صحيح مسلم
كتاب الإيمان— ایمان کے احکام و مسائل
باب هَلْ يُؤَاخَذُ بِأَعْمَالِ الْجَاهِلِيَّةِ: باب: کیا اعمال جاہلیت پر مؤاخذہ ہو گا؟
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ أُنَاسٌ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَنُؤَاخَذُ بِمَا عَمِلْنَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ ؟ قَالَ : " أَمَّا مَنْ أَحْسَنَ مِنْكُمْ فِي الإِسْلَامِ ، فَلَا يُؤَاخَذُ بِهَا ، وَمَنْ أَسَاءَ ، أُخِذَ بِعَمَلِهِ فِي الْجَاهِلِيَّةِ وَالإِسْلَامِ " .منصور نے ابووائل سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ (بن مسعود رضی اللہ عنہ) سے روایت کی کہ کچھ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی: اے اللہ کے رسول! کیا جاہلیت کے اعمال پر ہمارا مواخذہ ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے جس نے اسلام لانے کے بعد اچھے عمل کیے، اس کا جاہلیت کے اعمال پر مواخذہ نہیں ہو گا اور جس نے برے اعمال کیے، اس کا جاہلیت اور اسلام دونوں کے اعمال پر مؤاخذہ ہو گا۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي وَوَكِيعٌ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَاللَّفْظُ لَهُ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَنُؤَاخَذُ بِمَا عَمِلْنَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ ؟ قَالَ : " مَنْ أَحْسَنَ فِي الإِسْلَامِ ، لَمْ يُؤَاخَذْ بِمَا عَمِلَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ ، وَمَنْ أَسَاءَ فِي الإِسْلَامِ ، أُخِذَ بِالأَوَّلِ وَالآخِرِ " .وکیع نے اعمش کے واسطے سے ابووائل سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم نے جاہلیت میں جو عمل کیے، کیا ان کی وجہ سے ہمارا مؤاخذہ ہو گا؟ تو آپ نے فرمایا: ”جس نے اسلام لانے کے بعد اچھے عمل کیے، اس کا ان اعمال پر مواخذہ نہیں ہو گا جو اس نے جاہلیت میں کیے اور جس نے اسلام میں برے کام کیے، وہ اگلے اور پچھلے دونوں طرح کے عملوں پر پکڑا جائے گا۔“
حَدَّثَنَا مِنْجَابُ بْنُ الْحَارِثِ التَّمِيمِيُّ ، أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ .امام مسلم رحمہ اللہ نے مذکورہ بالا روایت ایک اور سند سے بیان کی ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
اسلام لانے کا مقصد یہ ہے کہ وہ اپنے کفر کے اعمال سے باز آجائے، اس لیے اسلام لانے سے تمام سابقہ اعمال معاف ہو جاتے ہیں۔
ایک انسان ایمان لانے کے بعد بھی اگر سابقہ اعمال سے باز نہیں آتا تو اس کا معنی یہ ہے کہ وہ ظاہری طور پر مسلمان ہوا ہے، اس نے حقیقی طور پر اسلام کو قبول نہیں کیا، اس لیے اس کا تمام اعمال پر مواخذہ ہوگا۔
«. . . قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَنُؤَاخَذُ بِمَا عَمِلْنَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ؟، قَالَ: مَنْ أَحْسَنَ فِي الْإِسْلَامِ لَمْ يُؤَاخَذْ بِمَا عَمِلَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، وَمَنْ أَسَاءَ فِي الْإِسْلَامِ أُخِذَ بِالْأَوَّلِ وَالْآخِرِ . . .»
”. . . ایک شخص (نام نامعلوم) نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم نے جو گناہ (اسلام لانے سے پہلے) جاہلیت کے زمانہ میں کیے ہیں کیا ان کا مواخذہ ہم سے ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جو شخص اسلام کی حالت میں نیک اعمال کرتا رہا اس سے جاہلیت کے گناہوں کا مواخذہ نہ ہو گا (اللہ تعالیٰ معاف کر دے گا) اور جو شخص مسلمان ہو کر بھی برے کام کرتا رہا اس سے دونوں زمانوں کے گناہوں کا مواخذہ ہو گا . . .“ [صحيح البخاري/كِتَاب اسْتِتَابَةِ الْمُرْتَدِّينَ وَالْمُعَانِدِينَ وَقِتَالِهِمْ: 6921]
اس حدیث کا مفہوم جو محققین کی جماعت نے بیان کیا ہے وہ یہ ہے کہ جس شخص نے ظاہر و باطن کے ساتھ اسلام قبول کیا اور حقیقی مسلمان بنا، اس کے سابقہ تمام گناہ معاف کر دیئے جاتے ہیں جیسا کہ حدیث میں ہے کہ «الإِسْلَامَ يَهْدِمُ، مَا كَانَ قَبْلَهُ» [مسلم: 121]
اور جس نے بظاہر تو اسلام قبول کیا مگر دل سے اسلام قبول نہ کیا تو یہ شخص منافق ہے اور اپنے کفر پر باقی ہے، اس سے اظہار اسلام کے بعد کے گناہوں کے ساتھ ساتھ جاہلیت کے گناہوں کا بھی مواخذہ کیا جائے گا۔ [شرح مسلم للنوي: 200/2]
اسلام لانے کے بعد جاہلیت کا کام نہ کرے۔
(1)
اسلام لانے ست دور جاہلیت کے گناہ معاف ہوجاتے ہیں جیسا کہ حدیث میں ہے: ’’اسلام، پہلے گناہوں کو مٹا دیتا ہے۔
‘‘ (صحیح مسلم، الإیمان، حدیث: 321(121)
ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’آپ ان کافروں سے کہہ دیجیے کہ اگر وہ اب بھی باز آجائیں تو ان کے سابقہ گناہ بخش دیے جائیں گے۔
‘‘ (الأنفال8: 38)
اس صورت حال کے پیش نظر حدیث بالا کا یہ مفہوم ہے کہ اسلام لانے کے بعد بھی اگر کوئی گناہوں پر اصرار کرتا رہے تو اسے زمانۂ کفر کے گناہوں پر شرمندگی دلائی جائے گی، گویا اسے کہا جائے گا: تونے ایسا ایسا نہیں کیا تھا جبکہ تو کافر تھا، اسلام لانے کے بعد ان گناہوں سے باز کیوں نہ آیا، چنانچہ اسلام لانے کے بعد جو گناہ ہوں گے ان پر مؤاخذہ ہوگا اور اس سے پہلے جو گناہ سرزد ہوئے تھے، ان پر شرمندگی دلائی جائے گی۔
(2)
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اسلام میں اساءت کا مفہوم مرتد ہو جانا ہے کیونکہ اسلام لانے کے بعد سب سے بڑا گناہ کفر اختیار کرنا ہے۔
اگر کسی کو اسی حالت میں موت آگئی تو اس سے تمام گناہوں کا مؤاخذہ ہوگا۔
امام بخاری رحمہ اللہ نے بھی اسی امر کی طرف اشارہ فرمایا ہے کیونکہ انھوں نے اس حدیث کو اکبر الکبائر پر مشتمل حدیث کے بعد ذکر کیا ہے، اور مذکورہ تمام احادیث کو مرتدین کے عنوان میں بیان کیا ہے۔
(فتح الباري: 333/12) (3)
علامہ کرمانی لکھتے ہیں کہ اسلام میں اساءت کے یہ معنی ہیں کہ اس کا اسلام صحیح نہ ہو، یا اس کا ایمان خالص نہ ہو بلکہ اس میں منافقت پائی جائے۔
(عمدة القاري: 196/16)
ہمارے رجحان کے مطابق اسلام میں اساءت سے مراد دین سے ارتداد ہے، اور اسلام میں احسان سے مراد، اس پر ہمیشگی ودوام اور ترک معاصی (گناہ)
ہے۔
واللہ أعلم
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا ہم سے ان گناہوں کا بھی مواخذہ کیا جائے گا، جو ہم نے (زمانہ) جاہلیت میں کئے تھے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جس نے عہد اسلام میں نیک کام کئے (دل سے اسلام لے آیا) اس سے جاہلیت کے کاموں پر مواخذہ نہیں کیا جائے گا، اور جس نے اسلام لا کر بھی برے کام کئے، (کفر پر قائم رہا ہے) تو اس سے اول و آخر دونوں برے اعمال پر مواخذہ کیا جائے گا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4242]
فوائد و مسائل: (1)
نبی کریم ﷺ کاارشاد ہے۔
اسلام سے پہلے (گناہوں)
کو مٹا دیتا ہے۔ (صحیح مسلم، الإیمان، باب کون الأسلام یھدم ما قبله۔
۔
۔
، حدیث: 121)
جو شخص خلوص دل کے ساتھ اسلام قبول کرتا ہے۔
اس کے جاہلیت کے گناہ معاف ہوجاتے ہیں۔
(2)
جو شخص اسلام قبول کرنے کے بعد بھی جاہلیت کی عادتیں اور بداعمالیاں ترک نہیں کرتا۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس نے دل سے اسلام قبول نہیں کیا۔
اس لئے اس کے سابقہ گناہ معاف نہیں ہوتے۔
(3)
جو شخص خلوص سے اسلام قبول کرتا ہے۔
پھر اس سے بتقاضائے بشریت کوئی گناہ سرزد ہوجاتا ہے۔
اس سے زمانہ کفر کے اعمال کا مؤاخذہ نہیں ہوگا۔
کیونکہ مسلمان کبیرہ گناہ کے ارتکاب سے کافر نہیں ہوجاتا۔
جن صحابہ کرام رضوان اللہ عنہم اجمعین سے ایسے گناہ سر زد ہوئے۔
ان پر حد نافذ ہوئی نبی کریمﷺ نے ان کا جنازہ پڑھا اور ان کے حق میں دعائے مغفرت فرمائی۔
(4)
مسلمان کو صحیح مسلمان بننے کی کوشش کرنی چاہیے۔
تاکہ اس کے گناہ معاف ہوجایئں اوراسے جنت میں اعلیٰ مقام حاصل ہوجائے۔
اس حدیث میں نیک اعمال کی اہمیت و فضیلت ثابت ہوتی ہے، خواہ وہ کفر کی حالت میں ہی کیے جائیں یا اسلام کی حالت میں، اور برے اعمال کی مذمت ثابت ہوتی ہے، خواہ وہ کسی بھی حالت میں کیے جائیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسلام اپنے سے پہلے (گناہوں) کو مٹا دیتا ہے۔ (صـحـيـح مـسـلـم: 121) اور زمانہ جاہلیت میں سرزد ہونے والے گناہوں کا مواخذہ نہیں ہوگا۔ جو شخص اسلام قبول کرنے کے بعد بھی زمانہ جاہلیت والے برے اعمال ترک نہیں کرتا تو ایسے شخص نے حقیقت میں اسلام قبول نہیں کیا، دل سے مخلص نہیں ہے، اس لیے اس کے دونوں زمانوں (زمانہ کفر اور زمانہ اسلام) کے گناہوں کا مواخذہ ہوگا۔ یہاں یہ بات بھی یاد رہے کہ اگر کوئی انسان مسلمان ہو جائے اور خلوص دل سے مسلمان ہو لیکن انسان ہونے کے ناطے اس سے کوئی گناہ سرزد ہو جائے تو اس گناہ کی وجہ سے وہ کافر نہیں ہوگا، بلکہ وہ اپنے گناہ سے توبہ کر لے، ورنہ اس کا معاملہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ ہے، وہ چاہے تو اس کو معاف کر دے، یا چاہے تو عذاب دے۔