صحيح مسلم
كتاب الزكاة— زکاۃ کے احکام و مسائل
باب إِبَاحَةِ الْهَدِيَّةِ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلِبَنِي هَاشِمٍ وَبَنِي الْمُطَّلِبِ وَإِنْ كَانَ الْمُهْدِي مَلَكَهَا بِطَرِيقِ الصَّدَقَةِ وَبَيَانِ أَنَّ الصَّدَقَةَ إِذَا قَبَضَهَا الْمُتَصَدَّقُ عَلَيْهِ زَالَ عَنْهَا وَصْفُ الصَّدَقَةِ وَحَلَّتْ لِكُلِّ أَحَدٍ مِمَّنْ كَانَتِ الصَّدَقَةُ مُحَرَّمَةً عَلَيْهِ: باب: نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی اولاد پر ہدیہ حلال ہے۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّ عُبَيْدَ بْنَ السَّبَّاقِ ، قَالَ : إِنَّ جُوَيْرِيَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهَا ، فَقَالَ : " هَلْ مِنْ طَعَامٍ ؟ ، قَالَتْ : لَا وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا عِنْدَنَا طَعَامٌ ، إِلَّا عَظْمٌ مِنْ شَاةٍ أُعْطِيَتْهُ مَوْلَاتِي مِنَ الصَّدَقَةِ ، فَقَالَ : قَرِّبِيهِ فَقَدْ بَلَغَتْ مَحِلَّهَا " ،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ حضرت جویریہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاں تشریف لائے اور پوچھا: ”کیا کوئی کھانے کی چیز ہے۔‘‘ میں نے عرض کیا، نہیں۔ اللہ کی قسم! اے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس بکری کی اس ہڈی کے سوا جو میری آزاد کردہ لونڈی کو دی تھی۔ کھانے کی کوئی چیز نہیں ہے۔ آپﷺ نے فرمایا: ”اسے ہی لے آؤ وہ اپنے صدقہ اور محل پر پہنچ گئی ہے۔‘‘
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَإسحاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ جَمِيعًا ، عَنْ ابْنِ عُيَيْنَةَ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ .اس کی ہم معنی روایت امام صاحب نے اپنے اور تین اساتذہ سے زہری کی سند سے بیان کیا ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
اگر وہ اس کو کسی اور کو تحفہ کے طور پر دے تو اس کے لیے اگرچہ صدقہ لینا جائز نہ ہو یہ تحفہ لینا جائز ہو گا۔
کیونکہ اب وہ صدقہ نہیں رہا ہے۔
نیز یہ بھی معلوم ہوا ازواج مطہرات کے موالی کے لیے صدقہ لینا جائز تھا۔
اگرچہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے موالی آزاد کردہ غلاموں کے بارے میں اختلاف ہے۔