلیں، تا کہ عملاً آپ ﷺ کی فضیلت وبرتری کا سب انسانوں کےسامنےظہورہوسکے۔
(3)
انبیاءؑ کے بیان کردہ عذرمعاف ہوچکےہیں، کیونکہ ان میں سےکسی سےقصور و کوتاہی شعوری طورپرسرزدنہیں ہوگی، اس کےباوجود، انہوں نے توبہ واستغفار کا ورد جاری رکھا، لیکن قیامت کی وحشت اور ہولناکی کی بنا پر وہ ان معاف شدہ باتوں کویادکر کے سفارش کرنےسےمعذرت کااظہارفرمائیں گے۔
(4)
اللہ تعالیٰ صفتِ غضب سےمتصف ہے، لیکن اس کی کیفیت کوبیان کرناممکن نہیں ہے، اس لیےکسی قسم کی تاویل وتعطیل کی ضرورت نہیں ہے۔
(5)
اس حدیث میں حضرت ابراہیمؑ نےتین کذبات بولنے کی بنا پر سفارش سےمعذرت کا اظہارفرمایا ہے، عربی زبان میں علامہ انباری کے بقول (کذب)
کالفظ پانچ معانی کےلیے استعمال ہوتاہے۔
علامہ انباری نے مثالیں بھی دی ہیں، تفصیل کے لیے دیکھئے تاج العروس: (1/449) (1)
جھوٹ۔
(2)
چوک جانا۔
(3)
آرزو اور امید کا خاک میں ملنا۔
(4)
کسی کو دھوکا میں رکھنا۔
(5)
توریہ وتعریض سے کام لینا۔
یعنی ایساقول جو بظاہر خلاف واقعہ نظر آتا ہے، لیکن اگرغورو فکر سے کام لیا جائے، تو وہ بالکل واقعہ کےمطابق ہوتا ہے۔
جن واقعات کوحضرت ابراہیمؑ نے کذبات سےتعبیرکیا ہے، تو ان میں تینوں اقوال بظاہر خلافِ واقعہ نظرآتےہیں، لیکن اگرغور کیا جائے تو وہ تینوں اقوال بالکل واقعہ کےمطابق ہیں، یہ حضرت ابراہیمؑ کی شان کی رفعت وبلندی ہے، کہ انہوں نے توریہ وتعریض کوبھی جو بالکل جائز اور درست ہے، اپنی شان رفیع سے فروتر سمجھا، اور ان کو کذب سےتعبیرکیا۔
(6)
احادیث صحیحہ میں شفاعت کبریٰ جو تمام انسانوں کے حساب وکتاب شروع کرنے کے لیے ہوگی، کا تذکرہ موجودنہیں ہے، بلکہ آپ کی امت کے گناہ گاروں کی سفارش کا ذکرہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ سفارش کبریٰ کا اسلام کا نام لیوا فرقوں میں سےکوئی فرقہ منکر نہیں ہے، جبکہ گناہ گاروں کی سفارش کا خوارج اورمعتزلہ وغیرہما نے انکارکیا ہے، اس لیے گناہ گاروں کی سفارش کےلیے احادیث کے بیان پر زور دیا گیا، اورمتفقہ سفارش کے تذکرہ کونظر اندازکردیا گیا۔
«. . . عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي دَعْوَةٍ فَرُفِعَ إِلَيْهِ الذِّرَاعُ وَكَانَتْ تُعْجِبُهُ فَنَهَسَ مِنْهَا نَهْسَةً، وَقَالَ: أَنَا سَيِّدُ الْقَوْمِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ . . .»
”. . . ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک دعوت میں شریک تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں دستی کا گوشت پیش کیا گیا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت مرغوب تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دستی کی ہڈی کا گوشت دانتوں سے نکال کر کھایا۔ پھر فرمایا کہ میں قیامت کے دن لوگوں کا سردار ہوں گا . . .“ [صحيح البخاري/كِتَاب أَحَادِيثِ الْأَنْبِيَاءِ/بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: إِنَّا أَرْسَلْنَا نُوحًا إِلَى قَوْمِهِ...: 3340]
[120۔ البخاري فى: 65 كتاب التفسير: 17 سورة الإسراء: 5 باب ذرية من حملنا مع نوح 3340، مسلم 194]
لغوی توضیح:
«فَنَهَسَ» دانتوں سے نوچا۔
«صَعِيْد وَاحِد» ایک چٹیل میدان۔
فھم الحدیث: ان احادیث میں شفاعت محمدیہ کا اثبات ہے۔ روز قیامت جب تمام انبیاء اپنی اپنی لغزشوں کو یاد کر کے کانپ رہے ہوں گے اس وقت صرف اور صرف ہمارے پیغمبر محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہی شفاعت کے لیے آگے بڑھیں گے۔ یہ چیز آپ کے تمام انبیاء سے افضل ہونے کی بھی دلیل ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت حاصل کرنے کے لیے یہ دعا پڑھنی چاہیے «اللّٰهُمَّ رَبَّ هٰذِهِ الدَّعْوَةِ التَّامَّةِ وَالصَّلَاةِ الْقَائِمَةِ آتِ مُحَمَّدًا الْوَسِيْلَةَ وَالْفَضِيْلَةَ وَابْعَثْهُ مَقَامًا مَّحْمُودًا الَّذِيْ وَعَدْتَّهُ» ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ جو بھی اذان سن کر یہ دعا پڑھے گا اسے میری شفاعت نصیب ہوگی۔ [بخاري: كتاب الأذان: باب الدعاء عند النداء 614]
جس روایت میں ہے کہ جس نے میری قبر کی زیارت کی اس کے لیے میری شفاعت واجب ہو گئی، وہ موضوع و من گھڑت ہے۔ [موضوع ارواء الغليل 4؍336 ضعيف الجامع الصغير 5607]
1۔
اس حدیث کے مطابق رسول اللہ ﷺ مطلق طور پر تمام کائنات کے سردار ہیں اور قیامت کے دن صرف آپ کی سیادت ظاہر ہوگی۔
تمام انبیاء اور دیگر لوگ آپ کے جھنڈے تلے ہوں گے۔
2۔
اس حدیث میں حضرت نوح ؑ کے متعلق آیا ہے کہ آپ اول الرسل ہیں یعنی اولوالعزم رسولوں میں سے پہلے ہیں جنھیں اللہ کے راستے میں سخت آزمائشوں سے دوچار ہونا پڑا نیز حضرت نوح ؑ وہ پہلے رسول ہیں جو اہل ارض کے لیے مبعوث ہوئے تھے حقیقت کے اعتبار سے حضرت آدم ؑ پہلے رسول ہیں لیکن ان کی رسالت صرف اپنی اولاد تک تھی وہ بھی ان کی تعلیم و تربیت کے لیے تھی اس کے برعکس حضرت نوح ؑ کی رسالت تمام امت کے لیے تھی جو تمام شہروں میں پھیل چکی تھی جبکہ حضرت آدم ؑ کی اولاد صرف ایک شہر تک محدود تھی۔
چونکہ اس روایت میں حضرت نوح ؑ کا ذکر ہے اس لیے امام بخاری ؒ نے اسے بیان کیا ہے۔
قرآن کریم میں ان کا تذکرہ متعدد مرتبہ آیا ہے۔
حمیر سے صنعاء خیبر یمن کا پایئہ تخت مراد ہے بصرٰی سام کے ملک میں ہے۔
حدیث میں حضرت نوح ؑ کا ذکر ہے یہی باب سے مطابقت ہے۔
اس حدیث میں شفاعت کبریٰ کا ذکر ہے جس کا شرف سیدناو مولانا حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کو حاصل ہوگا۔
باب اور آیت میں مطابقت حضرت نوح کے ذکر سے ہے جہاں یا نوحُ إنكَ أولُ الرُسُلِ إلی أھل الأرض۔
الفاظ مذکور ہیں۔
حضرت آدمؑ کے بعد عام رسالت کا مقام حضرت نوح ؑ کو حاصل ہوا۔
آپ کو آدم ثانی بھی کہا گیا ہے۔
کیونکہ طوفان نوح کے بعد انسانی نسل کے مورث اعلیٰ صرف آپ ہی ہیں۔
آپ کے چار بیٹے ہوئے جن میں سام کی نسل سے عرب فارس ہند وغیرہ ہیں اور یافث کی نسل سے روس ترک چین جاپان وغیرہ ہیں اور ھام کی نسل سے حبش اور اکثر افریقہ والے اور نوح کی نسل سے رٹرز فرانس جرمن آسٹریلیا اٹالیا اور مصر و یونان وغیرہ ہیں۔
اسی حقیقت کے پیش نظرآپ کو اول الرسل کہا گیا ہے۔
ورنہ آپ سے پہلے اور بھی کئی نبی ہو چکے ہیں مگر وہ عام رسول نہیں تھے۔
روایت میں ابراہیم ؑ سے منسوب تین جھوٹ یہ ہیں۔
پہلا جبکہ بت پرستوں کے تہوار میں عدم شرکت کے لئے لفظ ﴿إني سَقِیم﴾ (الصافات: 89)
استعمال کئے اور بت شکنی کا معاملہ بڑے بت پر ڈالتے ہوئے کہا ﴿بَل فَعَلَهُ کَبیرُھُم ھَذَا﴾ (الأنبیاء: 63)
استعمال کئے اور بت شکنی کا معاملہ بڑے بت پر ڈالتے ہیں اور سارہ کو اپنی بہن کہا اگرچہ یہ ظاہر اً جھوٹ نظر آتے ہیں مگر حقیقت کے لحاظ سے یہ جھوٹ نہ تھے پھر یہ ذات باری غنی اور صمد سے ہے وہ معمولی کام پر بھی گرفت کر سکتا ہے۔
اسی لئے حضرت ابراہیم ؑ نے اس موقع پر اظہار معذرت فرمایا۔
(صلی اللہ علیهم أجمعین)
انی سقیم میں بیمار ہوں اسلئے میں تمہارے ساتھ تمہاری تقریب میں چلنے سے معذور ہوں۔
آپ بظاہر تندرست تھے۔
مگر آپ کے دل میں ان کی نازیبا حرکتوں کا سخت صدمہ تھا اور مسلسل صدمات سے انسان کی طبیعت ناساز ہونا بعید نہیں ہے۔
لہٰذا حضرت ابراہیم ؑ کا ایسا کہنا جھوٹ نہ تھا۔
بت شکنی کا معاملہ بڑے بت پر بطور استہزاء ڈالا تھا تاکہ مشرکین خود اپنی حماقت کا احساس کرسکیں۔
قرآن مجید کے بیان کا سیاق وسباق بتلا رہا ہے کہ حضرت ابراہیمؑ کا یہ کہنا صرف اس لئے تھا تاکہ مشرکین خوداپنی زبان سے اپنے معبودان باطلہ کی کمزوری کا اعتراف کر لیں چنانچہ انہوں نے کیا۔
جس پر حضرت ابراہیم ؑ نے ان سے کہا کہ اف لکم ولما تعبدون من دون اللہ صد افسوس تم پر اور تمہارے معبودان باطلہ پر جن کو تم کمزور کہتے ہو، معبود بنائے بیٹھے ہو۔
بیوی کو بہن کہنا دینی لحاظ سے تھا اور اس میں کوئی شک نہیں کہ دنیا میں وہ ہی ایک عورت ذات تھی جو ایسے نازک وقت میں حضرت ابراہیم ؑ کے ہم مذہب تھیں۔
بہر حال یہ تنیوں امور بظاہر جھوٹ نظر آتے ہیں مگر حقیقت کے لحاظ سے جھوٹ بالکل نہیں ہیں اور انبیاء کرامؑ کی ذات اس سے بالکل بری ہوتی ہے کہ ان سے جھوٹ صادر ہو۔
(صلی اللہ علیهم أجمعین)
1۔
اس حدیث میں حضرت نوح ؑ کے متعلق صراحت ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے شکر گزار بندے تھے۔
عنوان میں ذکر کردہ آیت میں حضرت نوحؑ کی اس صفت کا حوالہ تھا۔
عنوان اور حدیث میں یہی مطابقت ہے۔
2۔
علامہ عینی ؒ نے مفسرین کے حوالے سے لکھا ہے کہ حضرت نوح ؑ جب کھانا کھاتے تو کہتے تھے کہ اللہ کا شکر ہے جس نے مجھے کھانا کھلایا، اگروہ چاہتا تو مجھے بھوکا رکھتا۔
جب پانی پیتے تو کہتے کہ اللہ کا شکر ہے جس نے مجھے پانی پلایا، اگر وہ چاہتا تو مجھے پیاسا رکھتا۔
جب لباس پہنتے تو کہتے: اللہ کا شکر ہے جس نے مجھے لباس پہنایا، اگر وہ چاہتا تو مجھے برہنہ رکھتا۔
جب جوتا پہنتے تو کہتے: اللہ کا شکر ہے جس نے مجھے جوتا پہنچایا، اگر وہ چاہتا تو مجھے ننگے پاؤں رکھتا۔
جب قضائے حاجت سے فارغ ہوتے تو کہتے! اللہ کا شکر ہے جس نے اذیت سے نجات دی اور مجھے صحت سے نوازا، اگر وہ چاہتا تو اسے روک لیتا۔
اس شکر گزاری کی وجہ سے آپ کو عبدالشکور کا لقب دیا گیا ہے۔
(عمدة القاری: 114/13)
حدیث کے متعلق دیگر مباحث کتاب احادیث الانبیاء میں گزر چکے ہیں۔
کہ قیامت کے دن وہ ان کو بخشوالیں گے۔
مقلدین ائمہ اربعہ میں سے اکثر جہال کا یہی خیال ہے کہ ان کے امام ان کی بخشش کے ذمہ دار ہیں، ایسے ناقص خیالات سے ہر مسلمان کو بچنا بہت ضروری ہے۔
1۔
عنوان سابق میں تھا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم ؑ کو اپنا خلیل بنایا،اس حدیث میں اس کی وضاحت فرمائی کہ لوگ بھی قیامت کے دن اس بات کی گواہی دیں گے کہ واقعی آپ اللہ کے خلیل ہیں۔
2۔
حضرت انس ؓ کی متابعت کو امام بخاری ؒ نے خود ہی متصل سند سے بیان کیا ہے۔
اس کے الفاظ ہیں کہ حضرت نوح ؑ لوگوں سے کہیں گے: تم حضرت ابراہیمؑ کے پاس جاؤ جوخلیل الرحمٰن ہیں۔
(صحیح البخاري، التوحید، حدیث: 7440)
اس حدیث میں حضرت ابراہیم ؑ کے خلیل اللہ ہونے کا ذکرہے، اور عنوان بھی اسی سے متعلق ہے۔
واللہ أعلم۔
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گوشت پیش کیا گیا، اس میں سے آپ کو دست کا گوشت دیا گیا جو کہ آپ کو بہت پسند تھا، اسے آپ نے نوچ نوچ کر کھایا، پھر فرمایا: ” قیامت کے دن میں لوگوں کا سردار رہوں گا، کیا تم لوگوں کو اس کی وجہ معلوم ہے؟ وہ اس لیے کہ اس دن اللہ تعالیٰ ایک ہموار کشادہ زمین پر اگلے پچھلے تمام لوگوں کو جمع کرے گا، جنہیں ایک پکارنے والا آواز دے گا اور انہیں ہر نگاہ والا دیکھ سکے گا، سورج ان سے بالکل قریب ہو گا جس سے لوگوں کا غم و کرب اس قدر بڑھ جائے گا جس کی نہ وہ طاقت رکھیں گے اور نہ ہی اسے برداشت کر س۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب صفة القيامة والرقائق والورع/حدیث: 2434]
وضاحت:
1؎:
اس حدیث میں نبی اکرم ﷺ کی اس شفاعت کا بیان ہے جب سارے انبیاء اپنی اپنی بعض لغزشوں کے حوالے سے شفاعت کرنے سے معذرت کریں گے، چونکہ انبیاء علیہم السلام ایمان و تقوی کے بلند مرتبے پر فائز ہوتے ہیں، اس لیے ان کی معمولی غلطی بھی انہیں بڑی غلطی محسوس ہوتی ہے، اسی وجہ سے وہ بار گاہ الٰہی میں پیش ہونے سے معذرت کریں گے، لیکن نبی اکرم ﷺ اللہ کے حکم سے سفارش فرمائیں گے، اس سے آپ ﷺ کی فضیلت ثابت ہوتی ہے، آپ کی شفاعت مختلف مرحلوں میں ہوگی، آپ اپنی امت کے حق میں شفاعت فرمائیں گے، جو مختلف مرحلوں میں ہوگی، اس حدیث میں پہلے مرحلہ کا ذکر ہے، جس میں آپ کی شفاعت پر اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو جنت میں لے جانے کی اجازت دے گا جن پر حساب نہیں ہوگا۔