صحيح مسلم
كتاب الإيمان— ایمان کے احکام و مسائل
باب غِلَظِ تَحْرِيمِ قَتْلِ الإِنْسَانِ نَفْسَهُ وَإِنَّ مَنْ قَتَلَ نَفْسَهُ بِشَيْءٍ عُذِّبَ بِهِ فِي النَّارِ وَأَنَّهُ لاَ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلاَّ نَفْسٌ مُسْلِمَةٌ: باب: خودکشی کرنے کی سخت حرمت کا بیان، اور جو شخص خودکشی کرے گا اس کو آگ کا عذاب دیا جائے گا، اور جنت میں صرف مسلمان ہی داخل ہو گا۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ ، قَالَا : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ قَتَلَ نَفْسَهُ بِحَدِيدَةٍ ، فَحَدِيدَتُهُ فِي يَدِهِ يَتَوَجَّأُ بِهَا فِي بَطْنِهِ ، فِي نَارِ جَهَنَّمَ خَالِدًا مُخَلَّدًا فِيهَا أَبَدًا ، وَمَنْ شَرِبَ سَمًّا ، فَقَتَلَ نَفْسَهُ فَهُوَ يَتَحَسَّاهُ ، فِي نَارِ جَهَنَّمَ خَالِدًا مُخَلَّدًا فِيهَا أَبَدًا ، وَمَنْ تَرَدَّى مِنْ جَبَلٍ ، فَقَتَلَ نَفْسَهُ ، فَهُوَ يَتَرَدَّى فِي نَارِ جَهَنَّمَ خَالِدًا مُخَلَّدًا فِيهَا أَبَدًا " .وکیع نے اعمش سے، انہوں نے ابوصالح سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے اپنے آپ کو لوہے (کے ہتھیار) سے قتل کیا تو وہ ہتھیار اس کے ہاتھ میں ہو گا وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جہنم کی آگ میں رہے گا، اسے اپنے پیٹ میں گھونپتا رہے گا۔ جس نے زہر پی کر خودکشی کی، وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جہنم کی آگ میں اسے گھونٹ گھونٹ پیتا رہے گا اور جس نے اپنے آپ کو پہاڑ سے گرا کر خودکشی کی، وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جہنم کی آگ میں پہاڑ سے گرتا رہے گا۔“
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ . ح وحَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَمْرٍو الأَشْعَثِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْثَرٌ . ح وحَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ كُلُّهُمْ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ ، وَفِي رِوَايَةِ شُعْبَةَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ ذَكْوَان .جریر، عبثر بن قاسم اور شعبہ سے بھی، سابقہ سند کے ساتھ، مذکورہ بالا روایت بیان کی گئی ہے۔ شعبہ کی روایت میں ہے: سلیمان (اعمش) سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے ذکوان سے سنا، (انہوں نے ابوصالح ذکوان سے اپنے سماع کی وضاحت کی ہے)۔
تشریح، فوائد و مسائل
: (1)
حَدَِيْدَةٌ: حدید لوہے کو کہتے ہیں، حديدة لوہے کا ہتھیار۔
(2)
يَتَوَجَّأُ: وَجَأ سے ماخوذ ہے، مارنا، گھونپنا۔
(3)
سُمٌّ: سین پر پیش، زبر اور زیر تینوں آتے ہیں۔
زیر فصیح تر ہے، زہر۔
(4)
يَتَحَسَّاهُ: اسے آہستہ آہستہ پیئے گا۔
(5)
يَتَرَدَّى: اونچی جگہ سے گرے گا۔
فوائد ومسائل:
خودکشی، انتہا کا شدید جرم ہے کہ انسان اپنے آپ کو اپنی موت وزندگی کا مالک سمجھتا ہے، حالانکہ وہ مالک نہیں ہے، نیز اپنے آپ کو خود مختار تصور کرتا ہے حالانکہ وہ پابند ہے، نیز اسے اللہ کی مشیت وتقدیر پر یقین نہیں ہے، اس لیے نا مساعد حالات پر صبر وشکیب کی بجائے بے صبری کا مظاہرہ کرتا ہے، اس طرح ایک قسم کی بغاوت کرتا ہے۔
اس کے اس جرم کی تاثیر اور اصلی سزا یہی ہے، دوسرے اسباب ووجوہ کی بنا پر اس میں تخفیف اور کمی ہوسکتی ہے۔
کتنے مرد عورتیں اس جرم کا ارتکاب کر ڈالتے ہیں جو بہت ہی غلطی ہے۔
(1)
امام بخاری رحمہ اللہ نے اس حدیث سے زہر پینے کی حرمت کو ثابت کیا ہے کیونکہ جو انسان زہر پیتا ہے وہ اپنے آپ کو موت کے حوالے کرتا ہے اور ایسا کرنا شرعی طور پر سنگین جرم ہے کیونکہ جو انسان زہر کے ذریعے سے خودکشی کرتا ہے وہ جہنم میں اسی طرح زہر پی کر خودکشی کرتا رہے گا۔
(2)
زہر پینا چونکہ حرام ہے، اس لیے اسے بطور دوا بھی استعمال نہیں کیا جا سکتا، اسی طرح ہر وہ چیز جس کے استعمال سے موت کا خطرہ ہو یا وہ چیز ناپاک ہو تو ایسی چیزوں سے بھی علاج کرنا حرام اور ناجائز ہے۔
واللہ أعلم
«. . . عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الَّذِي يَخْنُقُ نَفْسَهُ يَخْنُقُهَا فِي النَّارِ، وَالَّذِي يَطْعُنُهَا يَطْعُنُهَا فِي النَّارِ . . .»
”. . . ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص خود اپنا گلا گھونٹ کر جان دے ڈالتا ہے وہ جہنم میں بھی اپنا گلا گھونٹتا رہے گا اور جو برچھے یا تیر سے اپنے تئیں (آپ کو) مارے وہ دوزخ میں بھی اس طرح اپنے (آپ کو) تئیں مارتا رہے گا . . .“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْجَنَائِزِ: 1365]
«تَرَدَّي» اپنے نفس كو گرا ليا۔
«تحَسَّي» پی لیا۔
«سُمٍّا» زهر۔
«يَجَاْ» مارتا رہے گا۔
فہم الحديث:
معلوم ہوا کہ خودکشی حرام اور کبیرہ گناہ ہے اور اسی حرمت کا بیان اس باب میں آئندہ کی احادیث میں ہے۔ لیکن ان میں جو ایسے شخص کے ہمیشہ جہنم میں رہنے یا اس پر جنت کے حرام ہونے کا ذکر ہے وہ محض اس گناہ کی شناخت کے بیان کے لئے ہے ورنہ اہل السنہ کے ہاں یہ قاعدہ مسلم ہے کہ جو بھی کبیرہ گناہوں کا مرتکب اسلام کی حالت میں دنیا سے رخصت ہو وہ اپنے گناہ کی سزا پا کر بالآخر جنت میں داخل ہو ہی جائے گا۔ [فتح الباري 227/3، شرح مسلم للنوي 187/2]
جیسا کہ اس پیچھے بھی اس مفہوم کی احادیث گزر چکی ہیں کہ جس نے شرک نہ کیا اور خواہ کتنے ہی کبیرہ گناہ کیے ہوں بالآخر وہ جنت میں داخل ہو گا۔
(1)
اگرچہ خودکشی کرنے والے کی سزا یہ ہے کہ وہ جہنم میں رہے، لیکن اللہ تعالیٰ اہل توحید پر رحم و کرم فرمائے گا اور اس توحید کی برکت سے اسے آخرکار جہنم سے نکال لیا جائے گا۔
بعض روایات میں یہ الفاظ ہیں کہ خودکشی کرنے والا ہمیشہ ہمیشہ کے لیے نارجہنم میں رہے گا۔
(صحیح مسلم، الإیمان، حدیث: 300(109)
ان اضافی الفاظ سے معتزلہ وغیرہ نے استدلال کیا ہے کہ کبیرہ گناہوں کے مرتکب ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جہنم میں رہیں گے۔
اہل سنت کی طرف سے کئی ایک جواب دیے گئے ہیں، جیسا کہ درج ذیل تفصیل سے واضح ہوتا ہے۔
امام ترمذی ؒ نے اس اضافے کو بعض راویوں کا وہم قرار دیا ہے۔
(جامع الترمذي، الطب، حدیث: 2044)
دوسری روایت سے پتہ چلتا ہے کہ اہل توحید گناہ گاروں کو کچھ مدت کے بعد جہنم سے نجات مل جائے گی اور وہ کفار و مشرکین کی طرح ہمیشہ جہنم میں نہیں رہیں گے، البتہ اگر کوئی اقدام خودکشی کو حلال سمجھ کر کرے گا تو وہ ضرور کفار کی طرح ہمیشہ جہنم میں رہے گا، کیونکہ کسی حرام فعل کو حلال خیال کرنا کفر ہے اور اس کی سزا ہمیشہ جہنم میں رہنا ہے۔
اس سے حقیقت مراد نہیں بلکہ اس فعل کی شناعت اور قباحت کو ظاہر کرنے کے لیے بطور تہدید و سختی یہ اسلوب اختیار کیا گیا ہے۔
اس فعل کی سزا تو خلود جہنم ہی تھی، لیکن اللہ تعالیٰ موحدین کی عزت کرتے ہوئے انہیں جہنم سے نکال دے گا۔
خلود سے مراد مدت طویل اور عرصہ دراز ہے، حقیقی خلود مراد نہیں جو کفار کے لیے خاص ہے۔
آخری توجیہ زیادہ صحیح معلوم نہیں ہوتی۔
(فتح الباري: 289/3) (2)
ہمارے نزدیک اس کی ایک توجیہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ جہنم کی آگ میں ہمیشہ رہنا حشر کے بعد نہیں بلکہ حشر سے پہلے عالم برزخ میں ہے۔
معنی یہ ہیں کہ خودکشی کرنے والے کو حشر تک ایسا ہی عذاب ہو گا۔
والله أعلم۔
بہرحال یہ اجماعی مسئلہ ہے کہ خودکشی کرنے والا ہمیشہ جہنم میں نہیں رہے گا اور اس کا جنازہ پڑھا جا سکتا ہے، مگر لوگوں کو عبرت دلانے کے لیے علماء اور مقتدا حضرات اس کی نماز جنازہ سے اجتناب کریں۔
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جس نے لوہے کے ہتھیار سے اپنی جان لی، وہ قیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ اس کے ہاتھ میں وہ ہتھیار ہو گا اور وہ اسے جہنم کی آگ میں ہمیشہ اپنے پیٹ میں گھونپکتا رہے گا، اور جس نے زہر کھا کر خودکشی کی، تو اس کے ہاتھ میں وہ زہر ہو گا، اور وہ جہنم کی آگ میں ہمیشہ اسے پیتا رہے گا “ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الطب عن رسول اللَّهِ صلى الله عليه وسلم/حدیث: 2043]
وضاحت:
1؎:
اہل توحید کے سلسلہ میں متعدد روایات سے ثابت ہے کہ وہ جہنم میں اپنے گناہوں کی سزا بھگت کر اس سے باہر آجائیں گے، یہی وجہ ہے کہ علماء نے (خالدا مخلدا) کی مختلف توجیہیں کی ہیں: (1)
اس سے زجرو توبیخ مراد ہے۔
(2)
یہ اس شخص کی سزا ہے جس نے ایسا حلال و جائز سمجھ کر کیا ہو۔
(3)
اس عمل کی سزا یہی ہے لیکن اہل توحید پر اللہ کی نظر کرم ہے کہ یہ سزا دینے کے بعد پھر انہیں جہنم سے نکال لے گا۔
(4) ہمیشہ ہمیش رہنے مراد لمبی مدت ہے۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جو زہر پیے گا تو قیامت کے دن وہ زہر اس کے ہاتھ میں ہو گا اور اسے جہنم میں پیا کرے گا اور ہمیشہ ہمیش اسی میں پڑا رہے گا کبھی باہر نہ آ سکے گا۔“ [سنن ابي داود/كتاب الطب /حدیث: 3872]
مہلک اشیاء کا استعمال بھی مکرو اور حرام ہے۔
نیز خود کشی کرنے والے کو اگر اللہ عزوجل نے اپنی فضل وکرم سے معاف نہ فرمایا تو وہ ابدی طور پر جہنم میں رہے گا اور ہلاکت کے آلہ (یا دوا) کے ذریعے اسے مسلسل عذاب ملتا رہے گا۔
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جو شخص اپنے آپ کو کسی پہاڑ سے گرا کر مار ڈالے، تو وہ جہنم میں ہمیشہ ہمیش اپنے آپ کو اوپر سے نیچے گراتا رہے گا، اور جو زہر پی کر اپنے آپ کو مار ڈالے تو وہ زہر اس کے ہاتھ میں رہے گا اسے وہ ہمیشہ ہمیش جہنم میں پیتا رہے گا، اور جو شخص کسی دھار دار چیز سے اپنے آپ کو مار ڈالے (راوی کہتے ہیں: پھر کوئی چیز میرے سننے سے رہ گئی ۱؎، خالد کہہ رہے تھے:) تو اس کا لوہا اس کے ہاتھ میں ہو گا اسے وہ جہنم کی آگ میں اپنے پیٹ میں برابر گھونپتا رہے گا۔“ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1967]
➋ ’’ہمیشہ ہمیشہ“ یعنی جب تک اپنے جرم کی سزا میں جہنم میں رہے گا، خودکشی والا فعل کرتا رہے گا، اذیت ہو گی، مگر مرے گا نہیں، اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جہنم میں رہے گا کیونکہ خودکشی کفر نہیں۔ ہر مومن اپنے گناہوں کی معافی حاصل کر کے (الہ کے فضل سے یا کچھ سزا بھگت کر) آخر جنت میں ضرور جائے گا۔ اگر ظاہر الفاظ مراد ہوں تو اس روایت کو تغلیظ و مبالغہ پر محمول کیا جائے گا یا یہ سزا صرف اس جرم کی ہے۔ لیکن اس کے ساتھ اس کا کلمہ طیبہ پڑھنا جنت کو واجب کرتا ہے، لہٰذا جب نیکیاں اور گناہ ملائے جائیں گے تو انفرادی جزا و سزا کا اعتبار نہ ہو گا بلکہ مجموعی طور پر جو پلڑا بھاری ہوا، اس کے مطابق فیصلہ ہو گا۔ واللہ أعلم۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جس نے زہر پی کر اپنے آپ کو مار ڈالا، تو وہ اسے جہنم میں بھی پیتا رہے گا جہاں وہ ہمیشہ ہمیش رہے گا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3460]
فوائد و مسائل:
(1)
خود کشی حرام ہے۔
(2)
خود کشی مرض کا علاج نہیں بلکہ جرم ہے۔
(3)
نقصان دہ اور مضر صحت اشیاء سے نیز شراب اور اس سے مخلوط اشیاء سے علاج حرام ہے۔
لیکن افسوس ہے کہ غیر مسلم معالجین نے حرام اور مکروہ اشیاء سے مرکب اس قدر عام کیا ہے۔
اور ان کی شہرت کردی ہے۔
کہ عوام الناس انکے استعمال میں کوئی کراہت محسوس نہیں کرتے۔
مسلمان حکام اداروں اور تنظیموں کا شرعی فریضہ ہے کہ اس میدان میں خالص حلال اورپاکیزہ ادویہ متعارف کروایئں۔
اورعام مسلمان کو بھی صبر وتحمل سے کام لیتے ہوئے حرام اور مشکوک ادویہ سے بچنا چاہیے۔
اور ان کی بجائے پاکیزہ اور غیر مشکوک ادویہ استعمال کرنی چاہیے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے۔
﴿وَمَن يَتَّقِ اللَّـهَ يَجْعَل لَّهُ مَخْرَجًا﴾ (الطلاق، 2: 65)
’’اور جو الله کا تقویٰ اختیار کرے گا، وہ اس کے لئے(تنگی سے نکلنےکی )
کوئی راہ پیدا فرما دے گا‘‘ اور اگر کوئی مخلص طبیب کسی مرض میں اپنے عجز کا اظہار کرے۔
اورشراب ہی کو علاج سمجھے تو جان بچانے کے لئے بشرط یہ کہ جان کا بچ جانایقینی ہو اس کا استعمال مباح ہوگا۔
جیسے اللہ کا فرمان ہے۔
﴿فَمَنِ اضْطُرَّ غَيْرَ بَاغٍ وَلَا عَادٍ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ ۚ﴾ (البقرة، 2: 173)