صحيح مسلم
كتاب الإيمان— ایمان کے احکام و مسائل
باب أَدْنَى أَهْلِ الْجَنَّةِ مَنْزِلَةً فِيهَا: باب: جنتوں میں سب سے کم تر درجہ والے کا بیان۔
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْن الْجَحْدَرِيُّ ومُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْغُبَرِيُّ وَاللَّفْظُ لِأَبِي كَامِلٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَجْمَعُ اللَّهُ النَّاسَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيَهْتَمُّونَ لِذَلِكَ ، وقَالَ ابْنُ عُبَيْدٍ : فَيُلْهَمُونَ لِذَلِكَ ، فَيَقُولُونَ : لَوِ اسْتَشْفَعْنَا عَلَى رَبِّنَا حَتَّى يُرِيحَنَا مِنْ مَكَانِنَا هَذَا ، قَالَ : فَيَأْتُونَ آدَمَ عَلَيْهِ السّلامُ ، فَيَقُولُونَ : أَنْتَ آدَمُ أَبُو الْخَلْقِ ، خَلَقَكَ اللَّهُ بِيَدِهِ وَنَفَخَ فِيكَ مِنْ رُوحِهِ ، وَأَمَرَ الْمَلَائِكَةَ فَسَجَدُوا لَكَ ، اشْفَعْ لَنَا عِنْدَ رَبِّكَ حَتَّى يُرِيحَنَا مِنْ مَكَانِنَا هَذَا ، فَيَقُولُ : لَسْتُ هُنَاكُمْ ، فَيَذْكُرُ خَطِيئَتَهُ الَّتِي أَصَابَ ، فَيَسْتَحْيِي رَبَّهُ مِنْهَا ، وَلَكِنِ ائْتُوا نُوحًا أَوَّلَ رَسُولٍ بَعَثَهُ اللَّهُ ، قَالَ : فَيَأْتُونَ نُوحًا عَلَيْهِ السَّلامُ ، فَيَقُولُ : لَسْتُ هُنَاكُمْ ، فَيَذْكُرُ خَطِيئَتَهُ الَّتِي أَصَابَ ، فَيَسْتَحْيِي رَبَّهُ مِنْهَا ، وَلَكِنِ ائْتُوا إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلامُ الَّذِي اتَّخَذَهُ اللَّهُ خَلِيلًا ، فَيَأْتُونَ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السّلامُ ، فَيَقُولُ : لَسْتُ هُنَاكُمْ ، وَيَذْكُرُ خَطِيئَتَهُ الَّتِي أَصَابَ ، فَيَسْتَحْيِي رَبَّهُ مِنْهَا ، وَلَكِنِ ائْتُوا مُوسَى عَلَيْهِ السَّلامُ الَّذِي كَلَّمَهُ اللَّهُ ، وَأَعْطَاهُ التَّوْرَاةَ ، قَالَ : فَيَأْتُونَ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلامُ ، فَيَقُولُ : لَسْتُ هُنَاكُمْ ، وَيَذْكُرُ خَطِيئَتَهُ الَّتِي أَصَابَ ، فَيَسْتَحْيِي رَبَّهُ مِنْهَا ، وَلَكِنِ ائْتُوا عِيسَى رُوحَ اللَّهِ وَكَلِمَتَهُ ، فَيَأْتُونَ عِيسَى رُوحَ اللَّهِ وَكَلِمَتَهُ ، فَيَقُولُ : لَسْتُ هُنَاكُمْ ، وَلَكِنْ ائْتُوا مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَبْدًا ، قَدْ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ وَمَا تَأَخَّرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : فَيَأْتُونِي ، فَأَسْتَأْذِنُ عَلَى رَبِّي فَيُؤْذَنُ لِي ، فَإِذَا أَنَا رَأَيْتُهُ ، وَقَعْتُ سَاجِدًا فَيَدَعُنِي مَا شَاءَ اللَّهُ ، فَيُقَالُ : يَا مُحَمَّدُ ، ارْفَعْ رَأْسَكَ ، قُلْ : تُسْمَعْ سَلْ تُعْطَهْ ، اشْفَعْ تُشَفَّعْ ، فَأَرْفَعُ رَأْسِي ، فَأَحْمَدُ رَبِّي بِتَحْمِيدٍ يُعَلِّمُنِيهِ رَبِّي ، ثُمَّ أَشْفَعُ ، فَيَحُدُّ لِي حَدًّا فَأُخْرِجُهُمْ مِنَ النَّارِ ، وَأُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ ، ثُمَّ أَعُودُ فَأَقَعُ سَاجِدًا ، فَيَدَعُنِي مَا شَاءَ اللَّهُ ، أَنْ يَدَعَنِي ، ثُمَّ يُقَالُ : ارْفَعْ رَأْسَكَ يَا مُحَمَّدُ ، قُلْ : تُسْمَعْ سَلْ تُعْطَهْ ، اشْفَعْ تُشَفَّعْ ، فَأَرْفَعُ رَأْسِي ، فَأَحْمَدُ رَبِّي بِتَحْمِيدٍ يُعَلِّمُنِيهِ ، ثُمَّ أَشْفَعُ ، فَيَحُدُّ لِي حَدًّا ، فَأُخْرِجَهُمْ مِنَ النَّارِ ، وَأُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ ، قَالَ : فَلَا أَدْرِي فِي الثَّالِثَةِ أَوْ فِي الرَّابِعَةِ ، قَالَ : فَأَقُولُ : يَا رَبِّ ، مَا بَقِيَ فِي النَّارِ ، إِلَّا مَنْ حَبَسَهُ الْقُرْآنُ " ، أَيْ وَجَبَ عَلَيْهِ الْخُلُودُ ، قَالَ ابْنُ عُبَيْدٍ فِي رِوَايَتِهِ ، قَالَ قَتَادَةُ : أَيْ وَجَبَ عَلَيْهِ الْخُلُودُ .حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ قیامت کے دن لوگوں کو جمع کرے گا، اور وہ اس کے لیے فکر مند ہوں گے۔“ (کہ اس پریشانی سے کیسے نجات پائی جائے) ابن عبید رحمہ اللہ نے کہا: ”اس غرض کے لیے (فکر) ان کے دل میں ڈالا جائے گا، تو وہ کہیں گے: اے کاش! ہم اپنے رب کے حضور کسی سفارشی کو لائیں؛ تاکہ وہ ہمیں اس جگہ سے آرام دلوائے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ آدم علیہ السلام کے پاس آئیں گے، اور کہیں گے: آپ آدم علیہ السلام ہیں! تمام مخلوق کے باپ، اللہ تعالیٰ نے تجھے اپنے ہاتھ سے پیدا کیا، اور تیرے اندر اپنی روح ڈالی (یعنی اپنی پیدا کردہ روح)، اور فرشتوں کو حکم دیا، انہوں نے آپ کو سجدہ کیا۔ آپ ہمارے لیے اپنے رب کے حضور سفارش فرمائیں، کہ وہ ہمیں اس جگہ سے (اس جگہ کی تکلیف سے) آرام پہنچائے۔ تو وہ جواب دیں گے: یہ میرا منصب نہیں (میں اس کے اہل نہیں)، تو وہ اپنی غلطی جس کا ارتکاب کیا تھا (یا اس کو بیان کر کے) اس کی بناء پر اپنے رب سے شرمائیں گے، لیکن تم نوح علیہ السلام کے پاس جاؤ! وہ پہلا رسول ہے، جسے اللہ تعالیٰ نے مبعوث فرمایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو لوگ نوح علیہ السلام کے پاس آئیں گے، تو وہ جواب دیں گے: میں اس کا اہل نہیں ہوں، اور وہ اپنی غلطی جس کا ارتکاب کیا تھا، اس کو یاد کر کے اپنے رب سے شرمائیں گے، اور (کہیں گے) تم ابراہیم علیہ السلام کے پاس جاؤ! جسے اللہ نے اپنا خلیل بنایا ہے۔ تو وہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس آئیں گے، تو وہ کہیں گے: یہ میرا مقام نہیں ہے اور وہ اپنی خطا کو یاد کریں گے جو ان سے ہوئی تھی، اور اس کی وجہ سے اپنے رب سے شرمائیں گے، اور کہیں گے: لیکن تم موسیٰ علیہ السلام کے پاس جاؤ! جن کو اللہ تعالیٰ نے کلام کرنے کا شرف بخشا، اور انہیں تورات عنایت کی۔ تو لوگ موسیٰ علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوں گے، تو وہ بھی کہیں گے: میں اس کا حق دار نہیں، اور اپنی خطا جو ان سے ہوئی تھی یاد کر کے اپنے رب سے شرمائیں گے، اور کہیں گے: لیکن تم عیسیٰ روح اللہ اور اس کے کلمہ کے پاس جاؤ! تو لوگ عیسیٰ علیہ السلام کے پاس آئیں گے، تو وہ بھی یہی کہیں گے: یہ میرا منصب نہیں ہے، لیکن تم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤ! جو ایسا بندہ ہے، جس کے اگلے پچھلے گناہ معاف کیے جا چکے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو وہ میرے پاس آئیں گے، تو میں اپنے رب سے اجازت چاہوں گا، (تاکہ میں سفارش کر سکوں) تو مجھے اجازت دی جائے گی، تو جب میں اسے (اللہ تعالیٰ کو) دیکھوں گا، سجدہ میں گر جاؤں گا۔ تو جب تک وہ چاہے گا مجھے اس حالت میں چھوڑے گا، پھر کہا جائے گا: اے محمد! اپنا سر اٹھائیے! کہیے! آپ کی بات سنی جائے گی، مانگیے! دیے جاؤ گے، سفارش کیجیے! تمہاری سفارش قبول کی جائے گی۔ تو میں اپنا سر اٹھا لوں گا، اپنے رب کی ایسی حمد بیان کروں گا، جو میرا رب (اس وقت) سکھائے گا، پھر میں سفارش کروں گا، میرے لیے ایک حد مقرر کر دی جائے گی۔ میں (اسی حد کے مطابق) لوگوں کو آگ سے نکال کر جنت میں داخل کروں گا، پھر واپس آکر میں سجدہ ریز ہوں گا۔ تو اللہ تعالیٰ جب چاہے گا، اس حالت میں رہنے دے گا، پھر کہا جائے گا: اپنا سر اٹھائیے اے محمد! کہیے! تمہاری بات سنی جائے گی۔ مانگیے! دیے جاؤ گے۔ سفارش کیجیے! تمہاری سفارش قبول کی جائے گی۔ تو میں اپنا سر اٹھاؤں گا، اور اپنے رب کی وہ حمد بیان کروں گا، جو وہ مجھے سکھائے گا۔ پھر میں سفارش کروں گا، تو وہ میرے لیے ایک حد مقرر کر دے گا، میں ان کو دوزخ سے نکالوں گا اور جنت میں داخل کروں گا۔“ حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: مجھے یاد نہیں آپ نے تیسری یا چوتھی دفعہ فرمایا: ”تو میں کہوں گا: اے میرے رب! آگ میں صرف وہی لوگ رہ گئے ہیں جنہیں قرآن نے روک لیا ہے، یعنی جن کے لیے دوزخ میں ہمیشگی ثابت ہے۔“ ابن عبید رحمہ اللہ نے اپنی روایت میں کہا: قتادہ رحمہ اللہ نے کہا: ”جس کا ہمیشہ رہنا ضروری ہے۔“
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، ومُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَجْتَمِعُ الْمُؤْمِنُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، فَيَهْتَمُّونَ بِذَلِكَ ، أَوْ يُلْهَمُونَ ذَلِكَ ، بِمِثْلِ حَدِيثِ أَبِي عَوَانَةَ ، وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ : ثُمَّ آتِيهِ الرَّابِعَةَ ، أَوْ أَعُودُ الرَّابِعَةَ ، فَأَقُولُ : يَا رَبِّ ، مَا بَقِيَ إِلَّا مَنْ حَبَسَهُ الْقُرْآنُ .دوسری سند سے جس میں (ابوعوانہ کے بجائے) سعید نے قتادہ سے اور انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت کے دن مومن جمع ہوں گے اور اس (کی ہولناکیوں سے بچنے) کی فکر میں مبتلا ہوں گے یا یہ بات ان کے دلوں میں ڈالی جائے گی۔“ .... (آگے) ابوعوانہ کی حدیث کے مانند ہے، البتہ انہوں نے اس حدیث میں یہ کہا: ”پھر میں چوتھی بار اللہ تعالیٰ کی خدمت میں حاضر ہوں گا (یا چوتھی بار لوٹوں گا) اور کہوں گا: ’اے میرے رب! ان کے سوا جنہیں قرآن (کے فیصلے) نے روک رکھا ہے اور کوئی باقی نہیں بچا۔‘“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : يَجْمَعُ اللَّهُ الْمُؤْمِنِينَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، فَيُلْهَمُونَ لِذَلِكَ ، بِمِثْلِ حَدِيثِهِمَا ، وَذَكَرَ فِي الرَّابِعَةِ ، فَأَقُولُ : يَا رَبِّ ، مَا بَقِيَ فِي النَّارِ ، إِلَّا مَنْ حَبَسَهُ الْقُرْآنُ ، أَيْ وَجَبَ عَلَيْهِ الْخُلُودُ .معاذ بن ہشام نے کہا: میرے والد نے مجھے قتادہ کے حوالے سے حدیث سنائی اور انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت کے دن اللہ تعالیٰ مومنوں کو جمع کرے گا، پھر اس (دن کی پریشانی سے بچنے) کے لیے ان کے دل میں یہ بات ڈالی جائے گی۔“ .... یہ حدیث بھی ان دونوں (ابوعوانہ اور سعید) کی حدیث کی طرح ہے، چوتھی دفعہ کے بارے میں یہ کہا: ”تو میں کہوں گا: ’اے میرے رب! آگ میں ان کے سوا اور کوئی باقی نہیں جسے قرآن (کے فیصلے) نے روک لیا ہے، یعنی جس کے لیے (آگ میں) ہمیشہ رہنا واجب ہو گیا ہے۔‘“
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِنْهَالٍ الضَّرِيرُ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، وَهِشَامٌ صَاحِبُ الدَّسْتَوَائِيِّ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ح وحَدَّثَنِي أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ ، ومُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُعَاذٌ وَهُوَ ابْنُ هِشَامٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " يَخْرُجُ منَ النَّارِ ، مَنْ قَالَ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَكَانَ فِي قَلْبِهِ مِنَ الْخَيْرِ مَا يَزِنُ شَعِيرَةً ، ثُمَّ يَخْرُجُ مِنَ النَّارِ ، مَنْ قَال : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَكَانَ فِي قَلْبِهِ مِنَ الْخَيْرِ مَا يَزِنُ بُرَّةً ، ثُمَّ يَخْرُجُ مِنَ النَّارِ ، مَنْ قَالَ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَكَانَ فِي قَلْبِهِ مِنَ الْخَيْرِ مَا يَزِنُ ذَرَّةً " ، زَادَ ابْنُ مِنْهَالٍ فِي رِوَايَتِهِ ، قَالَ يَزِيدُ : فَلَقِيتُ شُعْبَةَ فَحَدَّثْتُهُ بِالْحَدِيثِ ، فَقَالَ شُعْبَةُ : حَدَّثَنَا بِهِ قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحَدِيثِ ، إِلَّا أَنَّ شُعْبَةَ ، جَعَلَ مَكَانَ الذَّرَّةِ ، ذُرَةً ، قَالَ يَزِيدُ : صَحَّفَ فِيهَا أَبُو بِسْطَام .محمد بن منہال الضریر نے کہا: ہمیں یزید بن زریع نے حدیث سنائی، انہوں نے کہا: ہمیں سعید بن ابی عروبہ اور دستوائی نے قتادہ سے حدیث سنائی، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ....، اسی طرح ابوغسان مسمعی اور محمد بن مثنیٰ نے کہا: میرے والد نے مجھے قتادہ کے حوالے سے حدیث سنائی، (انہوں نے کہا:) ہمیں انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے حدیث سنائی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس شخص کو آگ سے نکال لیا جائے گا جس نے ’لا إله إلا الله‘ کہا اور اس کے دل میں ایک جو کے وزن کے برابر خیر ہوئی، پھر ایسے شخص کو آگ سے نکالا جائے گا جس نے ’لا إله إلا الله‘ کہا اور اس کے دل میں گندم کے دانے کے برابر خیر ہوئی، پھر اس کو آگ سے نکالا جائے گا جس نے ’لا إله إلا الله‘ کہا اور اس کے دل میں ایک ذرے کے برابر بھی خیر ہوئی۔“ (گزشتہ متعدد احادیث سے وضاحت ہوتی ہے کہ خیر سے مراد ایمان ہے۔) ابن منہال نے اپنی روایت میں اضافہ کیا کہ یزید نے کہا: میں شعبہ سے ملا اور انہیں یہ حدیث سنائی تو شعبہ نے کہا: ہمیں یہ حدیث قتادہ نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنائی، البتہ شعبہ نے ”ایک ذرے“ کے بجائے ”مکئی کا دانہ“ کہا۔ یزید نے کہا: اس لفظ میں ابوبسطام (شعبہ) سے تصحیف (حروف میں اشتباہ کی وجہ سے غلطی) ہو گئی۔
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الْعَتَكِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا مَعْبَدُ بْنُ هِلَالٍ الْعَنَزِيُّ . ح وحَدَّثَنَاه سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ وَاللَّفْظُ لَهُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا مَعْبَدُ بْنُ هِلَالٍ الْعَنَزِيُّ ، قَالَ : انْطَلَقْنَا إِلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، وَتَشَفَّعْنَا بِثَابِتٍ ، فَانْتَهَيْنَا إِلَيْهِ وَهُوَ يُصَلِّي الضُّحَى ، فَاسْتَأْذَنَ لَنَا ثَابِتٌ ، فَدَخَلْنَا عَلَيْهِ وَأَجْلَسَ ثَابِتًا مَعَهُ عَلَى سَرِيرِهِ ، فَقَالَ لَهُ : يَا أَبَا حَمْزَةَ ، إِنَّ إِخْوَانَكَ مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ يَسْأَلُونَكَ ، أَنْ تُحَدِّثَهُمْ حَدِيثَ الشَّفَاعَةِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ مَاجَ النَّاسُ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ ، فَيَأْتُونَ آدَمَ ، فَيَقُولُونَ لَهُ : اشْفَعْ لِذُرِّيَّتِكَ ، فَيَقُولُ : لَسْتُ لَهَا ، وَلَكِنْ عَلَيْكُمْ بِإِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَام ، فَإِنَّهُ خَلِيلُ اللَّهِ ، فَيَأْتُونَ إِبْرَاهِيمَ ، فَيَقُولُ : لَسْتُ لَهَا ، وَلَكِنْ عَلَيْكُمْ بِمُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام ، فَإِنَّهُ كَلِيمُ اللَّهِ ، فَيُؤْتَى مُوسَى ، فَيَقُولُ : لَسْتُ لَهَا ، وَلَكِنْ عَلَيْكُمْ بِعِيسَى عَلَيْهِ السَّلَام ، فَإِنَّهُ رُوحُ اللَّهِ وَكَلِمَتُهُ ، فَيُؤتَى عِيسَى ، فَيَقُولُ : لَسْتُ لَهَا ، وَلَكِنْ عَلَيْكُمْ بِمُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأُوتَى ، فَأَقُولُ : أَنَا لَهَا ، فَأَنْطَلِقُ فَأَسْتَأْذِنُ عَلَى رَبِّي ، فَيُؤْذَنُ لِي ، فَأَقُومُ بَيْنَ يَدَيْهِ ، فَأَحْمَدُهُ بِمَحَامِدَ لَا أَقْدِرُ عَلَيْهِ الآنَ يُلْهِمُنِيهِ اللَّهُ ، ثُمَّ أَخِرُّ لَهُ سَاجِدًا ، فَيُقَالُ لِي : يَا مُحَمَّدُ ، ارْفَعْ رَأْسَ ، وَقُلْ : يُسْمَعْ لَكَ ، وَسَلْ تُعْطَهْ ، وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ ، فَأَقُولُ : رَبِّ أُمَّتِي ، أُمَّتِي ، فَيُقَالُ : انْطَلِقْ ، فَمَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةٍ مِنْ بُرَّةٍ أَوْ شَعِيرَةٍ مِنَ إِيمَانٍ ، فَأَخْرِجْهُ مِنْهَا ، فَأَنْطَلِقُ ، فَأَفْعَلُ ، ثُمَّ أَرْجِعُ إِلَى رَبِّي ، فَأَحْمَدُهُ بِتِلْكَ الْمَحَامِدِ ، ثُمَّ أَخِرُّ لَهُ سَاجِدًا ، فَيُقَالُ لِي : يَا مُحَمَّدُ ، ارْفَعْ رَأْسَكَ ، وَقُلْ : يُسْمَعْ لَكَ ، وَسَلْ تُعْطَهْ ، وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ ، فَأَقُولُ : أُمَّتِي ، أُمَّتِي ، فَيُقَالُ لِي : انْطَلِقْ ، فَمَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ مِنَ إِيمَانٍ ، فَأَخْرِجْهُ مِنْهَا ، فَأَنْطَلِقُ ، فَأَفْعَلُ ، ثُمَّ أَعُودُ إِلَى رَبِّي ، فَأَحْمَدُهُ بِتِلْكَ الْمَحَامِدِ ، ثُمَّ أَخِرُّ لَهُ سَاجِدًا ، فَيُقَالُ لِي : يَا مُحَمَّدُ ، ارْفَعْ رَأْسَكَ ، وَقُلْ : يُسْمَعْ لَكَ ، وَسَلْ تُعْطَهْ ، وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ ، فَأَقُولُ : يَا رَبِّ ، أُمَّتِي ، أُمَّتِي ، فَيُقَالُ لِي : انْطَلِقْ ، فَمَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ ، أَدْنَى ، أَدْنَى ، أَدْنَى مِنْ مِثْقَالِ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ مِنَ إِيمَانٍ ، فَأَخْرِجْهُ مِنَ النَّارِ ، فَأَنْطَلِقُ ، فَأَفْعَلُ " ، هَذَا حَدِيثُ أَنَسٍ الَّذِي أَنْبَأَنَا بِهِ ، فَخَرَجْنَا مِنْ عِنْدِهِ ، فَلَمَّا كُنَّا بِظَهْرِ الْجَبَّانِ ، قُلْنَا : لَوْ مِلْنَا إِلَى الْحَسَنِ ، فَسَلَّمْنَا عَلَيْهِ وَهُوَ مُسْتَخْفٍ فِي دَارِ أَبِي خَلِيفَةَ ، قَالَ : فَدَخَلْنَا عَلَيْهِ فَسَلَّمْنَا عَلَيْهِ ، فَقُلْنَا : يَا أَبَا سَعِيدٍ ، جِئْنَا مِنْ عِنْدِ أَخِيكَ أَبِي حَمْزَةَ ، فَلَمْ نَسْمَعْ مِثْلَ حَدِيثٍ حَدَّثَنَاهُ فِي الشَّفَاعَةِ ، قَالَ : هِيَهِ فَحَدَّثْنَاهُ الْحَدِيثَ ، فَقَالَ : هِيَهِ ، قُلْنَا : مَا زَادَنَا ؟ قَالَ : قَدْ حَدَّثَنَا بِهِ مُنْذُ عِشْرِينَ سَنَةً ، وَهُوَ يَوْمَئِذٍ جَمِيعٌ ، وَلَقَدْ تَرَكَ شَيْئًا مَا أَدْرِي أَنَسِيَ الشَّيْخُ أَوْ كَرِهَ ، أَنْ يُحَدِّثَكُمْ فَتَتَّكِلُوا ، قُلْنَا لَهُ حَدِّثْنَا فَضَحِكَ ، وَقَالَ : خُلِقَ الإِنْسَانُ مِنْ عَجَلٍ سورة الأنبياء آية 37 مَا ذَكَرْتُ لَكُمْ هَذَا ، إِلَّا وَأَنَا أُرِيدُ أَنْ أُحَدِّثَكُمُوهُ ، ثُمَّ أَرْجِعُ إِلَى رَبِّي فِي الرَّابِعَةِ ، فَأَحْمَدُهُ بِتِلْكَ الْمَحَامِدِ ، ثُمَّ أَخِرُّ لَهُ سَاجِدًا ، فَيُقَالُ لِي : يَا مُحَمَّدُ ، ارْفَعْ رَأْسَكَ ، وَقُلْ : يُسْمَعْ لَكَ ، وَسَلْ تُعْطَ ، وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ ، فَأَقُولُ : يَا رَبِّ ، ائْذَنْ لِي فِيمَنْ ، قَالَ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، قَالَ : لَيْسَ ذَاكَ لَكَ ، أَوَ قَالَ : لَيْسَ ذَاكَ إِلَيْكَ ، وَلَكِنْ ، وَعِزَّتِي ، وَكِبْرِيَائِي ، وَعَظَمَتِي ، وَجِبْرِيَائِي ، لَأُخْرِجَنَّ مَنْ قَالَ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ " ، قَالَ : فَأَشْهَدُ عَلَى الْحَسَنِ ، أَنَّهُ حَدَّثَنَا بِهِ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ أُرَاهُ ، قَالَ : قَبْلَ عِشْرِينَ سَنَةً ، وَهُوَ يَوْمِئِذٍ جَمِيعٌ .
معبدبن ہلال عنزی نے کہا: ہم لوگ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور ثابت (البنانی) کو اپنا سفارشی بنایا (ان کے ذریعے سے ملاقات کی اجازت حاصل کی۔) ہم ان کے ہاں پہنچے تو وہ چاشت کی نماز پڑھ رہے تھے۔ ثابت نے ہمارے لیے (اندر آنے کی) اجازت لی۔ ہم اندر ان کے سامنے حاضر ہوئے۔ انہوں نے ثابت کو اپنے ساتھ اپنی چارپائی پر بٹھا لیا۔ ثابت نے ان سے کہا: ’اے ابوحمزہ! بصرہ کے باشندوں میں سے آپ کے (یہ) بھائی آپ سے درخواست کرتے ہیں کہ آپ انہیں شفاعت کی حدیث سنائیں۔‘ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہا: ہمیں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا: ”جب قیامت کا دن ہو گا تو لوگ موجوں کی طرح ایک دوسرے سے ٹکرا رہے ہوں گے۔ وہ آدم علیہ السلام کے پاس آئیں گے اور ان سے عرض کریں گے: ’اپنی اولاد کے حق میں سفارش کیجیے (کہ وہ میدان حشر کے مصائب اور جاں گسل انتظار سے نجات پائیں۔)‘ وہ کہیں گے: ’میں اس کے لیے نہیں ہوں۔ لیکن تم ابراہیم علیہ السلام کا دامن تھام لو کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کے خلیل (خالص دوست) ہیں۔‘ لوگ ابراہیم علیہ السلام کے پاس جائیں گے۔ وہ جواب دیں گے: ’میں اس کے لیے نہیں ہوں۔ لیکن تم موسیٰ علیہ السلام کے پاس پہنچ جاؤ، وہ کلیم اللہ ہیں (جن سے اللہ نے براہ راست کلام کیا)۔‘ تو موسیٰ علیہ السلام کے پاس حاضری ہو گی۔ وہ فرمائیں گے: ’میں اس کے لیے نہیں ہوں۔ لیکن تم عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ لگ جاؤ کیونکہ وہ اللہ کی روح اور اس کا کلمہ ہیں۔‘ تو عیسیٰ علیہ السلام کے پاس آمد ہو گی، وہ فرمائیں گے: ’میں اس کے لیے نہیں ہوں۔ لیکن تم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچ جاؤ۔‘ تو (ان کی) آمد میرے پاس ہو گی۔ میں جواب دوں گا: ’اس (کام) کے لیے میں ہوں۔‘ میں چل پڑوں گا اور اپنے رب کے سامنے حاضری کی اجازت چاہوں گا، مجھے اجازت عطا کی جائے گی، میں اس کے سامنے کھڑا ہوں گا اور تعریف کی ایسی باتوں کے ساتھ اس کی حمد کروں گا جس پر میں اب قادر نہیں ہوں، اللہ تعالیٰ ہی یہ (حمد) میرے دل میں ڈالے گا، پھر میں اس کے حضور سجدے میں گر جاؤں گا، پھر مجھ سے کہا جائے گا: ’اے محمد! اپنا سر اٹھائیں اور کہیں: آپ کی بات سنی جائے گی اور مانگیں: آپ کو دیا جائے گا اور سفارش کریں: آپ کی سفارش قبول کی جائے گی۔‘ میں عرض کروں گا: ’اے میرے رب! میری امت! میری امت!‘ تو مجھ سے کہا جائے گا: ’جائیں، جس کے دل میں گندم یا جو کے دانے کے برابر ایمان ہے اسے نکال لیں۔‘ میں جاؤں گا اور ایسا کروں گا، پھر میں اپنے رب تعالیٰ کے حضور لوٹ آؤں گا اور حمد کے انہی اسلوبوں سے اس کی تعریف بیان کروں گا، پھر اس کے سامنے سجدے میں گر جاؤں گا تو مجھے کہا جائے گا: ’اے محمد! اپنا سر اٹھائیں اور کہیں: آپ کی بات سنی جائے گی اور مانگیں: آپ کو دیا جائے گا اور سفارش کریں: آپ کی سفارش قبول ہو گی۔‘ میں عرض کروں گا: ’اے میرے رب! میری امت! میری امت!‘ مجھے کہا جائے گا: ’جائیں، جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر ایمان ہو، اسے نکال لیں۔‘ تو میں جاؤں گا اور ایسا کروں گا، پھر اپنے رب کے حضور لوٹ آؤں گا اور اس جیسی تعریف سے اس کی حمد کروں گا، پھر اس کے سامنے سجدے میں گر جاؤں گا۔ تو مجھ سے کہا جائے گا: ’اے محمد! اپنا سر اٹھائیں، کہیں: آپ کی بات سنی جائے گی اور مانگیں: آپ کو دیا جائے گا اور سفارش کریں: آپ کی سفارش قبول ہو گی۔‘ تو میں کہوں گا: ’اے میرے رب! میری امت! میری امت!‘ تو مجھ سے کہا جائے گا: ’جائیں، جس کے دل میں رائی کے دانے سے کم، اس سے (بھی) کم، اس سے (اور بھی) کم ایمان ہو اسے آگ سے نکال لیں۔‘ تو میں جاؤں گا اور ایسا کروں گا۔“ یہ حضرت انس رضی اللہ عنہ کی روایت ہے جو انہوں نے ہمیں بیان کی۔ (معبدبن ہلال عنزی نے) کہا: چنانچہ ہم ان کے ہاں سے نکل آئے، جب ہم چٹیل میدان کے بالائی حصے پر پہنچے تو ہم نے کہا: (کیا ہی اچھا ہو) اگر ہم حسن بصری کا رخ کریں اور انہیں سلام کرتے جائیں۔ وہ (حجاج بن یوسف کے ڈر سے) ابوخلیفہ کے گھر میں چھپے ہوئے تھے۔ جب ہم ان کے پاس پہنچے تو انہیں سلام کیا۔ ہم نے کہا: ’جناب ابوسعید! ہم آپ کے بھائی ابوحمزہ (حضرت انس رضی اللہ عنہ کی کنیت ہے) کے پاس سے آرہے ہیں۔ ہم نے کبھی اس جیسی حدیث نہیں سنی جو انہوں نے شفاعت کے بارے میں ہمیں سنائی۔‘ حسن بصری نے کہا: ’لائیں، سنائیں۔‘ ہم نے انہیں حدیث سنائی تو انہوں نے کہا: ’آگے سنائیں۔‘ ہم نے کہا: ’انہوں نے ہمیں اس سے زیادہ نہیں سنایا۔‘ انہوں (حسن بصری) نے کہا: ’ہمیں انہوں نے یہ حدیث بیس برس پہلے سنائی تھی، اس وقت وہ پوری قوتوں کے مالک تھے۔ انہوں نے کچھ حصہ چھوڑ دیا ہے، معلوم نہیں، شیخ بھول گئے یا انہوں نے تمہیں پوری حدیث سنانا پسند نہیں کیا کہ کہیں تم (اس میں بیان کی ہوئی بات ہی پر) بھروسا نہ کر لو۔‘ ہم نے عرض کی: ’آپ ہمیں سنا دیں۔‘ تو وہ ہنس پڑے اور کہا: «إِنَّ الْإِنسَانَ خُلِقَ هَلُوعًا» ’’انسان جلدباز پیدا کیا گیا ہے،‘‘ میں نے تمہارے سامنے اس بات کا تذکرہ اس کے سوا (اور کسی وجہ سے) نہیں کیا تھا مگر اس لیے کہ میں تمہیں یہ حدیث سنانا چاہتا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر میں چوتھی بار اپنے رب کی طرف لوٹوں گا، پھر انہی تعریفوں سے اس کی حمد بیان کروں گا، پھر اس کے حضور سجدہ ریز ہو جاؤں گا تو مجھ سے کہا جائے گا: ’اے محمد! اپنا سر اٹھائیں اور کہیں: آپ کی بات سنی جائے گی، مانگیں: آپ کو دیا جائے گا اور سفارش کریں: آپ کی سفارش قبول ہو گی۔‘ تو میں عرض کروں گا: ’اے میرے رب! مجھے ان کے بارے میں (بھی) اجازت دیجیے جنہوں نے (صرف) ’لا إله إلا الله‘ کہا۔‘ اللہ فرمائے گا: ’یہ آپ کے لیے نہیں لیکن میری عزت کی قسم، میری کبریائی، میری عظمت اور میری بڑائی کی قسم! میں ان کو (بھی) جہنم سے نکال لوں گا جنہوں نے ’لا إله إلا الله‘ کہا۔‘“ معبدکا بیان ہے: میں حسن بصری کے بارے میں گواہی دیتا ہوں کہ انہوں نے ہمیں بتایا کہ انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے یہ روایت سنی۔ میرا خیال ہے، انہوں نے کہا: بیس سال پہلے، اور اس وقت ان کی صلاحتیں بھرپور تھیں۔
تشریح، فوائد و مسائل
: (1)
يَهْتَمُّونَ لِذَلِكَ: اس کے لیے فکرمند ہوں گے (کہ ان کی پریشانی دور ہو) (2)
يُلْهَمُونَ لِذَلِكَ: اس پریشانی سے بچنے کی فکر ان کے دلوں میں ڈالی جائے گی۔
(3)
لَسْتُ هُنَاكُمْ: میں اس کا اہل نہیں، یہ میرے مقام و مرتبہ سے بلند چیز ہے۔
(4)
خَلِيْلٌ: جس کی محبت کامل اور آخری درجہ کی ہو، جس میں کسی قسم کی کمی و نقص نہ ہو۔
فوائد ومسائل:
(1)
حضرت آدمؑ جس غلطی کا تذکرہ فرمائیں گے، اس سے مراد وہ درخت جس کےقریب جانے سے روکا گیا تھا، اسےبھول کرکھاناہے۔
اورحضرت نوحؑ جس غلطی کا اظہار کریں گے، اس سےمراد اپنے بیٹے کی سفارش کرنا ہے جس کی اجازت نہ تھی، یا اس سے مراد وہ دعا ہے جو آپؑ نے اپنی قوم کی تباہی وبربادی کےلیے کی تھی، اور ایک دعاتھی جس کی قبولیت یقینی تھی وہ آپ نےکرلی تھی۔
اورحضرت ابراہیمؑ ان تین کا تذکرہ کریں گے، کہ میں نےتین دفعہ توریہ وتعریض سے کام لیاتھا۔
اورحضرت موسیٰؑ قبطی کےقتل کا تذکرہ کریں گے، اورحضرت عیسیٰؑ یہ بیان کریں گے، کہ دنیا میں مجھےمیرے ماننے والوں نےمعبود بنا لیاتھا، یہ محض لوگوں کی توجہ ہٹانےکےلیے ہوں گی۔
اصل بات یہ ہے کہ سفارش کرنا، آپ ﷺ کےلیے مخصوص ہے، اس لیے آپ کی سواکوئی رسول یہ کام نہیں کرے گا۔
(2)
انبیاءؑ کا مقام ومرتبہ، سب انسانوں سےبلند وبالا ہے؛ اس لیے اللہ تعالیٰ کی اطاعت اورفرمانبرداری میں بھی وہ سب سےبلندمقام پرفائزہیں، اور ان کاعمل سب سے بہتر انداز میں پایا جاتا ہے۔
بعض اوقات غیرشعوری اورغیر ارادی طور پر ان سے ایسے کام سرزد ہو جاتے ہیں، جو ان کے مقامِ رفیع سے فروتر ہوتے ہیں، وہ اپنے بلند مقام کی بنا پر ان کے ارتکاب میں بھی شرم وعارمحسوس کرتےہیں، انہیں افعال واعمال کی ذنب یا خطیئہ سےتعبیرکیاگیاہے، عام انسانوں کے اعتبارسے ان میں کوئی قابل اعتراض چیزنہیں ہوتی۔
(3)
نوحؑ کو اول الرسل قرار دیا گیا ہے؛کیونکہ نوحؑ سے پہلے انبیاءؑ کے دور میں لوگ فطرت اسلام پر قائم تھے، اس لیے ان کی طرف وحی امورتکوینہ یا امورمعاش، زراعت اورصنعت وحرفت کےبارےمیں ہوتی تھی، نیز نوحؑ سے پہلے بہت کم افرادکفر وشرک کےمرتکب ہوئے تھے، ان کی قوم میں شرک وکفرعام ہوگیا، اس لیے ان کی طرف وحی رسالت شروع ہوئی، اورالہام شرعیہ کانزول ہوا، اورمخالفین کوعذاب کی دھمکی دی گئی۔
یا اس لیے آپؑ کو اول الرسل کہا گیا ہے، کہ سب سے پہلے انہی کی قوم پر عذاب نازل ہوا، اور آپؑ ہی سب سے پہلے رسول ہیں، جن کو ان کی قوم نے اذیت اورتکلیف سےدوچارکیا۔
(4)
شفاعت کبریٰ، جس کےسبب تمام لوگوں کا حساب وکتاب شروع ہوگا، وہ آپ ﷺ کے ساتھ مخصوص ہے، اس لیے آپ سے پہلے کوئی نبی ورسول اس کےلیے تیارنہیں ہوگا، اور جواب دے گا کہ یہ میرا منصب نہیں ہے یا میں اس کا اہل نہیں ہوں، اور آخر کارتمام لوگ آپ ﷺ کی خدمت میں حاضرہوں گے، اور آپ اس کےلیے تیار ہوجائیں گے، اورآپ اس کےلیے اللہ تعالیٰ سے اجازت طلب کریں گے، اجازت ملنے کے بعد آپ کی سفارش سےتمام انسانوں کا حساب وکتاب وشروع ہوگا، اورآپ ﷺ کی برتری وفضیلت کا تمام انسانوں کے سامنےظہورہوگا۔
(5)
شفاعت کبریٰ کے بعد آپ ﷺ اپنی امت کے گناہ گاروں کےبارےمیں سفارش فرمائیں گے، اور اس سفارش کی مختلف صورتیں ہوں گی، جہنم سےنکالنے کے لیے، آپ چاربارسفارش فرمائیں گے، اس کے بعدصرف وہ گناہ گا رہ جائیں گے، جن کوصرف اللہ تعالیٰ کا رحم وکرم ہی نکال سکے گا، یاوہ لوگ ہوں گےجنہوں نے اپنے کفر وشرک کی بنا پر ہمیشہ کےلیےجہنم میں رہناہے۔
یہاں اس کو اس لیے لائے ہیں کہ اس میں اللہ تعالیٰ کے ہاتھ کا بیان ہے۔
دوسری حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تین چیزیں خاص اپنے مبارک ہاتھوں سےبنائیں۔
توراۃ اپنےہاتھ سے لکھی۔
آدم کا پتلا اپنے ہاتھ سے بنایا۔
العدان کے درخت اپنے ہاتھ سے بنائے۔
1۔
یہ حدیث "حدیث سفارش" کے نام سے مشہور ہے۔
امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے اسے متعدد مقامات پر تفصیل اور اختصار کے ساتھ ذکر کیا ہے۔
اس سے پہلے یہ حدیث کتاب التفسیر رقم: 4476 میں گزرچکی ہے۔
اس مقام پر یہ حدیث اللہ تعالیٰ کی صفتِ ید ثابت کرنے کے لیے لائی گئی ہے، چنانچہ اس میں اللہ تعالیٰ کا حضرت آدم علیہ السلام کو اپنے ہاتھ سے بنانے کا ذکر ہے اور اسے حضرت آدم علیہ السلام کا امتیاز شمار کیا گیا ہے۔
2۔
اس حدیث سے واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ ید کا ظاہری مفہوم مبنی برحقیقت مراد ہے۔
اگریہاں قدرت کے مجازی معنی مراد لیے جائیں تو حضرت آدم علیہ السلام کا کوئی امتیاز باقی نہیں رہتا کیونکہ دیگر تمام مخلوق کو بھی اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت سے پیدا کیا ہے۔
3۔
حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ نے اس حدیث کی شرح کرتے ہوئے بعض اشعری ائمہ کے اقوال نقل کیے ہیں اور لغت سے اس لفظ کے تقریباً پچیس معانی ذکر کیے ہیں، لیکن اس سلسلے میں جو نصوص وارد ہیں ان کے پیش نظر اس کی تاویل کی ہے اور وہ صفت ید سے مراد نعمت اورقدرت لیتے ہیں، لیکن صفت ید کے یہ معنی ائمہ سلف سے ثابت نہیں۔
(شرح کتاب التوحید للغنیمان: 305/1)
4۔
واضح رہے کہ صفات باری تعالیٰ کے متعلق اہل تاویل کا مذہب باطل ہے اور صفات میں سب سے زیادہ تاویلیں اشاعرہ کی ہیں جو خود کو ابوالحسن اشعری کے پیروکار خیال کرتے ہیں لیکن افسوس کہ متاخرین اشاعرہ صحیح معنی میں اپنے امام کی پیروی کا حق ادا نہ کر سکے، چنانچہ عقیدے کے متعلق ابوالحسن اشعری کی زندگی تین مراحل پر مشتمل ہے۔
۔
پہلا مرحلہ اعتزال کا ہے۔
انھوں نے چالیس سال تک اعتزال (معتزلہ)
کا موقف اختیار کیے رکھا۔
اس کے اثبات کے لیے مناظرے کرتے اور اسے بڑی شدومد سے پیش کرتے تھے۔
۔
انھوں نے مذہب معتزلہ سے رجوع کرکے خالص اعتزال اورخالص سنت کے درمیان درمیان موقف اختیار کیا۔
یہ ابومحمد بن عبداللہ بن سعید بن کلاب کا منہج تھا اور وہ اس کے پیروکار بن گئے۔
۔
تیسرا اورآخری مرحلہ یہ ہے کہ انھوں نے ان تمام مذاہب سے رجوع کر کے خالص کتاب وسنت پر مبنی مسلک اختیار کیا اور اس سلسلے میں ایک معیاری کتاب (الإبانة عن أصول الديانة)
تالیف کرکے اپنا موقف پیش کیا۔
افسوس کہ متاخرین اشاعرہ نے ان کے اختیارکردہ دوسرے مرحلے کو اپنایا اور بیشتر صفات میں تاویل کی روش کو تھام لیا۔
اس سلسلے میں وہ سات صفات کو تاویل کے بغیر مانتے ہیں: وہ صفت حیات، علم، قدرت، کلام، ارادہ، سمع اوربصر ہے۔
ان صفات کے اثبات میں بھی اہل سنت سے کچھ انحراف پایا جاتا ہے۔
5۔
شارحین صحیح بخاری کی اکثریت اشاعرہ سے متعلق ہے، اس لیے وہ صفات کے متعلق تاویل کا راستہ اختیار کرتے ہیں۔
صفت ید کے متعلق بھی تاویل کرتے ہیں کہ اس سے مراد قدرت اور نعمت ہے جبکہ اس سے مراد حقیقی ہاتھ ہیں جن کی انگلیاں بھی ہیں، البتہ یہ ہاتھ مخلوق کے ہاتھوں جیسے نہیں ہیں۔
1۔
امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے اس حدیث کو انتہائی اختصار سے بیان کیا ہے۔
آپ نے ایک دوسری روایت کی طرف اشارہ کیا ہے جو پہلے گزر چکی ہے اس کے الفاظ یہ ہیں۔
’’لوگ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس جائیں گے تو وہ انھیں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس جانے کے متعلق کہیں گےکیونکہ انھیں اللہ نے تورات دی ان سے ہم کلام ہوا اور سر گوشی کے لیے انھیں اپنے قریب کیا۔
‘‘ (صحیح البخاري، التوحید، حدیث: 7440)
2۔
اس حدیث سے اللہ تعالیٰ کی صفت کلام ثابت ہوتی ہے اس سے معتزلہ کی تردید مقصود ہے جو کلام الٰہی کی تاویل کرتے ہیں کیونکہ اس حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو ہم کلامی کا شرف بخشا اور یہ گفتگو کسی واسطے اور ترجمان کے بغیر تھی۔
واللہ أعلم۔
اسی سے باب کا مطلب ثابت ہوتا ہے۔
اسی سے شفاعت کا اذن ثابت ہوتا ہے جو رسول کریم ﷺ کوعرش پر سجدہ میں ایک نامعلوم مدت تک رہنے کے بعد حاصل ہوگا۔
آپ اپنی امت کا اس درجہ خیال فرمائیں گے کہ جب تک ایک گنہگار موحد مسلمان بھی دوزخ میں باقی رہےگا آپ برابرشفاعت کےلیے اذن مانگتے رہیں گے۔
اللہ تعالیٰ قیامت کےدن ہرمومن مسلمان کو اور ہم سب قارئین بخاری کو اپنے حبیب کی شفاعت نصیب فرمائے آمین یارب العالمین۔
نیز یہ بھی روشن طور پر ثابت ہوا کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اپنے رسول کریم ﷺ سےاتنا اتنا خوش ہو کہ آپ کی ہر سفارش قبول کرے گا اور آپ کی سفارش سے دوزخ سے ہر اس موحد مسلمان کو بھی نجات دے دے گا جس کےدل میں ایک رائی کے دانہ یا اس سےبھی کم ترایمان ہوگا۔
یااللہ! ہم جملہ قارئین بخاری شریف کوروز محشر میں اپنے حبیب کی شفاعت نصیب فرمائیو جولوگ جہمیہ معتزلہ وغیرہ کلام الہی کےانکاری ہیں ان کا بھی اس حدیث سے خوب خوب رد ہوا۔
حضرت انس بن مالک خادم نبوی قبیلہ خزرج سے ہیں۔
رسول کریمﷺ کی دس سال خدمت کی۔
خلافت فاروقی میں بصرہ میں جا رہے تھے۔
سنہ 91ھ میں بعمر 103سال ایک سو اولاد ذکور و اناث چھوڑ کر بصرہ میں وفات پانے والے آخری صحابی ہیں۔
رضي اللہ عنه و أرضاہ۔
1۔
یہ حدیث پہلے(7410۔
7440)
بیان ہو چکی ہے۔
ہم نے وہاں اس اعتراض کا جواب دیا تھا کہ اس کی ابتدا اس کی انتہا سے ہم آہنگ نہیں کیونکہ اس کی ابتدا میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس شفاعت طلب کرنے والے عام لوگ ہیں جبکہ سفارش خاص اس اُمت کے لیے کی جا رہی ہے؟ نیز اس سفارش کا مطالبہ میدان محشر کا خوف وہراس دور کرنے کے لیے تھا جبکہ اس میں لوگوں کو دوزخ سے نکالنے کا ذکر ہے؟ ہم نے وہاں جواب دیا تھا کہ اس حدیث میں اختصار ہے کہ اس میں صرف امت محمدیہ کی سفارش پر اکتفا کیا گیا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سفارش کرنے کی اجازت دی جائے گی جس کا اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے وعدہ کیا ہے۔
وہ قیامت کے دن خوف وہراس کے ازالے کے لیے ہوگی۔
یہی وہ مقام محمود کی خصوصیت ہے جس میں کوئی اور نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا شریک نہیں ہے جہنم سے نکالنے کے متعلق دیگرانبیاء علیہم السلام بلکہ صلحائے امت بھی سفارش کریں گے۔
اس حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمائے گا کہ جس کے دل میں جو رائی کے دانے کے برابر بھی ایمان ہے اسے دوزخ سے نکال لاؤ۔
2۔
امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے اس سے ثابت کیا ہے کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اپنے انبیاء علیہم السلام سے ہم کلام ہوگا لیکن جہمیہ اور معتزلہ اسے تسلیم نہیں کرتے۔
ان کا کہنا ہے کہ آواز حروف سے کلام کرنا جسم کا خاصا ہے جس سے اللہ تعالیٰ پاک ہے۔
امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے اس حدیث سے ان کی خوب تردید فرمائی ہے کہ اللہ تعالیٰ کا کلام مبنی برحقیقت ہے اور وہ مخلوق کے کلام سے مشابہت نہیں رکھتا اور اللہ تعالیٰ کا کلام قرآن مجید کے علاوہ بھی ہے، نیز وہ غیر مخلوق ہے۔
دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں قیامت کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سفارش سے ہمکنار کرے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے تلے ہم سب کو جمع کرے۔
آمین یارب العالمین۔
پھر ان سب لوگوں کو جہنم سے نکالیں گے۔
جن میں ذرہ برابر بھی ایمان ہوگا۔
لیکن وہ شفاعت جو میدان حشر سے بہشت میں لے جانے کے لیے ہوگی وہ پہلے ان لوگوں کو نصیب ہوگی جو بغیر حساب و کتاب کے بہشت میں جائیں گے۔
پھر ان کے بعد ان لوگوں کو جو حساب کے بعد بہشت میں جائیں گے۔
قاضی عیاض نے کہا کہ شفاعتیں پانچ ہوں گی۔
ایک تو حشر کی تکالیف سے نجات دینے کے لیے، یہ ہمارے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم سے خاص ہے۔
اس کو شفاعت عظمیٰ کہتے ہیں اور مقام محمود بھی اسی مرتبہ کا نام ہے۔
دوسری شفاعت بعض لوگوں کو بے حساب جنت میں لے جانے کے لیے، تیسری حساب کے بعد ان لوگوں کو جو عذاب کے لائق ٹھہریں گے ان کو بے عذاب جنت میں لے جانے کے لیے۔
چوتھی شفاعت ان گنہگاروں کے لیے جو دوزخ میں ڈال دیے جائیں گے، ان کو نکالنے کے لیے۔
پانچویں شفاعت جنتیوں کی ترقی درجات کے لیے ہوگی۔
انبیاء کرام نے اپنی اپنی جن لغزشوں کا ذکر کیا وہ لغزشیں ایسی ہیں جو اللہ کی طرف سے معاف ہوچکی ہیں لیکن پھر بھی بڑوں کا مقام بڑا ہوتا ہے، اللہ پاک کو حق ہے وہ چاہے تو ان لغزشوں پر ان کو گرفت میں لے لے۔
اس خطرے کی بنا پر انبیاء کرام نے وہ جوابات دیے جو اس حدیث میں مذکور ہیں۔
آخری معاملہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ٹھہرا لیا۔
وہ مقام محمود ہے جو اللہ نے آپ کو عطا فرمایا ہے۔
﴿عسی ان یبعثک ربک مقاما محمودا﴾ (بني إسرائیل: 76)
قرآن نے جن کو جہنم کے لیے ہمیشہ کے واسطے روکا ان سے مراد مشرکین ہیں۔
﴿ان اللہ لا یغفران یشرک بہ﴾ (النساء: 47)
حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہی کو شفاعت کا اہل سمجھا۔
حافظ ابن حجر اس موقع پر فرماتے ہیں۔
ثم احتج عیسیٰ بأنه صاحب الشفاعة لأنه قد غفرله ماتقدم من ذنبه وما تأخر بمعنی أن اللہ أخبر أنه لا یواخذہ بذنبه لو وقع منه و هذا من النفائس التي فتح اللہ بها في فتح الباري فلله الحمد۔
یعنی یہ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اگلے پچھلے سارے گناہ معاف کر دیے ہیں۔
اس معنی سے بے شک اللہ تعالیٰ آپ کو یہ خبر دے چکا ہے کہ اگر آپ سے کوئی گناہ واقع ہو بھی جائے تو اللہ آپ سے اس کے بارے میں مواخذہ نہیں کرے گا۔
اس لیے شفاعت کا منصب درحقیقت آپ ہی کے لیے ہے۔
یہ ایک نہایت نفیس وضاحت ہے جو اللہ نے اپنے فضل سے فتح الباری میں کھولی ہے (فتح الباری)
(1)
اس حدیث کے آغاز میں جس شفاعت کا ذکر ہے اس سے مراد شفاعت کبریٰ ہے جو صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کریں گے اور کسی نبی کو وہاں بات کرنے کی ہمت نہیں ہو گی۔
حضرات انبیائے کرام علیہم السلام نے جن جن لغزشوں کا ذکر کیا ہے ان کی صراحت اس حدیث میں نہیں ہے دوسری احادیث میں ان کی تفصیل ذکر کی گئی ہے۔
یہ خطائیں اگرچہ اللہ تعالیٰ نے معاف کر دیں لیکن پھر بھی بڑے لوگوں کا مقام بھی بڑا ہوتا ہے۔
اللہ تعالیٰ کو یہ حق ہے کہ وہ ان لغزشوں کی بنا پر ان سے باز پرس کرے، اس لیے حضرات انبیاء علیہم السلام اپنی اپنی لغزشوں کو یاد کر کے اللہ تعالیٰ کے حضور بات کرنے کی ہمت نہیں پائیں گے، آخر کار معاملہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر آ کر ٹھہر جائے گا۔
یہی وہ مقام محمود ہے جو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ آپ کو عطا فرمائے گا۔
(2)
حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے ہمارے پیارے رسول حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو سفارش عظمیٰ کے اہل سمجھا اور فرمایا کہ ان کے اگلے پچھلے سب گناہ معاف کر دیے گئے ہیں۔
اللہ تعالیٰ آپ کو بتا چکا ہے کہ اگر آپ سے کوئی گناہ سرزد بھی ہو جائے تو اللہ تعالیٰ آپ سے مؤاخذہ نہیں کرے گا۔
اس بنا پر سفارش کرنے کا منصب صرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے خاص ہے۔
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ یہ ایک عمدہ اور نفیس وضاحت ہے جو اللہ تعالیٰ نے فتح الباری لکھتے وقت مجھے الہام کی ہے۔
(فتح الباري: 530/11) (3)
واضح رہے کہ سفارش کی کئی قسمیں ہیں جن کی تفصیل حسب ذیل ہے: ٭ میدان حشر کی تکلیف سے نجات دینے کے لیے سفارش کرنا، اسے شفاعت کُبریٰ کہتے ہیں اور یہ ہمارے رسول حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خاص ہے اور کوئی رسول یہ سفارش نہیں کرے گا۔
٭ بعض لوگوں کو حساب کے بغیر جنت میں داخلے کی سفارش کرنا۔
٭ جو لوگ حساب کے بعد عذاب کے حق دار ہوں گے، انہیں عذاب دیے بغیر جنت میں جانے کی سفارش کرنا۔
٭ جو لوگ دوزخ میں ڈال دیے جائیں گے، انہیں وہاں سے نکالنے کے لیے سفارش کرنا۔
اس حدیث کے آخر میں اسی قسم کی سفارش کا ذکر ہے۔
٭ اہل جنت کے درجات کو بلند کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ کے حضور سفارش کرنا۔
پہلی قسم کے علاوہ باقی سفارش کی اقسام میں انبیاء علیہم السلام، صلحاء اور شہداء وغیرہ سب شریک ہوں گے۔
واللہ أعلم
روز محشر میں آنحضرت ﷺکا ایک مکالمہ نقل ہوا ہے۔
اس سے باب کا مطلب ثابت ہوتا ہے۔
اللہ تعالیٰ روز قیامت آنحضرتﷺ اور دیگر بندوں سے کلام کرے گا۔
اس میں جہمیہ اورمعتزلہ کا رد ہے جواللہ کے کلام کرنے کا انکار کرتےہیں۔
یہ حدیث انتہائی مختصر ہے۔
مفصل حدیث اس کے بعد بیان ہوگی۔
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور اللہ رب العزت کا روز محشر ایک مکالمہ نقل ہوا ہے۔
اللہ تعالیٰ روزقیامت اپنے حبیب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے ہم کلام ہوگا۔
اس میں معتزلہ اور جہمیہ کا رد ہے جو اللہ تعالیٰ کے کلام کرنے کا انکار کرتے ہیں۔
امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے اسی مکالمے سے اپنے قائم کیے ہوئے عنوان کو ثابت کیا ہے۔
آدم ؑ کو سب چیزوں کے نام سکھائے اور ان کی اولاد کے اندر ایسی قوت پیدا کردی کہ وہ دنیا میں ہر زبان کو دیکھ سکیں اورسارے اسماء کو جان سکیں۔
1۔
امام بخاریؒ کا تفسیر قرآن کے سلسلے میں ایک انداز ہے کہ اگرقرآن کے الفاظ کسی حدیث میں آئے ہوں تو اس حدیث کو تفسیر کے اسلوب میں بیان کردیتے ہیں۔
مذکورہ روایت کا تذکرہ بھی اسی پہلو سے ہے کیونکہ اس روایت میں اہل ایمان کا حضرت آدم ؒ سے یہ کہنا مذکور ہے: "اللہ تعالیٰ نے آپ کو تمام چیزوں کے نام سکھائے۔
" اسی مناسبت سے اس حدیث کو﴿وَعَلَّمَ آدَمَ الْأَسْمَاءَ كُلَّهَا﴾ کی تفسیر میں بیان کیا ہے۔
2۔
واضح رہے کہ اس حدیث میں شفاعت کبریٰ کا بیان ہے لیکن سوال پیدا ہوتا ہے کہ جنت میں داخلے کی سفارش تو شفاعت صغریٰ ہے، حالانکہ ذکر شفاعت کبریٰ کا ہے، یعنی حساب وکتاب شروع ہوجائے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ حدیث کےالفاظ: "میں اپنے رب سے اجازت طلب کروں گا تو اجازت مل جائے گی۔
" تک شفاعت کبریٰ کا بیان ہے، اس کے بعد شفاعت صغریٰ کا ذکر ہے۔
(شرح العقیدہ الطحاویة، ص: 163)
3۔
اس امر کی نشاندہی بھی ضروری ہے کہ جن لوگوں کے متعلق ہمیشہ کے لیے جہنم میں رہنا قراردیاگیا ہے ان میں سے چند حسب ذیل ہیں:۔
جو اللہ کی ذات وصفات اور اختیارات میں کسی کوشریک کرے۔
(البینة: 6: 98)
۔
اور جو اللہ اور اسکے رسول (صلی اللہ علیه وسلم)
کی نافرمانی کرے۔
اور اللہ کی قائم کردہ حدود سے تجاوز کرے۔
(النسآء: 14: 4)
۔
جو کسی مسلمان کو ناحق قتل کرے۔
(النسآء: 93: 4)
۔
جو بدکاری اور زنا کرے۔
۔
جو بزدلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے میدان جنگ سے بھاگ جائے۔
(الفرقان: 68/25، 69)
۔
جواللہ کے قوانین کے خلاف زندگی بسر کرے۔
(الأنفال: 8: 16)
: (1)
جَبَّان: صحراء و جنگل یا قبرستان۔
(2)
ظَهْرِ الْجَبَّانِ: جبان کے اوپر، اس کی بلندی پر۔
(3)
هِيَهِ: اپنی بات جاری رکھیے، اور سنائیے۔
(4)
جَمِيعٌ: قوت حفظ مجتمع تھے، یعنی بڑھاپے کی بنا پر قویٰ کمزور نہیں ہوئے تھے۔
(5)
وَكِبْرِيَائِي: میری بڑائی کی قسم۔
(6)
وَجِبْرِيَائِي: میری قوت و غلبہ کی قسم۔
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” مومن قیامت کے دن جمع ہوں گے اور ان کے دلوں میں ڈال دیا جائے گا، یا وہ سوچنے لگیں گے، (یہ شک راوی حدیث سعید کو ہوا ہے)، تو وہ کہیں گے: اگر ہم کسی کی سفارش اپنے رب کے پاس لے جاتے تو وہ ہمیں اس حالت سے راحت دے دیتا، وہ سب آدم علیہ السلام کے پاس آئیں گے، اور کہیں گے: آپ آدم ہیں، سارے انسانوں کے والد ہیں، اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنے ہاتھ سے پیدا کیا، اور اپنے فرشتوں سے آپ کا سجدہ کرایا، تو آپ اپنے رب سے ہماری سفارش کر دیجئیے کہ وہ ہمیں اس جگہ سے نجات دیدے، آپ فرمائیں گے: میں اس قاب۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4312]
فوائد ومسائل: (1)
قیامت کے مراحل انتہائی شدید ہون گے لہٰذا ان مراحل میں آسانی کے لیے زیادہ سے زیادہ نیکییاں کرنےکی اور برائیوں سے زیادہ سے زیادہ پرہیز کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
(2)
انبیاء کرام پر بھی قیامت کے دن خشیت الہی کی کیفیت کا غلبہ ہوگا اور انھیں اپنی معاف شدہ لغزشیں بھی بڑے گناہوں کی طرح۔
خطرناک محسوس ہوگی۔
(3)
لوگ انبیاء کرام کو انکا بلند مقام اور فضائل یاد دلا کر کوشش کریں گے کہ وہ اللہ سے انکی شفاعت کریں لیکن ہر نبی دوسرے نبی کے پاس جانے کا مشورہ دے کر خود شفاعت کرنے سے معذرت کرلے گا۔
(4)
شفاعت کبرٰی کا مقام نبیﷺ کے لیے مخصوص ہے۔
اس لیے جب نبیﷺ کو کہا جائیگا تو آپﷺ معذرت نہیں کریں گے۔
(5)
آپﷺ کے قلب مبارک میں بھی اللہ تعالی کی عظمت کا احساس پوری طرح موجود ہوگا اس لیے براہ راست اصل مقصود عرض کرنے کی بجائےپہلے سجدہ کرکے اللہ کی حمد و ثناء بیان کریں گے۔
(6)
سجدہ بندے کو اللہ کا قرب بخشنے والی عظیم عبادت ہےاور دعا کے آداب میں یہ شامل ہے۔
کہ پہلے حمد و ثناء بیان کی جائےاور درود پڑھا جائے پھر دعا کی جائے۔
(7)
رسولﷺ اللہ تعالی سے اجازت طلب کریں گے۔
پھر مقام شفاعت پہ تشریف لے جائیں گے۔
کیونکہ اللہ تعالی مالک الملک اور شہنشاہ ہے۔
اور نبیﷺ اس کے ایک مقرب بندے ہیں جو درخواست پیش کر سکتے ہیں۔
اور قبولیت کی امید رکھ سکتے ہیں لیکن اللہ کے حکم کے برعکس کچھ نہیں کر سکتے۔
(8)
رسولﷺ عالم الغیب نہیں تھے اس لیے اللہ کی اس وقت جو تعریفیں کریں گے وہ اسی وقت سکھائی جائیں گی۔
پہلے سے معلوم نہیں ہوگی۔
(9)
رسول اللہﷺ بھی اللہ کی اجازت کے بغیر شفاعت نہیں فرمائیں گے اور جو شفاعت ملے گی وہ بھی لامحدود نہیں ہوگی۔
(10)
سب لوگوں کے ایمان برابر نہیں ہوتے بلکہ کم و بیش ہوتا ہے۔
اسی طرح ایک شخص کے ایمان میں بھی اس کے اعمال کی وجہ سے کمی بیشی ہوتی رہتی ہے۔
جنھیں قرآن نے روک دیا وہ نبی پہ ایمان نہ لانے والے اور شرک اکبر کے مرتکب اعتقادی اور منافق ہے۔
جن پہ جنت حرام ہے۔
ان کے حق میں کسی کو سفارش کرنے کی اجازت نہیں دی جائیگی۔