صحيح مسلم
كتاب الإيمان— ایمان کے احکام و مسائل
باب الدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ مَنْ قَصَدَ أَخْذَ مَالِ غَيْرِهِ بِغَيْرِ حَقٍّ كَانَ الْقَاصِدُ مُهْدَرَ الدَّمِ فِي حَقِّهِ وَإِنْ قُتِلَ كَانَ فِي النَّارِ وَأَنَّ مَنْ قُتِلَ دُونَ مَالِهِ فَهُوَ شَهِيدٌ: باب: غیر کا مال ناحق چھیننے والے کا خون رائیگان ہے اور اگر وہ اس لڑائی کے دوران قتل ہو جائے تو جہنمی ہے اور جو مال کی حفاظت میں قتل ہو جائے تو وہ شہید ہے۔
حَدَّثَنِي أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ مَخْلَدٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، " أَرَأَيْتَ إِنْ جَاءَ رَجُلٌ يُرِيدُ أَخْذَ مَالِي ؟ قَالَ : فَلَا تُعْطِهِ مَالَكَ ، قَالَ : أَرَأَيْتَ إِنْ قَاتَلَنِي ؟ قَالَ : قَاتِلْهُ ، قَالَ : أَرَأَيْتَ إِنْ قَتَلَنِي ؟ قَالَ : فَأَنْتَ شَهِيدٌ ، قَالَ : أَرَأَيْتَ إِنْ قَتَلْتُهُ ؟ قَالَ : هُوَ فِي النَّارِ " .حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی: اے اللہ کے رسول! آپ کی کیا رائے ہے اگر کوئی آدمی آ کر میرا مال چھیننا چاہے (تو میں کیا کروں؟) آپ نے فرمایا: ”اسے اپنا مال نہ دو۔“ اس نے کہا: آپ کی کیا رائے ہے اگر وہ میرے ساتھ لڑائی کرے تو؟ فرمایا: ”تم اس سے لڑائی کرو۔“ اس نے پوچھا: آپ کی کیا رائے ہے اگر وہ مجھے قتل کر دے تو؟ آپ نے فرمایا: ”تم شہید ہو گے۔“ اس نے پوچھا: آپ کی کیا رائے ہے اگر میں اسے قتل کر دوں؟ فرمایا: ”وہ دوزخی ہو گا۔“
تشریح، فوائد و مسائل
(1)
اپنے مال ودولت کا تحفظ اور بچاؤ ایک اجر وثواب اور فضیلت کا کام ہے، کیونکہ اگر ہر انسان ظلم کو گوارا کرنا شروع کر دے، ظالم کا مقابلہ نہ کرے تو ظالم دلیر ہوں گے، اور ان کی مال ودولت کی ہوس، ان کو مزید ظلم وستم پر آمادہ کرے گی۔
لیکن اگر ظالموں کا مقابلہ ہوگا، ان کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا، تو ظلم وستم کا راستہ بند ہوگا۔
اس لیے شریعت اس کام کو اجر وثواب کا باعث قرار دیتی ہے، تاکہ لوگوں کے اندر ظالموں کی راہ روکنے کی ہمت وجرأت پیدا ہو۔
بد قسمتی سے آج ہم نے اس حدیث پر عمل کرنا چھوڑ دیا؟ اس لیے دن بدن قتل وغارت اور دہشت گردی میں اضافہ ہو رہا ہے۔
(2)
دوسروں پر ظلم وستم ڈھانا، کسی کا مال چھیننا، اس قدر گھناؤنا فعل ہے کہ ایسے شخص کا خون محترم نہیں رہتا، اس کا ضرورت کی صورت میں خون بہانا جائز ہوگا، اور اس فعل کا خاصہ جہنم کی سزا ہے، اگر توبہ نہ کی یا معافی نہ ملی۔
اور اس کے ہاتھوں مظلوم مرنے والا آخرت کے اجر وثواب کی رو سے شہید ہوگا۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " جس سے اس کا مال ناجائز طریقے سے لینے کا ارادہ کیا جائے، اور وہ اس کے بچانے میں قتل کر دیا جائے، تو وہ شہید ہے۔" [سنن ابن ماجه/كتاب الحدود/حدیث: 2582]
فوائد و مسائل:
(1)
ہرشخص کو حق حاصل ہےکہ اس کی جان اس کامال اس کی عزت محفوظ رہے لہٰذا حملہ آور کےخلاف دفاع کرنا اس کا حق ہے۔
(2)
مال کی حفاظت کے لیے حملہ آور کےخلاف لڑنا جائز ہے توعزت اورجان کی حفاظت کےلڑنا بالاولیٰ جائزہوگا۔
(3)
دفاع کرنےوالا شہید ہوجائے تو وہ شہید ہے تاہم اس کا درجہ ایمان کی حفاظت یا اسلامی سلطنت کی حفاظت کے لیے جہاد کرتے ہوئے شہید سے کم ہے۔
ایسے شخص کو باقاعدہ غسل اور کفن دے کردفن کیا جائے جب کہ معرکہ جہاد کےشہید کےلیےغسل اور کفن ضرورت نہیں۔