صحيح مسلم
كتاب الإيمان— ایمان کے احکام و مسائل
باب غِلَظِ تَحْرِيمِ قَتْلِ الإِنْسَانِ نَفْسَهُ وَإِنَّ مَنْ قَتَلَ نَفْسَهُ بِشَيْءٍ عُذِّبَ بِهِ فِي النَّارِ وَأَنَّهُ لاَ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلاَّ نَفْسٌ مُسْلِمَةٌ: باب: خودکشی کرنے کی سخت حرمت کا بیان، اور جو شخص خودکشی کرے گا اس کو آگ کا عذاب دیا جائے گا، اور جنت میں صرف مسلمان ہی داخل ہو گا۔
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حميد جميعا ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ ، قَالَ ابْنُ رَافِعٍ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : شَهِدْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُنَيْنًا ، فَقَالَ لِرَجُلٍ مِمَّنْ يُدْعَى بِالإِسْلَامِ : هَذَا مِنْ أَهْلِ النَّار ، فَلَمَّا حَضَرْنَا الْقِتَالَ ، قَاتَلَ الرَّجُلُ قِتَالًا شَدِيدًا ، فَأَصَابَتْهُ جِرَاحَةٌ ، فَقِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، الرَّجُلُ الَّذِي قُلْتَ لَهُ آنِفًا : إِنَّهُ مِنْ أَهْلِ النَّارِ ، فَإِنَّهُ قَاتَلَ الْيَوْمَ قِتَالًا شَدِيدًا ، وَقَدْ مَاتَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِلَى النَّارِ ، فَكَادَ بَعْضُ الْمُسْلِمِينَ أَنْ يَرْتَابَ ، فَبَيْنَمَا هُمْ عَلَى ذَلِكَ ، إِذْ قِيلَ إِنَّهُ : لَمْ يَمُتْ ، وَلَكِنَّ بِهِ جِرَاحًا شَدِيدًا ، فَلَمَّا كَانَ مِنَ اللَّيْلِ لَمْ يَصْبِرْ عَلَى الْجِرَاحِ ، فَقَتَلَ نَفْسَهُ ، فَأُخْبِرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذَلِكَ ، فَقَالَ : " اللَّهُ أَكْبَرُ ، أَشْهَدُ أَنِّي عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ ، ثُمَّ أَمَرَ بِلَالًا فَنَادَى فِي النَّاسِ ، أَنَّهُ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلَّا نَفْسٌ مُسْلِمَةٌ ، وَأَنَّ اللَّهَ يُؤَيِّدُ هَذَا الدِّينَ بِالرَّجُلِ الْفَاجِرِ " .حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں جنگ حنین میں شریک ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کے بارے میں، جسے مسلمان کہا جاتا تھا، فرمایا: ”یہ جہنمیوں میں سے ہے۔“ جب ہم لڑائی میں گئے تو اس آدمی نے بڑی زور دار جنگ لڑی جس کی وجہ سے اسے زخم لگ گئے اس پر آپ کی خدمت میں عرض کی گئی: اے اللہ کے رسول! وہ آدمی جس کے بارے میں آپ نے ابھی فرمایا تھا: ”وہ جہنمیوں میں سے ہے“ اس نے تو آج بڑی شدید جنگ لڑی ہے اور وہ مر چکا ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آگ کی طرف (جائے گا۔)“ بعض مسلمان آپ کے اس فرمان کے بارے میں شک و شبہ میں مبتلا ہونے لگے، (کہ ایسا جانثار کیسے دوزخی ہو سکتا ہے۔) لوگ اسی حالت میں تھے کہ بتایا گیا: وہ مرا نہیں ہے لیکن اسے شدید زخم لگے ہیں۔ جب رات پڑی تو وہ (اپنے) زخموں پر صبر نہ کر سکا، اس نے خودکشی کر لی۔ آپ کو اس کی اطلاع دی گئی تو آپ نے فرمایا: ”اللہ سب سے بڑا ہے، میں گواہی دیتا ہوں کہ میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں۔“ پھر آپ نے بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا تو انہوں نے لوگوں میں اعلان کیا: ”یقیناً اس جان کے سوا کوئی جنت میں داخل نہ ہو گا جو اسلام پر ہے اور بلاشبہ اللہ برے لوگوں سے بھی اس دین کی تائید کراتا ہے۔“
تشریح، فوائد و مسائل
باب اور حدیث میں یہی مطابقت ہے۔
فی الواقع عملوں کا اعتبار خاتمہ پر ہے۔
اللہ پاک ہر مسلمان کو توحید و سنت اور اپنی اور اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت پر خاتمہ نصیب کرے اور دم آخریں کلمہ طیبہ پر جان نکلے۔
آمین۔
یہ حدیث اس حدیث کے خلاف نہیں ہے کہ ہم مشرک سے مدد نہ لیں گے۔
کیونکہ وہ ایک موقع کے ساتھ خاص ہے اور جنگ حنین میں صفوان بن امیہ آپ ﷺ کے ساتھ تھے۔
حالانکہ وہ مشرک تھے‘ دوسرے یہ کہ یہ شخص بظاہر تو مسلمان تھا۔
مگر آپ کو وحی سے معلوم ہو گیا کہ یہ منافق ہے اور اس کا خاتمہ برا ہو گا۔
(وحیدی)
1۔
وہ شخص جس کے جہادی کار ناموں کا مسلمانوں میں خوب چرچا ہوا اس کی مجاہدانہ کیفیت کو دیکھ کر شیطان نے کچھ لوگوں کو یوں بہکایا کہ ایسا شخص جو اللہ کی راہ میں بے جگری سے لڑتا ہوا مارا جائے کیونکر دوزخی ہو سکتا ہے؟ اس کے بعد رسول اللہ ﷺ نے اس کی وضاحت فرمائی۔
2۔
یہ حدیث اس حدیث کے خلاف نہیں کہ جس میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا ’’ہم مشرک سے جنگ میں مدد نہیں لیتے‘‘ (صحیح مسلم، الجھاد والسیر، حدیث: 4700(1817)
کیونکہ وہ ایک موقع کے ساتھ خاص ہے یا فاجر سے مراد غیر مشرک ہے۔
پہلا جواب زیادہ وزنی ہے کیونکہ جنگ حنین میں صفوان بن امیہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھا اور وہ اس وقت مشرک تھا نیز وہ شخص بظاہر مسلمان تھا مگر رسول اللہ ﷺ کو بذریعہ وحی معلوم ہوا کہ یہ منافق ہے اور اس کا خاتمہ برا ہو گا۔
واللہ أعلم۔