صحيح مسلم
كتاب الإيمان— ایمان کے احکام و مسائل
باب بَدْءِ الْوَحْيِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: باب: اس بات کا بیان کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی (یعنی اللہ کا پیام) اترنا کیونکر شروع ہوا۔
وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي يُونُسُ ، قَالَ : قَالَ ابْنُ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ الأَنْصَارِيَّ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، كَانَ يُحَدِّثُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُحَدِّثُ عَنْ فَتْرَةِ الْوَحْيِ ، قَالَ فِي حَدِيثِهِ : " فَبَيْنَا أَنَا أَمْشِي ، سَمِعْتُ صَوْتًا مِنَ السَّمَاءِ ، فَرَفَعْتُ رَأْسِي ، فَإِذَا الْمَلَكُ الَّذِي جَاءَنِي بِحِرَاءٍ ، جَالِسًا عَلَى كُرْسِيٍّ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالأَرْضِ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَجُئِثْتُ مِنْهُ فَرَقًا ، فَرَجَعْتُ ، فَقُلْتُ : زَمِّلُونِي ، زَمِّلُونِي ، فَدَثَّرُونِي ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يَأَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ { 1 } قُمْ فَأَنْذِرْ { 2 } وَرَبَّكَ فَكَبِّرْ { 3 } وَثِيَابَكَ فَطَهِّرْ { 4 } وَالرُّجْزَ فَاهْجُرْ { 5 } سورة المدثر آية 1-5 ، وَهِيَ الأَوْثَانُ ، قَالَ : ثُمَّ تَتَابَعَ الْوَحْيُ " .یونس نے (اپنی سند کے ساتھ) ابن شہاب سے بیان کیا، انہوں نے کہا: مجھے ابوسلمہ بن عبدالرحمن بن عوف نے خبر دی کہ حضرت جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہما جو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے تھے، یہ حدیث سنایا کرتے تھے، کہا: وقفہ کا واقعہ بیان کرتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس دوران میں جب میں چل رہا تھا، میں نے آسمان سے ایک آواز سنی، اس پر میں نے اپنا سر اٹھایا تو اچانک (دیکھا) وہی فرشتہ تھا جو میرے پاس غار حراء میں آیا تھا، آسمان و زمین کے درمیان کرسی پر بیٹھا تھا۔“ آپ نے فرمایا: ”اس کے خوف کی وجہ سے مجھ پر گھبراہٹ طاری ہو گئی اور میں گھر واپس آ گیا اور کہا: مجھے کپڑا اوڑھاؤ، مجھے کپڑا اوڑھاؤ تو انہوں (گھر والوں) نے مجھے کمبل اوڑھا دیا۔“ اس پر اللہ تبارک وتعالیٰ نے یہ آیات اتاریں: «يَا أَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ قُمْ فَأَنْذِرْ وَرَبَّكَ فَكَبِّرْ وَثِيَابَكَ فَطَهِّرْ وَالرُّجْزَ فَاهْجُرْ» ’’اے اوڑھ لپیٹ کر لیٹنے والے اٹھو اور خبردار کرو اور اپنے رب کی بڑائی کا اعلان کرو اور اپنے کپڑے پاک رکھو اور گندگی سے دور رہو۔“ اور اس («الرجز» یعنی گندگی) سے مراد بت ہیں۔ فرمایا: پھر وحی مسلسل نازل ہونے لگی۔
وحَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ جَدِّي ، قَالَ : حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، يَقُولُ : أَخْبَرَنِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : ثُمَّ فَتَرَ الْوَحْيُ عَنِّي فَتْرَةً ، فَبَيْنَا أَنَا أَمْشِي ، ثُمَّ ذَكَرَ مِثْلَ حَدِيثِ يُونُسَ ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ : فَجُثِثْتُ مِنْهُ فَرَقًا حَتَّى هَوَيْتُ إِلَى الأَرْضِ ، قَالَ : وقَالَ أَبُو سَلَمَةَ : وَالرُّجْزُ الأَوْثَانُ ، قَالَ : ثُمَّ حَمِيَ الْوَحْيُ بَعْدُ وَتَتَابَعَ .عقیل بن خالد نے ابن شہاب سے بیان کیا، انہوں نے کہا: میں نے ابوسلمہ بن عبدالرحمن کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ مجھے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ فرما رہے تھے: ”پھر وحی ایک وقفے کے لیے مجھ سے منقطع ہو گئی، اسی دوران میں جب میں چل رہا تھا.....“ پھر (عقیل نے) یونس کی طرح روایت بیان کی، البتہ انہوں نے (مزید یہ) کہا: ”تو خوف سے مجھ پر گھبراہٹ طاری ہو گئی حتی کہ میں زمین پر گر پڑا“ (ابن شہاب نے کہا: ابوسلمہ نے بتایا: الرجز سے بت مراد ہیں) کہا: پھر نزول وحی (کی رفتار) میں گرمی آ گئی اور مسلسل نازل ہونے لگی۔
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَ حَدِيثِ يُونُسَ ، وَقَالَ : فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى : يَأَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ ، إِلَى قَوْلِهِ وَالرُّجْزَ فَاهْجُرْ سورة المدثر آية 1 - 5 ، قَبْلَ أَنْ تُفْرَضَ الصَّلَاةُ وَهِيَ الأَوْثَانُ ، وَقَالَ : فَجُثِثْتُ مِنْهُ ، كَمَا قَالَ عُقَيْلٌ .معمر نے زہری سے اسی سند کے ساتھ یونس کی طرح حدیث بیان کی (اس میں یہ) کہا: تو اللہ تبارک وتعالیٰ نے: «يَا أَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ» سے لے کر «وَالرُّجْزَ فَاهْجُرْ» تک (کی آیتیں) نازل فرمائیں (نماز فرض ہونے سے پہلے کا واقعہ ہے) اور اس («الرجز») سے بت مراد ہیں، نیز معمر نے عقیل کی طرح ’’مجھ پر خوف طاری ہو گیا“ کہا۔
وحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ ، قَالَ : سَمِعْتُ يَحْيَى ، يَقُولُ : سَأَلْتُ أَبَا سَلَمَةَ : أَيُّ الْقُرْآنِ أُنْزِلَ قَبْلُ ؟ قَالَ : يَا أَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ ، فَقُلْتُ : أَوِ اقْرَأْ ، فَقَالَ : سَأَلْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ : أَيُّ الْقُرْآنِ أُنْزِلَ قَبْلُ ؟ قَالَ : يَا أَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ ، فَقُلْتُ : أَوِ اقْرَأْ ، قَالَ جَابِرٌ : أُحَدِّثُكُمْ مَا حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " جَاوَرْتُ بِحِرَاءٍ شَهْرًا ، فَلَمَّا قَضَيْتُ جِوَارِي ، نَزَلْتُ فَاسْتَبْطَنْتُ بَطْنَ الْوَادِي ، فَنُودِيتُ فَنَظَرْتُ أَمَامِي ، وَخَلْفِي ، وَعَنْ يَمِينِي ، وَعَنْ شِمَالِي ، فَلَمْ أَرَ أَحَدًا ، ثُمَّ نُودِيتُ فَنَظَرْتُ فَلَمْ أَرَ أَحَدًا ، ثُمَّ نُودِيتُ فَرَفَعْتُ رَأْسِي ، فَإِذَا هُوَ عَلَى الْعَرْشِ فِي الْهَوَاءِ يَعْنِي جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَام ، فَأَخَذَتْنِي رَجْفَةٌ شَدِيدَةٌ فَأَتَيْتُ خَدِيجَةَ ، فَقُلْتُ : دَثِّرُونِي ، فَدَثَّرُونِي ، فَصَبُّوا عَلَيَّ مَاءً " ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : يَأَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ { 1 } قُمْ فَأَنْذِرْ { 2 } وَرَبَّكَ فَكَبِّرْ { 3 } وَثِيَابَكَ فَطَهِّرْ { 4 } سورة المدثر آية 1-4 .یحییٰ نے ابو سلمہ رحمہ اللہ سے سوال کیا: سب سے پہلے قرآن کا کون سا حصہ نازل ہوا؟ اس نے جواب دیا: «يٰٓاَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ» تو میں نے کہا: کیا «اِقْرَاْ» نہیں؟ تو ابو سلمہ رحمہ اللہ نے کہا: میں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا: سب سے پہلے قرآن کا کون سا حصہ اتارا گیا؟ تو جابر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا «يٰٓاَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ» تو میں نے کہا: «اِقْرَاْ» نہیں؟ جابر رضی اللہ عنہ نے کہا میں تمھیں وہی بتاتا ہوں جو ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے ایک ماہ حرا میں گزارا، جب میں نے اپنا اعتکاف مکمل کر لیا، تو میں اتر کر وادی کے درمیان پہنچ گیا، تو مجھے آواز دی گئی، اس پر میں نے اپنے آگے اور اپنے پیچھے، اپنے دائیں اور اپنے بائیں نظر دوڑائی تو مجھے کوئی نظر نہ آیا۔ پھر مجھے آواز دی گئی تو میں نے دیکھا، مجھے کوئی نظر نہ آیا، پھر مجھے (تیسری بار) آواز دی گئی، اس پر میں نے اپنا سر اوپر اٹھایا تو وہ، یعنی جبرائیل علیہ السلام فضا میں عرش (تخت کرسی) پر بیٹھا ہوا تھا، تو مجھ پر سخت لرزہ طاری ہو گیا۔ میں خدیجہ رضی اللہ عنہا کے پاس آگیا اور کہا: مجھے کپڑا اوڑھا دو! انھوں نے کپڑا اوڑھا دیا اور مجھ پر پانی ڈالا۔ اللہ تعالیٰ نے آیات اتاریں: «يَا أَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ قُمْ فَأَنْذِرْ وَرَبَّكَ فَكَبِّرْ وَثِيَابَكَ فَطَهِّرْ» (سورۃ المدثر: 1-4)
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ، وَقَالَ : فَإِذَا هُوَ جَالِسٌ عَلَى عَرْشٍ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالأَرْضِ .علی بن مبارک نے بھی یحییٰ بن ابی کثیر سے اسی سند کے ساتھ روایت کی اور کہا: ”تو وہ آسمان و زمین کے درمیان ایک کرسی پر بیٹھے ہوئے تھے۔“
تشریح، فوائد و مسائل
: (1)
فَتْرَةُ الْوَحْيِ: وحی کی بندش، رکاوٹ، اس کے تسلسل کا قائم نہ رہنا۔
(2)
فَجُئِثْتُ: میں مرعوب اور خوف زدہ ہو گیا، گھبرا گیا۔
جأث سے ماخوذ ہے۔
(3)
فَرَقٌ: خوف و ڈر۔
فوائد ومسائل:
وحی کے رک جانے کے بعد سب سے پہلے اترنے والی وحی سورہ مدثر کی آیات ہیں۔
«. . . عَنْ أَوَّلِ مَا نَزَلَ مِنَ الْقُرْآنِ، قَالَ: يَأَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ سورة المدثر آية 1، قُلْتُ: يَقُولُونَ: اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ . . .»
”. . . قرآن مجید کی کون سی آیت سب سے پہلے نازل ہوئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ «يا أيها المدثر» میں نے عرض کیا کہ لوگ تو کہتے ہیں کہ «اقرأ باسم ربك الذي خلق» سب سے پہلے نازل ہوئی . . .“ [صحيح البخاري/كِتَاب تَفْسِيرِ الْقُرْآنِ: 4922]
[101۔ البخاري فى: 65 كتاب التفسير: 74 سورة المدثر: باب حدثنا يحييٰ، حديث: 4922]
فھم الحدیث:
ان احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہونے والی پہلی وحی سورہ علق کی یہ ابتدائی آیات تھیں: «اِقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِيْ خَلَقَ * خَلَقَ الْإِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ * اِقْرَأْ وَرَبُّكَ الْأَكْرَمُ» پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شدید گھبراہٹ کی وجہ سے کچھ دیر وحی منقطع رہی۔ انقطاع وحی کی مدت کتنی تھی اس بارے میں شیخ صفی الرحمٰن مبارکپوری رحمہ اللہ نے جس بات کو صحیح کہا ہے وہ یہ ہے کہ یہ انقطاع چند دنوں کا تھا، اس سلسلے میں تین سال یا دو سال کے اقوال درست نہیں۔ [الرحيق المختوم، عربي ايڈيشن ص: 52]
پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے گھبراہٹ دور ہوئی تو دوسری وحی سورہ مدثر کی ان ابتدائی آیات کی صورت میں نازل ہوئی: «يَا أَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ * قُمْ فَأَنذِرْ * وَرَبَّكَ فَكَبِّرْ * وَثِيَابَكَ فَطَهِّرْ * وَالرُّجْزَ فَاهْجُرْ *»
پھر پہلی آیت ﴿يَـٰٓأَيُّهَا ٱلْمُدَّثِّرُ﴾ ہی نازل ہوئی (کما في کتب التفسیر)
قرآن مجید کی سب سے پہلے کون سی آیات نازل ہوئیں اس کے متعلق دو مشہور قول حسب ذیل ہیں۔
۔
جمہور اہل علم کا قول ہے کہ سورہ علق کی ابتدائی پانچ آیات سب سے پہلے نازل ہوئیں۔
۔
سب سے پہلے سورہ مدثر کا نزول ہوا جیسا کہ حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا موقف ہے۔
ان دونوں اقوال میں تطبیق کی حسب ذیل صورتیں بیان کی گئی ہیں۔
۔
علی الاطلاق پہلے سورہ علق کی آیات نازل ہوئیں لیکن پوری کامل سورت پہلے مدثر نازل ہوئی۔
۔
زمانہ فترت سے پہلےسورہ علق کی آیات نازل ہوئیں اور زمانہ فترت کے بعد سب سے پہلے سورہ مدثر نازل ہوئی۔
۔
سورہ علق کی آیات کے نزول کے لیے کوئی سبب پیش نہیں آیا جبکہ سبب کے پیش آنے کے بعد سب سے پہلے سورہ مدثر نازل ہوئی۔
ویسے ترجیح پہلے موقف کو ہے کیونکہ حدیث جابر میں ہے کہ جب میں نے سر اٹھایا تو وہی فرشتہ دیکھا جو مجھے حراء میں نظر آیا تھا جو زمین و آسمان کے درمیان کرسی پر بیٹھا ہوا تھا۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پہلے فرشتہ وحی کو دیکھ چکے تھے اور اس کی آپ سے ملاقات ہو چکی تھی۔
واللہ اعلم۔
امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے عثمان بن عمر کی حدیث کو صحیح بخاری میں بیان نہیں کیا۔
البتہ امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس روایت کو ذکر کیا ہے۔
اس میں ہے کہ جب میں نے اوپر سر اٹھایا تو فرشتہ وحی کو دیکھا جو ایک تخت پر بیٹھا ہوا تھا اور تخت زمین و آسمان کے درمیان تھا میں نے اسے دیکھا تو مجھ پر کپکپی طاری ہو گئی۔
میں حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس آیا۔
آگے وہی قصہ بیان ہوا ہے جو پہلی حدیث میں ہے۔
(صحیح مسلم، الإیمان، حدیث: 410۔
(161)
اس حدیث میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو پیغام دیا کہ اب سونے کا وقت گزر چکا ہے انھیں اور اہل مکہ کو ان کے برے انجام سے ڈرائیں جب وہ ایمان نہ لائیں۔
واللہ المستعان۔
1۔
دنیا میں بڑے بڑے حکمران اور ان کی بڑی بڑی حکومتیں ہیں۔
لیکن اللہ کی کبریائی کے سامنے ان کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہلے دن سے یہ پیغام دیا گیا کہ آپ کے کام میں بڑی بڑی طاقتیں حائل ہو سکتی ہیں۔
ان کی ذرا پروانہ کریں بلکہ صاف صاف کہہ دیں کہ میرا رب ان سب سے بڑا ہے جو میری دعوت کا راستہ روکنے کے لیے کھڑے ہو سکتے ہیں۔
2۔
بہر حال اللہ کی کبریائی کانقش جس آدمی کے دل پر جما ہو وہ اللہ کی خاطر اکیلا ہی ساری دنیا سے لڑ جانے کے لیے تیار ہو جاتا ہے یہی وجہ ہے کہ اسلام میں کلمہ تکبیر یعنی اللہ اکبر کی بڑی اہمیت ہے نیز اذان میں چھ بار یہ کلمہ دہرایا جاتا ہے اور ہر نماز کا افتتاح اسی کلمہ سے ہوتا ہے پھر نماز کی ہر رکعت میں متعدد مرتبہ اللہ اکبر کہا جاتا ہے یہ اس لیے ہے کہ ایک مسلمان کے سامنے ہر وقت اللہ کی کبریائی کا تصور موجود ہے۔
1۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جس معاشرے میں اسلام کی دعوت لے آئے تھے وہ صرف عقائد واخلاق کی نجاستوں ہی میں مبتلا نہیں تھا بلکہ طہارت ونظافت (پاکیزگی اور صفائی)
کے ابتدائی تصور سے بھی ناآشنا تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو ہر لحاظ سے پاکیزگی کا سبق سکھانا تھا اس لیے ہدایت فرمائی گئی کہ آپ اپنی ظاہری زندگی میں بھی طہارت و نظافت (پاکیزگی اور صفائی)
کا ایک اعلیٰ معیار قائم کریں۔
اس کے علاوہ روح کی پاکیزگی کے لیے بھی جسم اور لباس کی صفائی انتہائی ضروری ہے۔
2۔
اس ابتدائی سبق کا ہی ثمرہ ہے کہ ہماری حدیث اور فقہ کی ہر کتاب ’’کتاب الطہارت‘‘ سے شروع ہوتی ہے جس میں پاکی اور ناپاکی کے فرق اور طہارت کے طریقوں کو نہایت تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔
واللہ اعلم۔
مگر آپ کی قوم بت پرست تھی۔
گویا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تاکیدا کہا گیا کہ آپ بت پرست قوم کا ساتھ بالکل چھوڑ دیں۔
1۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی بت پرستی نہیں کی تھی مگر آپ کی قوم بت پرست تھی یہ حکم دراصل لوگوں کو آپ کے ذریعے سے دیا جا رہا ہے۔
2۔
اوپرالرجز عذاب کے ہم معنی بتایا گیا ہے کیونکہ ان کی پوجا کرنے سے انسان عذاب تک پہنچ جاتا ہے۔
گویا یہ عذاب الٰہی کا سبب ہیں اس لیے انھیں عذاب کے ہم معنی قرار دیا گیا ہے۔
واللہ اعلم۔
اسی لیے بت پرستوں کو ﴿إِنَّمَا الْمُشْرِكُونَ نَجَسٌ﴾ (التوبة: 28)
کہا گیا ہے کہ شرک کرنے والے گندے ہیں۔
وہ بتوں کے پجاری ہوں یا قبروں کے ہر دو کا عنداللہ ایک ہی درجہ ہے۔
1۔
دین اسلام میں بت پرستی ایک گندا عمل ہے۔
اللہ تعالیٰ نے بت پرستوں کو نجس اورپلید قراردیا ہے۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿إِنَّمَا الْمُشْرِكُونَ نَجَسٌ فَلَا يَقْرَبُوا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ﴾ ’’مشرکین نجس اور پلید ہیں۔
انھیں مسجد حرام کے قریب نہ آنے دو۔
‘‘ (التوبة: 28/9)
شرک کرنے والے اللہ کے ہاں گندے اور پلید ہیں، خواہ بتوں کے پجاری ہوں یا قبروں کے مجاور۔
اللہ کے ہاں دونوں کا ایک ہی درجہ ہے۔
2۔
بہرحال امام بخاری ؒنے اس حدیث سے فرشتوں کے وجود پر دلیل لی ہے۔
اور ان کی کارکردگی بیان کی ہے۔
: (1)
جَاوَرْتُ: میں نے مجاورت و اعتکاف کیا، مصدر جوار ہے، پڑوس میں رہنا، کسی جگہ رک جانا۔
(2)
اسْتَبْطَنْتُ: بطن سے ماخوذ ہے، اندر چلے جانا، میں وادی کے اندر چلا گیا۔
(3)
عَرْشٌ: چارپائی، کرسی، تخت۔
(4)
رَجْفَةٌ شَدِيدَةٌ: سخت کپکپی، شدید لرزہ، سخت بے چینی۔
فوائد ومسائل:
اس حدیث سے بظاہر یہ محسوس ہوتا ہے کہ سب سے پہلے اترنے والی وحی، سورۂ مدثر کی ابتدائی آیات ہیں، لیکن اگر تمام احادیث پر مجموعی طور پر نظر ڈالی جائے تو یہ بات واضح ہے کہ سب سے پہلے اترنے والی وحی سورۂ اقراء کی ابتدائی آیات ہیں، کیونکہ حضرت عائشہ ؓ کی روایت (252)
میں صاف موجود ہے کہ پہلی وحی، غار حراء میں اتری جس میں جبریل علیہ السلام نے آپ ﷺ کو تین دفعہ دبایا، اورجابرؓ کی حدیث (407 اور 408)
میں تصریح موجود ہے، کہ فترت وحی کے بعد سب سے پہلے اترنے والی آیات سورۂ مدثر کی ابتدائی آیات ہیں۔
گویا پہلی وحی کے بعد وحی کی آمد رک گئی، پھر کچھ عرصہ کے بعد دوبارہ آغاز ہوا، لیکن سورۂ مدثر کی آیات کے بعد وحی میں تسلسل پیدا ہوگیا۔
نیز اس روایت میں یہ صراحت بھی موجود ہے کہ یہ وحی لانے والا فرشتہ وہی تھا، جو "جَاءَنِيْ بِحَرَاء" ’’میرے پاس حرام میں آچکا تھا‘‘ اور سورۂ مدثر کی آیات، غار حراء کے بعد اتریں ہیں، جبکہ پہلی وحی کا نزول، غار حرام میں ہو چکا تھا۔