حدیث نمبر: 146
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، وَالْفَضْلُ بْنُ سَهْلٍ الأَعْرَجُ ، قَالَا : حَدَّثَنَا شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ وَهُوَ ابْنُ مُحَمَّدٍ الْعُمَرِيُّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَن النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّ الإِسْلَامَ بَدَأَ غَرِيبًا ، وَسَيَعُودُ غَرِيبًا ، كَمَا بَدَأَ وَهُوَ يَأْرِزُ بَيْنَ الْمَسْجِدَيْنِ ، كَمَا تَأْرِزُ الْحَيَّةُ فِي جُحْرِهَا " .

معمر نے ثابت سے خبر دی، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی ایسے شخص پر قیامت قائم نہ ہو گی جو اللہ اللہ کہتا ہو گا۔“

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الإيمان / حدیث: 146
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عبد العزیز علوی
حضرت ابن عمر ؓ کی مرفوع روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’اسلام کا آغاز غربت میں ہوا اور ابتدا کی طرح آخر میں غریب ٹھہرے گا، اور وہ دونوں مسجدوں کے درمیان سمٹ آئے گا جیسا کہ سانپ اپنے بل میں آ جاتا ہے۔‘‘ [صحيح مسلم، حديث نمبر:373]
حدیث حاشیہ: مفردات الحدیث:
: (1)
مَسْجِدَيْنِ: دو مسجدوں سے مراد، بیت اللہ اور مسجد نبوی ہے۔
(2)
يَأْرِزُ: جمع ہونا، لوٹ آنا، پناہ پکڑنا۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 146 سے ماخوذ ہے۔