صحيح مسلم
كتاب الإيمان— ایمان کے احکام و مسائل
باب الْأَمْرِ بِالْإِيمَانِ بِاللَّهِ تَعَالَى وَرَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَشَرَائِعِ الدِّينِ وَالدُّعَاءِ إِلَيْهِ وَالسُّؤَالِ عَنْهُ وَحِفْظِهِ وَتَبْلِيغِهِ مَنْ لَمْ يَبْلُغْهُ باب: اللہ و رسول اور دینی احکام پر ایمان لانے کا حکم کرنا اور اس کی طرف لوگوں کو بلانا دین کی باتوں کو پوچھنا یاد رکھنا اور دوسروں کو پہنچانا۔
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ أَيُّوبَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَنْ لَقِيَ الْوَفْدَ ، الَّذِينَ قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عَبْدِ الْقَيْسِ ، قَالَ سَعِيدٌ : وَذَكَر قَتَادَةُ أَبَا نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ فِي حَدِيثِهِ هَذَا ، أَنَّ أُنَاسًا مِنْ عَبْدِ الْقَيْسِ ، قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالُوا : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، إِنَّا حَيٌّ مِنْ رَبِيعَةَ ، وَبَيْنَنَا وَبَيْنَكَ كُفَّارُ مُضَرَ ، وَلَا نَقْدِرُ عَلَيْكَ إِلَّا فِي أَشْهُرِ الْحُرُمِ ، فَمُرْنَا بِأَمْرٍ نَأْمُرُ بِهِ مَنْ وَرَاءَنَا وَنَدْخُلُ بِهِ الْجَنَّةَ ، إِذَا نَحْنُ أَخَذْنَا بِهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " آمُرُكُمْ بِأَرْبَعٍ وَأَنْهَاكُمْ عَنْ أَرْبَعٍ ، اعْبُدُوا اللَّهَ وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا ، وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ ، وَآتُوا الزَّكَاةَ ، وَصُومُوا رَمَضَانَ ، وَأَعْطُوا الْخُمُسَ مِنَ الْغَنَائِمِ ، وَأَنْهَاكُمْ عَنْ أَرْبَعٍ ، عَنِ الدُّبَّاءِ ، وَالْحَنْتَمِ ، وَالْمُزَفَّتِ ، وَالنَّقِيرِ " ، قَالُوا : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، مَا عِلْمُكَ بِالنَّقِيرِ ؟ قَالَ : بَلَى ، جِذْعٌ تَنْقُرُونَهُ فَتَقْذِفُونَ فِيهِ مِنَ الْقُطَيْعَاءِ ، قَالَ سَعِيدٌ أَوَ قَالَ : مِنَ التَّمْرِ ، ثُمَّ تَصُبُّونَ فِيهِ مِنَ الْمَاءِ ، حَتَّى إِذَا سَكَنَ غَلَيَانُهُ شَرِبْتُمُوهُ ، حَتَّى إِنَّ أَحَدَكُمْ أَوْ إِنَّ أَحَدَهُمْ لَيَضْرِبُ ابْنَ عَمِّهِ بِالسَّيْفِ ، قَالَ : وَفِي الْقَوْمِ رَجُلٌ أَصَابَتْهُ جِرَاحَةٌ كَذَلِكَ ، قَالَ : وَكُنْتُ أَخْبَأُهَا حَيَاءً مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقُلْتُ : فَفِيمَ نَشْرَبُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : فِي أَسْقِيَةِ الأَدَمِ الَّتِي يُلَاثُ عَلَى أَفْوَاهِهَا ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ أَرْضَنَا كَثِيرَةُ الْجِرْذَانِ ، وَلَا تَبْقَى بِهَا أَسْقِيَةُ الأَدَمِ ، فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : وَإِنْ أَكَلَتْهَا الْجِرْذَانُ ، وَإِنْ أَكَلَتْهَا الْجِرْذَانُ ، وَإِنْ أَكَلَتْهَا الْجِرْذَانُ ، قَالَ : وَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَشَجِّ عَبْدِ الْقَيْسِ : " إِنَّ فِيكَ لَخَصْلَتَيْنِ يُحِبُّهُمَا اللَّهُ ، الْحِلْمُ وَالأَنَاةُ " .قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں مجھے اس شخص نے بتایا جس نے عبدالقیس کے اس وفد سے ملاقات کی تھی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تھا۔ سعید رحمہ اللہ کہتے ہیں قتادہ رحمہ اللہ نے ابو نضرہ رحمہ اللہ کے واسطہ سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے ان کی یہ روایت بیان کی کہ عبدالقیس کے کچھ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! ہم ربیعہ کے لوگ ہیں اور ہمارے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان مضر قبیلہ جو کافر ہے، حائل ہے اور ہم حرمت والے مہینوں کے علاوہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تک نہیں پہنچ سکتے، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں ایسا حکم بتائیے جو ہم اپنے پچھلوں تک پہنچائیں اور اس پر عمل کر کے جنت میں داخل ہو جائیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تمہیں چار چیزوں کا حکم دیتا ہوں اور چار چیزوں سے روکتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ کی بندگی کرو اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہراؤ، نماز کی پابندی کرو، زکوٰۃ دیتے رہو، رمضان کے روزے رکھو اور غنیمتوں میں سے پانچواں حصہ ادا کرو اور میں تمہیں چار چیزوں سے روکتا ہوں، خشک کدو کے برتن سے، سبز مٹکے سے، لکڑی کے تراشے ہوئے برتن اور تار کول ملے برتن سے۔“ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! نقیر کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم جانتے ہیں؟ فرمایا: ”کیوں نہیں، تنا، تم اسے اندر سے کریدتے ہو، اس میں کھجوریں ڈالتے ہو۔“ سعید رحمہ اللہ کہتے ہیں یا آپ نے کہا تمر (چھوہارے) ڈالتے ہو، پھر اس میں پانی ڈالتے ہو جب اس کا جوش ساکن ہو جاتا ہے (یعنی جوش ختم ہو جاتا ہے) اسے پی لیتے ہو، یہاں تک کہ تم میں سے ایک یا ان میں سے ایک اپنے چچا زاد کو تلوار کا نشانہ بناتا ہے۔ لوگوں میں ایک آدمی تھا جس کو اسی صورت میں ایک زخم لگا تھا۔ وہ کہتا ہے کہ میں اسے حیا و شرم کی بنا پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے چھپاتا تھا تو میں نے پوچھا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! ہم کس چیز میں پیا کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چمڑے کی ان مشکوں میں پیو جن کے منہ بندھے ہوئے ہوں۔“ اہل وفد نے کہا: اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم! ہماری زمین میں چوہے بہت ہیں وہاں چمڑے کے مشکیزے نہیں بچ سکتے تو اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگرچہ ان کو چوہے کھا لیں اگرچہ ان کو چوہے کاٹ لیں۔“ راوی کا بیان ہے کہ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالقیس کے اشج سے فرمایا: ”تمہارے اندر دو ایسی خوبیاں ہیں جو اللہ تعالیٰ کو محبوب ہیں، عقل و دانشمندی اور تحمل و ٹھہراؤ۔“
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي غَيْرُ وَاحِدٍ لَقِيَ ذَاكَ الْوَفْدَ ، وَذَكَرَ أَبَا نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّ وَفْدَ عَبْدِ الْقَيْسِ ، لَمَّا قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ عُلَيَّةَ ، غَيْرَ أَنَّ فِيهِ : وَتَذِيفُونَ فِيهِ مِنَ الْقُطَيْعَاءِ أَوِ التَّمْرِ وَالْمَاءِ ، وَلَمْ يَقُلْ قَالَ سَعِيد أَوَ قَالَ : مِنَ التَّمْرِ .قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں مجھے بہت سے ان لوگوں نے جن کی ملاقات عبدالقیس کے وفد سے ہوئی تھی، حدیث سنائی اور ابو نضرہ رحمہ اللہ نے ابو سعید الخدری رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ جب عبدالقیس کا وفد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا پھر ابن علیہ کی حدیث جیسی حدیث بیان کی۔ ہاں اس میں یہ الفاظ ہیں تم اس میں چھوٹی کھجوریں ڈالتے ہو اور چھوہارے اور پانی اور اس میں سعید رحمہ اللہ کا قول «أَوْ قَالَ مِنَ التَّمْرِ» یا چھوہارے نہیں ہے۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارٍ الْبَصْرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ . ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ وَاللَّفْظُ لَهُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبُو قَزَعَةَ ، أَنَّ أَبَا نَضْرَةَ أَخْبَرَهُ ، وَحَسَنًا أَخْبَرَهُمَا ، أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّأَخْبَرَهُ ، أَنَّ وَفْدَ عَبْدِ الْقَيْسِ ، لَمَّا أَتَوْا نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالُوا : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، جَعَلَنَا اللَّهُ فِدَاءَكَ ، مَاذَا يَصْلُحُ لَنَا مِنَ الأَشْرِبَةِ ؟ فَقَالَ : " لَا تَشْرَبُوا فِي النَّقِيرِ " ، قَالُوا : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، جَعَلَنَا اللَّهُ فِدَاءَكَ ، أَوَ تَدْرِي مَا النَّقِيرُ ؟ قَالَ : " نَعَمْ ، الْجِذْعُ يُنْقَرُ وَسَطُهُ ، وَلَا فِي الدُّبَّاءِ ، وَلَا فِي الْحَنْتَمَةِ ، وَعَلَيْكُمْ بِالْمُوكَى " .محمد بن بکار بصری، عاصم بن جریج، محمد بن رافع، عبدالرزاق، ابن جریج، ابوقرعہ، ابونضرہ، ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب قبیلہ عبدالقیس کا وفد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! ہم آپ پر قربان، کون سے برتن میں پینا حلال ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لکڑی کے برتن میں نہ پیا کرو۔“ لوگوں نے کہا: یا رسول اللہ! لکڑی کا کھٹلا کیا ہوتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لکڑی کو اندر سے کھود کر برتن بنانے کو کھٹلا کہتے ہیں اور لکڑی کے تونبے میں بھی نہ پیا کرو اور سبز کھڑی میں بھی نہ پیا کرو، مگر چمڑے کے برتن میں پی لیا کرو جس کا منہ ڈوری سے باندھ دیا جاتا ہو۔“
تشریح، فوائد و مسائل
(1)
جِذْعٌ: کھجور کے درخت کا تنا یا نچلا حصہ۔
(2)
أَسْقِيَةِ: تم ڈالتے ہو۔
(3)
الْقُطَيْعَاء: کھجوروں کی ایک قسم ہے، جو چھوٹی چھوٹی ہوتی ہیں۔
(4)
تَصُبُّونَ: تم ڈالتے ہوئے یا انڈیلتے ہو۔
(5)
سَكَنَ غَلَيَانَه: جوش کا ماند پڑنا اور اس کا تھم جانا۔
(6)
أَسْقِيَة: سِقَاءٌ کی جمع ہے مشک، مشکیزہ۔
(7)
الْأَدَمِ، أَدِيم: کی جمع ہے چمڑا، جِرذَانٌ جیم کے کسرہ کے ساتھ، جُرذ کی جمع ہے، چوہوں کی ایک قسم ہے۔
فوائد ومسائل: (1)
جب انسان نشہ آور چیز استعمال کرتا ہے تو ا س کی عقل ماؤف ہوجاتی ہے اور وہ عقل وشعور سے محروم ہو کر دوست دشمن میں امتیاز نہیں کر سکتا، اپنے قریبی عزیز تک کو نقصان پہنچاتا ہے، اس لیے شریعت اسلامیہ میں نشہ آور اشیاء کے استعمال کو ممنوع قرار دیا گیا ہے۔
(2)
جب شریعت کسی چیز سے روک دے تو اس کی اجازت کے لیے عذر اور بہانے تلاش کرنا درست نہیں، اس لیے آپ (ﷺ) نے فرمایا: ’’اگرچہ مشکیزوں کو چوہے کاٹ لیں۔
‘‘ کسی کی حوصلہ افزائی کےلیے اس کی خوبیوں کا اس کے سامنے اعتراف کرنا درست ہے۔
(4)
ایمان اور اسلام: مترادف یا ہم معنی ہیں، اس لیے آپ نے وفد عبد القیس کے سامنے ایمان کی تفسیر وتشریح میں انہی اعمال کا تذکرہ فرمایا، جن کو عبد اللہ بن عمر (رضی اللہ عنہما)
کی حدیث میں اسلام کے تحت شمار کیا گیا ہے۔
(5)
مسائل پوچھنے کےلیے اہل علم کے پاس وفد بھیجنا درست ہے تا کہ وہ آکر پیچھے رہ جانے والے لوگوں کو آگاہ کریں۔
(6)
اہل علم کے سامنے اپنا صحیح عذر پیش کرنا تا کہ بار بار آنے کی زحمت نہ اٹھانی پڑے۔
(7)
آنے والوں کے سامنے مسرت وشادمانی کا اظہار کرنا اور انہیں خوش آمدید کہنا تا کہ انہیں اپنی آمد کا مقصد بیان کرنے میں سہولت اور آسانی پیدا ہو، بہتر ہے۔
(8)
بات سمجھنے کےلیے دوبارہ پوچھنا جائز ہے۔