صحيح مسلم
كتاب الإيمان— ایمان کے احکام و مسائل
باب فِي ذِكْرِ الْمَسِيحِ ابْنِ مَرْيَمَ وَالْمَسِيحِ الدَّجَّالِ: باب: مسیح ابن مریم اور مسیح دجال کا بیان۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " أَرَانِي لَيْلَةً عِنْدَ الْكَعْبَةِ ، فَرَأَيْتُ رَجُلًا آدَمَ كَأَحْسَنِ مَا أَنْتَ رَاءٍ مِنْ أُدْمِ الرِّجَالِ ، لَهُ لِمَّةٌ كَأَحْسَنِ مَا أَنْتَ رَاءٍ مِنَ اللِّمَمِ ، قَدْ رَجَّلَهَا ، فَهِيَ تَقْطُرُ مَاءً مُتَّكِئًا عَلَى رَجُلَيْنِ ، أَوْ عَلَى عَوَاتِقِ رَجُلَيْنِ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ ، فَسَأَلْتُ مَنْ هَذَا ؟ فَقِيلَ : هَذَا الْمَسِيحُ ابْنُ مَرْيَمَ ، ثُمَّ إِذَا أَنَا بِرَجُلٍ جَعْدٍ ، قَطَطٍ أَعْوَرِ الْعَيْنِ الْيُمْنَى ، كَأَنَّهَا عِنَبَةٌ طَافِيَةٌ ، فَسَأَلْتُ : مَنْ هَذَا ؟ فَقِيلَ : هَذَا الْمَسِيحُ الدَّجَّالُ " .مالک (بن انس) نے نافع سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے ایک رات اپنے آپ کو کعبہ کے پاس دیکھا تو میں نے ایک گندم گوں شخص دیکھا، گندم گوں لوگوں میں سے سب سے خوبصورت تھا جنہیں تم دیکھتے ہو، ان کی لمبی لمبی لٹیں تھیں جو ان لٹوں میں سے سب سے خوبصورت تھیں جنہیں تم دیکھتے ہو، ان کو کنگھی کی ہوئی تھی اور ان میں سے پانی کے قطرے ٹپک رہے تھے، دو آدمیوں کا (یا دو آدمیوں کے کندھوں کا) سہارا لیا ہوا تھا۔ وہ بیت اللہ کا طواف کر رہے تھے۔ میں نے پوچھا: ’یہ کون ہیں؟‘ کہا گیا: ’یہ مسیح ابن مریم علیہ السلام ہیں۔‘ پھر اچانک میں نے ایک آدمی دیکھا، الجھے ہوئے گھنگریالے بالوں والا، دائیں آنکھ کانی تھی، جیسے انگور کا ابھرا ہوا دانہ ہو، میں نے پوچھا: ’یہ کون ہے؟‘ تو کہا گیا: ’یہ مسیح دجال (جھوٹا یا مصنوعی مسیح) ہے۔‘“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاق الْمُسَيَّبِيُّ ، حَدَّثَنَا أَنَسٌ يَعْنِي ابْنَ عِيَاضٍ ، عَنْ مُوسَى وَهُوَ ابْنُ عُقْبَةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا بَيْنَ ظَهْرَانَيِ النَّاسِ الْمَسِيحَ الدَّجَّالَ ، فَقَالَ : إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى لَيْسَ بِأَعْوَرَ ، أَلَا إِنَّ الْمَسِيحَ الدَّجَّالَ أَعْوَرُ عَيْنِ الْيُمْنَى ، كَأَنَّ عَيْنَهُ عِنَبَةٌ طَافِيَةٌ ، قَالَ : وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَرَانِي اللَّيْلَةَ فِي الْمَنَامِ عِنْدَ الْكَعْبَةِ ، فَإِذَا رَجُلٌ آدَمُ كَأَحْسَنِ مَا تَرَى مِنْ أُدْمِ الرِّجَالِ ، تَضْرِبُ لِمَّتُهُ بَيْنَ مَنْكِبَيْهِ ، رَجِلُ الشَّعْرِ يَقْطُرُ رَأْسُهُ مَاءً ، وَاضِعًا يَدَيْهِ عَلَى مَنْكِبَيْ رَجُلَيْنِ ، وَهُوَ بَيْنَهُمَا يَطُوفُ بِالْبَيْتِ ، فَقُلْتُ : مَنْ هَذَا ؟ فَقَالُوا : الْمَسِيحُ ابْنُ مَرْيَمَ ، وَرَأَيْتُ وَرَاءَهُ رَجُلًا جَعْدًا قَطَطًا ، أَعْوَرَ عَيْنِ الْيُمْنَى ، كَأَشْبَهِ مَنْ رَأَيْتُ مِنَ النَّاسِ بِابْنِ قَطَنٍ ، وَاضِعًا يَدَيْهِ عَلَى مَنْكِبَيْ رَجُلَيْنِ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ ، فَقُلْتُ : مَنْ هَذَا ؟ قَالُوا : هَذَا الْمَسِيحُ الدَّجَّالُ " .موسیٰ بن عقبہ نے نافع سے روایت کی، انہوں نے کہا: حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن لوگوں کے سامنے مسیح دجال کا تذکرہ کیا اور فرمایا: ”اللہ تبارک وتعالیٰ کانا نہیں ہے، خبردار رہنا! مسیح دجال دائیں آنکھ سے کانا ہے جیسے انگور کا بے نور دانہ ہو۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے رات اپنے آپ کو نیند میں کعبہ کے پاس دیکھا تو میں نے ایک گندم گوں شخص دیکھا، گندم گوں لوگوں میں سب سے زیادہ خوبصورت تھا جنہیں تم دیکھتے ہو۔ اس کے سر کی لٹیں کندھوں کے درمیان تک لٹک رہی تھیں، بال کنگھی کیے ہوئے، سر سے پانی ٹپک رہا تھا اور اس نے اپنے دونوں ہاتھ دو آدمیوں کے کندھوں پر رکھے ہوئے تھے اور ان دونوں کے درمیان بیت اللہ شریف کا طواف کر رہا تھا، میں نے پوچھا: ’یہ کون ہیں؟‘ تو انہوں نے (جواب دینے والوں نے) کہا: ’یہ مسیح ابن مریم ہیں۔‘ میں نے ان کے پیچھے ایک آدمی دیکھا، اس کے بال الجھے ہوئے گھنگریالے تھے، دائیں آنکھ سے کانا، جن لوگوں کو میں نے دیکھا ہے ان میں وہ سب سے زیادہ (عبدالعزیٰ) ابن قطن کے مشابہ تھا، اس نے اپنے دونوں ہاتھ دو آدمیوں کے کندھوں پر رکھے ہوئے بیت اللہ کا طواف کر رہا تھا، میں نے پوچھا: ’یہ کون ہے؟‘ انہوں نے کہا: ’یہ مسیح دجال ہے۔‘“
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا حَنْظَلَةُ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " رَأَيْتُ عِنْدَ الْكَعْبَةِ ، رَجُلًا آدَمَ سَبِطَ الرَّأْسِ ، وَاضِعًا يَدَيْهِ عَلَى رَجُلَيْنِ ، يَسْكُبُ رَأْسُهُ أَوْ يَقْطُرُ رَأْسُهُ ، فَسَأَلْتُ : مَنْ هَذَا ؟ فَقَالُوا : عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ أَوْ الْمَسِيحُ ابْنُ مَرْيَمَ ، لَا نَدْرِي أَيَّ ذَلِكَ ، قَالَ : وَرَأَيْتُ وَرَاءَهُ رَجُلًا أَحْمَرَ ، جَعْدَ الرَّأْسِ ، أَعْوَرَ الْعَيْنِ الْيُمْنَى ، أَشْبَهُ مَنْ رَأَيْتُ بِهِ ابْنُ قَطَنٍ ، فَسَأَلْتُ : مَنْ هَذَا ؟ فَقَالُوا : الْمَسِيحُ الدَّجَّالُ " .حنظلہ نے سالم کے واسطے سے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے حدیث سنائی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے کعبہ کے پاس ایک گندم گوں، سر کے سیدھے کھلے بالوں والے آدمی کو دیکھا جو اپنے دونوں ہاتھ دو آدمیوں پر رکھے ہوئے تھا، اس کے سر سے پانی بہہ رہا تھا (یا اس کے سر سے پانی کے قطرے گر رہے تھے)، میں نے پوچھا: ’یہ کون ہیں؟‘ تو انہوں نے (جواب دینے والوں نے) کہا: ’عیسیٰ ابن مریم یا مسیح ابن مریم‘ (راوی کو یاد نہ تھا کہ دونوں میں سے کون سا لفظ کہا تھا) اور ان کے پیچھے میں نے ایک آدمی دیکھا: سرخ رنگ کا، سر کے بال گھنگریالے اور دائیں آنکھ سے کانا، میں نے جن لوگوں کو دیکھا ہے، ان میں سب سے زیادہ ابن قطن اس کے مشابہ ہے۔ میں نے پوچھا: ’یہ کون ہے؟‘ انہوں نے کہا: ’مسیح دجال ہے۔‘“
قَالَ سَالِمٌ : قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ : فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي النَّاسِ ، فَأَثْنَى عَلَى اللَّهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ ثُمَّ ذَكَرَ الدَّجَّالَ ، فَقَالَ : " إِنِّي لَأُنْذِرُكُمُوهُ مَا مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا وَقَدْ أَنْذَرَهُ قَوْمَهُ ، لَقَدْ أَنْذَرَهُ نُوحٌ قَوْمَهُ ، وَلَكِنْ أَقُولُ لَكُمْ فِيهِ قَوْلًا لَمْ يَقُلْهُ نَبِيٌّ لِقَوْمِهِ تَعَلَّمُوا أَنَّهُ أَعْوَرُ ، وَأَنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى لَيْسَ بِأَعْوَرَ " ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ : وَأَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ ثَابِتٍ الْأَنْصَارِيُّ ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ بَعْضُ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " يَوْمَ حَذَّرَ النَّاسَ الدَّجَّالَ إِنَّهُ مَكْتُوبٌ بَيْنَ عَيْنَيْهِ كَافِرٌ ، يَقْرَؤُهُ مَنْ كَرِهَ عَمَلَهُ أَوْ يَقْرَؤُهُ كُلُّ مُؤْمِنٍ " ، وَقَالَ : " تَعَلَّمُوا أَنَّهُ لَنْ يَرَى أَحَدٌ مِنْكُمْ رَبَّهُ عَزَّ وَجَلَّ ، حَتَّى يَمُوتَ " ،عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں میں خطاب کے لیے کھڑے ہوئے اللہ کے شایان شان اس کی تعریف بیان کی، پھر دجال کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:"میں تمھیں اس سے ڈراتا ہوں اور ہر نبی نے اس سے اپنی قوم کو خبردار کیا ہے نوح ؑ نے بھی قوم کو اس سے آگاہ کیا لیکن میں تمھیں اس کے بارے میں ایسی بات بتاتا ہوں جو کسی نبی نے اپنی قوم کو نہیں بتائی جان لو! وہ کانا ہے اور اللہ تعالیٰ یقیناً کانا نہیں ہے۔"
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ وَاللَّفْظُ لَهُ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَ الدَّجَّالَ بَيْنَ ظَهْرَانَيِ النَّاسِ فَقَالَ : " إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى لَيْسَ بِأَعْوَرَ ، أَلَا وَإِنَّ الْمَسِيحَ الدَّجَّالَ أَعْوَرُ الْعَيْنِ الْيُمْنَى كَأَنَّ عَيْنَهُ عِنَبَةٌ طَافِئَةٌ " ،عبید اللہ نے ہمیں نافع سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کے سامنے دجال کا ذکر کیا تو آپ نے فرمایا: ”اللہ تبارک وتعالیٰ کانا نہیں ہے، سن رکھو! بلاشبہ مسیح دجال داہنی آنکھ سے کانا ہے۔ اس کی آنکھ اس طرح ہے جیسے ابھرا ہوا انگور کا دانہ۔“
حَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ ، وَأَبُو كَامِلٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ وَهُوَ ابْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ ، حَدَّثَنَا حَاتِمٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ كِلَاهُمَا ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ .ایوب اور موسیٰ بن عقبہ دونوں نے نافع سے، انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند روایت کی۔
تشریح، فوائد و مسائل
: (1)
كَعْبَة: مربع (چوکور)
گھر کو کہتے ہیں۔
یا گول اور بلند چیز کو کہتے ہیں۔
(2)
لِمَّةٌ: جمع لِمَم، وہ بال جو کانوں کی لو سے نیچے تک لٹکتے ہوں۔
(3)
قَدْ رَجَّلَهَا: ان میں کنگھی کی ہوئی تھی۔
(4)
تَقْطُرُ مَاءً: ان سے حقیقتاً پانی ٹپک رہا تھا، یا تروتازگی میں ایسے تھے جو ان بالوں میں ہوتی ہے، جو پانی سے تر ہوتے ہیں۔
(5)
عَوَاتِقٌ: عَاتِقٌ کی جمع ہے، شانہ، کندھا۔
(6)
جَعْدٌ: گھنگھریالے، خمیدہ۔
(7)
قَطَطٌ: بہت زیادہ گھنگھریالے بال۔
(رَجُل قَطّ وَ قَطَط)
۔
(8)
عِنَبَةٌ طَافِيَةٌ: ابھرا یا پھولا ہوا انگور، جو دوسرے انگوروں سے ابھرا ہوا ہو۔
فوائد ومسائل:
(1)
حضرت عیسیٰ بن مریمؑ کو اس لیے مسیح کہتے ہیں، کہ جب وہ کسی بیمارپر ہاتھ پھیرتے تھے تو وہ تندرست ہو جاتا تھا، اور دجال کو مسیح اس لیے کہتے ہیں، کہ اس کی آنکھیں ممسوحۃ (مٹی)
ہوئی ہیں، یا اس لیے کہ وہ کانا ہے۔
یا اس لیے کہ خیر سے وہ محروم ہے۔
(2)
اللہ تعالیٰ نے حضور اکرم ﷺ کو مختلف انبیاءؑ کو زندگی کے مختلف مراحل میں، مختلف کام کرتے دکھایا ہے، اسی طرح مختلف مقامات پر دکھایا ہے، اور آج کے سائنسی دور میں اس کو سمجھنا بالکل آسان ہوگیا ہے۔
ایک انسان ایک جگہ تقریر کر رہا ہوتا ہے، یا ایک ملک میں کوئی خاص غمی یا خوشی کی تقریب منعقد ہوتی ہے تو وہ تمام دنیا میں دکھائی دیتی ہے، اور ہر جگہ یہی محسوس ہوتا ہے کہ یہ تقریر یا تقریب یہیں ہو رہی ہے۔
اگر ایک انسان جس کی اس پوری کائنات میں ایک ذرے کی حیثیت ہے، اس کی عقل یہ کام کر رہی تو پوری کائنات کے خالق ومالک کی قدرت اور علم جس کا کوئی کنارہ اور حد نہیں ہے، وہ اگر انبیاءؑ کو زندگی کے مختلف کام کرتے، زندگی کے مختلف مراحل میں جہاں چاہے دکھا دے، تو اس میں کیا استبعاد ہو سکتا ہے؟ چونکہ انبیاءؑ زندگی کے مختلف مراحل میں، مختلف کام کرتے دکھائے گئے ہیں، اس لیے بعض دفعہ، ایک دفعہ دیکھنے کے بعد دوبارہ دیکھتے وقت آپ کو پہچان نہیں آسکی، اور بعض جگہ حلیہ بیا ن کرنے میں بھی اختلاف ہو گیا ہے، تو یہ درحقیقت اختلاف نہیں ہے۔
زندگی کے مختلف مراحل یا عمر کے اختلاف سے شکل وصورت میں فرق پڑجاتا ہے۔
(1)
اس حدیث میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بالوں کی صفت بیان کی گئی ہے کہ وہ کندھوں کے برابر لمبے لمبے تھے اور مسیح دجال کے بالوں کا ذکر ہے کہ وہ الجھے ہوئے سخت گھنگریالے بالوں والا تھا۔
عنوان سے یہی مطابقت ہے۔
(2)
اس حدیث سے یہ استدلال غلط ہے کہ مسیح دجال حرم مکہ میں داخل ہو سکے گا کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اسے خواب میں دیکھنا کہ وہ مکے میں تھا، اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ وہ حقیقت کے طور پر مکے میں داخل ہو گا۔
بہرحال دجال اپنے ظہور ہونے کے وقت مدینہ طیبہ اور مکہ مکرمہ میں داخل نہیں ہو سکے گا۔
(فتح الباری: 10/439) w
«. . . 253- وبه: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: ”أراني الليلة عند الكعبة، فرأيت رجلا آدم كأحسن ما أنت راء من أدم الرجال، له لمة كأحسن ما أنت راء من اللمم، قد رجلها فهي تقطر ماء، متكئا على رجلين، أو على عواتق رجلين يطوف بالبيت، فسألت: من هذا؟، فقيل لي: المسيح ابن مريم، ثم إذا أنا برجل جعد قطط أعور العين اليمنى، كأنها عنبة طافية، فسألت: من هذا؟، فقيل: هذا المسيح الدجال“ . . . .»
”. . . اور اسی سند کے ساتھ (سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے) روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آج رات (اللہ نے) مجھے خواب دکھایا کہ میں کعبہ کے پاس ہوں، پھر میں نے ایک گندمی رنگ کا آدمی دیکھا، تم نے جو گندمی لوگ دیکھے ہیں وہ ان میں سب سے خوبصورت تھا، تم نے کندھوں تک سر کے جو لمبے بال دیکھے ہیں ان میں سب سے زیادہ خوبصورت اس کے بال تھے جنہیں اس نے کنگھی کیا تھا، پانی کے قطرے اس کے بالوں سے گر رہے تھے، اس شخص نے دو آدمیوں یا ان کے کندھوں پر سہارا لیا ہوا تھا اور بیت اللہ کا طواف کر رہا تھا میں نے پوچھا: یہ کون ہے؟ بتایا گیا کہ یہ مسیح ابن مریم ہیں، پھر میں نے ایک آدمی دیکھا جو دائیں آنکھ سے کانا تھا اور اس کے بال بہت زیادہ گھنگریالے تھے، اس کی (کانی) آنکھ اس طرح تھی جیسے پھولے ہوئے انگور کا دانہ ہے میں نے پوچھا: یہ کون ہے؟ کہا گیا: یہ مسیح دجال ہے . . .“ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 26]
تفقه:
➊ ایک روایت میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے معراج والی رات میں عیسیٰ علیہ السلام کو دیکھا، آپ «جَعْدٌ مَرْبُوْعٌ» گھنگریالے بال والے میانہ قد کے تھے۔ [صحيح بخاري: 3396]
معلوم ہوا کہ آسمان پر سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے بال گھنگھریالے تھے اور زمین پر نزول کے بعد کنگھی کرنے کی وجہ سے بال برابر اور خوبصورت ہوں گے۔ اس طرح دونوں روایتوں میں تطبیق ہوجاتی ہے۔ بعض منکرین ختم نبوت ان دو روایتوں کی وجہ سے دو عیسیٰ علیہ السلام ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں جو کہ مردود ہے۔
ایک حدیث میں آیا ہے کہ موسیٰ علیہ السلام«رَجُلاً آدَمَ طِوَالاً جَعْدًا» گندمی رنگ والے لمبے قد اور گھنگریالے بالوں والے تھے۔ [صحيح بخاري: 3396]
◈ دوسری میں آیا ہے:«رَجُلٌ ضَرْبٌ رَجِلٌ» دُبلے سیدھے بال والے تھے۔ [صحيح بخاري: 3394]
کیا حلیے کے اس ظاہری اختلاف کی وجہ سے یہ عقیدہ رکھا جائے گا کہ موسیٰ علیہ السلام بھی دو ہیں؟ نیز دیکھئے محمدیہ پاکٹ بک [ص593، 594] وہاں دوسری لغوی بحث بھی ہے۔
➋ عیسیٰ علیہ السلام نزول کے بعد موقع ملنے پر بیت اللہ کا حج کریں گے۔ ➌ دجال اکبر کوشش کرے گا کہ مکہ مکرمہ اور مدینہ طیبہ کو چاروں طرف سے گھیر لے۔ یاد رہے کہ دجال کا مکے اور مدینے میں داخلہ حرام ہے۔
➍ صحیح حدیث میں آیا ہے کہ عیسٰی علیہ السلام آسمان سے نازل ہوں گے۔ دیکھئے [كشف الاستار عن زوائد البزار 142/4ح 3396، وسنده صحيح]
➎ کانا دجال ایک آدمی ہے جو قیامت سے پہلے ظاہر ہو گا۔ اس سے کوئی خاص قوم یا قبیلہ وغیرہ مراد لینا غلط ہے۔
➏ نبی کا خواب حجت ہوتا ہے۔