صحيح مسلم
كتاب الزكاة— زکاۃ کے احکام و مسائل
باب تَحْرِيمِ الزَّكَاةِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَى آلِهِ وَهُمْ بَنُو هَاشِمٍ وَبَنُو الْمُطَّلِبِ دُونَ غَيْرِهِمْ: باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی اولاد بنی ہاشم و بنی عبدالمطلب پر زکوٰۃ حرام ہے۔
حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو ، أَنَّ أَبَا يُونُسَ مَوْلَى أَبِي هُرَيْرَةَ حَدَّثَهُ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " إِنِّي لَأَنْقَلِبُ إِلَى أَهْلِي ، فَأَجِدُ التَّمْرَةَ سَاقِطَةً عَلَى فِرَاشِي ، ثُمَّ أَرْفَعُهَا لِآكُلَهَا ، ثُمَّ أَخْشَى أَنْ تَكُونَ صَدَقَةً ، فَأُلْقِيهَا " .حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”واقعہ یہ ہے میں اپنے گھر لوٹتا ہوں اور اپنے بستر پر گری پڑی ایک کھجور پاتا ہوں پھر میں اسے کھانے کے لیے اٹھا لیتا ہوں پھر میں ڈرتا ہوں کہ یہ صدقہ کی نہ ہو تو اسے ڈال دیتا ہوں۔‘‘
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ بْنُ هَمَّامٍ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، قَالَ : هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ ، عَنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا ، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَاللَّهِ إِنِّي لَأَنْقَلِبُ إِلَى أَهْلِي ، فَأَجِدُ التَّمْرَةَ سَاقِطَةً عَلَى فِرَاشِي ، أَوْ فِي بَيْتِي ، فَأَرْفَعُهَا لِآكُلَهَا ، ثُمَّ أَخْشَى أَنْ تَكُونَ صَدَقَةً ، أَوْ مِنَ الصَّدَقَةِ فَأُلْقِيهَا " .ہمام بن منبہ نے کہا: یہ (احادیث) ہیں جو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ہمیں محمد رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیں انہوں نے کچھ احادیث بیان کیں ان میں سے (ایک حدیث یہ) ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! میں اپنے گھر والوں کے پاس لوٹتا ہوں اور اپنے بستر پر۔۔۔ یا اپنے گھر میں۔۔۔ ایک کھجور گری ہوئی پاتا ہوں میں اسے کھانے کے لیے اٹھاتا ہوں پھر میں ڈرتا ہوں کہ کہیں یہ صدقہ (نہ) ہو (یا صدقے میں سے نہ ہو) تو میں اسے پھینک دیتا ہوں۔“
تشریح، فوائد و مسائل
(1)
معلوم ہوا کہ معمولی چیز اگر راستے یا گھر سے ملے تو اسے کھا لینا درست ہے۔
اس قسم کی چیزوں کے مالک کو تلاش کرنا اور اس کے متعلق تشہیر کرنا ضروری نہیں۔
رسول اللہ ﷺ نے جو اس قسم کی کھجور سے پرہیز کیا تو اس لیے نہیں کہ اس پر لقطہ کے احکام جاری ہوتے ہیں بلکہ اس لیے کہ شاید صدقے کی ہو اور صدقہ آپ پر حرام تھا۔
(2)
حضرت میمونہ ؓ نے ایک گری پڑی کھجور دیکھی تو اسے اٹھا کر کھا لیا اور فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ فساد کو پسند نہیں فرماتا۔
‘‘ (المصنف لعبد الرزاق: 144/10)
اس حدیث کے تحت حافظ ابن حجر ؒ لکھتے ہیں کہ اگر حضرت میمونہ ؓ اسے نظرانداز کر دیتیں اور اسے کوئی نہ اٹھاتا تو وہ پڑی پڑی خراب ہو جاتی۔
اس طرح بلاوجہ کسی چیز کو خراب کرنا اللہ کو پسند نہیں، اس لیے انہوں نے اس کھجور کو اٹھا کر کھا لیا۔
(فتح الباري: 107/5)
مصنف عبدالرزاق میں ہے کہ حضرت علی ؓ نے ایک انار راستے میں پڑا ہوا پایا تو اسے اٹھا کر کھا لیا۔
(المصنف لعبد الرزاق: 143/10)
اسی طرح حضرت ابن عمر ؓ نے ایک کھجور گری پڑی دیکھی تو اس کے دو حصے کر دیے، ایک خود کھا لیا اور دوسرا حصہ ایک مسکین کو کھلا دیا۔
(المصنف لابن أبي شیبة: 416/4)