حدیث نمبر: 130
وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ هَمَّ بِحَسَنَةٍ فَلَمْ يَعْمَلْهَا كُتِبَتْ لَهُ حَسَنَةً ، وَمَنْ هَمَّ بِحَسَنَةٍ فَعَمِلَهَا كُتِبَتْ لَهُ عَشْرًا إِلَى سَبْعِ مِائَةِ ضِعْفٍ ، وَمَنْ هَمَّ بِسَيِّئَةٍ فَلَمْ يَعْمَلْهَا لَمْ تُكْتَبْ ، وَإِنْ عَمِلَهَا كُتِبَتْ " .

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص کسی نیکی کا ارادہ کرتا ہے اور اسے کرتا نہیں ہے، اس کے لیے ایک نیکی لکھی جاتی ہے اور جو شخص نیکی کا ارادہ کر کے اس پر عمل بھی کرتا ہے، اس کے لیے دس سے سات سو گنا تک نیکیاں لکھی جاتی ہیں۔ اور جو شخص کسی برائی کا ارادہ کر کے کرتا نہیں ہے اس کی برائی نہیں لکھی جاتی، اور اگر اسے کر گزرتا ہے تو اسے لکھ دیا جاتا ہے۔“

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الإيمان / حدیث: 130
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح البخاري: 7501 | صحيح مسلم: 128 | سنن ترمذي: 3073 | صحيفه همام بن منبه: 54 | صحيفه همام بن منبه: 106

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 7501 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
7501. سیدنا ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کا ارشاد گرامی ہے: اے فرشتو! جب میرا بندہ کسی برائی کا ارادہ کرے تو جب تک وہ اس پر عمل کرے تو پھر اس کے برابر گناہ لکھو اور اگر وہ اس کے مطابق عمل کرے تو پھر اس کے برابر گناہ لکھو۔ اگر وہ میرے خوف سے اس برائی کو ترک کر دے تو اس کے لیے ایک نیکی لکھو اور اگر کوئی کو ترک کر دے تو اس کے لیے ایک نیکی لکھو اور اگر کوئی بندہ نیکی کرنا چاہے تو اس کے لیے ارادے ہی پر ایک نیکی لکھ دو اور اگر اس پر عمل کرلے تو دس گنا سے سات سو گنا تک نیکی لکھو۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:7501]
حدیث حاشیہ: اس سے بھی اللہ کا کلا م کرنا ثابت ہوا کہ وہ قرآن کےعلاوہ بھی کلام نازل کرتا ہے۔
جیسا کہ ان جملہ احادیث میں موجود ہے۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 7501 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 7501 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
7501. سیدنا ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کا ارشاد گرامی ہے: اے فرشتو! جب میرا بندہ کسی برائی کا ارادہ کرے تو جب تک وہ اس پر عمل کرے تو پھر اس کے برابر گناہ لکھو اور اگر وہ اس کے مطابق عمل کرے تو پھر اس کے برابر گناہ لکھو۔ اگر وہ میرے خوف سے اس برائی کو ترک کر دے تو اس کے لیے ایک نیکی لکھو اور اگر کوئی کو ترک کر دے تو اس کے لیے ایک نیکی لکھو اور اگر کوئی بندہ نیکی کرنا چاہے تو اس کے لیے ارادے ہی پر ایک نیکی لکھ دو اور اگر اس پر عمل کرلے تو دس گنا سے سات سو گنا تک نیکی لکھو۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:7501]
حدیث حاشیہ:
اس قدسی حدیث سے ثابت ہوا کہ اللہ تعالیٰ قرآن مجید کے علاوہ بھی کلام کرتا ہے اور بندوں کی رہنمائی کے لیے ایسے احکام دیتا ہے جس سے اصلاح مقصود ہوتی ہے۔
وہ احکام قرآن کریم کے علاوہ ہیں اور اللہ تعالیٰ کے کلام پر مشتمل ہوتے ہیں۔
اس کلام میں الفاظ اورآواز ہوتی ہے، چنانچہ اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قول کو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کیا ہے۔
اسی سے امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے عنوان بالا کو ثابت کیا ہے۔
واللہ أعلم۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 7501 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 128 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: جب میرا بندہ کسی گناہ کا قصد و عزم کرے تو اس کو اس کے نامۂ اعمال میں نہ لکھو۔ اگر وہ اس کو عمل میں لائے تو اسے ایک بدی لکھو۔ اور جب نیکی کا قصد و عزم کرے تو اس کو ایک نیکی لکھ لو، پس اگراس پر عمل کرے تو دس نیکیاں لکھ لو۔‘‘ [صحيح مسلم، حديث نمبر:334]
حدیث حاشیہ: مفردات الحدیث:
: هَمَّ: قَصَدَ وَأَرَادَ: بعض حضرات نے ہم (قصد و ارادہ)
اور عزم (پختہ و مضبوط ارادہ)
میں فرق کیا ہے۔
ان کے نزدیک قصد اور ارادہ پر مواخذہ نہیں ہے، لیکن عزم پر مواخذہ ہے، وہ دین میں آنے والے خیالات کو پانچ قسموں میں تقسیم کرتے ہیں: (1)
هَاجِسٌ: کسی چیز کا اچانک خیال آ جائے اور گزر جائے۔
(2)
خَاطِرٌ: کسی چیز کا بار بار خیال آئے لیکن اس کے کرنے یا بولنے کا قصد نہ کرے۔
(3)
حَدِیْثُ النَّفْسِ: جس چیز کا خیال آئے، ذہن اس کی طرف راغب ہو اور اس کے حصول کا منصوبہ سوچے۔
(4)
هَمٌّ: کسی چیز کا دل میں خیال آئے، اور اس کے حصول کا ارادہ غالب ہو، اگرچہ کسی مختص نقصان کی بنا پر خفیف سا خیال ہو اس کو حاصل نہ کیا جائے۔
(5)
عَزْمٌ: کسی چیز کا خیال دل میں جم جائے اور اس کے حصول کا پختہ عزم و ارادہ ہو۔
فوائد ومسائل:
مسلمان پر اللہ تعالیٰ کا یہ فضل وکرم ہے، نیکی کرنے کا محض ارادہ ہی ایک نیکی کے اجر وثواب کا باعث بنتا ہے اور اگر وہ اپنے قصد وارادے کو عملی جامہ پہنا لیتا ہے تو اس کے اجر وثواب میں کم از کم دس گنا اضافہ ہوتا ہے۔
لیکن اگر وہ برائی کا ارادہ کرتا ہے تو جب تک وہ اس کو عملی جامہ پہنانے کی کوشش نہیں کرتا اس کے نامہ اعمال میں برائی نہیں لکھی جاتی اور وہ اللہ کے خوف اور ڈر سے اس سے باز آجائے تو اس کے لیے نیکی لکھ دی جاتی ہے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 128 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 3073 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´سورۃ الانعام سے بعض آیات کی تفسیر۔`
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اور اس کا فرمان برحق (و درست) ہے: جب میرا بندہ کسی نیکی کا قصد و ارادہ کرے، تو (میرے فرشتو!) اس کے لیے نیکی لکھ لو، اور اگر وہ اس بھلے کام کو کر گزرے تو اس کے لیے دس نیکیاں لکھ لو، اور جب وہ کسی برے کام کا ارادہ کرے تو کچھ نہ لکھو، اور اگر وہ برے کام کو کر ڈالے تو صرف ایک گناہ لکھو، پھر اگر وہ اسے چھوڑ دے (کبھی راوی نے یہ کہا) اور کبھی یہ کہا (دوبارہ) اس گناہ کا ارتکاب نہ کرے) تو اس کے لیے اس پر بھی ایک نیکی لکھ لو، پھر آپ نے آیت «من ج۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 3073]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
جس نے نیک کام کیا ہوگا اس کو دس گنا ثواب ملے گا، اور جس نے برائی کی ہوگی اس کو اسی قدر سزا ملے گی۔
اور ان پر ظلم نہ کیا جائے گا (الأنعام: 160)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3073 سے ماخوذ ہے۔