صحيح مسلم
كتاب الإيمان— ایمان کے احکام و مسائل
باب بَيَانِ الْوَسْوَسَةِ فِي الإِيمَانِ وَمَا يَقُولُهُ مَنْ وَجَدَهَا: باب: ایمان میں وسوسہ کا بیان اور وسوسہ آنے پر کیا کہنا چاہیے؟
حدیث نمبر: 136
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرِ بْنِ زُرَارَةَ الْحَضْرَمِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ مُخْتَارِ بْنِ فُلْفُلٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : إِنَّ أُمَّتَكَ لَا يَزَالُونَ يَقُولُونَ : مَا كَذَا ، مَا كَذَا ، حَتَّى يَقُولُوا : هَذَا اللَّهُ خَلَقَ الْخَلْقَ ، فَمَنْ خَلَقَ اللَّهَ ؟ " .محمد بن فضیل نے مختار بن فلفل سے، انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی، آپ نے کہا: ”اللہ عز وجل نے فرمایا: آپ کی امت کے لوگ کہتے رہیں گے: یہ کیسے ہے؟ وہ کیسے ہے؟ یہاں تک کہ کہیں گے: یہ اللہ ہے، اس نے مخلوق کو پیدا کیا، پھر اللہ تعالیٰ کو کس نے پیدا کیا؟“
حَدَّثَنَاه إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ زَائِدَةَ كِلَاهُمَا ، عَنِ الْمُخْتَارِ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا الْحَدِيثِ ، غَيْرَ أَنَّ إِسْحَاق لَمْ يَذْكُرْ ، قَالَ : قَالَ اللَّهُ : إِنَّ أُمَّتَك .مختار رحمہ اللہ نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہی حدیث سنائی اور «قَالَ اللهُ: إِنَّ أُمَّتَكَ» کا ذکر نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 7296 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
7296. سیدنا انس بن مالک ؓ ہی سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "لوگ برابر سوالات کرتے رہیں حتی کہ یہ بھی کہہ دیں گے: یہ اللہ ہے جس نے ہر چیز کو پیدا کیا ہے تو اللہ کو کس نے پیدا کیا ہے؟"[صحيح بخاري، حديث نمبر:7296]
حدیث حاشیہ: معاذ اللہ یہ شیطان ان کے دلوں میں وسوسہ ڈالے گا۔
دوسری روایت میں ہے کہ جب ایسا وسوسہ آئے تو أعوذ باللہ پڑھو یا آمنت باللہ کہو یا اللہ أحد اللہ الصمد اور بائیں طرف تھوکو اور أعوذ باللہ پڑھو۔
دوسری روایت میں ہے کہ جب ایسا وسوسہ آئے تو أعوذ باللہ پڑھو یا آمنت باللہ کہو یا اللہ أحد اللہ الصمد اور بائیں طرف تھوکو اور أعوذ باللہ پڑھو۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 7296 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 7296 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
7296. سیدنا انس بن مالک ؓ ہی سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "لوگ برابر سوالات کرتے رہیں حتی کہ یہ بھی کہہ دیں گے: یہ اللہ ہے جس نے ہر چیز کو پیدا کیا ہے تو اللہ کو کس نے پیدا کیا ہے؟"[صحيح بخاري، حديث نمبر:7296]
حدیث حاشیہ:
1۔
بے جا تکلفات اور کثرت سوالات کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ انسان ایسے سوالات پر دلیر ہوجاتا ہے جن سے اس کا ایمان تباہ ہوسکتا ہے۔
اللہ تعالیٰ کا غیر مخلوق ہونا ایک بدیہی امر ہے اور اس کے متعلق سوال کرنا ڈھٹائی ہے۔
2۔
ایک حدیث میں ہے کہ انسان جب اس حد تک پہنچ جائے تو اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگے اور اس خیال سے خود کو روک لے۔
(صحیح البخاري، بدء الخلق، حدیث: 3276)
ایک دوسری روایت میں ہے کہ ایسے شیطانی وسوسے کے وقت انسان کو چاہیے کہ اپنی بائیں جانب تین بارتھوک دے اور شیطان سے اللہ کی پ پناہ مانگے۔
(سنن أبي داود، السنة، حدیث: 4722)
ایک روایت میں ہے کہ (آمنت بالله)
پڑھے۔
(صحیح مسلم، الإیمان، حدیث: 347 (134)
و سنن أبي داود، السنة، حدیث: 4721)
نسائی کی روایت میں ہے کہ اس وقت (اللَّهُ أَحَدٌ۔
اللَّهُ الصَّمَدُ)
پڑھے کیونکہ اللہ تعالیٰ کی یہ تینوں صفات انسان کو متنبہ کرتی ہیں کہ اللہ مخلوق نہیں ہے۔
(السنن الکبریٰ للنسائي، حدیث: 10497 وفتح الباري: 334/13)
1۔
بے جا تکلفات اور کثرت سوالات کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ انسان ایسے سوالات پر دلیر ہوجاتا ہے جن سے اس کا ایمان تباہ ہوسکتا ہے۔
اللہ تعالیٰ کا غیر مخلوق ہونا ایک بدیہی امر ہے اور اس کے متعلق سوال کرنا ڈھٹائی ہے۔
2۔
ایک حدیث میں ہے کہ انسان جب اس حد تک پہنچ جائے تو اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگے اور اس خیال سے خود کو روک لے۔
(صحیح البخاري، بدء الخلق، حدیث: 3276)
ایک دوسری روایت میں ہے کہ ایسے شیطانی وسوسے کے وقت انسان کو چاہیے کہ اپنی بائیں جانب تین بارتھوک دے اور شیطان سے اللہ کی پ پناہ مانگے۔
(سنن أبي داود، السنة، حدیث: 4722)
ایک روایت میں ہے کہ (آمنت بالله)
پڑھے۔
(صحیح مسلم، الإیمان، حدیث: 347 (134)
و سنن أبي داود، السنة، حدیث: 4721)
نسائی کی روایت میں ہے کہ اس وقت (اللَّهُ أَحَدٌ۔
اللَّهُ الصَّمَدُ)
پڑھے کیونکہ اللہ تعالیٰ کی یہ تینوں صفات انسان کو متنبہ کرتی ہیں کہ اللہ مخلوق نہیں ہے۔
(السنن الکبریٰ للنسائي، حدیث: 10497 وفتح الباري: 334/13)
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 7296 سے ماخوذ ہے۔