صحيح مسلم
كتاب الحج— حج کے احکام و مسائل
باب فَضْلِ الْمَدِينَةِ وَدُعَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهَا بِالْبَرَكَةِ وَبَيَانِ تَحْرِيمِهَا وَتَحْرِيمِ صَيْدِهَا وَشَجَرِهَا وَبَيَانِ حُدُودِ حَرَمِهَا: باب: مدینہ منورہ کی فضیلت اور اس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی برکت کی دعا اور اس کی حرمت اور اس کے شکار، اور درخت کاٹنے کی حرمت، اور اس کے حدود حرم کا بیان۔
حدثنا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَابْنُ حُجْرٍ ، جَمِيعًا عَنْ إِسْمَاعِيل ، قَالَ ابْنُ أَيُّوبَ ، حدثنا إِسْمَاعِيل بْنُ جَعْفَرٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ أَبِي عَمْرٍو مَوْلَى الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَنْطَبٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَبِي طَلْحَةَ : " الْتَمِسْ لِي غُلَامًا مِنْ غِلْمَانِكُمْ يَخْدُمُنِي " ، فَخَرَجَ بِي أَبُو طَلْحَةَ يُرْدِفُنِي وَرَاءَهُ ، فَكُنْتُ أَخْدُمُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلَّمَا نَزَلَ ، وقَالَ فِي الْحَدِيثِ : ثُمَّ أَقْبَلَ حَتَّى إِذَا بَدَا لَهُ أُحُدٌ ، قَالَ : " هَذَا جَبَلٌ يُحِبُّنَا وَنُحِبُّهُ ، فَلَمَّا أَشْرَفَ عَلَى الْمَدِينَةِ ، قَالَ : اللَّهُمَّ إِنِّي أُحَرِّمُ مَا بَيْنَ جَبَلَيْهَا مِثْلَ مَا حَرَّمَ بِهِ إِبْرَاهِيمُ مَكَّةَ ، اللَّهُمَّ بَارِكْ لَهُمْ فِي مُدِّهِمْ وَصَاعِهِمْ " ،حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا: ”انصاری لڑکوں سے کوئی لڑکا تلاش کرو، وہ میری خدمت کرے۔‘‘ تو ابو طلحہ مجھے لے کر اپنے پیچھے سوار کر کے نکلے، جب بھی کسی منزل پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اترتے، میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کرتا اور حدیث میں یہ بھی بیان کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم واپس مدینہ کی طرف آئے، حتی کہ جب اُحد آپ پر نمایاں ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ پہاڑ ہم سے محبت کرتا ہے اور ہم اس سے محبت کرتے ہیں،‘‘ تو جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ پر جھانکے (اس کے قریب پہنچے) فرمایا: ”اے اللہ میں ان دونوں پہاڑوں کی درمیانی جگہ کو محترم قرار دیتا ہوں، جس طرح ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کو حرم قرار دیا تھا، اے اللہ! ان کے مد اور ان کے صاع میں برکت فرما۔‘‘
وحدثناه سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَا : حدثنا يَعْقُوبُ وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَارِيُّ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِمِثْلِهِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ : إِنِّي أُحَرِّمُ مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا .یعقوب بن عبدالرحمٰن القاری نے ہمیں عمرو بن ابی عمرو سے حدیث بیان کی، انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند روایت کی۔ مگر انہوں نے کہا: ”میں اس کی دونوں کالے سنگریزوں والی زمینوں کے درمیانی حصے کو حرم قرار دیتا ہوں۔“
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حدثنا إِسْمَاعِيل يَعْنِي ابْنَ عُلَيَّةَ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنْ أَنَسٍ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزَا خَيْبَرَ ، قَالَ : فَصَلَّيْنَا عَنْدَهَا صَلَاةَ الْغَدَاةِ بِغَلَسٍ ، فَرَكِبَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَرَكِبَ أَبُو طَلْحَةَ ، وَأَنَا رَدِيفُ أَبِي طَلْحَةَ ، فَأَجْرَى نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي زُقَاقِ خَيْبَرَ وَإِنَّ رُكْبَتِي لَتَمَسُّ فَخِذَ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَانْحَسَرَ الْإِزَارُ عَنْ فَخِذِ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَإِنِّي لَأَرَى بَيَاضَ فَخِذِ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمَّا دَخَلَ الْقَرْيَةَ ، قَالَ : " اللَّهُ أَكْبَرُ خَرِبَتْ خَيْبَرُ ، إِنَّا إِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَةِ قَوْمٍ فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِينَ " ، قَالَهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، قَالَ : وَقَدْ خَرَجَ الْقَوْمُ إِلَى أَعْمَالِهِمْ ، فقَالُوا : مُحَمَّدٌ وَاللَّهِ ، قَالَ عَبْدُ الْعَزِيزِ : وَقَالَ بَعْضُ أَصْحَابِنَا : مُحَمَّدٌ وَالْخَمِيسُ ، قَالَ : وَأَصَبْنَاهَا عَنْوَةً وَجُمِعَ السَّبْيُ فَجَاءَهُ دِحْيَةُ ، فقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَعْطِنِي جَارِيَةً مِنَ السَّبْيِ ، فقَالَ : " اذْهَبْ فَخُذْ جَارِيَةً " ، فَأَخَذَ صَفِيَّةَ بِنْتَ حُيَيٍّ ، فَجَاءَ رَجُلٌ إِلَى نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فقَالَ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، أَعْطَيْتَ دِحْيَةَ صَفِيَّةَ بِنْتَ حُيَيٍّ سَيِّدِ قُرَيْظَةَ ، وَالنَّضِيرِ ، مَا تَصْلُحُ إِلَّا لَكَ ، قَالَ : " ادْعُوهُ بِهَا " ، قَالَ : فَجَاءَ بِهَا ، فَلَمَّا نَظَرَ إِلَيْهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم ، قَالَ : " خُذْ جَارِيَةً مِنَ السَّبْيِ غَيْرَهَا " ، قَالَ : وَأَعْتَقَهَا وَتَزَوَّجَهَا ، فقَالَ لَهُ ثَابِتٌ : يَا أَبَا حَمْزَةَ مَا أَصْدَقَهَا ؟ قَالَ : " نَفْسَهَا ، أَعْتَقَهَا وَتَزَوَّجَهَا " ، حَتَّى إِذَا كَانَ بِالطَّرِيقِ جَهَّزَتْهَا لَهُ أُمُّ سُلَيْمٍ ، فَأَهْدَتْهَا لَهُ مِنَ اللَّيْلِ ، فَأَصْبَحَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَرُوسًا ، فقَالَ : " مَنْ كَانَ عَنْدَهُ شَيْءٌ ، فَلْيَجِئْ بِهِ " ، قَالَ : وَبَسَطَ نِطَعًا ، قَالَ : فَجَعَلَ الرَّجُلُ يَجِيءُ بِالْأَقِطِ ، وَجَعَلَ الرَّجُلُ يَجِيءُ بِالتَّمْرِ ، وَجَعَلَ الرَّجُلُ يَجِيءُ بِالسَّمْنِ ، فَحَاسُوا حَيْسًا ، فَكَانَتْ وَلِيمَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کا قصد کیا اور ہم نے اس کے قریب صبح کی نماز اندھیرے میں پڑھی، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہوئے اور ابو طلحہ بھی سوار ہوئے اور میں ابو طلحہ کے پیچھے سوار تھا۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے (اپنی سواری) خیبر کی گلیوں میں دوڑا دی (اور ہم نے بھی اپنی سواریاں دوڑائیں) اور میرا گھٹنا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ران سے چھو رہا تھا، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ران سے تہبند کھسک گئی یا سرک گئی تو مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ران کی سفیدی نظر آنے لگی، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم بستی میں داخل ہو گئے تو آپ نے فرمایا: "اللہ اکبر! خیبر تباہ و برباد ہو یا خیبر ویران ہو گیا ہم جب کسی قوم کے آنگن یا چوک میں اترتے ہیں تو ڈرائے گئے لوگوں کی صبح بری ہوتی ہے۔”آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کلمات تین دفعہ فرمائے، اور لوگ اپنے کام کاج کے لیے نکل چکے تھے۔ اس لیے انہوں نے کہا: محمد، اللہ کی قسم! عبدالعزیز کی روایت میں ہے، ہمارے بعض ساتھیوں نے یہ الفاظ بیان کیے۔ محمد لشکر کے ساتھ آ گیا، اور ہم نے خیبر کو طاقت اور زورِ بازو سے فتح کیا، اور قیدیوں کو یکجا اکٹھا کیا گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حضرت دحیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ آئے اور عرض کیا، اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! مجھے قیدیوں میں سے ایک لونڈی عنایت فرمائیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جاؤ اور ایک باندی لے لو۔‘‘ تو انہوں نے صفیہ بنت حیی رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو لے لیا۔ اس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک آدمی آ کر کہنے لگا: اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دحیہ کو قریظہ اور بنو نضیر کی آقا صفیہ بنت حیی عنایت کر دی ہے؟ وہ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے شایان شان تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے اس سمیت بلاؤ۔‘‘ تو وہ اس کو لے کر حاضر ہوا تو جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر نظر ڈالی فرمایا: ”قیدیوں میں سے اس کے سوا کوئی اور لونڈی لے لو۔‘‘ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے آزاد کر کے اس سے شادی کر لی، حضرت ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے دریافت کیا، اے ابو حمزہ! (حضرت انس کی کنیت ہے) اس کو مہر کیا دیا تھا؟ انہوں نے جواب دیا، اس کا نفس، اس کو آزاد کیا اور اس سے شادی کر لی، حتی کہ جب (واپسی پر) راستہ میں ہی تھے، تو حضرت ام سلیم رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے انہیں تیار کر کے رات کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پیش کر دیا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم صبح کو نوشہ (دولہا) بن چکے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کے پاس کچھ ہو وہ لے آئے۔‘‘ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چمڑے کا دسترخوان بچھا دیا، تو کوئی آدمی پنیر لا رہا ہے اور کوئی آدمی کھجور لا رہا ہے اور کوئی گھی لا رہا ہے۔ ان سے صحابہ کرام نے مالیدہ تیار کیا، اور یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ولیمہ تھا۔
وحَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، حدثنا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، عَنْ ثَابِتٍ ، وَعَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ ، عَنْ أَنَسٍ . ح وحدثناه قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حدثنا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، عَنْ ثَابِتٍ ، وَشُعَيْبِ بْنِ حَبْحَابٍ ، عَنْ أَنَسٍ . ح وحدثنا قُتَيْبَةُ ، حدثنا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، وَعَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنْ أَنَسٍ . ح وحدثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْغُبَرِيُّ ، حدثنا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنْ أَنَسٍ . ح وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حدثنا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ شُعَيْبِ بْنِ الْحَبْحَابِ ، عَنْ أَنَسٍ . ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حدثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، وَعُمَرُ بْنُ سَعْدٍ ، وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ ، جميعا عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ ، عَنْ شُعَيْبِ بْنِ الْحَبْحَابِ ، عَنْ أَنَسٍ ، كُلُّهُمْ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَنَّهُ أَعْتَقَ صَفِيَّةَ ، وَجَعَلَ عِتْقَهَا صَدَاقَهَا " ، وَفِي حَدِيثِ مُعَاذٍ ، عَنْ أَبِيهِ : تَزَوَّجَ صَفِيَّةَ ، وَأَصْدَقَهَا عِتْقَهَا .حماد، یعنی ابن زید نے ثابت اور عبدالعزیز بن صہیب سے، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے۔ حماد نے ثابت اور شعیب بن حبحاب سے، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے۔ اسی طرح ابوعوانہ نے قتادہ اور عبدالعزیز سے، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے۔ ابوعوانہ (ہی) نے ابوعثمان سے، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے۔ معاذ بن ہشام نے اپنے والد سے، انہوں نے شعیب بن حبحاب سے، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے اور اسی طرح یونس بن عبید نے شعیب بن حبحاب سے، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے اور ان سب نے (کہا: انہوں نے) نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کو آزاد کیا اور ان کی آزادی کو ان کا مہر مقرر کیا۔ معاذ کی اپنے والد (ہشام) سے روایت کردہ حدیث میں ہے: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صفیہ رضی اللہ عنہا سے نکاح فرمایا اور ان کی آزادی، ان کو مہر میں دی۔
حدثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حدثنا عَفَّانُ ، حدثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، حدثنا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : كُنْتُ رِدْفَ أَبِي طَلْحَةَ يَوْمَ خَيْبَرَ ، وَقَدَمِي تَمَسُّ قَدَمَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم ، قَالَ : فَأَتَيْنَاهُمْ حِينَ بَزَغَتِ الشَّمْسُ وَقَدْ أَخْرَجُوا مَوَاشِيَهُمْ ، وَخَرَجُوا بِفُؤُوسِهِمْ ، وَمَكَاتِلِهِمْ ، وَمُرُورِهِمْ ، فقَالُوا : مُحَمَّدٌ ، وَالْخَمِيسُ ، قَالَ : وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " خَرِبَتْ خَيْبَرُ ، إِنَّا إِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَةِ قَوْمٍ فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِينَ " ، قَالَ : وَهَزَمَهُمُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ ، وَوَقَعَتْ فِي سَهْمِ دِحْيَةَ جَارِيَةٌ جَمِيلَةٌ ، فَاشْتَرَاهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَبْعَةِ أَرْؤُسٍ ، ثُمَّ دَفَعَهَا إِلَى أُمِّ سُلَيْمٍ تُصَنِّعُهَا لَهُ وَتُهَيِّئُهَا ، قَالَ : وَأَحْسِبُهُ ، قَالَ : وَتَعْتَدُّ فِي بَيْتِهَا وَهِيَ صَفِيَّةُ بِنْتُ حُيَيٍّ ، قَالَ : وَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلِيمَتَهَا التَّمْرَ ، وَالْأَقِطَ ، وَالسَّمْنَ ، فُحِصَتِ الْأَرْضُ أَفَاحِيصَ وَجِيءَ بِالْأَنْطَاعِ ، فَوُضِعَتْ فِيهَا وَجِيءَ بِالْأَقِطِ وَالسَّمْنِ ، فَشَبِعَ النَّاسُ ، قَالَ : وَقَالَ النَّاسُ : لَا نَدْرِي أَتَزَوَّجَهَا أَمِ اتَّخَذَهَا أُمَّ وَلَدٍ ؟ قَالُوا : إِنْ حَجَبَهَا فَهِيَ امْرَأَتُهُ ، وَإِنْ لَمْ يَحْجُبْهَا فَهِيَ أُمُّ وَلَدٍ ، فَلَمَّا أَرَادَ أَنْ يَرْكَبَ حَجَبَهَا ، فَقَعَدَتْ عَلَى عَجُزِ الْبَعِيرِ فَعَرَفُوا أَنَّهُ قَدْ تَزَوَّجَهَا ، فَلَمَّا دَنَوْا مِنَ الْمَدِينَةِ دَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَدَفَعَنْا ، قَالَ : فَعَثَرَتِ النَّاقَةُ الْعَضْبَاءُ ، وَنَدَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَدَرَتْ فَقَامَ فَسَتَرَهَا وَقَدْ أَشْرَفَتِ النِّسَاءُ ، فَقُلْنَ أَبْعَدَ اللَّهُ الْيَهُودِيَّةَ ، قَالَ : قُلْتُ : يَا أَبَا حَمْزَةَ ، أَوَقَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم ؟ قَالَ : إِي وَاللَّهِ لَقَدْ وَقَعَ . (حديث موقوف) قَالَ أَنَسٌ : وَشَهِدْتُ وَلِيمَةَ زَيْنَبَ ، فَأَشْبَعَ النَّاسَ خُبْزًا وَلَحْمًا ، وَكَانَ يَبْعَثُنِي فَأَدْعُو النَّاسَ ، فَلَمَّا فَرَغَ قَامَ وَتَبِعْتُهُ ، فَتَخَلَّفَ رَجُلَانِ اسْتَأْنَسَ بِهِمَا الْحَدِيثُ لَمْ يَخْرُجَا ، فَجَعَلَ يَمُرُّ عَلَى نِسَائِهِ فَيُسَلِّمُ عَلَى كُلِّ وَاحِدَةٍ مِنْهُنَّ : " سَلَامٌ عَلَيْكُمْ كَيْفَ أَنْتُمْ يَا أَهْلَ الْبَيْتِ ؟ " ، فَيَقُولُونَ : بِخَيْرٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كَيْفَ وَجَدْتَ أَهْلَكَ ؟ : فَيَقُولُ : بِخَيْرٍ ، فَلَمَّا فَرَغَ رَجَعَ وَرَجَعْتُ مَعَهُ ، فَلَمَّا بَلَغَ الْبَابَ إِذَا هُوَ بِالرَّجُلَيْنِ قَدِ اسْتَأْنَسَ بِهِمَا الْحَدِيثُ ، فَلَمَّا رَأَيَاهُ قَدْ رَجَعَ قَامَا فَخَرَجَا فَوَاللَّهِ مَا أَدْرِي أَنَا أَخْبَرْتُهُ أَمْ أُنْزِلَ عَلَيْهِ الْوَحْيُ بِأَنَّهُمَا قَدْ خَرَجَا ، فَرَجَعَ وَرَجَعْتُ مَعَهُ ، فَلَمَّا وَضَعَ رِجْلَهُ فِي أُسْكُفَّةِ الْبَابِ أَرْخَى الْحِجَابَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ ، وَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى هَذِهِ الْآيَةَ : لا تَدْخُلُوا بُيُوتَ النَّبِيِّ إِلا أَنْ يُؤْذَنَ لَكُمْ سورة الأحزاب آية 53 الْآيَةَ " .حماد بن سلمہ نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: ثابت نے ہمیں حضرت انس رضی اللہ عنہ سے حدیث سنائی، انہوں نے کہا: میں خیبر کے دن ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ سوار تھا، اور میرا پاؤں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قدم مبارک کو چھو رہا تھا۔ کہا: ہم خیبر والوں کے پاس اس وقت پہنچے جب سورج طلوع ہو رہا تھا، اور وہ لوگ اپنے مویشی لے کر (کھیتوں کی طرف) نکل رہے تھے اور اپنے کلہاڑے، ٹوکرے اور کدالیں ساتھ لیے ہوئے تھے۔ (جب انہوں نے ہمیں دیکھا) تو کہنے لگے: "محمد (ﷺ) اور ان کا لشکر آ گیا۔" رسول اللہ ﷺ نے (یہ دیکھ کر) فرمایا: **"اللہ اکبر، خیبر برباد ہو گیا! ہم جب کسی قوم کے میدان میں اترتے ہیں تو ڈرائے گئے لوگوں کی صبح بہت بری ہوتی ہے۔"** پھر اللہ عزوجل نے انہیں شکست دی۔ (مالِ غنیمت میں) حضرت دحیہ رضی اللہ عنہ کے حصے میں ایک خوبصورت لونڈی (حضرت صفیہ) آئی، تو رسول اللہ ﷺ نے انہیں سات جانوں کے بدلے خرید لیا۔ پھر آپ ﷺ نے انہیں (حضرت) ام سلیم رضی اللہ عنہا کے حوالے کر دیا تاکہ وہ انہیں (دلہن کی طرح) سنواریں اور تیار کریں۔ راوی کا خیال ہے کہ حضرت انس نے یہ بھی کہا کہ وہ اپنے (عدت کے) دن ام سلیم کے گھر میں ہی گزاریں۔ وہ حضرت صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا تھیں۔ حضرت انس فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ان کا ولیمہ کھجور، پنیر اور گھی سے کیا۔ زمین میں چھوٹے گڑھے کھودے گئے اور چمڑے کے دسترخوان لائے گئے جن میں یہ چیزیں (کھجور، پنیر اور گھی) ڈال دی گئیں اور لوگوں نے سیر ہو کر کھایا۔ لوگوں نے آپس میں کہا: "ہمیں نہیں معلوم کہ آپ ﷺ نے ان سے نکاح کیا ہے یا انہیں لونڈی (ام ولد) کے طور پر رکھا ہے؟" پھر انہوں نے کہا: "اگر آپ ﷺ نے انہیں پردے میں رکھا تو وہ آپ ﷺ کی زوجہ ہوں گی، اور اگر پردہ نہ کرایا تو وہ لونڈی ہوں گی۔" جب آپ ﷺ نے کوچ کا ارادہ کیا تو انہیں پردے میں بٹھایا اور وہ اونٹ کے پچھلے حصے پر بیٹھ گئیں، تب لوگوں کو معلوم ہوا کہ آپ ﷺ نے ان سے نکاح کر لیا ہے۔ جب ہم مدینہ کے قریب پہنچے تو رسول اللہ ﷺ نے اپنی اونٹنی تیز کی اور ہم نے بھی تیز کی۔ کہا: اونٹنی عضباء ٹھوکر کھا کر گر گئی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (پالان سے) نکل گئے اور وہ (حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا) بھی نکل کر گر گئیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور ان کو پردے میں کیا، عورتیں اوپر سے جھانک رہی تھیں، کہنے لگیں: اللہ یہودی عورت کو دور کرے۔ (ثابت نے) کہا: میں نے کہا: اے ابوحمزہ! کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گر پڑے تھے؟ انہوں نے جواب دیا: ہاں اللہ کی قسم! آپ گر پڑے تھے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہا: اور میں نے حضرت زینب رضی اللہ عنہا کے ولیمے میں بھی شرکت کی تھی۔ آپ نے لوگوں کو پیٹ بھر کر روٹی اور گوشت کھلایا تھا، آپ مجھے بھتیجے تھے میں لوگوں کو (کھانے کے لیے) بلاتا تھا۔ جب آپ فارغ ہوئے، تو کھڑے ہو گئے اور میں نے بھی آپ کی پیروی کی، پیچھے دو آدمی رہ گئے، باہمی گفتگو نے ان دونوں کو ساتھ لگائے رکھا۔ وہ دونوں نہ نکلے۔ آپ نے (چلتے ہوئے) اپنی ازواج مطہرات کے پاس جانا شروع کیا۔ آپ ان میں سے ہر ایک کو سلام کرتے، (فرماتے) ”تم پر سلامتی ہو، گھر والو! آپ کیسے ہو؟“ وہ جواب دیتے: اللہ کے رسول! خیریت سے ہیں۔ آپ نے اپنے اہل (نئی اہلیہ) کو کیسا پایا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جواب دیتے: ”خیر و (عافیت) کے ساتھ۔“ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم فارغ ہوئے تو واپس ہوئے، میں بھی آپ کے ساتھ لوٹ آیا، جب آپ دروازے پر پہنچے تو آپ نے ان دو آدمیوں کو دیکھا (کہ) باہمی گفتگو نے ان دونوں کو ساتھ لگا رکھا ہے، جب ان دونوں نے آپ کو دیکھا کہ آپ واپس آ رہے ہیں تو وہ دونوں اٹھے اور چلے گئے۔ اللہ کی قسم! (اب) مجھے معلوم نہیں کہ میں نے آپ کو بتایا یا آپ پر وحی نازل کی گئی کہ وہ دونوں چلے گئے ہیں۔ آپ واپس آئے اور میں بھی آپ کے ساتھ واپس آیا۔ پھر آپ نے اپنا پاؤں دروازے کی چوکھٹ پر رکھا تو میرے اور اپنے درمیان پردہ لٹکا دیا۔ اور اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ”تم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے گھروں میں مت داخل ہو الا یہ کہ تمہیں (اس کی) اجازت دی جائے۔“
وحدثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حدثنا شَبَابَةُ ، حدثنا سُلَيْمَانُ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ . ح وحَدَّثَنِي بِهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمِ بْنِ حَيَّانَ ، وَاللَّفْظُ لَهُ : حدثنا بَهْزٌ ، حدثنا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ ثَابِتٍ ، حدثنا أَنَسٌ ، قَالَ : صَارَتْ صَفِيَّةُ لِدِحْيَةَ فِي مَقْسَمِهِ ، وَجَعَلُوا يَمْدَحُونَهَا عَنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم ، قَالَ : وَيَقُولُونَ : مَا رَأَيْنَا فِي السَّبْيِ مِثْلَهَا ، قَالَ : " فَبَعَثَ إِلَى دِحْيَةَ ، فَأَعْطَاهُ بِهَا مَا أَرَادَ ، ثُمَّ دَفَعَهَا إِلَى أُمِّي ، فقَالَ : أَصْلِحِيهَا " ، قَالَ : ثُمَّ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ خَيْبَرَ حَتَّى إِذَا جَعَلَهَا فِي ظَهْرِهِ نَزَلَ ، ثُمَّ ضَرَبَ عَلَيْهَا الْقُبَّةَ ، فَلَمَّا أَصْبَح ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ كَانَ عَنْدَهُ فَضْلُ زَادٍ ، فَلْيَأْتِنَا بِهِ " ، قَالَ : فَجَعَلَ الرَّجُلُ يَجِيءُ بِفَضْلِ التَّمْرِ وَفَضْلِ السَّوِيقِ ، حَتَّى جَعَلُوا مِنْ ذَلِكَ سَوَادًا حَيْسًا ، فَجَعَلُوا يَأْكُلُونَ مِنْ ذَلِكَ الْحَيْسِ وَيَشْرَبُونَ مِنْ حِيَاضٍ إِلَى جَنْبِهِمْ مِنْ مَاءِ السَّمَاءِ ، قَالَ : فقَالَ أَنَسٌ : فَكَانَتْ تِلْكَ وَلِيمَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، عَلَيْهَا قَالَ : فَانْطَلَقْنَا حَتَّى إِذَا رَأَيْنَا جُدُرَ الْمَدِينَةِ هَشِشْنَا إِلَيْهَا ، فَرَفَعَنْا مَطِيَّنَا وَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَطِيَّتَهُ ، قَالَ : صَفِيَّةُ خَلْفَهُ ، قَدْ أَرْدَفَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم ، قَالَ : فَعَثَرَتْ مَطِيَّةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَصُرِعَ وَصُرِعَتْ ، قَالَ : فَلَيْسَ أَحَدٌ مِنَ النَّاسِ يَنْظُرُ إِلَيْهِ وَلَا إِلَيْهَا ، حَتَّى قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَسَتَرَهَا ، قَالَ : فَأَتَيْنَاهُ ، فقَالَ : " لَمْ نُضَرَّ " ، قَالَ : فَدَخَلْنَا الْمَدِينَةَ ، فَخَرَجَ جَوَارِي نِسَائِهِ يَتَرَاءَيْنَهَا ، وَيَشْمَتْنَ بِصَرْعَتِهَا .سلیمان بن مغیرہ نے ہمیں ثابت سے حدیث بیان کی کہا: حضرت انس رضی اللہ عنہ نے ہمیں حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا حضرت دحیہ رضی اللہ عنہ کے حصے میں آ گئیں، (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دحیہ رضی اللہ عنہ کو اپنے حصے کی ایک کنیز لینے کی اجازت دے کر غیر رسمی طور پر تقسیم کا آغاز فرما دیا تھا۔) لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ان کی تعریف کرنے لگے، وہ کہہ رہے تھے: ہم نے قیدیوں میں ان جیسی عورت نہیں دیکھی۔ تو آپ نے دحیہ رضی اللہ عنہ کی طرف پیغام بھیجا، اور ان کے بدلے میں جو انہوں نے چاہا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیا، پھر آپ نے اسے میری والدہ کے سپرد کیا اور فرمایا: ”اسے بنا سنوار دو۔“ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خیبر سے نکلے حتیٰ کہ جب آپ نے اسے پشت کی طرف کر لیا، (خیبر پیچھے رہ گیا) تو آپ نے پڑاؤ ڈالا، پھر ان (حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا) کے لیے خیمہ لگوایا، جب صبح ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کے پاس زاد راہ سے زائد کچھ ہو وہ اسے ہمارے پاس لے آئے۔“ کہا: اس پر کوئی آدمی زائد کھجوریں لے کر آنے لگا اور (کوئی) زائد ستو، حتیٰ کہ لوگوں نے ان چیزوں سے ایک ڈھیر مخلوط کھانے (حیس) کا بنا لیا، پھر وہ اس حیس میں سے تناول کرنے لگے اور بارش کے پانی کے حوضوں سے جو ان کے قریب تھے پانی پینے لگے۔ کہا: حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ تھا ان (صفیہ رضی اللہ عنہا) کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ولیمہ۔ کہا: اس کے بعد ہم چل پڑے، جب ہم نے مدینہ کی دیواریں دیکھیں تو ہم شدت شوق سے اس کی طرف لپک پڑے، ہم نے اپنی سواریاں اٹھا دیں (تیز کر دیں) اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اپنی سواری اٹھا دی۔ کہا: صفیہ رضی اللہ عنہا آپ کے پیچھے تھیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنے ساتھ سوار کر لیا تھا، کہا: (اچانک) رسول اللہ کی سواری کو ٹھوکر لگی تو آپ زمین پر آ رہے اور وہ (حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا) بھی زمین پر آ رہیں، کہا: لوگوں میں سے کوئی بھی نہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دیکھ رہا تھا اور نہ ان کی طرف، کہا: حتیٰ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کے آگے پردہ کیا، پھر ہم آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے، تو آپ نے فرمایا: ”ہمیں کوئی نقصان نہیں پہنچا۔“ پھر ہم مدینہ کے اندر داخل ہوئے تو آپ کی ازواج کی بانڈیاں باہر نکل آئیں، وہ ایک دوسری کو وہ (صفیہ رضی اللہ عنہا) دکھا رہی تھیں، اور ان کے گرنے پر دل ہی دل میں خوش ہو رہی تھیں۔
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ عُلَيَّةَ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ ، عَنْ أَنَسٍ " أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزَا خَيْبَرَ ، قَالَ : فَصَلَّيْنَا عِنْدَهَا صَلَاةَ الْغَدَاةِ بِغَلَسٍ ، فَرَكِبَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَرَكِبَ أَبُو طَلْحَةَ وَأَنَا رَدِيفُ أَبِي طَلْحَةَ ، فَأَجْرَى نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي زُقَاقِ خَيْبَرَ ، وَإِنَّ رُكْبَتِي لَتَمَسُّ فَخِذَ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَانْحَسَرَ الْإِزَارُ عَنْ فَخِذِ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَإِنِّي لَأَرَى بَيَاضَ فَخِذَ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمَّا دَخَلَ الْقَرْيَةَ ، قَالَ : " اللَّهُ أَكْبَرُ خَرِبَتْ خَيْبَرُ " ، إِنَّا إِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَةِ قَوْمٍ فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِينَ ، قَالَهَا ثَلَاثَ مِرَارٍ ، قَالَ : وَقَدْ خَرَجَ الْقَوْمُ إِلَى أَعْمَالِهِمْ " ، فَقَالُوا : مُحَمَّدٌ ، قَالَ عَبْدُ الْعَزِيزِ ، وَقَالَ بَعْضُ أَصْحَابِنَا : وَالْخَمِيسَ ، قَالَ : وَأَصَبْنَاهَا عَنْوَةً .عبدالعزیز بن صہیب نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کی جنگ لڑی، ہم نے وہاں صبح کی نماز اندھیرے میں پڑھی، پھر اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہوئے اور ابوطلحہ رضی اللہ عنہ بھی سوار ہوئے اور میں سواری پر ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے پیچھے تھا، اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے تنگ راستوں میں اپنی سواری کو دوڑایا، میرا گھٹنا اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ران کو چھو رہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ران سے کپڑا ہٹ گیا اور میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ران کی سفیدی دیکھ رہا تھا، جب آپ بستی میں داخل ہوئے تو فرمایا: ”اللہ اکبر! خیبر تباہ ہوا، ہم جب کسی قوم کے گھروں کے سامنے اترتے ہیں تو ان لوگوں کی صبح بری ہوتی ہے جنہیں (آنے سے پہلے) ڈرایا گیا تھا۔“ آپ نے تین بار یہی فرمایا۔ کہا: لوگ اپنے کاموں کے لیے نکل چکے تھے تو انہوں نے کہا: (یہ) محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، عبدالعزیز نے کہا: ہمارے بعض ساتھیوں نے کہا: اور لشکر ہے۔ کہا: ہم نے اسے بزور شمشیر حاصل کیا۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : " كُنْتُ رِدْفَ أَبِي طَلْحَةَ يَوْمَ خَيْبَرَ ، وَقَدَمِي تَمَسُّ قَدَمَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : فَأَتَيْنَاهُمْ حِينَ بَزَغَتِ الشَّمْسُ ، وَقَدْ أَخْرَجُوا مَوَاشِيَهُمْ وَخَرَجُوا بِفُؤُوسِهِمْ ، وَمَكَاتِلِهِمْ وَمُرُورِهِمْ ، فَقَالُوا : مُحَمَّدٌ وَالْخَمِيسَ ، قَالَ : وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : خَرِبَتْ خَيْبَرُ ، إِنَّا إِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَةِ قَوْمٍ فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِينَ ، قَالَ : فَهَزَمَهُمُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ " .حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں، میں خیبر کے دن حضرت ابوطلحہ رضی اللہ تعالی عنہ کے پیچھے سوار تھا اور میرا قدم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قدم کو مس کر رہا تھا اور ہم ان کے پاس سورج طلوع ہونے کے بعد پہنچے اور انہوں نے اپنے مویشیوں کو نکال لیا تھا اور خود اپنے کلہاڑے ٹوکریاں اور رسیاں لے کر نکل رہے تھے، تو انہوں نے کہا، محمد، لشکر سمیت آ گئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خیبر تباہ ہوا، ہم جب کسی قوم کے درمیان میں اترتے ہیں، تو ان ڈرائے ہوئے لوگوں کی صبح بری ہو جاتی ہے۔‘‘ حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ کہتے ہیں، اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو شکست سے دوچار کر دیا۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، قَالَا : أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : لَمَّا أَتَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْبَرَ ، قَالَ : " إِنَّا إِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَةِ قَوْمٍ فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِينَ " .قتادہ نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خیبر آئے تو آپ نے فرمایا: ”جب ہم کسی قوم کے گھروں کے آگے اترتے ہیں تو ڈرائے گئے لوگوں کی صبح بری ہوتی ہے۔“
تشریح، فوائد و مسائل
اہلحدیث کا یہی مسلک ہے کہ مدینہ بھی مکہ ہی کی طرح حرام ہے۔
(والتفصیل مقام آخر)
خیبر مدینہ سے شام کی جانب تین منزل پر ایک مقام ہے۔
یہ یہودیوں کی آبادی تھی۔
آنحضرتﷺ کو حدیبیہ سے آئے ہوئے ایک ماہ سے کم ہی عرصہ ہوا تھا کہ آپﷺ نے خیبر کے یہودیوں کی سازش کا حال سنا کہ وہ مدینہ پر حملہ کرنے والے ہیں‘ ان ہی کی مدافعت کے لئے آپ ﷺ نے پیش قدمی فرمائی اور اہل اسلام کو فتح مبین حاصل ہوئی۔
امام بخاری رحمہ اللہ نے ترجمۃ الباب میں یہ ارشاد فرمایا کہ کون سی مسجد زمین پر پہلے بنائی گئی، تحت الباب میں جس حدیث کا ذکر فرمایا ہے اس میں مطلق طور پر بھی کسی مسجد کا ذکر نہیں، بلکہ وہاں تو احد پہاڑ کا ذکر موجود ہے، لہٰذا ترجمۃ الباب سے حدیث کی مناسبت ظاہر نہیں ہوتی، لیکن اسی باب کے تحت جو حدیث سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، اس میں بآسانی مناسبت کا پہلو موجود ہے۔۔۔۔ مگر انس رضی اللہ عنہ والی حدیث میں مناسبت مشکل ہے۔
لیکن اگر غور کیا جائے تو حدیث کا تعلق باب سے دو جگہوں پر ہوتا ہے۔
الف: ترجمۃ الباب میں ہے کہ کون سی مسجد پہلے زمین پر تعمیر کی گئی؟
تو دلیل کے طور پر مسجد حرام اور مسجد اقصیٰ کے بارے میں حدیث پیش فرمائی، یعنی یہاں پر مناسبت یہ ہے کہ ترجمۃ الباب سوالیہ کے طور پر تھا، لہٰذا حدیث اس کا جواب مہیا کرتی ہے کہ وہ مسجد مکہ میں ہے، یعنی مسجد حرام، لہٰذا یہاں سے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کی حدیث باب سے مطابقت رکھتی ہے۔
ب: سیدنا انس رضی اللہ عنہ کی جو حدیث ہے کہ احد پہاڑ ہم سے محبت رکھتا ہے اور ہم بھی اس سے محبت کرتے ہیں، یہاں پر مناسبت یہ ہے کہ جس جگہ مسجد حرام ہے، یعنی مکہ کی سرزمین پر تو احد پہاڑ بھی مکے کی سرزمین پر ہی واقع ہے، لہٰذا یہاں پر ایک باریک مناسبت قائم ہوتی ہے۔
سیدنا انس رضی اللہ عنہ والی حدیث کا تعلق ایک اور طریقے سے بھی ہے، وہ یہ ہے کہ بعض لوگوں کا یہ خیال ہے کہ بیت اللہ کی سب سے پہلی تعمیر سیدنا ابرہیم علیہ السلام نے فرمائی اور مسجد اقصیٰ کی تعمیر سیدنا سلیمان علیہ السلام نے فرمائی، لیکن امام بخاری رحمہ اللہ بڑی ہی باریک بینی سے یہاں یہ رد فرما رہے ہیں کہ ایسا نہیں ہے، بلکہ اول تعمیر ان سے پہلے ہو چکی تھی، اسی لئے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ والی حدیث پیش فرمائی تاکہ یہ اشکال ذہنوں سے دور ہو جائے، ترجمۃ الباب کے ذریعے امام بخاری رحمہ اللہ یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ اول تعمیر مسجد حرام کی سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے نہیں فرمائی اور احد پہاڑ والی حدیث کی مناسبت بھی یہی ہے کہ اس میں ابراہیم علیہ السلام کا نام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لیا ہے۔
علامہ عینی رحمہ اللہ لکھتے ہیں: «مطابقة للترجمة فى قوله: ان ابراهيم»
"یعنی ترجمۃ الباب کی مطابقت حدیث کے اس لفظ سے ہے، بےشک ابراہیم۔۔۔"
لہٰذا یہیں سے ترجمۃ الباب اور حدیث میں مناسبت قائم ہوتی ہے۔
ایک اشکال اور اس کا جواب
موجودہ دور کے منکرین حدیث سرسری مطالعے کے پیش نظر صحیح بخاری کی اس حدیث پر اشکالات وضع کرتے ہیں اور احادیث سے مسلمانوں کو بدظن کرنے میں مصروف العمل ہیں یہاں پر یہ شبہ ظاہر کیا گیا ہے کہ کعبہ کی تعمیر تو ابراہیم علیہ السلام نے فرمائی تھی اور مسجد اقصیٰ کی تعمیر سلیمان علیہ السلام نے تو پھر ان دونوں کے درمیان چالس سال کا وقفہ کس طرح مستند ہو گا؟ حالانکہ ان دونوں نبیوں کے مابین ہزار سال سے زیادہ کا وقفہ ہے، لہٰذا یہ حدیث درست نہیں ہے۔
الجواب: یاد رکھا جائے، مذکورہ بالا حدیث جو سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے اس میں اول تعمیر کا ذکر ہے اور یہ تعمیر آدم علیہ السلام ہی کے دور میں ہوئی تھی، چنانچہ شارحین لکھتے ہیں: «ويرتفع الاشكال بأن يقال الاية والحديث لا يدلان على بناء ابراهيم وسليمان لما بنيا ابتداء وضعهما لهما بل ذاك تجديد لما كان اسسه غيرهما وبدأه وقد روي ان اول من بنى البيت آدم وعلى هذا فيجوز ان يكون عنده من ولده وضع بيت المقدس من بعده باربعين . انتهي . . . . .»
"یعنی آیت اور حدیث پر اعراض اس طرح سے دور کیا جا سکتا ہے کہ ہر دو (آیت اور حدیث) اس امر پر دلالت نہیں کرتی ہیں کہ ان ہر دو کی (بیت اللہ اور بیت المقدس) کی ابتدائی بنیاد ابراہیم علیہ السلام اور سلیمان علیہ السلام نے رکھیں، بلکہ حقیقت یوں ہے کہ ان دونوں مسجدوں کی بنیاد ان دونوں کے علاوہ رکھی گئی ہے اور یہ دونوں ابراہیم علیہ السلام اور سلیمان علیہ السلام ان ہر دو مقامات کی تجدید کرنے والے ہیں اور یہ مروی ہے کہ ابتداء میں بیت اللہ کو سیدنا آدم علیہ السلام نے اس کی بنیاد رکھی تھی۔"
امام بیہقی رحمہ اللہ اپنی مشہور کتاب "الدلائل" میں سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً حدیث نقل فرماتے ہیں کہ: «بعث الله جبريل الي آدم فأمره ببناء البيت، فبناه آدم، ثم اثره بالطواف به، وقيل له انت اول الناس، وهذا اول بيت وضع للناس .»
"یعنی اللہ تعالیٰ نے جبریل علیہ السلام کو آدم علیہ السلام ک طرف بھیجا، اور آپ کو مسجد کی تعمیر کا حکم دیا، پھر آدم علیہ السلام نے اس کی تعمیر فرمائی، پھر آپ کو اس کے طواف کا حکم ملا اور کہا گیا کہ آپ پہلے لوگوں میں سے ہیں جس نے عبادت کی غرض سے لوگوں کے لئے گھر بنایا۔"
اس حدیث سے یہ اشکال دور ہوتا ہے کہ سب سے پہلے بیت اللہ جس نے تعمیر کی، وہ آدم علیہ السلام تھے نہ کہ ابراہیم علیہ السلام، کیوں کہ حدیث میں تجدید تعمیر کا ذکر نہیں ہے بلکہ تاسیس تعمیر کا ذکر ہے۔
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: «اول البناء ووضع أساس المسجد و ليس ابراهيم أول من بني الكعبة و لا سليمان أول من بني بيت المقدس فقد روينا ان اول من بني الكعبة آدم ثم انتشر ولده فى الارض .»
"سب سے پہلی بنیاد مسجد کی رکھنے والے ابراہیم علیہ السلام نہیں ہیں اور نہ ہی مسجد اقصیٰ کی پہلی بنیاد رکھنے والے سلیمان علیہ السلام ہیں، بلکہ روایت کے مطابق مسجد حرام کی سب سے پہلی بنیاد آدم علیہ السلام نے رکھی، پھر اس کے بعد ولد آدم علیہ السلام زمین میں پھیلی۔"
امام القرطبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: «ان الحديث لا يدل على أن ابرهيم وسليمان لما بنيا المسجدين ابتدا وضعتهما لهما، بل ذالك تحدير لما كان اسسه غيرهما .»
"یقیناً حدیث اس بات پر دلالت نہیں کرتی کہ مسجد حرام اور مسجد اقصیٰ کی اولین بنیاد ابراہیم علیہ السلام اور سلیمان علیہ السلام نے رکھی، بلکہ (حدیث اس پر دال ہے کہ) انہوں نے مسجدوں کی تجدید کی تھی جو ان سے پہلے بنائی گئی تھیں۔"
امام عبدالرزاق رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ: "عطاء، سعید بن مسیب، عمرو بن دینار اور امام معمر رحمها اللہ فرماتے ہیں کہ کعبہ کو سب سے پہلے آدم علیہ السلام نے بنایا تھا۔"
لہٰذا حدیث زیر بحث میں جن عمارتوں کا ذکر ملتا ہے، وہ آدم علیہ السلام کی تعمیر کردہ ہیں، جو کہ چالیس سال کے وقفے میں رکھی گئیں، نہ کہ یہ عمارتیں ابراہیم علیہ السلام اور سلیمان علیہ السلام کی ہیں۔
لہٰذا حدیث پر اعتراض فضول ہے۔
وہاں کی ہر چیز سے محبت کا ہونا آپ کا فطری تقاضا بن گیا تھا۔
اسی بنا پر پہاڑ احد سے بھی آپ کو محبت تھی جس کا یہا ں اظہار فرمایا۔
ورثہ میں مدینہ منورہ سے الفت ومحبت ہر مسلمان کو ملی ہے۔
حدیث سے مدینہ منورہ کا مثل مکہ حرم ہونا بھی ثابت ہوا۔
مگر بعض لوگ حرمت مدینہ کے قائل نہیں اور وہ ایسی احادیث کی مختلف تاویل کر دیتے ہیں جو صحیح نہیں۔
مدینہ بھی اب ہر مسلمان کے لیے مثل مکہ حرم محترم ہے۔
اللہ تعالی ہر مسلمان کو بار بار اس مقدس شہر میں حاضری کی سعادت عطا فرمائے آمین۔
1۔
جانبین سے محبت حقیقت پرمبنی ہے۔
کیونکہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادرہے وہ جمادات میں محبت کا جذبہ پیدا کرسکتا ہے۔
جیسا کہ قرآن میں ہے: ’’دنیا کی ہر چیز اللہ کی تسبیح کرتی ہے لیکن تم ان کی تسبیح کو نہیں سمجھتے۔
‘‘ (بنی اسرائیل: 44: 17)
کنکریوں کا تسبیح کرنا بھی ثابت ہے، نیز مسجد نبوی میں رکھے ہوئے کھجور کے تنے نے رسول اللہ ﷺ کی جدائی کے وقت رونا شروع کردیا تھا جسے تمام حاضرین نے سنا۔
اسی طرح اُحد پہاڑ بھی اہل اسلام سے محبت کرتا ہے۔
اور اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کاملہ سے جبل احد میں طبع ایمانی رکھ دی جس کی بنا پر وہ محبت کرتا ہے۔
واللہ اعلم۔
2۔
یاد رہے کہ اللہ تعالیٰ نے جس دن سے آسمانوں اورزمین کو پیدا کیا ہے اسی دن سے مکہ کوحرم بنایا ہے اورقیامت تک اس کی حرمت باقی رہے گی، البتہ حضرت ابراہیم ؑ نے اس کی حرمت کا اظہار کیا تھا۔
پس یہ پہاڑ ہر مسلمان کے لیے محبوب ہے۔
ہمارے نزدیک اُحد پہاڑ کا محبت کرنا مبنی برحقیقت ہے۔
اللہ تعالیٰ اس میں ادراک اور سوجھ بوجھ پیدا کرنے پر قادر ہے جیسے اس ستون میں اللہ تعالیٰ نے ادراک پیدا کیا تھا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فراق اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی جدائی برداشت نہ کرسکا اور اس نے بلند آواز سے رونا شروع کر دیا تھا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُحد پہاڑ کو اپنا محبوب قرار دیا، اسی وجہ سے تمام مسلمان اس سے محبت کرتے ہیں اور اسے محبت کی نظر سے دیکھتے ہیں۔
احد پہاڑ کو اسی وجہ سے تاریخی حیثیت حاصل ہے۔
1۔
رسول اللہ ﷺ نے اُحد پہاڑ کے متعلق اپنی محبت کے جذبات کا اظہار متعدد مرتبہ فرمایا، چنانچہ بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ جب آپ حجۃ الوداع سے واپس آئے تو آپ نے یہ الفاظ ارشاد فرمائے۔
کچھ روایات سے پتہ چلتا ہے کہ غزوہ تبوک سے واپسی پر جب مدینہ طیبہ کے درودیوار نظرآئے تواحد پہاڑ کے متعلق محبت بھرے احساسات کا اظہار فرمایا۔
2۔
یہاں ایک اشکال ہے کہ پہاڑ ایک جامد چیز ہے وہ محبت کیسے کرسکتا ہے کیونکہ محبت کرنا ذی روح چیزوں کا کام ہے، بعض حضرات نے اس کا جواب دیا ہے کہ اس سے مراد اہل اُحد، یعنی انصار ہیں جو اُحد کے سائے میں رہتے تھے۔
لیکن اہل تحقیق کا کہنا ہے کہ جمادات میں بھی محبت پائی جاتی ہے، اس لیے احد کی محبت مبنی برحقیقت ہے۔
اس کے فوائد ہم آئندہ حدیث کی تشریح میں ذکر کریں گے۔
محبت رکھنا حقیقتاً مراد ہے۔
کیوں کہ اللہ پاک نے اپنی ہر مخلوق کو اس کی شان کے مطابق علم و ادراک دیا ہے۔
جیسے کہ آیت ﴿وَإِن مِّن شَيْءٍ إِلَّا يُسَبِّحُ بِحَمْدِهِ﴾ (بني إسرائیل: 44)
میں مراد ہے۔
حدیث ہٰذا سے مدینہ المنورہ کی حرمت بھی مثل مکۃ المکرہ ثابت ہوئی۔
جو حضرات حرمت مدینہ کے قائل نہیں ہیں ان کو اس پر مزید غور کرنے کی ضرورت ہے۔
یہ حدیث کتاب الحج میں گزرچکی ہے۔
اس میں حضرت ابراہیم ؑ کا ذکر ہے اس لیے اس باب میں لائے۔
1۔
اُحد پہاڑ کی ہم سے محبت حقیقی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہر چیز میں اس کی شان کے مطابق علم و ادراک رکھا ہے جیسا کہ قرآن میں ہے۔
﴿وَإِن مِّن شَيْءٍ إِلَّا يُسَبِّحُ بِحَمْدِهِ وَلَٰكِن لَّا تَفْقَهُونَ تَسْبِيحَهُمْ ۗ﴾ ’’کوئی چیز ایسی نہیں جو اللہ کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح نہ کررہی ہو لیکن تم ان کی تسبیح کو سمجھتے نہیں ہو۔
‘‘ (بني إسرائیل: 17/44)
2۔
اس حدیث سے مدینہ طیبہ کی حرمت ثابت ہوتی ہے چونکہ اس میں سیدنا ابراہیم ؑ کا ذکر ہے۔
کہ انھوں نے مکے کو حرام قراردیا تھا۔
اس لیے امام بخاری ؒ نے اس حدیث کو یہاں بیان کیا ہے۔
اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: (اگر ہم اس قرآن کو کسی پہاڑ پر اتار دیتے وہ بھی اللہ کی خشیت اور خوف سے، فروتنی اور عاجزی اختیار کرتے ہوئے ٹکڑے ٹکرے ہو جاتا)
(سورہ حشر)
اور دوسری جگہ فرمایا: (ہر چیز اللہ کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح بیان کرتی ہے لیکن تم ان کی تسبیح کو سمجھتے نہیں۔
)
اورحنانہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فراک پر ہچکیاں لے کر رویا تھا، اس ادراک اور شعور کی بنا پر احد پہاڑ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرتا تھا اورجواباً آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی اس سے محبت کرتے تھے۔
اسی لیے ہر مسلمان پر فرض ہے کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرے کیونکہ انسان پتھر سے گیا گزرا نہیں ہو سکتا اور محبت کا میعار آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت واتباع ہے۔
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: " احد پہاڑ ہم سے محبت کرتا ہے، اور ہم اس سے، اور وہ جنت کے باغوں میں سے ایک باغ پر قائم ہے، اور عیر (یہ بھی ایک پہاڑ ہے) جہنم کے باغات میں سے ایک باغ پر قائم ہے۔" [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 3115]
علامہ زہیر شاویش نے فرمایا: عیر ایک بہت چھوٹا سا پہاڑ ہےجو مدینہ ائیر پورٹ کے قریب واقع ہے۔ 2۔
صحیح مسلم میں ہے کہ نبی اکرم ﷺ کی نظر احد پہاڑ پر پڑی تو فرمایا: یہ پہاڑ ہم سے محبت رکھتا ہے اور ہم اس سے محبت رکھتے ہیں۔ (صحيح مسلم الحجباب فضل المدينه۔
۔
۔
۔
وبيان حدود حرمهاحديث: 1365)
«. . . 403- مالك عن عمرو مولى المطلب عن أنس بن مالك أن رسول الله صلى الله عليه وسلم طلع له أحد، فقال: "هذا جبل يحبنا ونحبه، اللهم إن إبراهيم حرم مكة وأني أحرم ما بين لابتيها." . . .»
". . . سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب احد (پہاڑ) دیکھا تو فرمایا: "یہ پہاڑ ہم سے محبت کرتا ہے اور ہم اس سے محبت کرتے ہیں، اے اللہ! ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کو حرم قرار دیا اور میں ان دو کالی زمینوں کے درمیان (مدینہ) کو حرم قرار دیتا ہوں۔ " . . ." [موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 639]
[وأخرجه البخاري 3367، من حديث مالك به و رواه مسلم 1365، من حديث عمرو بن ابي عمرو به ● سقط من الأصل واستدركته من صحيح البخاري]
تفقه:
➊ جس طرح مکہ حرم ہے اسی طرح مدینہ بھی حرم ہے لہٰذا بعض الناس کا مدینہ کو حرم ماننے سے انکار کرنا واضح طور پر انکارِ حدیث کے مترادف ہے۔
➋ اہل ایمان مدینے کے پہاڑ اُحد سے محبت کرتے ہیں۔
➌ اُحد پہاڑ کو کاٹنا، ختم کرنا یا اس پر تعمیرات کرنا ناجائز ہے بلکہ قیامت تک اسے اسی حالت میں چھوڑنا چاہئے۔
➍ احد کا اہل ایمان سے محبت کرنا امور غیبیہ میں سے ہے جس پر اس صحیح حدیث ودیگر احادیث ِ صحیحہ کی وجہ سے ایمان لانا واجب ہے۔ نیز دیکھئے الموطأ حدیث:16