صحيح مسلم
كتاب البيوع— لین دین کے مسائل
باب تَحْرِيمِ بَيْعِ الرُّطَبِ بِالتَّمْرِ إِلاَّ فِي الْعَرَايَا: باب: تر کھجور کو خشک کھجور کے بدلے بیچنا حرام ہے مگر عریہ میں درست ہے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نَهَى عَنِ الْمُزَابَنَةِ " ، وَالْمُزَابَنَةُ : بَيْعُ الثَّمَرِ بِالتَّمْرِ كَيْلًا ، وَبَيْعُ الْكَرْمِ بِالزَّبِيبِ كَيْلًا " .حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع مزابنہ سے منع فرمایا، اور مزابنہ کھجوروں کے پھل کو خشک کھجوروں کے ناپ سے اور انگوروں کو منقہ سے ناپ کر بیچنا ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ ، أَخْبَرَهُ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نَهَى عَنِ الْمُزَابَنَةِ بَيْعِ ثَمَرِ النَّخْلِ بِالتَّمْرِ كَيْلًا ، وَبَيْعِ الْعِنَبِ بِالزَّبِيبِ كَيْلًا ، وَبَيْعِ الزَّرْعِ بِالْحِنْطَةِ كَيْلًا " .محمد بن بشیر نے کہا: ہمیں عبیداللہ نے نافع سے حدیث بیان کی کہ حضرت عبداللہ (بن عمر رضی اللہ عنہما) نے انہیں خبر دی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مزابنہ سے منع فرمایا، اور مزابنہ یہ ہے کہ کھجور کے تازہ پھل کو خشک کھجور کی ماپی ہوئی مقدار کے عوض بیچا جائے اور انگور کو منقیٰ کی ماپی ہوئی مقدار کے عوض بیچا جائے اور (خوشوں میں) گندم کی کھیتی کو ماپی ہوئی مقدار کے عوض بیچا جائے۔
وحَدَّثَنَاه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ .امام صاحب ایک اور استاد سے مذکورہ حدیث بیان کرتے ہیں۔
حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ ، وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، وَحُسَيْنُ بْنُ عِيسَى ، قَالُوا : حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمُزَابَنَةِ ، وَالْمُزَابَنَةُ : بَيْعُ ثَمَرِ النَّخْلِ بِالتَّمْرِ كَيْلًا ، وَبَيْعُ الزَّبِيبِ بِالْعِنَبِ كَيْلًا ، وَعَنْ كُلِّ ثَمَرٍ بِخَرْصِهِ " .حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع مزابنہ سے منع فرمایا اور مزابنہ، کھجور کا پھل چھوہاروں سے ناپ کر بیچنا، انگوروں کو منقہ کے عوض ناپ کر بیچنا اور ہر پھل کو اندازہ کر کے (اس کی جنس سے) بیچنا ہے۔
حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ وَهُوَ ابْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نَهَى عَنْ : الْمُزَابَنَةِ ، وَالْمُزَابَنَةُ : أَنْ يُبَاعَ مَا فِي رُءُوسِ النَّخْلِ بِتَمْرٍ بِكَيْلٍ مُسَمَّى ، إِنْ زَادَ فَلِي ، وَإِنْ نَقَصَ فَعَلَيَّ " .حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزابنہ سے منع فرمایا ہے اور مزابنہ یہ ہے کہ کھجور کے درخت پر پھل کو متعین ناپ کے عوض بیچا جائے کہ اگر درخت کا پھل زیادہ ہوا تو میرا ہو گا، کم ہو گا تو میرا نقصان ہو گا۔
وحَدَّثَنَاه أَبُو الرَّبِيعِ ، وَأَبُو كَامِلٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ .حماد نے ایوب سے اسی سند کے ساتھ اسی کے ہم معنی حدیث بیان کی۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ . ح وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمُزَابَنَةِ أَنْ يَبِيعَ ثَمَرَ حَائِطِهِ ، إِنْ كَانَتْ نَخْلًا بِتَمْرٍ كَيْلًا ، وَإِنْ كَانَ كَرْمًا أَنْ يَبِيعَهُ بِزَبِيبٍ كَيْلًا ، وَإِنْ كَانَ زَرْعًا أَنْ يَبِيعَهُ بِكَيْلِ طَعَامٍ ، نَهَى عَنْ ذَلِكَ كُلِّهِ " ، وَفِي رِوَايَةِ قُتَيْبَةَ : أَوْ كَانَ زَرْعًا .قتیبہ بن سعید اور محمد بن رمح نے لیث سے حدیث بیان کی، انہوں نے نافع سے، انہوں نے حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزابنہ سے منع فرمایا (مزابنہ یہ ہے) کہ کوئی آدمی اپنے باغ کا پھل اگر کھجور ہو تو خشک کھجور کے مقررہ ماپ کے عوض فروخت کرے اور اگر انگور ہو تو منقیٰ کے مقررہ ماپ کے عوض فروخت کرے اور اگر کھیتی ہو تو غلے کے مقررہ ماپ کے عوض اسے فروخت کرے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سب (سودوں) سے منع فرمایا۔ قتیبہ کی روایت میں (وان کان زرعا ”اور اگر کھیتی ہو“ کے بجائے) ”یا کھیتی ہو“ کے الفاظ ہیں۔
وحَدَّثَنِيهِ أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي يُونُسُ . ح وحَدَّثَنِي ابْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ ، أَخْبَرَنِي الضَّحَّاكُ . ح وحَدَّثَنِيهِ سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ مَيْسَرَةَ ، حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، كُلُّهُمْ عَنْ نَافِعٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَ حَدِيثِهِمْ .یونس، ضحاک اور موسیٰ بن عقبہ سب نے نافع سے اسی سند کے ساتھ ان (عبیداللہ، ایوب اور لیث) کی حدیث کی طرح حدیث بیان کی۔
تشریح، فوائد و مسائل
پس بٹائی پر دینا بلاشبہ جائز ہے یوں احتیاط کا معاملہ الگ ہے۔
(1)
حضرت رافع بن خدیج ؓ مطلق طور پر زمین بٹائی پر دینے سے منع کرتے تھے اور عبداللہ بن عمر ؓ اس موقف کو تسلیم نہیں کرتے تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک مخصوص صورت سے منع فرمایا تھا کیونکہ مخصوص رقبے کی پیداوار کے عوض زمین دی جاتی تھی، اس میں نقصان اور دھوکا تھا کیونکہ ادھر پیداوار ہوتی اور دوسری طرف آفت کا شکار ہو جاتی اور کبھی اس کے برعکس ہوتا تھا جس کی وجہ سے لوگوں میں جھگڑا ہوتا رہتا۔
کبھی تو زمین کا مالک پیداوار سے محروم رہتا۔
اور کبھی مزارع کو نقصان اٹھانا پڑتا، اس سے چوتھائی، تہائی یا نصف پیداوار کے عوض بٹائی پر دینے کی ممانعت نہیں۔
(2)
امام بخاری ؒ نے حضرت رافع بن خدیج ؓ کی حدیث کی وضاحت کے لیے حضرت سالم ؒ کی حدیث ذکر کی ہے۔
سیدنا عبداللہ بن عمر ؓ پرہیزگار شخص تھے۔
ایک طویل مدت تک ان کا عمل جس بات پر رہا اس کے متعلق انہیں شبہ لاحق ہو گیا۔
آخرکار انہوں نے حضرت رافع بن خدیج ؓ کی معلومات پر عمل کیا اور احتیاط کے خیال سے زمین کرائے پر دینا ترک کر دی۔
بہرحال قانون الگ ہے اور ایثار و ہمدردی کا پہلو الگ حیثیت رکھتا ہے۔
(3)
حضرت رافع بن خدیج ؓ کی معلومات کو قانون کی حیثیت نہیں دی جا سکتی بلکہ ان سے احسان اور ایثار کا پہلو اجاگر ہوتا ہے کہ اگر کوئی شخص اپنی زمین بطور ہمدردی کاشت کے لیے اپنے کسی بھائی کو دے دے تو رسول اللہ ﷺ نے اس طرز عمل کی شاندار الفاظ سے حوصلہ افزائی فرمائی ہے۔
امام بخاری ؒ کا اس عنوان اور پیش کردہ احادیث سے یہی مقصد معلوم ہوتا ہے۔
واللہ أعلم
یعنی اس پر علماءکا اجماع ہے کہ کھیتی کو اس کے کاٹنے سے پہلے غلہ کے ساتھ بیچنا درست نہیں۔
اس لیے کہ وہ ایک معلوم غلہ کے ساتھ مجہول چیز کی بیع ہے۔
اس میں ہر دو کے لیے نقصان کا احتمال ہے۔
ایسے ہی تر کاٹنے کے بعد خشک کے ساتھ بیچنا جمہور اس قسم کی تمام بیوع کو ناجائز کہتے ہیں۔
ان سب میں نفع و نقصان ہر دو احتمالات ہیں۔
اور شریعت محمدیہ ایسے جملہ ممکن نقصانات کی بیوع کو ناجائز قرار دیتی ہے۔
(1)
اس حدیث میں تین قسم کی بیوع سے منع کیا گیا ہے: پہلی یہ کہ کھجور پر لگی ہوئی کھجوروں کو ناپ کر خشک کھجور کے عوض فروخت کرنا۔
اسے مزابنہ کہتے ہیں۔
دوسری یہ کہ بیل پر لگے ہوئے انگوروں کو ناپ کے حساب سے منقی کے عوض فروخت کرنا۔
اسے بھی مزابنہ کہا جاتا ہے۔
تیسری یہ کہ کھڑی کھیتی کو غلے کے عوض ناپ کے حساب سے بیچنا۔
اسے محاقلہ کہتے ہیں۔
یہ بھی جائز نہیں۔
ان سب میں قدر مشترک یہ ہے کہ ایک معلوم چیز کے عوض مجہول کو فروخت کرنا ہے۔
(2)
حافظ ابن حجر ؒ نے ابن بطال کے حوالے سے علماء کا اجماع نقل کیا ہے کہ کھیتی کو کاٹنے سے پہلے غلے کے عوض فروخت کرنا درست نہیں کیونکہ اس میں ہر دو کے لیے نقصان کا احتمال ہے۔
ایسے ہی کھیتی کاٹنے کے بعد تازہ بالیوں کو خشک غلے کے عوض فروخت کرنا بھی درست نہیں، البتہ احناف کہتے ہیں کہ پھل توڑ کر ڈھیری لگادی جائے تو اس میں چونکہ اندازہ ہوجاتا ہے، لہٰذا اس صورت میں خریدوفروخت کرنا جائز ہے لیکن اس سے صریح نص کی مخالفت لازم آتی ہے۔
(فتح الباري: 510/4)
(1)
بعض روایات میں کھیتی کے غلے سے خریدوفروخت کا ذکر ہے کہ ایسا کرنا منع ہے۔
(مسند أحمد: 5/2)
اس حدیث میں ثمرسے مراد خشک کھجور ہے،ہر پھل مراد نہیں کیونکہ دوسرے پھلوں کی کھجور سے خریدوفروخت جائز ہے۔
حدیث میں ماپ کر بیچنے کا ذکر نفس الامر کے اعتبار سے ہے کیونکہ اس وقت لوگ ماپ کر خریدوفروخت کرتے تھے لیکن ایسا تبادلہ مطلق طور پر ناجائز ہے،خواہ ماپ کر ہویا ماپ کے بغیر کیا جائے۔
ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے پوچھا گیا: کیا تازہ کھجوریں خشک کھجوروں کے عوض فروخت کی جاسکتی ہیں؟ تو آپ نے فرمایا: ’’وہ خشک ہوکر وزن میں کم رہ جاتی ہیں؟‘‘ لوگوں نے کہا: ہاں، تو آپ نے اس سے منع فرمایا۔
(سنن أبي داود، البیوع، حدیث: 3359)
(2)
حدیث میں اگرچہ طعام کا ذکر نہیں ہے،تاہم معنی کے اعتبار سے اس عنوان کو ثابت کیا گیا ہے۔
بعض روایات میں طعام کا ذکر بھی ہے،شاید امام بخاری ؒ نے ان کی طرف اشارہ کیا ہو۔
(فتح الباري: 475/4)
بہرحال وہ کھجور جو درختوں سے نہ اتاری گئی ہو اسی طرح وہ انگور جو بیلوں پر ہوں ان کا اندازہ کرکے خشک کھجوروں یامنقی کے عوض فروخت کرنا جائز نہیں کیونکہ اس سے ایک فریق کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے، البتہ عرایا میں ایسا کیا جاسکتا ہے جس کی تفصیل آگے آرہی ہے۔
اس بیع عرایا کی رخصت میں اختلاف ہے کہ کیا اس کا تعلق ہر قسم کے پھل سے ہے یا نہیں؟ امام احمد، لیث اور اہل حجاز کے نزدیک رخصت کا تعلق صرف کھجوروں سے ہے، الا یہ کہ وہ پھل ربوی (جس میں سود کا احتمال ہے)
نہ ہو۔
امام شافعی کے نزدیک کھجور اور انگور دونوں میں رخصت ہے، امام مالک کے نزدیک ہر وہ پھل جو ذخیرہ ہو سکے، امام اوزاعی کے نزدیک ہر قسم کے پھل میں رخصت ہے، اور احناف کے نزدیک یہ ہبہ کی تبدیلی ہے اس لیے ہر پھل میں جائز ہونا چاہیے اور ظاہر یہ ہے کہ اس کا تعلق ہر اس پھل سے ہے جس میں تازہ اور خشک ہونے کی صورت میں فرق ہے۔
یہ بات بائع اور مشتری دونوں کی طرف سے ہو سکتی ہے۔
بائع کے اعتبار سے اس کا تعلق خشک پھل سے ہوگا اور مشتری کے اعتبار سے تازہ یعنی درخت پر موجود پھل سے۔
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے درخت پر لگی ہوئی کھجور کا اندازہ کر کے سوکھی کھجور کے بدلے ناپ کر بیچنے سے منع فرمایا ہے، اسی طرح انگور کا (جو بیلوں پر ہو) اندازہ کر کے اسے سوکھے انگور کے بدلے ناپ کر بیچنے سے منع فرمایا ہے اور غیر پکی ہوئی فصل کا اندازہ کر کے اسے گیہوں کے بدلے ناپ کر بیچنے سے منع فرمایا ہے (کیونکہ اس میں کمی و بیشی کا احتمال ہے)۔ [سنن ابي داود/كتاب البيوع /حدیث: 3361]
1۔
درخت یا بیل پر لگے تازہ پھل کو جس کی مقدار متعین نہیں ہوسکتی۔
اس نوع کے خشک پھل سے بیچنا کہ خشک کی مقدار معلوم ومعین ہو یا گندم وغیرہ کے کھیت کو خشک گندم کے عوض بیچنا (مزابنہ) کہلاتا ہے۔
2۔
ایک جنس کا باہمی تبادلہ کرتے ہوئے تازہ اور خشک یا عمدہ اور روی کا فرق نہیں کیا جا سکتا۔
دونوں کا نقد اور برابر برابر تبادلہ کیا جائے۔
پھرعلیحدہ علیحدہ نقدی کے عوض بیچا جائے۔
البتہ عرایا جائز ہے۔
جیسے کہ ذکر آرہا ہے۔
3۔
اس میں ایک پہلو قدر کے غیر معلوم ہونے کا بھی ہے۔
کیونکہ درخت پر لگی کھجور کا حتمی وزن یا یا کیل ممکن نہیں۔
4۔
تازہ کھجور خشک ہونے کے باوجود کم ہو جاتی ہے۔
اور اس کی خشک کھجور کے عوض بیع کی ممانعت صراحت کے ساتھ آچکی ہے۔
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع مزابنہ سے منع فرمایا ہے ” مزابنہ یہ ہے کہ آدمی اپنے باغ میں لگے پھل کو بیچے، اگر وہ کھجور ہو تو نپی ہوئی کھجور سے بیچے، اور اگر انگور ہو تو اسے نپے ہوئے خشک انگور (منقیٰ یا کشمش) سے بیچے، اور اگر کھڑی کھیتی (فصل) ہو تو اسے نپے ہوئے اناج سے بیچے۔“ آپ نے ان تمام اقسام کی بیع سے منع فرمایا۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4553]
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع مزابنہ سے منع فرمایا، مزانبہ درخت پر لگے کھجور کو توڑے ہوئے کھجور سے ناپ کر بیچنا، اور بیل پر لگے تازہ انگور کو توڑے ہوئے انگور (کشمش) سے ناپ کر بیچنا۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4538]
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع مزابنہ سے منع فرمایا، اور مزابنہ یہ ہے کہ درخت میں موجود پھل کو متعین توڑے ہوئے پھلوں سے بیچنا اس طور پر کہ زیادہ ہوا تو بھی میرا (یعنی کا) اور کم ہوا تو بھی میرے ذمہ۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4537]
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہا کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں کھیت بٹائی پر دیے جاتے تھے اس شرط پر کہ زمین کے مالک کے لیے وہ پیداوار ہو گی جو نالیوں اور نہروں کی کیاریوں پر ہو اور کچھ گھاس جس کی مقدار مجھے معلوم نہیں۔ [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3963]
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزابنہ سے منع فرمایا، مزابنہ یہ ہے کہ آدمی اپنے باغ کی کھجور کو جو درختوں پر ہو خشک کھجور کے بدلے ناپ کر بیچے، یا انگور کو جو بیل پر ہو کشمش کے بدلے ناپ کر بیچے، اور اگر کھیتی ہو تو کھیت میں کھڑی فصل سوکھے ہوئے اناج کے بدلے ناپ کر بیچے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سب سے منع کیا ہے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2265]
فوائد و مسائل:
(1)
بیع مزابنہ ممنوع ہے۔
(2)
بیع مزابنہ کی صورت یہ ہے کہ ایک آدمی کھجور کے باغ کا پھل خریدے اور اس کے عوض مقررہ مقدار میں کھجوریں ادا کرے۔
یا مثلاً یوں کہے: اس کھیت میں جوفصل تیار ہورہی ہے وہ سب میں پچاس من گندم کے عوض خریدتا ہوں۔
یہ درست نہیں کیونکہ یہ معلوم نہیں کھیت سے جو گندم حاصل ہو گی وہ پچاس من سے کم ہو گی یا زیادہ۔
کھیت کی فصل کےبارے میں اس قسم کا معاہدہ محاقلہ کہلاتا ہے جبکہ باغ کے پھل کےبارے میں یہی معاملہ مزابنہ کہلاتا ہے۔
(3)
امام مالک رحمۃ اللہ علیہ نے مزابنہ میں اس صورت کو بھی شامل کیا ہے کہ کسی بغیر ماپی تولی چیز کےبارے میں کہا جائے کہ اس کی مقدار یہ ہے، مثلاً گندم کا یہ ڈھیر دس من کا ہے۔
یا اس برتن میں میرے اندازے کے مطابق پچاس لٹر تیل ہے۔
یا میں کہتا ہوں کہ مالٹوں کی اس ڈھیری میں دو سو مالٹے ہیں، اگر مقدار کم ہوئی تو اپنے پاس سے پوری کروں گا، اور اگر زیادہ ہوئی تو جتنی زیادہ ہوئی وہ میری ہو گی۔
امام مالک رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ یہ صورت بیع نہیں بلکہ دھوکے اور قمار (جوئے)
پر مبنی ایک معاملہ ہے۔ (مؤطأ امام مالك، البیوع، باب ماجاء في المزابنة والمحاقلة: 2/ 161)
«. . . 236- وبه: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى عن المزابنة، والمزابنة: بيع الثمر بالتمر كيلا، وبيع الكرم بالزبيب كيلا. . . .»
”. . . اور اسی سند کے ساتھ (سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے) روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزابنہ سے منع کیا ہے (اور مزابنہ یہ ہے کہ) درخت پر لگی ہوئی کھجوروں کو خشک کھجوروں کے بدلے تول کا سودا کیا جائے اور درخت پر لگے ہوئے انگوروں کو خشک انگوروں کے بدلے تول کا سودا کیا جائے . . .“ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 494]
تفقہ:
➊ دیکھئے حدیث سابق: 158
➋ دین اسلام میں پوری انسانیت کے لئے فلاح ہی فلاح ہے۔
➌ سد ذرائع کے طور پر اس ذریعے کو بند کر دینا چاہئے جس سے فساد اور شر پھیلنے کا اندیشہ ہو۔