صحيح مسلم
كتاب الإيمان— ایمان کے احکام و مسائل
باب جَوَازِ الاِسْتِسْرَارِ لِلْخَائِفِ: باب: خوف زدہ کے لیے ایمان کو پوشیدہ رکھنے کا جواز۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، اللَّفْظُ لِأَبِي كُرَيْبٍ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَال : كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : أَحْصُوا لِي كَمْ يَلْفِظُ الإِسْلَامَ ؟ قَالَ : فَقُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَتَخَافُ عَلَيْنَا وَنَحْنُ مَا بَيْنَ السِّتِّ مِائَةِ إِلَى السَّبْعِ مِائَةِ ؟ قَالَ : " إِنَّكُمْ لَا تَدْرُونَ لَعَلَّكُمْ أَنْ تُبْتَلَوْا ، قَالَ : فَابْتُلِيَنَا حَتَّى جَعَلَ الرَّجُلُ مِنَّا لَا يُصَلِّي إِلَّا سِرًّا " .حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، آپ نے فرمایا: ”میرے لیے شمار کرو کہ کتنے (لوگ) اسلام کے الفاظ بولتے ہیں (اسلام کا کلمہ پڑھتے ہیں)؟“ حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا: تب ہم نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! کیا آپ کو ہم پر (کوئی مصیبت نازل ہو جانے کا) خوف ہے جبکہ ہم چھ سات سو کے درمیان ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”تم نہیں جانتے، ہو سکتا ہے تم کسی آزمائش میں ڈال دیے جاؤ۔“ پھر ہم آزمائش میں ڈال دیے گئے یہاں تک کہ ہم میں سے کوئی شخص پوشیدہ رہے بغیر نماز بھی نہیں پڑھ سکتا تھا۔
تشریح، فوائد و مسائل
آپ کی پیش گوئی کے مطابق آپ کی وفات کے بعد ایسے حالات پیدا ہوگئے کہ بعض لوگوں کو نماز بھی (جو ایمان کی ظاہری اور محسوس علامت ہے)
چھپ کر پڑھنا پڑتی تھی، کیونکہ نماز کو امن وجنگ کسی حالت میں بھی چھوڑا نہیں جاسکتا، اور نماز ہی اسلام وایمان کی دائمی نشانی اور علامت ہے، جو روزانہ پانچ بار ادا کی جاتی ہے۔
کیونکہ بعض گورنر نماز بہت دیر کرکے پڑھاتے تھے، اس لیے بعض لوگ اپنے طور پر پہلے نماز پڑھ لیتے تھے، پھر جماعت میں بھی شریک ہوجاتے تھے۔
«. . . قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اكْتُبُوا لِي مَنْ تَلَفَّظَ بِالْإِسْلَامِ مِنَ النَّاسِ . . .»
”. . . رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جو لوگ اسلام کا کلمہ پڑھ چکے ہیں ان کے نام لکھ کر میرے پاس لاؤ . . .“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ: 3060]
حذیفہ رضی اللہ عنہ کا مطلب یہ تھا کہ عہد نبوی میں تو ہم ڈیڑھ ہزار ہونے پر بے خوف ہو گئے تھے اور اب ہزاروں لاکھوں ہونے کے باوجود حق بات کہنے سے ڈرتے ہیں۔ کچھ تو ڈر کے مارے نماز بھی گھر میں ہی پڑھ لیتے ہیں۔ حذیفہ رضی اللہ عنہ نے یہ بات اس وقت کہی جب ولید بن عقبہ، عثمان رضی اللہ عنہ کی طرف سے کوفہ کا حاکم تھا اور نمازیں اتنی دیر سے پڑھتا کہ معاذ اللہ۔ آخر بعض متقی لوگ اول وقت نماز پڑھ لیتے اور پھر اس کے ڈر سے جماعت میں بھی شریک ہو جاتے۔ [ماخوذ از شرح بخاري، مولانا داود راز تحت الحديث 3060]
وسلك الداودي الشارح طریق الجمع فقال لعلهم کتبوا مرات في مواطن یعنی تعداد میں اختلاف اس لئے ہوا کہ شاید ان لوگوں نے کئی جگہ مردم شماری کی ہو‘ بعض نے یہ بھی کہا کہ ڈیڑھ ہزار سے مراد مرد عورت بچے غلام جو بھی مسلمان ہوئے سب مراد ہیں اور چھ سو سے سات سو تک خاص مرد مراد ہیں اور پانچ سو سے خالص لڑنے والے مراد ہیں۔
وفي الحدیث مشروعیة کتابة دواوین الجیوش وقد یتعین ذالك عند الاحتیاج إلی تمیز من یصلح للمقاتلة بمن لا یصلح (فتح)
حذیفہ ؓ کا مطلب یہ تھا کہ آنحضرتﷺ کے عہد مبارک میں تو ہم ڈیڑھ ہزار کا شمار پورے ہونے پر بے ڈر ہو گئے تھے اور اب ہزاروں لاکھوں مسلمان موجود ہیں‘ یہ حق بات کہتے ہوئے ڈرتے ہیں۔
کوئی کوئی تو ڈر کے مارے اپنی نماز اکیلے پڑھ لیتا ہے اور منہ سے کچھ نہیں نکال سکتا۔
یہ حذیفہ ؓنے اس زمانے میں کہا جب ولید بن عقبہ حضرت عثمان ؓ کی طرف سے کوفہ کا حاکم تھا اور نمازیں اتنی دیر کر کے پڑھتا کہ معاذ اللہ۔
آخر بعض متقی لوگ اوّل وقت نماز پڑھ لیتے پھر جماعت میں بھی اس کے ڈر سے شریک ہو جاتے۔
1۔
حضرت حذیفہ ؓنے یہ بات اس وقت کہی جب حضرت عثمان ؓ کی طرف سے ولید بن عقبہ ؓ کو کوفہ گورنر مقرر کیا گیا اور وہ نماز پڑھنے میں بہت تاخیر کرتے تو تقوی شعار لوگ اول وقت اکیلے ہی نماز ادا کر لیتے۔
لیکن ہمارے دور میں تو حکمران نماز کا نام ہی نہیں لیتے۔
حضرت حذیفہ ؓ کا مطلب یہ تھا کہ رسول اللہ ﷺ کے عہد مبارک میں تو ہم ڈیڑھ ہزار ہونے پر نڈر اور بے خوف ہو گئے تھے اب ہزاروں کی تعداد میں ہیں اس کے باوجود حق بات کہنے سے ڈرتے ہیں اور بعض توڈر کے مارے اکیلے ہی نماز پڑھ لیتے ہیں۔
اور منہ سے کچھ نہیں کہہ سکتے۔
واللہ المستعان۔
2۔
تعداد میں اختلاف کی وجہ اس لیے ہے کہ شاید کئی ایک مقامات پر مردم شماری کی گئی ہو۔
بعض نے یہ بھی کہا ہے کہ ڈیڑھ ہزار سے مراد مرد عورتیں اور بچے سب مسلمان ہیں اور چھ سو سے سات سو تک صرف مرد مراد ہیں۔
اور پانچ سو سے مراد وہ فوجی جوان ہیں جو میدان میں لڑنے والے تھے واللہ اعلم۔
امام بخاری ؒنے اس کو مردم شماری کے جواز کی دلیل بنایا ہے۔
حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” تمام مسلمانوں کی تعداد شمار کر کے مجھے بتاؤ “، ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا آپ ہم پر (اب بھی دشمن کی طرف سے) خطرہ محسوس کرتے ہیں، جب کہ اب ہماری تعداد چھ اور سات سو کے درمیان ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” تم لوگ نہیں جانتے شاید کہ تم آزمائے جاؤ۔“ حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: تو واقعی ہم آزمائے گئے، یہاں تک کہ ہم میں سے اگر کوئی نماز بھی پڑھتا تو چھپ کر پڑھتا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 4029]
فوائد و مسائل:
(1)
مردم شماری کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ افرادی قوت کا صحیح اندازہ ہوجاتا ہے۔
(2)
صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کو اللہ تعالی پر اس قدر توکل تھا کہ چھ سات سو کی تعداد ہوتے ہوئے خود کو ناقابل شکست سمجھتے تھے۔
(3)
زیادہ تعداد کے باوجود آزمائش آ سکتی ہے۔
اس لیے اللہ سے مدد مانگتے رہنا چاہیے اور آزمائش میں ثابت قدم رہنا چاہیے۔