حدیث نمبر: 111
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حميد جميعا ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ ، قَالَ ابْنُ رَافِعٍ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : شَهِدْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُنَيْنًا ، فَقَالَ لِرَجُلٍ مِمَّنْ يُدْعَى بِالإِسْلَامِ : هَذَا مِنْ أَهْلِ النَّار ، فَلَمَّا حَضَرْنَا الْقِتَالَ ، قَاتَلَ الرَّجُلُ قِتَالًا شَدِيدًا ، فَأَصَابَتْهُ جِرَاحَةٌ ، فَقِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، الرَّجُلُ الَّذِي قُلْتَ لَهُ آنِفًا : إِنَّهُ مِنْ أَهْلِ النَّارِ ، فَإِنَّهُ قَاتَلَ الْيَوْمَ قِتَالًا شَدِيدًا ، وَقَدْ مَاتَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِلَى النَّارِ ، فَكَادَ بَعْضُ الْمُسْلِمِينَ أَنْ يَرْتَابَ ، فَبَيْنَمَا هُمْ عَلَى ذَلِكَ ، إِذْ قِيلَ إِنَّهُ : لَمْ يَمُتْ ، وَلَكِنَّ بِهِ جِرَاحًا شَدِيدًا ، فَلَمَّا كَانَ مِنَ اللَّيْلِ لَمْ يَصْبِرْ عَلَى الْجِرَاحِ ، فَقَتَلَ نَفْسَهُ ، فَأُخْبِرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذَلِكَ ، فَقَالَ : " اللَّهُ أَكْبَرُ ، أَشْهَدُ أَنِّي عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ ، ثُمَّ أَمَرَ بِلَالًا فَنَادَى فِي النَّاسِ ، أَنَّهُ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلَّا نَفْسٌ مُسْلِمَةٌ ، وَأَنَّ اللَّهَ يُؤَيِّدُ هَذَا الدِّينَ بِالرَّجُلِ الْفَاجِرِ " .

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں جنگ حنین میں شریک ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کے بارے میں، جسے مسلمان کہا جاتا تھا، فرمایا: ”یہ جہنمیوں میں سے ہے۔“ جب ہم لڑائی میں گئے تو اس آدمی نے بڑی زور دار جنگ لڑی جس کی وجہ سے اسے زخم لگ گئے اس پر آپ کی خدمت میں عرض کی گئی: اے اللہ کے رسول! وہ آدمی جس کے بارے میں آپ نے ابھی فرمایا تھا: ”وہ جہنمیوں میں سے ہے“ اس نے تو آج بڑی شدید جنگ لڑی ہے اور وہ مر چکا ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آگ کی طرف (جائے گا۔)“ بعض مسلمان آپ کے اس فرمان کے بارے میں شک و شبہ میں مبتلا ہونے لگے، (کہ ایسا جانثار کیسے دوزخی ہو سکتا ہے۔) لوگ اسی حالت میں تھے کہ بتایا گیا: وہ مرا نہیں ہے لیکن اسے شدید زخم لگے ہیں۔ جب رات پڑی تو وہ (اپنے) زخموں پر صبر نہ کر سکا، اس نے خودکشی کر لی۔ آپ کو اس کی اطلاع دی گئی تو آپ نے فرمایا: ”اللہ سب سے بڑا ہے، میں گواہی دیتا ہوں کہ میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں۔“ پھر آپ نے بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا تو انہوں نے لوگوں میں اعلان کیا: ”یقیناً اس جان کے سوا کوئی جنت میں داخل نہ ہو گا جو اسلام پر ہے اور بلاشبہ اللہ برے لوگوں سے بھی اس دین کی تائید کراتا ہے۔“

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الإيمان / حدیث: 111
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة ، أخرجه البخاري في ((صحيحه)) في الجهاد، باب: ان الله يؤيد الدين بالرجل الفاجر برقم (2897) وفي القدر، باب: العمل بالخواتيم برقم (6232) انظر ((التحفة)) برقم (13277)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح البخاري: 3062 | صحيح البخاري: 6606 | معجم صغير للطبراني: 811

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 6606 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
6606. حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا: ہم رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ خیبر میں تھے تو رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص کے متعلق، جو آپ کے ساتھ شریک جہاد اور اسلام کا دعوایدار تھا فرمایا: "یہ جہنمی ہے۔" جب جنگ شروع ہوئی تو اس آدمی نے بہت جم کر لڑائی میں حصہ لیا اور بہت زیادہ زخمی ہو گیا لیکن پھر بھی وہ ثابت قدم رہا۔ نبی ﷺ کے صحابہ کرام‬ ؓ م‬یں سے ایک صحابی آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا: اللہ کے رسول! اس شخص کے بارے میں آپ کو معلوم ہے جس کے متعلق ابھی آپ نے فرمایا تھا کہ وہ دوزخی ہے؟َ وہ اللہ کے راستے میں بہت جم کر لڑا ہے اور بہت زیادہ زخمی ہوگیا ہے۔ نبی ﷺ نے اب بھی یہی فرمایا: "وہ جہنمی ہے۔" ممکن تھا کہ کچھ مسلمان شبے میں پڑ جاتے لیکن اس دوران میں اس شخص نے زخموں کی تاب نہ لا کر اپنا ترکش کھولا اور اس سے ایک تیر نکالا پھر اس سے خود کو ذبح کر لیا۔ اس۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔)[صحيح بخاري، حديث نمبر:6606]
حدیث حاشیہ: بظاہر وہ شخص جہاد کر رہا تھا، مگر بعد میں اس نے خودکشی کر کے اپنے سارے اعمال کو ضائع کر دیا۔
باب اور حدیث میں یہی مطابقت ہے۔
فی الواقع عملوں کا اعتبار خاتمہ پر ہے۔
اللہ پاک ہر مسلمان کو توحید و سنت اور اپنی اور اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت پر خاتمہ نصیب کرے اور دم آخریں کلمہ طیبہ پر جان نکلے۔
آمین۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 6606 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 3062 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
3062. حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے، انھوں نے کہا ہم ایک جنگ میں رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ شریک تھے۔ آپ نے ایک شخص، جو اسلام کا دعویدار تھا، کے متعلق فرمایا: ’’یہ شخص جہنمی ہے۔‘‘ جب لڑائی شروع ہوئی تو اس نے بہت بے جگری سے جنگ کی۔ اس دوران میں وہ زخمی ہو گیا۔ عرض کیا گیا: اللہ کے رسول اللہ ﷺ! جس کے متعلق آپ نے جہنمی ہونے کا فرمایا تھا اس نے تو آج بہت سخت جنگ لڑی ہے اور وہ مربھی چکا ہے۔ نبی ﷺ نے فرمایا: ’’وہ دوزخ میں گیا۔‘‘ قریب تھا کہ کچھ لوگ شکوک و شبہات میں مبتلا ہو جاتے۔ لوگ اسی حالت میں تھے کہ اچانک آواز آئی۔ وہ مرا نہیں بلکہ وہ سخت زخمی ہو گیا ہے۔ جب رات ہوئی تو اس نے زخموں کی تاب نہ لاکر خود کو ہلاک کر لیا۔ جب نبی ﷺ کو اس صورت حال سے آگاہی ہوئی تو آپ نے فرمایا: ’’اللہ أکبر! میں گواہی دیتا ہوں کہ میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں۔‘‘ پھر آپ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔)[صحيح بخاري، حديث نمبر:3062]
حدیث حاشیہ: کہتے ہیں اس شخص کا نام فرمان تھا جو بظاہر مسلمان ہو گیا تھا‘ اس کی مجاہدانہ کیفیت دیکھ کر شیطان نے بظاہر تو لوگوں کو یوں بہکایا کہ ایسا شخص جو اللہ کی راہ میں اس طرح لڑ کر مارا جائے کیونکر دوزخی ہو سکتا ہے۔
یہ حدیث اس حدیث کے خلاف نہیں ہے کہ ہم مشرک سے مدد نہ لیں گے۔
کیونکہ وہ ایک موقع کے ساتھ خاص ہے اور جنگ حنین میں صفوان بن امیہ آپ ﷺ کے ساتھ تھے۔
حالانکہ وہ مشرک تھے‘ دوسرے یہ کہ یہ شخص بظاہر تو مسلمان تھا۔
مگر آپ کو وحی سے معلوم ہو گیا کہ یہ منافق ہے اور اس کا خاتمہ برا ہو گا۔
(وحیدی)
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 3062 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 3062 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
3062. حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے، انھوں نے کہا ہم ایک جنگ میں رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ شریک تھے۔ آپ نے ایک شخص، جو اسلام کا دعویدار تھا، کے متعلق فرمایا: ’’یہ شخص جہنمی ہے۔‘‘ جب لڑائی شروع ہوئی تو اس نے بہت بے جگری سے جنگ کی۔ اس دوران میں وہ زخمی ہو گیا۔ عرض کیا گیا: اللہ کے رسول اللہ ﷺ! جس کے متعلق آپ نے جہنمی ہونے کا فرمایا تھا اس نے تو آج بہت سخت جنگ لڑی ہے اور وہ مربھی چکا ہے۔ نبی ﷺ نے فرمایا: ’’وہ دوزخ میں گیا۔‘‘ قریب تھا کہ کچھ لوگ شکوک و شبہات میں مبتلا ہو جاتے۔ لوگ اسی حالت میں تھے کہ اچانک آواز آئی۔ وہ مرا نہیں بلکہ وہ سخت زخمی ہو گیا ہے۔ جب رات ہوئی تو اس نے زخموں کی تاب نہ لاکر خود کو ہلاک کر لیا۔ جب نبی ﷺ کو اس صورت حال سے آگاہی ہوئی تو آپ نے فرمایا: ’’اللہ أکبر! میں گواہی دیتا ہوں کہ میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں۔‘‘ پھر آپ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔)[صحيح بخاري، حديث نمبر:3062]
حدیث حاشیہ:

وہ شخص جس کے جہادی کار ناموں کا مسلمانوں میں خوب چرچا ہوا اس کی مجاہدانہ کیفیت کو دیکھ کر شیطان نے کچھ لوگوں کو یوں بہکایا کہ ایسا شخص جو اللہ کی راہ میں بے جگری سے لڑتا ہوا مارا جائے کیونکر دوزخی ہو سکتا ہے؟ اس کے بعد رسول اللہ ﷺ نے اس کی وضاحت فرمائی۔

یہ حدیث اس حدیث کے خلاف نہیں کہ جس میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا ’’ہم مشرک سے جنگ میں مدد نہیں لیتے‘‘ (صحیح مسلم، الجھاد والسیر، حدیث: 4700(1817)
کیونکہ وہ ایک موقع کے ساتھ خاص ہے یا فاجر سے مراد غیر مشرک ہے۔
پہلا جواب زیادہ وزنی ہے کیونکہ جنگ حنین میں صفوان بن امیہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھا اور وہ اس وقت مشرک تھا نیز وہ شخص بظاہر مسلمان تھا مگر رسول اللہ ﷺ کو بذریعہ وحی معلوم ہوا کہ یہ منافق ہے اور اس کا خاتمہ برا ہو گا۔
واللہ أعلم۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3062 سے ماخوذ ہے۔