حدیث نمبر: 1073
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّ عُبَيْدَ بْنَ السَّبَّاقِ ، قَالَ : إِنَّ جُوَيْرِيَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهَا ، فَقَالَ : " هَلْ مِنْ طَعَامٍ ؟ ، قَالَتْ : لَا وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا عِنْدَنَا طَعَامٌ ، إِلَّا عَظْمٌ مِنْ شَاةٍ أُعْطِيَتْهُ مَوْلَاتِي مِنَ الصَّدَقَةِ ، فَقَالَ : قَرِّبِيهِ فَقَدْ بَلَغَتْ مَحِلَّهَا " ،

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ حضرت جویریہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاں تشریف لائے اور پوچھا: ”کیا کوئی کھانے کی چیز ہے۔‘‘ میں نے عرض کیا، نہیں۔ اللہ کی قسم! اے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس بکری کی اس ہڈی کے سوا جو میری آزاد کردہ لونڈی کو دی تھی۔ کھانے کی کوئی چیز نہیں ہے۔ آپﷺ نے فرمایا: ”اسے ہی لے آؤ وہ اپنے صدقہ اور محل پر پہنچ گئی ہے۔‘‘

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَإسحاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ جَمِيعًا ، عَنْ ابْنِ عُيَيْنَةَ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ .

اس کی ہم معنی روایت امام صاحب نے اپنے اور تین اساتذہ سے زہری کی سند سے بیان کیا ہے۔

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الزكاة / حدیث: 1073
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عبد العزیز علوی
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ حضرت جویریہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاں تشریف لائے اور پوچھا: ’’کیا کوئی کھانے کی چیز ہے۔‘‘ میں نے عرض کیا، نہیں۔ اللہ کی قسم! اے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس بکری کی اس ہڈی کے سوا جو میری آزاد کردہ لونڈی کو دی تھی۔ کھانے کی کوئی چیز نہیں ہے۔ آپﷺ نے فرمایا: ’’اسے ہی لے آؤ وہ اپنے صدقہ اور محل پر پہنچ گئی ہے۔‘‘ [صحيح مسلم، حديث نمبر:2483]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ جس انسان کو صدقہ لینا جائز ہے۔
اگر وہ اس کو کسی اور کو تحفہ کے طور پر دے تو اس کے لیے اگرچہ صدقہ لینا جائز نہ ہو یہ تحفہ لینا جائز ہو گا۔
کیونکہ اب وہ صدقہ نہیں رہا ہے۔
نیز یہ بھی معلوم ہوا ازواج مطہرات کے موالی کے لیے صدقہ لینا جائز تھا۔
اگرچہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے موالی آزاد کردہ غلاموں کے بارے میں اختلاف ہے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2483 سے ماخوذ ہے۔