صحيح مسلم
كتاب الإيمان— ایمان کے احکام و مسائل
باب بَيَانِ الْوَسْوَسَةِ فِي الإِيمَانِ وَمَا يَقُولُهُ مَنْ وَجَدَهَا: باب: ایمان میں وسوسہ کا بیان اور وسوسہ آنے پر کیا کہنا چاہیے؟
حَدَّثَنِي عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ جَدِّي ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا يَزَالُ النَّاسُ يَسْأَلُونَكُمْ عَنِ الْعِلْمِ ، حَتَّى يَقُولُوا : هَذَا اللَّهُ خَلَقَنَا ، فَمَنْ خَلَقَ اللَّهَ ؟ " ، قَالَ : وَهُوَ آخِذٌ بِيَدِ رَجُلٍ ، فَقَالَ : صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ ، قَدْ سَأَلَنِي اثْنَانِ وَهَذَا الثَّالِثُ ، أَوَ قَالَ : سَأَلَنِي وَاحِدٌ وَهَذَا الثَّانِي .عبدالوارث بن عبدالصمد کے دادا عبدالوارث بن سعید نے ایوب سے، انہوں نے محمد بن سیرین سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی، آپ نے فرمایا: ”لوگ تم سے ہمیشہ علم کے بارے میں سوال کریں گے یہاں تک کہ یہ کہیں گے: اللہ نے ہمیں پیدا کیا ہے تو اللہ کو کس نے پیدا کیا؟“ ابن سیرین نے کہا: اس وقت حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ایک آدمی کا ہاتھ پکڑے ہوئے تھے تو کہنے لگے: اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے سچ فرمایا۔ مجھ سے دو (آدمیوں) نے (یہی) سوال کیا تھا اور یہ تیسرا ہے (یا کہا:) مجھ سے ایک (آدمی) نے (پہلے یہ) سوال کیا تھا اور یہ دوسرا ہے۔
وحَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَيَعْقُوبُ الدَّوْرَقِيُّ ، قَالَا : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل وَهُوَ ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : لَا يَزَالُ النَّاسُ ، بِمِثْلِ حَدِيثِ عَبْدِ الْوَارِثِ ، غَيْرَ أَنَّهُ لَمْ يَذْكُرِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الإِسْنَادِ ، وَلَكِنْ قَدْ قَالَ فِي آخِرِ الْحَدِيثِ : صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ .امام مسلم رحمہ اللہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مذکورہ بالا روایت ایک اور سند سے بیان کرتے ہیں، فرق یہ ہے کہ اس سند میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر نہیں کیا، لیکن حدیث کے آخر میں یہ کہا: «صَدَقَ اللهُ وَرَسُولُهُ» ”اللہ اور اس کے رسول نے سچ کہا۔“
وحَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الرُّومِيِّ ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ وَهُوَ ابْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَا يَزَالُونَ يَسْأَلُونَكَ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ حَتَّى يَقُولُوا : " هَذَا اللَّهُ ، فَمَنْ خَلَقَ اللَّهَ ؟ " ، قَالَ : فَبَيْنَا أَنَا فِي الْمَسْجِدِ ، إِذْ جَاءَنِي نَاسٌ مِنَ الأَعْرَابِ ، فَقَالُوا : يَا أَبَا هُرَيْرَةَ ، هَذَا اللَّهُ ، فَمَنْ خَلَقَ اللَّهَ ؟ قَالَ : فَأَخَذَ حَصًى بِكَفِّهِ فَرَمَاهُمْ ، ثُمَّ قَالَ : قُومُوا قُومُوا ، صَدَقَ خَلِيلِي .حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگ ہمیشہ تجھ سے سوال کرتے رہیں گے اے ابو ہریرہ! یہاں تک کہ کہیں گے: یہ اللہ ہے، تو اللہ کو کس نے پیدا کیا؟“ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے بتایا: اسی اثنا میں کہ میں مسجد میں تھا کہ اچانک میرے پاس کچھ بدوی آئے اور کہنے لگے: اے ابو ہریرہ! یہ اللہ ہے، تو اللہ کو کس نے پیدا کیا ہے؟ راوی کہتے ہیں: تو انھوں نے مٹھی میں کنکر لے کر پھینکے، پھر کہا: اٹھو اٹھو میرے خلیل نے سچ فرمایا (یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے)۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ بُرْقَانَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ الأَصَمِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَيَسْأَلَنَّكُمُ النَّاسُ عَنْ كُلِّ شَيْءٍ ، حَتَّى يَقُولُوا : اللَّهُ خَلَقَ كُلَّ شَيْءٍ ، فَمَنْ خَلَقَهُ ؟ " .یزید بن اصم نے کہا: میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہتے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یقیناً لوگ تم سے ہر چیز کے بارے میں سوال کریں گے یہاں تک کہ کہیں گے: اللہ نے ہر چیز کو پیدا کیا، پھر اس کو کس نے پیدا کیا؟“
تشریح، فوائد و مسائل
«. . . قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَأْتِي الشَّيْطَانُ أَحَدَكُمْ، فَيَقُولُ: مَنْ خَلَقَ كَذَا مَنْ خَلَقَ كَذَا حَتَّى، يَقُولَ: مَنْ خَلَقَ رَبَّكَ فَإِذَا بَلَغَهُ فَلْيَسْتَعِذْ بِاللَّهِ وَلْيَنْتَهِ . . .»
”. . . رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”تم میں سے کسی کے پاس شیطان آتا ہے اور تمہارے دل میں پہلے تو یہ سوال پیدا کرتا ہے کہ فلاں چیز کس نے پیدا کی، فلاں چیز کس نے پیدا کی؟ اور آخر میں بات یہاں تک پہنچاتا ہے کہ خود تمہارے رب کو کس نے پیدا کیا؟ جب کسی شخص کو ایسا وسوسہ ڈالے تو اللہ سے پناہ مانگنی چاہئے، شیطانی خیال کو چھوڑ دے . . .“ [صحيح البخاري/كِتَاب بَدْءِ الْخَلْقِ: 3276]
معلوم ہوا کہ جب انسان کو اس طرح کے کفریہ اور برے خیالات و وساوس آئیں تو اسے فوراً شیطان سے پناہ پکڑنی چاہئیے۔ اس کے لیے یہ کلمات کہے جا سکتے ہیں: «اَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيْمِ» .
تو شیطان یہ کہتا ہے پھر خدا کی بھی کوئی علت ہوگی، اس مردود کا جواب أعوذ باللہ پڑھنا ہے۔
اگر خواہ مخواہ عقلی جواب ہی مانگے تو جواب یہ ہے کہ اگر ازل میں برابر علل اور معلولات کا سلسلہ چلا جائے اور کسی علت پر ختم نہ ہو تو پھر لازم آتا ہے کہ مابالعرض بغیر ما بالذات کے موجود ہو اور یہ محال ہے۔
پس معلوم ہوا کہ اس سلسلہ کی انتہا ایک ایسی ذات مقدس پر ہے جو علت محضہ ہے اور وہ کسی کی معلول نہیں اور وہ موجود بالذات ہے اپنے وجود میں کسی کی محتاج نہیں۔
وہی ذات مقدس خدا ہے۔
بہتر یہ ہے کہ ایسے عقلی ڈھکوسلوں میں نہ پڑے اور أعوذ باللہ پڑھ کر اپنے مالک حقیقی سے مدد چاہے۔
وہ شیطان کا وسوسہ دور کردے گا جیسے اس نے خود فرمایا ہے ﴿إِنَّ عِبَادِي لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطَانٌ ۚ﴾ یعنی اے شیطان! میرے خاص بندوں پر تیری کوئی دلیل نہیں چل سکے گی۔
صدق اللہ تبارك و تعالیٰ
1۔
شیطانی خیالات دو طرح کے ہوتے ہیں ایک وہ جو دل میں نہیں جمتےاور نہ ان سے کوئی شبہ ہی جنم لیتا ہے۔
ایسے خیالات تو عدم دلچسپی سے ختم ہو جاتے ہیں۔
دوسرےوہ ہیں جو دل میں جم جائیں اور شبہات کا پیش خیمہ ہوں تو ان کا واحد علاج یہ ہے کہ انسان أعوذ باللہ من الشیطان الرجیم پڑھے یعنی ایسے خیالات کا علاج صرف اللہ کی پناہ ہے۔
اس کی طاقت ہی سے ایسے خیالات سے بچاؤ حاصل کیا جا سکتا ہے وہی اس قسم کے شیطانی وسوسے دور کر سکتا ہے جیسا کہ قرآن کریم میں ہے: ﴿إِنَّ عِبَادِي لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطَانٌ ۚ﴾ ’’میرے خاص بندوں پر تیرا کوئی زور نہیں چلے گا۔
‘‘ (الحجر: 15۔
42)
2۔
اس حدیث سے ایک دوسری شیطانی کارستانی کا پتہ چلتا ہے کہ وہ مسببات کے چکر میں ڈال کر اولاد آدم کو گمراہ کرتا ہے کہ آخر کار اللہ تعالیٰ کے ظہور کی کوئی علت یا سبب ہوگا حالانکہ اللہ تعالیٰ ایک ایسی پاک ذات ہے جو کسی کی معلول نہیں بلکہ وہ موجود بالذات ہے وہ اپنے وجود میں کسی کا محتاج نہیں۔
واللہ أعلم۔
مقصد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں اس قسم کے وسوسے اور سوالات شیطان کی طرف سے ہوتے ہیں اور جب شیطان کسی کے دل میں اس قسم کا فضول، بلکہ احمقانہ سوال ڈالے تو اس کا علاج یہی ہے کہ بندہ شیطان کے شر سے اللہ کی پناہ چاہے، اس قسم کے سوالات کو قابل غور نہ سمجھے بلکہ ان سے رک جائے، کیونکہ اللہ کے بارے میں یہ سوال اس کو کس نے پیدا کیا ہے، اس کو خالق کے بجائے مخلوق قرار دینا ہے۔
مطلب یہ ہے کہ مومن کا رویہ ان سوالات اور وساوس کے بارے میں یہ ہونا چاہیے کہ وہ سوال کرنے والے آدمی سے، یا وسوسہ ڈالنے والے شیطان سے اور اپنے نفس سے کہے، کہ مجھے اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان کی روشنی نصیب ہوگئی ہے، اس لیے میرے لیے یہ سوال قابل توجہ اورلائق التفات نہیں ہے۔
جس طرح کسی آنکھوں والے کے لیے یہ سوال قابل غور نہیں ہے کہ سورج چڑھا ہوا ہے یا نہیں؟ وہ روشن ہے یا تاریک؟ کیونکہ جب اللہ اس ہستی کا نام ہے جس کا وجود اس کی ذاتی صفت ہے، اور تمام موجودات کو وجود بخشنے والا ہے، کسی کا محتاج نہیں ہے۔
اگر اس کے متعلق بھی سوال، قابل غور ہے تو پھر وہ خالق کہاں رہے گا وہ تو مخلوق اور محتاج ہوگا۔
«. . . وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَأْتِي الشَّيْطَانُ أَحَدَكُمْ فَيَقُولُ: مَنْ خلق كَذَا؟ مَنْ خَلَقَ كَذَا؟ حَتَّى يَقُولَ: مَنْ خَلَقَ رَبَّكَ؟ فَإِذَا بَلَغَهُ فَلْيَسْتَعِذْ بِاللَّهِ وَلْيَنْتَهِ " . . .»
”. . . سیدنا ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بعض لوگوں کے پاس شیطان آ کر کہتا ہے کہ (مثلاً آسمان کو) کس نے پیدا کیا اور (زمین کو) کس نے پیدا کیا، یہاں تک کہ وہ یہ کہتا ہے کہ تیرے رب کو کس نے پیدا کیا جب وہ اس درجہ تک پہنچ جائے تو اللہ تعالیٰ سے پناہ مانگے اور اس سے باز رہے یعنی ایسے خیال کو دل سے دور کر دے۔“ اس حدیث کو بخاری و مسلم نے روایت کیا ہے۔ . . .“ [مشكوة المصابيح/كِتَاب الْإِيمَانِ/0: 65]
[صحيح بخاري 3276]، [صحيح مسلم 345]
فقہ الحدیث:
➊ دلوں میں برے وسوسے ڈالنے والا شیطان ہے۔
➋ برے خیالات سے بچنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ آدمی «اعوذ بالله» پڑھے، استغفار کرے اور دل میں اللہ تعالیٰ کا خوف طاری کرے۔
➌ برے خیالات سے بچنے کے لئے پوری کوشش کرنی چاہئے، ورنہ عین ممکن ہے کہ یہ خیالات انسان کو کفر، شرک اور گناہ کی طرف پھیر دیں اور وہ ہلاک ہو جائے۔
«. . . وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَزَالُ النَّاسُ يَتَسَاءَلُونَ حَتَّى يُقَالَ هَذَا خَلَقَ اللَّهُ الْخَلْقَ فَمَنْ خَلَقَ اللَّهَ؟ فَمَنْ وَجَدَ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا فَلْيَقُلْ: آمَنت بِاللَّه وَرُسُله " . . .»
”. . . سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہمیشہ لوگ پوچھ گچھ کرتے رہیں گے یہاں تک ان سے یہ کہا جائے گا کہ جب تمام مخلوقات کو اللہ ہی نے پیدا کیا ہے تو اللہ کو کس نے پیدا کیا ہے؟ پس جو شخص اس قسم کا وسوسہ اپنے دل میں پائے تو اسے «امنت باالله ورسله» کہنا چاہیے یعنی میں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لے آیا۔“ اس کو بخاری و مسلم نے روایت کیا ہے۔ . . .“ [مشكوة المصابيح/كِتَاب الْإِيمَانِ/0: 66]
[صحيح بخاري 3276]، [صحيح مسلم 343]
فقہ الحدیث:
➊ شیطانی سوالات اور غلط وسوسوں سے اپنے آپ کو ہر ممکن طریقے سے بچانا چاہئیے۔
➋ ہر سوال کا جواب دینا ضروری نہیں ہے۔
➌ ایمان کی کمزوری کی بنا پر شیطانی وسوسوں کا حملہ ہوتا ہے، لہٰذا راسخ العقیدہ والایمان مسلمان بندے کے لئے ہمہ وقت مصروف عمل رہنا چاہئیے۔
«. . . عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم يَقُول: " لَا يَزَالُ النَّاسُ يَتَسَاءَلُونَ حَتَّى يُقَالَ: هَذَا خَلَقَ اللَّهُ الْخَلْقَ فَمَنْ خَلَقَ اللَّهَ؟ فَإِذَا قَالُوا ذَلِك فَقولُوا الله أحد الله الصَّمد لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كفوا أحد ثمَّ ليتفل عَن يسَاره ثَلَاثًا وليستعذ من الشَّيْطَان ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُد . . .»
”. . . سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہمیشہ لوگ سوال کرتے رہیں گے یہاں تک یہ کہا جائے گا کہ اللہ تعالیٰ نے تمام مخلوق کو پیدا کیا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ کو کس نے پیدا کیا ہے؟ جب لوگ ایسا کہنے لگیں تو تم یہ کہو کہ اللہ ایک ہے، اللہ بےنیاز ہے، نہ کسی نے اس کو جنا اور نہ اس نے کسی کو جنا ہے، اور نہ کوئی اس کے برابر ہے۔ (یہ کہہ کر) تین مرتبہ بائیں طرف تھوک دے اور شیطان رجیم کے مکروفریب سے اللہ کی پناہ مانگے۔“ اس حدیث کو ابوداؤد نے روایت کیا ہے اور عمرو بن الاحوص کی حدیث کو باب خطبۃ یوم نحر میں ان شاء اللہ بیان کریں گے۔ . . .“ [مشكوة المصابيح/كِتَاب الْإِيمَانِ: 75]
اس روایت کی سند حسن (لذاتہ) ہے۔
اسے نسائی [الكبريٰ: 10497، عمل اليوم والليلة: 661] ابن السنی [627 دوسرا نسخه: 628] ابن ابی عاصم [السنة: 653 دوسرا نسخه: 665] اور ابن عبدالبر [التمهيد 7؍146 من حديث ابي داود] نے «محمد بن إسحاق بن يسار: حدثني عتبة بن مسلم مولىٰ بني تيم عن أبى سلمة بن عبدالرحمٰن عن أبى هريرة رضي الله عنه» کی سند سے الفاظ کے اختلاف کے ساتھ بیان کیا ہے۔ ابوداود نے اسے (4722 مختصر) روایت کیا ہے۔
◈ محمد بن اسحاق بن یسار اگر سماع کی تصریح کریں تو صدوق حسن الحدیث ہیں، خواہ احکام ہوں یا تاریخ ومغازی۔
راقم الحروف نے ان کے بارے میں ایک رسالہ لکھا ہے۔ نیز دیکھئے: [الحديث حضرو: 71 ص18۔ 43]
◈ عتبہ بن مسلم سے لے کر آخر تک سند بخاری و مسلم کی شرط پر صحیح ہے۔
فقہ الحدیث:
➊ شیطانی وسوسوں پر انسان کا کنٹرول نہیں ہے، اگر ایسے وسوسے اس کے دل میں آئیں تو اسے چاہئے کہ فوراً اللہ سے دعا کرے کہ وہ اسے شیطان مردود کے وسوسوں سے بچائے۔ اسے بائیں طرف تھتکارنا بھی چاہئے تاکہ اس شیطانی وسوسے کا اثر زائل ہو جائے۔
➋ فضول سوالات سے مکمل اجتناب کرنا چاہئیے۔
➌ سیدنا عمرو بن الاحوص رضی اللہ عنہ کی روایت میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجة الوداع کے موقع پر فرمایا: ”تمہارا خون، تمہارے مال اور عزتیں تم پر اس طرح حرام ہیں، جیسے آج (حج اکبر) کا دن اس شہر (مکہ) میں حرام ہے۔ خبردار! جو شخص بھی ظلم کرتا ہے تو وہ صرف اپنے آپ پر ہی ظلم کرتا ہے اور کوئی بیٹا اپنے باپ کے بدلے یا باپ اپنے بیٹے کے بدلے میں پکڑا نہ جائے گا۔ خبردار! شیطان مایوس ہو گیا ہے، کیونکہ اس شہر میں اس کی عبادت کبھی نہیں کی جائے گی، لیکن اس کی پیروی کرنے والے لوگ ہوں گے جو ان اعمال میں اس کی پیروی کریں گے جنہیں تم حقیر سمجھتے ہو۔ پس وہ شیطان ان حقیر اعمال (چھوٹے گناہوں) پر بھی خوش ہو گا۔“ [مشكوٰة المصابيح: 2670، ابن ماجه: 3055 والترمذي: 2159 وصححه وسنده حسن]
ایک دوسرے سے شرعی سوالات کرنا درست ہے، لیکن ایسے سوالات جو انسان کو کفر تک پہنچا دیں، ان کا کرنا درست نہیں ہے، اللہ رب العزت خالق ہیں، اور قرآن مجید اس کی صفت اور کلام ہے، باقی سب اس کی مخلوق ہیں۔ اللہ ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا، نہ اس کی ابتداء ہے اور نہ ہی انتہا ہے، شیطان غلط باتیں زبان سے نکلوا دیتا ہے، اگر بسا اوقات شیطانی بات زبان سے نکل جائے تو فوراً کہنا چاہیے، «اعوذ بالله من الشيطن الرجيم» اگر اللہ تعالیٰ کی ذات کے متعلق شیطان کوئی وسوسہ ڈال دے تو فورا «آمنا بالله» کہنا چاہیے۔