صحيح مسلم
كتاب الإيمان— ایمان کے احکام و مسائل
باب فِي قَوْلِهِ عَلَيْهِ السَّلاَمُ: «نُورٌ أَنَّى أَرَاهُ». وَفِي قَوْلِهِ: «رَأَيْتُ نُورًا»: باب: اس بات کا بیان کہ یہ فرمانا وہ تو نور ہے میں اس کو کیسے دیکھ سکتا ہوں اور یہ فرمان کہ میں نے نور دیکھا۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هَلْ رَأَيْتَ رَبَّكَ ؟ قَالَ : نُورٌ أَنَّى أَرَاهُ " .یزید بن ابراہیم نے قتادہ سے، انہوں نے عبداللہ بن شقیق سے اور انہوں نے حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: ”کیا آپ نے اپنے رب کو دیکھا؟“ آپ نے جواب دیا: ”وہ نور ہے، میں اسے کہاں سے دیکھوں!‘‘
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي . ح وحَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ كِلَاهُمَا ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ ، قَالَ : قُلْتُ لِأَبِي ذَرٍّ : لَوْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَسَأَلْتُهُ ، فَقَالَ : عَنْ أَيِّ شَيْءٍ كُنْتَ تَسْأَلُهُ ؟ قَالَ : كُنْتُ أَسْأَلُهُ ، هَلْ رَأَيْتَ رَبَّكَ ؟ قَالَ أَبُو ذَرٍّ : قَدْ سَأَلْتُ ، فَقَالَ : " رَأَيْتُ نُورًا " .ہشام اور ہمام دونوں نے دو مختلف سندوں کے ساتھ قتادہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے عبداللہ بن شقیق سے، انہوں نے کہا: میں نے ابوذر رضی اللہ عنہ سے کہا: ”اگر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھتا تو آپ سے سوال کرتا۔“ ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”تم ان سے کس چیز کے بارے میں سوال کرتے؟“ عبداللہ بن شقیق نے کہا: ”میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کرتا کہ کیا آپ نے اپنے رب کو دیکھا ہے۔“ ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”میں نے آپ سے (یہی) سوال کیا تھا تو آپ نے فرمایا: ’میں نے نور دیکھا۔‘‘“
تشریح، فوائد و مسائل
«نُورٌ أَنَّى أَرَاهُ» کو محدثین نے مختلف طریقہ سے پڑھا ہے، ایک صورت وہی جس کے مطابق معنی کیا گیا ہے، اور اس کا مقصد یہ ہے، کہ اس کا حجاب نور ہے۔
یعنی وہ نور سے مستور ہے، نور کی وجہ سے اس کو دیکھا نہیں جا سکتا، نور سے آنکھیں چکا چوند ہوجاتی ہیں، اس لیے اس کو دیکھا نہیں جا سکتا۔
بعض نے اس کو "نَوْرَانِيٌّ أَرَاہُ" پڑھا ہے، یعنی نور کی نسبت کی ہے اور نون کا اضافہ کرکے نُوْرِيٌّ کے بجائے نُوْرَانِيٌّ کہا ہے، ’’کہ وہ نورانی ہے، میں اس کو دیکھتا ہوں۔
‘‘ بعض پڑھتے ہیں "نُوْرٌ إِنِّيْ أَرَاہُ" ’’وہ نور ہے، میں اس کو دیکھ رہا ہوں‘‘ بعض پڑھتے ہیں: «نُورٌ أَنَّى أَرَاهُ» یعنی: نُوْرٌ أَیْنَ أَرَاہُ ’’جہاں سے بھی دیکھوں وہ نور ہے۔
‘‘ اگلی حدیث: (رَأَیْتُ نُوْرًا)
’’میں نے نور کو دیکھا ہے۔
‘‘ سے اس کی تائید ہوتی ہے۔
اور علامہ آلوسی کا خیال ہے کہ «نُورٌ أَنَّى أَرَاهُ» میں نور پر تنوین، تعظیم کے لیے نہیں ہے، اس لیے معنی ہے ’’ایک قسم کا نور دیکھا ہے، جس کا پردے کی اوٹ سے ظہور ہوا تھا۔
‘‘ شب معراج، نبی اکرم ﷺ نے اللہ تعالیٰ کو دیکھا تھا یا نہیں؟ اس بارے میں حضرت عائشہؓ، حضرت ابن مسعودؓ، وغیرہما کا نظریہ تو یہ ہے، کہ آپ ﷺ نے اللہ تعالیٰ کو نہیں دیکھا۔
لیکن حضرت ابن عباسؓ، حضرت ابو ذرؓ اور حضرت کعبؓ کا نظریہ ہے، کہ آپ ﷺ نے اللہ تعالیٰ کو دیکھا ہے۔
حضرت ابن عباسؓ سے رؤیتِ قلبی اور رؤیتِ بصری دونوں منقول ہیں۔
(فتح الملہم: 1/336، فتح الباری: 8/774)
علامہ آلوسی نے اس طرح حضرت عائشہؓ اور حضرت ابن عباسؓ کے قول میں تطبیق دی ہے، کہ بقول بعض حضرت عائشہؓ نے جس رؤیت کی نفی کی ہے، اس سے مراد اللہ تعالیٰ کا وہ اصلی نور ہے، جس پر کوئی آنکھ ٹک نہیں سکتی ہے، اور حضرت ابن عباسؓ کا مقصد اس نور کو دیکھنا ہے، جو آنکھوں کو چکا چوند نہیں کرتا۔
(فتح الملہم: 1/339)
اور﴿لَّا تُدْرِكُهُ الْأَبْصَارُ﴾ کو حضرت عائشہؓ سے اپنی تائید میں پیش کیا ہے۔
اس کا معنی ہے، ’’احاطہ کرنا گھیرنا‘‘ اور اللہ تعالیٰ کا احاطہ ممکن نہیں ہے۔
ادراک واحاطہ کی نفی سے رؤیت کی نفی نہیں ہوتی، سورۂ شعراء میں ہے: ﴿فَلَمَّا تَرَاءَى الْجَمْعَانِ قَالَ أَصْحَابُ مُوسَىٰ إِنَّا لَمُدْرَكُونَ﴾ (الشعراء: 61)
’’اور جب دونوں جماعتوں نے ایک دوسرے کو دیکھ لیا تو موسیٰؑ کے ساتھیوں نے کہا، ہم یقینا گھیرے میں آگئے۔
‘‘ موسیٰؑ نے جواب دیا: کَلّا ’’ہرگز نہیں۔
‘‘ یہاں دونوں جماعتوں کے لیے رؤیت ثابت کی گئی ہے، لیکن جب موسیٰؑ کے ساتھیوں نے ادراک کا خطرہ پیش کیا، تو حضرت موسیٰؑ نے ادراک (احاطہ)
کی نفی کر دی، اس لیے سورۂ انعام کی آیت میں ادرا ک کی نفی ہے، رؤیت کی نفی نہیں۔
مزید برآں دنیا میں دیکھنے کی نفی ہے، لیکن دوسری آیات اور صحیح احادیث میں قیامت کے دن تمام مومنوں کے لیے رؤیت ثابت ہے اور نبی اکرم ﷺ کو بھی رویت آسمانوں پرہوئی ہے، اس لیے اس میں کسی قسم کا استحالہ نہیں، اللہ تعالیٰ نے آپ کی آنکھوں میں اس قدر قوت پیدا کر دی کہ آپ کے لیے دیکھنا ممکن ہو گیا۔
(ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب)