صحيح مسلم
كتاب الإيمان— ایمان کے احکام و مسائل
باب بَيَانِ الإِيمَانِ الَّذِي يُدْخَلُ بِهِ الْجَنَّةُ وَأَنَّ مَنْ تَمَسَّكَ بِمَا أُمِرَ بِهِ دَخَلَ الْجَنَّةَ: باب: بیان اس ایمان کا جس سے آدمی جنت میں جائے گا اور بیان اس بات کا کہ حکم بجا لانے والا جنت میں جائے گا۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو كُرَيْبٍ وَاللَّفْظُ لِأَبِي كُرَيْبٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النُّعْمَانُ بْنُ قَوْقَلٍ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، " أَرَأَيْتَ إِذَا صَلَّيْتُ الْمَكْتُوبَةَ ، وَحَرَّمْتُ الْحَرَامَ ، وَأَحْلَلْتُ الْحَلَالَ ، أَأَدْخُلُ الْجَنَّة ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : نَعَمْ " .حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس نعمان بن قوقل آئے اور کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! بتلائیے جب میں فرض نمازیں ادا کرتا رہوں، حرام سے بچتا رہوں اور حلال کو حلال قرار دوں تو کیا میں جنت میں داخل ہو جاؤں گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔“
وحَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ وَالْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّاءَ ، قَالَا : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، عَنِ شَيْبَانَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ وَأَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قَالَ النُّعْمَانُ بْنُ قَوْقَلٍ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، بِمِثْلِهِ وَزَادَ فِيهِ ، وَلَمْ أَزِدْ عَلَى ذَلِكَ شَيْئًا .شیبان نے اعمش سے، انہوں نے ابوصالح اور ابوسفیان سے اور انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: نعمان بن قوقل رضی اللہ عنہ نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! پھر اس سابقہ روایت کی طرح ہے اور اس میں یہ اضافہ کیا: اور اس پر کسی چیز کا اضافہ نہ کروں گا۔
وحَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ ، حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ وَهُوَ ابْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّ رَجُلًا ، سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " أَرَأَيْتَ إِذَا صَلَّيْتُ الصَّلَوَاتِ الْمَكْتُوبَاتِ ، وَصُمْتُ رَمَضَانَ ، وَأَحْلَلْتُ الْحَلَالَ ، وَحَرَّمْتُ الْحَرَامَ ، وَلَمْ أَزِدْ عَلَى ذَلِكَ شَيْئًا ، أَأَدْخُلُ الْجَنَّةَ ؟ قَالَ : نَعَمْ " ، قَالَ : وَاللَّهِ لَا أَزِيدُ عَلَى ذَلِكَ شَيْئًا .سلمہ بن شبیب، حسن بن اعین، معقل یعنی عبداللہ، ابوالزبیر، جابر سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ اگر میں فرض نماز پڑھتا رہوں اور حلال کو حلال سمجھتے ہوئے اس سے بچتا رہوں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کیا رائے ہے کہ کیا میں جنت میں داخل ہو جاؤں گا؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں!“ اس شخص نے عرض کیا: اللہ کی قسم میں اس سے زیادہ کچھ نہیں کروں گا۔
تشریح، فوائد و مسائل
(1)
حرَّمتُ الحَرام: حرام کو حرام سمجھ کر، اس سے بچوں۔
(2)
أَحْلَلْتُ الْحَلَالَ: حلال کو حلال سمجھوں۔
فوائد ومسائل: حرام کو حرام سمجھنا اور اس سے بچنا دونوں لازم ہیں، اور حلال کے لیے محض اس کو حلال سمجھنا ہی لازم ہے اس کا استعمال ضروری نہیں۔